صوفی حضرت غلام رسول عالمپوری ؒ ایک عبقری شخصیت

تحریر: مولانا محمد انور امرتسری ، قاسمی ،ندوی
چیف کوآرڈینیٹر نیشنل ہیومن رائٹس سوشل جسٹس کونسل ( پنجاب )
وحدت وچ آن سمائی چشم دلے تھیں کھلی
عشق حقانی غلبہ کیتیں ہورمحبت بھلی
تُو ں ہیں میرے لوں لوں اندر کیتا آن بسیرا 
تُوں ہیں اندر، تُوں ہے باہر دل میرا گھر تیرا
سرزمین پنجاب کی شان عظیم صوفی شاعر مولوی غلام رسول عالمپوری ؒ ہندو پاک میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔آپ کی پیدائش میاں مراد بخش کے گھر 5ربیع الاول 1265ء بمطابق 29 جنوری 1849ء کو گاؤں عاعلمپور کوٹلہ تحصیل دسوہہ ضلع ہوشیار پور میں ہوئی۔ 3 سال کی عمر میں والدہ محترمہ کاانتقال ہو چکا تھا ۔ آپ نے جن لوگوں کی شاگردی اختیار کی ان میں مولوی محمد عثمان کا نام سرفہرست ہے ۔ ان سے ہی آپ نے اردو ، فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی تھی ۔پڑھائی کے بعد فارغ ہوئے تو عالمپور سے متصل میر پور میں ہی ایک پرائمری سکول میں پڑھانے لگے ۔ اور وہاں لگاتار آپ (1864ء سے 1878ء ) تک پڑھاتے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ کیلئے آپ کے نام کے ساتھ لفظ مولوی بھی جڑگیا تھا۔
کہاجاتا ہے کہ 16-17 سال کی عمر میں ہی آپ نے شاعری شروع کردی تھی جو عشق حقیقی پرمبنی تھی ۔ آپ کے کلام نے مختلف مذاہب کے لوگوں کے دلوں پر براہِ راست اثر کیا اور لاکھوں افراد آپ کے کلام سے فیض یاب ہوئے۔ صوفی بزرگ حضرت سید نجم الدین ودیگر ان کی صحبت کا ملہ نے آپ کی دنیا ہی بدل ڈالی ۔ کچھ ولی صفت انسانوں نے اپنے دل کے اندر چھپے خدا اور رسول سے اپنے عشق کو قصے و کہانیوں کی شکل میں ترتیب دے کر بیان کیا ہے ۔
مولوی غلام رسول عالمپوری ؒ نے بھی وارث شاہ ، بلے شاہ اور میاں محمد بخش ؒ کے طرز عمل کو اپنایا اور آپ نے قصوں میں سے بھی ان قصوں کا انتخاب کیا جس قصہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے ۔ جب آپ کی عمر 22 سال کی تھی تو آپ نے بے پناہ عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 جلدوں پر مشتمل داستان امیر حمزہ لکھ ڈالی، جو بے انتہا مقبول ہوئی ۔ اس کے کچھ ہی سالوں بعد آپ نے حضرت یوسف اور بی بی زلیخا کے قصے کو لکھا اور اسے احسن القصص ، کا نام دیا گیا ۔ اس کے علاوہ چھٹیاں ، روح الترتیل ، مآرب الخاشعین ، سی حرفی سی پنوں ، پند نامہ چوپٹ نامہ اور حلیہ شریف حضور صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ بھی لکھیں۔
آپ کا کلام اکثر اردو و فارسی میں ملتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پنجابی زبان میں گفتگو کرنے والا انسان حضرت یوسف اور بی بی زلیخا کے قصے کو بھلا نہیں سکتا ۔ کیونکہ احسن القصص ، داستان امیر حمزہ اور چٹھیوں کے ذریعہ اشعار میں دردوسوز کی میٹھی میٹھی تپش ہر درد مند دل کو احساس کی گرمائش دے کر آنکھوں میں آنسوؤں کی اوس پر ودیتی ہے ۔
صوفی غلام رسول عالمپوری ؒ کے کلام میں سادگی رس روانی اور سوز بھی موجود ہے تبھی تو آپ نے قصہ یوسف وزلیخا میں ’ طالع’ کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ وہ 2 طرح کا گمان پیدا کردے جس طرح وارث شاہ ، اپنے کلام میں ، بھاگ بھری ، کاذکر کرتے ہیں ۔ عالمپوریؒ اپنی عبادت وریاضت سے بچے ہوئے اوقات میں اکثر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے اس دوران اشعار بھی لکھتے تھے ۔ آپ کی زندگی کا ایک قصہ بڑا مشہور ہوا جسے کچھ لوگوں نے آپ کی بزرگی و کرامات سے بھی جوڑ اہے ایک دن ایک آدمی گاؤں سے آیا اور آ پ کے حجرہ کا دروازہ بند دیکھ کر اس نے جھانکا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ عالمپوری ؒ کے پاس کوئی غیر محرم (اجنبی عورت ) بیٹھی ہے تو اس نے جاکر گاؤں کے ۔
کچھ اور لوگوں سے یہ بات کہہ ڈالی گاؤں والے اب ٹوہ میں رہنے لگے ۔ اتفاق سے ایک گاؤں کے کچھ لوگوں نے جھانکی ماری تو انہیں یہ محسوس ہوا کہ صوفی بزرگ کے پاس کوئی حورنما عورت بیٹھی ہے ۔ تب جاکر انہوں نے حجرہ پردستک دی ۔ عالمپوری ؒ نے دروازہ کھولا اور آنے کا سبب پوچھا تو لوگوں نے جواب دیا کہ گھر میں جو آپ کے ساتھ ناحرم ( اجنبی عورت ) بیٹھی تھی وہ کون تھی ۔ عالمپوریؒ نے فرمایا کہ اندر کوئی نہیں ہے ۔ یہ آپ لوگوں کا وہم ہے لیکن وہ لوگ نہ مانے اندر جاکر پوری طرح چھان بین کی لیکن کوئی نظر نہ آیا وہ سبھی بیحد حیران و پریشان ہوگئے ۔ سبھی نادم وشرمندہ ہو کر واپس تو ہوگئے لیکن دلوں میں کھٹک باقی رہی ۔ بالآخر اس صوفی بزرگ نے خود ہی انہیں اس راز سے آگاہ کیا اور فرمایا کہ میں آج کل یوسف وزلیخا کا قصہ مرتب کر رہا ہوں ۔ حضرت بی بی زلیخا خودآکر اپنے احوال لکھوا جاتی ہے ۔ لوگ اب سب کچھ سمجھ چکے تھے ۔ معافی مانگنے لگے اور اپنے حق میں دعا کی درخواست کی ۔ تبھی سے وہ سب آپ کو خدا کا نیک بندہ سمجھنے لگے ۔ کہا جاتا ہے کہ جس طرح شاہ حسین لاہوریؒ کو مادھو سے مولانا روم کو شمس تبرینر سے عقیدت تھی اسی طرح آپ کو اپنے شاگرد روشن علی سے گہری عقیدت و محبت تھی۔ ادب کی دنیا کو ایک بہت بڑا سرمایہ دے کر 7 مارچ 1892ء 43 سال کی عمر میں آپ نے اس دار فانی کو الوداع کہا اور ہمیشہ کیلئے امر ہو گئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com