جینے کا ابھی حوصلہ ہارا تو نہیں ہوں

بزم سخن لندن بریطانیہ کے ماہ رواں یعنی نومبر 2017 کے مصرعہ طرح :

میں ڈوب رہا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں پر دہلی سے احمد علی برقی اعظمی کی طبع آزمائی

جینے کا ابھی حوصلہ ہارا تو نہیں ہوں

میں ڈوب رہا ہوں ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں

قدرت نے عطا کی ہے مجھے چشم بصیرت

میں تیری طرح عقل کا اندھا تو نہیں ہوں

کرسکتا ہوں میں تجزیہ گردش حالات

از فضل خدا گونگا و بہرہ تو نہیں ہوں

حالات کے مارے ہیں مری طرح کئی اور

اس بحر حوادث میں میں تنہا تو نہیں ہوں

میں خوب سمجھتا ہوں کنکھیوں کے اشارے

بالغ ہوں جہاں دیدہ ہوں بچہ تو نہیں ہوں

آنکھوں میں میں رہ رہ کے کھٹکتا ہوں تری کیوں

گل ہوں اسی گلشن کا میں کانٹا تو نہیں ہوں

اظہار ندامت ہے مجھے اپنی خطا پر

انسان ہوں میں کوئی فرشتہ تو نہیں ہوں

جی چاہے گا جو میرا کروں گا وہی برقی

اک تیرے میں شطرنج کا مہرا تو نہیں ہوں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com