سید السالکین حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ 

مولانا محمد انور امرتسری ‘ قاسمی ندوی
حضرت بابا فرید صاحبؒ خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطابؓ کی اولاد پاک سے ہیں۔حضرت بابا صاحب ؒ کے دادا حضرت شیخ شہاب الدین فرخ شاہ کابلیؒ کابل کے بادشاہ تھے ۔ آپ کی سلطنت کافی وسیع تھی لیکن غزنوی اقتدار کی وجہ سے آپ کی حکومت صرف کابل تک محدود ہو کر رہ گئی‘ بعد ازاں گردش زمانہ کے زیر اثر حضرت بابا فریدؒ کے جد امجد حضرت شیخ محمد احمد صاحب خلافت بغداد کے زوال کے بعد کردوں اورترکوں کی پیدا کردہ طوائف الملوکی میں شہید ہو گئے‘ چنانچہ حضرت بابا صاحب کے دادا حضرت شیخ محمد شعیب ؒ نے اپنے اہل و عیال کو ہمراہ لیا اور لاہور تشریف لائے ‘ پھر عازم قصور ہوئے ۔ بادشاہ وقت نے بصد عزت و احترام حضرت شیخ محمدشعیب ؒ کو ملتان کے قریب قصبہ کھوتو وال کی جاگیر عطا کی اور اس علاقہ کا قاضی مقرر کردیا ۔
حضرت شیخ صاحبؒ کے تین فرزند حضرت خواجہ جمال الدین سلیمان ؒ ‘ حضرت خواجہ احمد ؒ اور خواجہ سعد حاجی ؒ تھے۔ حضرت خواجہ جمال الدین سلیمان حضرت بابا صاحب ؒ کے والد بزرگوار ہیں۔ حضرت خواجہ صاحب ؒ بڑے عابد‘ عالم اورعادل تھے۔آپ کی شادی حضرت مولانا وجیہ الدین خجندی عباسی ؒ کی صاحب زادی حضرت بی بی مریم المعروف قرسم خاتون سے ہوئی ۔ ان سے تین بیٹے ہوئے۔ حضرت بابا فرید ؒ کی والدہ ماجدہ بھی انتہائی عابدہ اور عارفہ کامل خاتون تھیں‘اس ضمن میں ایک واقعہ قابل ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک چور آپ کے گھر میں داخل ہوا‘ حضرت بابا فرید ؒ کی والدہ محترمہ اس وقت عبادت میں مصروف تھیں ‘ قدرت خداوندی سے چور اندھا ہو گیا۔ باہر نہ نکل سکا اور گھبرا کر بلند آواز سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی ۔چوری کرنے سے توبہ کی ۔ بینائی کیلئے التجا کی‘ آپ کی والدہ محترمہ کو رحم آگیا اور آپ نے دعا فرمائی ‘ چور کی آنکھیں روشن ہو گئیں اور وہ مکان سے چلا گیا ۔ صبح سویرے وہی چور سرپر دودھ کا مٹکا اٹھائے بمعہ اہل و عیال آپ کی والدہ محترمہ کی خدمت میں حاضر ہو کر دولت اسلام سے مالا مال ہوا‘ اس کا اسلامی نام عبداللہ رکھا گیا اور اس نے اپنی بقیہ عمر ا س خاندان کی خدمت میں گزار دی۔
حضرت بابا صاحب ؒ کی ولادت 29شعبان المعظم 569ھ کو قصبہ کھوتو وال میں ہوئی ۔ آپ کا اسمِ گرامی مسعود رکھا گیا‘ فرید الدین آپ کا لقب ہے۔ عقیدت مندوں کی غالب اکثریت آپ کو بابا فرید ؒ کے اسمِ گرامی سے یاد کرتی ہے۔ آپ کے والد محترم آپ کی ولادت با سعادت کے چند سال بعد وصال فرما گئے ۔ حضرت بابا صاحب پیدائشی ولی تھے ۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنی شب بیدار اور عارفہ کامل والدہ ماجدہ سے حاصل کی ۔ حضرت بابا صاحب ؒ کو بچپن میں شیرینی سے کافی شغف تھا ۔ آپ کے اسی شغف کے پیش نظر آپ کی والدہ ماجدہ روزانہ نماز فجر کے وقت آپ کے مصلے کے نیچے شیرینی یا شکر کی پڑیا رکھ دیا کرتی تھیں اور آپ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد وہ شکر نوش فرما لیا کرتے تھے۔ایک دن آپ کی والدہ ماجدہ کو بسبب مشغولیت شکر رکھنی یاد نہ رہی اور جب آپ شکر دینے کیلئے تشریف لائیں تو دیکھا کہ حضرت بابا صاحب ؒ شکر نوش فرما رہے ہیں۔ آپ فوراً سمجھ گئیں کہ آج اللہ تعالیٰ نے خزانہ غیب سے یہ شکر عطافرمائی ہے اسی وقت بارگاہ الہٰی میں اپنے پیارے بیٹے کیلئے دعاء فرمائی اور ارشاد فرمایا تو(مسعود) شکر کی طرح شیریں ہو گا یہ آپ کی والدہ ماجدہ کی اعلیٰ تربیت اور دعاؤں کا ثمرہ ہے کہ آپ کو وہ شان اور عظمت عطا ہوئی کہ آپ ا قلیم روحانیت کے شہنشاہ بنے۔
حضرت بابا صاحبؒ نے اپنی تمام زندگی قرآن و سنت اور اللہ کی پیروی میں گزار دی ‘ تمام عمرآقائے نامدار محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اقدس کو مشعل راہ بنایا ۔طبیعت میں سادگی اور بیحد انکسار تھا ۔ ساری عمر اختیاری فقر وفاقہ میں گزار دی ۔ دنیا کی تمام نعمتیں میسر ہونے کے باوجودکریر اور پیلو کے پھل کھا کر اپنا وقت گزارا۔ دل انتہائی نرم اور سوز و گداز کا مرقع تھا۔ تمام عمر عبادت وریاضت اور مجاہدات میں بسر ہوئی ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو زہد الانبیاء کا لقب بھی دیا گیا ہے ۔ حضرت بابا صاحب ؒ علوم باطنی کے ساتھ علوم ظاہری میں بھی یکتا ئے روز گار تھے۔ آپ کاحلقہ فکر و ذکر بڑے بڑے عالموں‘فاضلوں اور درویشوں کیلئے ایک درسگاہ کی حیثیت رکھتاتھا ۔تفسیر ‘ حدیث‘ علم کلام کے بہت بڑے ماہر تھے۔ آپ کے لنگر خانے کا دروازہ ہمہ وقت مساکین و محتاج اور دور دراز سے آنے والے تمام عام و خاص کے لئے ہروقت کھلا رہتاتھا ۔ جو کچھ آتا فوراً درویشوں اور غریبوں میں تقسیم فرما دیتے۔
وفات:آخرکار وہ دن بھی آپہنچا جب حضرت باباصاحب ؒ اپنی حقیقی منزل پر پہنچنے کیلئے بے قرار ہوئے اور اسی کڑی میں قدرت نے بیماری کا بہانہ بنا دیا ۔ 
اسی حال میں 5محرم الحرام 664 ھ کو بے خودی اور زیادہ گہری ہو گئی۔ آپ نے نماز عشاء ادا کی اور بے خبر ہوگئے ۔ کچھ دیر بعد عالم ہوش میںآئے تو دریافت فرمایا کہ کیا میں نے عشاء کی نماز ادا کرلی ہے ‘ عرض کیا گیا جی ہاں ! لیکن آپ نے دوبارہ نماز ادا کی ۔ اس طرح تین مرتبہ دریافت فرمایا اور تینوں بار نماز ادا کی ۔ تیسری نماز کے آخری سجدہ میں گئے تو یاحیّ یا قیوم کہہ کر اپنے خالق حقیقی کے حضور میں پہنچ گئے ۔ وفات کے وقت آپ کی عمر 95 سال تھی۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت مولانا بدرالدین اسحاقؒ نے پڑھائی۔
( مولانا محمد انور امرتسری ‘ قاسمی ندوی )
چیف کوآرڈی نیٹر آف قومی حقوق انسانی سوشل جسٹس کونسل 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com