بند اوراق میں مرتے ہی رہے حرف میرے

بند اوراق میں مرتے ہی رہے حرف میرے

شاعرہ ؛ ایمن ہاشمی


.خود جلائے کبھی مصلوب کئے جاتے رہے
درد پہ انکے کئی خوب کئے جاتے رہے 

سسکیاں لیتے رہے اور کبھی چلانے لگے
کبھی خاموش و پشیماں بھی نظر آنے لگے 

آہ سنتی رہی انکی میں کبھی خوابوں میں 
جاگ اٹھنے پہ وہ خود ہی مجھے سہلانے لگے

جانے کیا درد تھے ان کے میں نہیں جان سکی
عمر بھر ان کے میں مفہوم نہ پہچان سکی 

تلف ہو جانے سے ڈرتے ہی رہے حرف میرے 
بند اوراق میں مرتے ہی رہے حرف میرے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com