مری جاں سب کہانی ہے >> قیس علی.

مری جاں سب کہانی ہے
سمندر کی کھلی آغوش میں سویا ہوا درایا
یہ سورج کا نکلنا ڈوبنا اور پھر نکل آنا
یہ ہر اک شام فطرت کا سنہری جام بھر دینا
کہانی ہے مری جاں سب کہانی ہے
یہ بادل کا برسنا اور سوکھی شاخ پر آ کر ٹھہرنا بھی کہانی ہے
یہ پانی پر کسی سوکھے ہوئے اک برگ کا گرنا
یہ شبنم کا چمکنا سانس لینا اور مر جانا
پرندوں کا درختوں پر چہکنا بھی کہانی ہے
مری جاں سب کہانی ہے
یہ پھولوں کا نئے انداز میں کھل کر
خود اپنی باس میں جل کر، بکھر جانا کہانی ہے
ستاروں کا فلک پر نیند سے بیدار ہونا بھی
تمہارا مسکرانا روٹھ جانا بات کرنا سب کہانی ہے
مری جاں سب کہانی ہے
مرا ہنسنا مرا رونا یہ میرا بولنا لکھنا
ذرا سی آہ بھر لینا کہانی ہے مری جاں سب کہانی ہے
بچھڑتے وقت میری آنکھ میں آیا ہوا آنسو
حقیقت ہی سہی لیکن
مگر اے دلربا میری حقیقت خود کہانی ہے
کہانی کی حقیقت کچھ نہیں ہوتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com