مغیث صمدانی ۔ بے لوث اور محبت کرنے والی شخصیت

مغیث صمدانی ۔ بے لوث اور محبت کرنے والی شخصیت

(طویل علالت کے بعد22نومبر 2017ء کو داعی اجل کو لبیک کہا)

* ڈاکٹر رئیس صمدانی

22نومبر2017 کی صبح میری زندگی میں تاسف اور قلق کی صبح تھی، میرے خاندان کی بزرگ شخصیت ، میرے حقیقی چچا مغیث احمد صمدانی نے متعدد بیماریوں سے طویل عرصہ مقابلہ کرتے ہوئے حکم خدا وندی کے مطابق صبح پونے آٹھ بجے داعی اجل کو لبیک کہا۔21کی شب ہی ماڈرن اسپتال، گلشن اقبال کے آئی سی یو کے ایک بستر پر ان کی سانسوں نے انہیں یہ اطلاع دینا شروع کردی تھی کہ اب سفر زندگی کا اختتام ہونے کو ہے۔ وہ بلا شبہ ان نیک انسانوں میں سے تھے کہ جن کو اس بات کا ادراک پہلے ہی ہوجاتا ہے کہ اب ان کے عالم برزخ روانگی کا وقت قریب آچکا ہے۔ انہوں نے دو روزقبل ہی اس بات کی اطلاع احباب کو دیدی تھی کہ اب ہمارا وقت نذدیک ہے تجہیز و تکفین پر کتنا خرچ ہوتا ہے اور ایک معقول رقم انہوں نے ادھر ادھر سے جمع کر کے دیدی،یہ نشانیاں ہیں نیک لوگوں کی۔ رات میں سب ہی اسپتال پہنچے ، سانسیں تو آرہی تھیں، آنکھیں بند ہوچکی تھیں ، غنودگی طاری تھی، دنیا سے رابطہ ختم ہوچکا تھا ۔جو بات کرنا تھی کرچکے تھے، جو بات کہنا تھی کہہ چکے تھے۔ ان کا معالج ہمارا بیٹا ڈاکٹر نبیل ہی رہا۔ وہ بھی اسے اپنا مسیحا تصور کیا کرتے، جب بھی تکلیف میں تیزی آتی وہ اس سے ہی رابطہ کیا کرتے،ستمبر2015 سے ان کا ڈائیلاسس ہورہا تھا دیگر تکالیف الگ تھیں۔ رات ہم بھی اسپتال پہنچے، آئی سی یو میں گئے ، آکسیجن لگی ہوئی، ڈرپ لگی ہوئی تھیں، مانیٹر پر دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر کبھی اوپر جاتا کبھی نیچے ۔ ایک اٹینڈنڈ سامنے بیٹھا تھا، ہم نے اپنا تعارف کرایا کہ ہم ڈاکٹر نبیل کے والد صاحب ہیں، یہ سن کر سی سے اٹھنے لگا ہم نے تھپکی دے کر بیٹھا یا اور اس کے سامنے بیٹھے گئے ، دائیں جانب ہمارے چچا دنیا جہاں سے بے خبر، آنکھیں بند، ان کی بیگم ایک جانب کھڑی تھیں،چہرے سے پریشان، آنکھوں میں آنسو، اپنے ہاتھ سے ان کے سینے کو سہلا رہی تھیں۔ یقیناًانہوں نے بھی محسوس کرہی لیا ہوگا کہ اب کیا ہونے جارہا ہے۔ ہم نے اٹینڈنٹ سے کیفیت معلوم کی ۔ اس نے بتایا کہ کچھ دیر قبل ان کے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر خطرناک حد تک نیچے آگیا تھا اب بہتر ہے۔ ہم ایک جانب تو اس کی باتیں سن رہے تھے دوسرے جانب مڑ مڑ کر اپنے چچا کو دیکھتے جاتے اور ان کی طویل زندگی کی کہانی ایک فلم کی طرح ہمارے ذہن میں چل رہی تھی۔ انہوں نے ہمیں گودوں میں کھلا یا تھا۔وہ ہمارے گھر کا فرد تھے، ہمارے والدین نے اپنے بچوں کی پرورش بعد میں کی اس سے پہلے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی پرورش کی تھی ، ہمارے دونوں چچا جلیس احمد مرحوم اور مغیث احمد مرحوم شادیاں ہوجانے تک ہمارے ساتھ اور ہمارے گھر کا حصہ تھے۔ ہمیں ان سے اور انہیں ہم سے محبت اور تعلق ایسا ہی تھا جیسے ماں ، باپ اور بچوں کے مابین ہوتا ہے۔ شادیاں ہوجانے کے بعد ہمارے دونوں چچاؤں کے گھر الگ بنے ۔سچ تو یہ ہے کہ ہمارے دونوں چچا بھی ہمارے والد صاحب اور امی کو اتنا ہی چاہتے اور اور ان کی عزت کیا کرتے تھے۔ان کی زندگی جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہماری نظروں کے سامنے تھی۔ ہمارے ایک اور چچا ہندوستان میں ہی رہ گئے تھے، انہوں نے اپنے آباکی سر زمین میں رہناہی پسند کیا۔ اسپتال میں ہم انہیں بار بار کیوں دیکھ رہے تھے اگلے دن صبح جب خبر ملی کہ وہ اس دنیا کو چھوڑ گئے تو بات سمجھ میں آئی کہ اصل معاملہ یہ تھا ۔سر گودھا کے میرے ایک شاعر دوست عابد خورشید کا شعرجو اس نے اپنی مرحوم ماں کے لیے کہا ، میری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی تھی ؂؂ میں اِس لیے بھی اُسے بار بار دیکھتا تھا مجھے خبر تھی آخر اُسے نہیں رہنا مغیث صمدانی جنہیں مرحوم لکھتے ہوئے انگلیاں لرز رہی ہیں،دل بیٹھتا ہوا محسوس ہورہا ہے، لیکن کیا کیا جائے ، یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جسے تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ موت برحق اور ایک اٹل حقیقت ہے۔ جو روح اس دنیا میں آئی ہے اسے حکم خدا وندی پر ایک نہ ایک دن واپس لوٹنا ہے۔ وہ لمحہ مقرر ہے جس لمحے ہر ایک کی آنکھ بند ہو گی اور وہ اِس دنیا سے عالمِ برزخ میں چلا جائے گا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے موت کو لفظ’ اجَل‘ سے تعبیر کیا ہے ۔ ’اجَل‘ کے لغوی معنی ’کسی چیز کا مقررہ وقت ، جوکسی صورت نہ ٹلے‘‘۔کلام مجید کی سورہ آلِ عِمران (3 )، آیت 185 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ ہر جان کو چکھنا ہے مزا موت کا اور بس دیے جائیں گے تم کو پُورے اجرتمہارے (اعمال کے) روزِ قیامت ،پس جو بچا لیا گیا آگ سے اور داخل کر دیا گیا جنت میں تو بے شک کامیاب ہوگیااور نہیں ہے دُنیا وی زندگی مگر محض سامان دھوکے کا‘‘۔ شاعر مشرق علامہ اقبالؔ نے موت کے بارے میں کہا ؂ موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی ہے یہ شامِ زندگی ، صبحِ دوامِ زندگی ہمارے چچا مغیث صمدانی سیلف میڈ انسان تھے۔ ان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے ، پرائیویٹ کمپنی سے کرچی پوسٹ آفس اور پھر کراچی پورٹ ٹرسٹ یعنی کے پی ٹی میں ملازمت اختیارکی، مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنے زندگی وقف کردی، کے پی ٹی یونین میں اور پی این ایف ٹی یوکے پلیٹ فارم سے مزدور تحریکوں میں سرگرم رہے۔ بھٹو دور میں گرفتار ہوئے۔سکھر، حیدرآباد اور کراچی کی جیلوں میں ثابت قدم رہے، ہم ان سے ملاقات کے لیے سکھر ، حیدر آباد اور کراچی کی جیل کے چکر لگایا کرتے تھے۔ مزدور تحریک کی توسط سے انہوں نے پوری دنیا کو بھی دیکھا ، لیبر فیڈریشنز کی کانفرنسیز میں شرکت کے لیے وہ بے شمار ممالک گئے ۔ وکالت ہماراآبائی پیشہ اور ادب ہمارے آبا کی میراث ہے، وہ سندھ ہائی کورٹ کے وکیل تھے۔ ان کے داداشیخ محمدابرہیم آزادؔ جو میرے پر دادا ہوتے ہیں نعت گو شاعر تھے ان کا دیوان 1923میں’دیوان �آزاد ‘ کے نام سے شائع ہوا تھا، مغیث صمدانی نے دیوان کا دوسرا ایڈیشن 2005میں شائع کرایا۔ جو ان کے ادبی ذوق کی دلیل ہے۔ وہ اپنے جدِ امجد جناب آزاد ؔ سے بہت متاثر تھے ،وہ دوران گفتگو ان کے اشعار کوٹ کیا کرتے تھے۔وہ اپنے جد امجد دیوان باری بخشؒ سے بھی عقیدت رکھتے تھے۔ جب بھی ان کا ذکر کرتے ان کے احسان مند، اور ان کے بارے میں دل سے دعا کیا کرتے اس لیے کہ دیوان باری بخشؒ اس خاندان کے پہلے فرد تھے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور ان کی اولادآج الحمد اللہ مسلمان ہے۔ آزادؔ صاحب نے تحریر فر مایا کہ ’ہمارے مورث اعلیٰ حضرت دیوان باری بخش علیہ الرحمتہ جو ہندوستان کے ایک حکمراں خاندان سے تھے جو ۱۱۴۸ بکرمی (۱۰۸۸ء)میں اسلام سے مشرف ہو ئے پہلے آپ کا نام بیربل تھا بعد اسلام لانے کے باری بخش ہوا‘۔مغیث صمدانی نام و نمود اور شہرت کو نہ پسند فرماتے اور نہ ہی انہوں اس جانب توجہ کی۔عاجزی و انکساری ان کی طبیعت کا خاصہ تھی۔ ان کے مزاج میں خاکساری، فروتنی اور عاجزی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی ۔ بڑوں کا احترام اور عزت، چھوٹوں سے وضع داری برتنا خاندانی روایت تھی ۔آپ صالح، با اصول، ایماندار، انصاف پسند ، بات کے سچے اور کھرے واقع ہوئے تھے۔ معاملات کے سچے،نڈر،بے باک اور کھری بات بلا خوف و خطر کہہ ڈالتے۔سب سے مل جل کر زندگی بسر کرنے، پیار و محبت سے رہنے کی تلقین کیا کرتے۔ ہمارے چچا مضبوط اعصاب کے مالک ، بہادر، غصیلے، جوشیلے ، جوش میں آجائیں تو پہاڑ سے ٹکراجائیں، سامنے کون ہے، کتنے لوگ ہیں کچھ نہیں دیکھا کرتے تھے، ایک مرتبہ کئی مزدوروں سے جو تعداد میں ستر اسی تو ہوں گے سے ٹکراگئے اور خوب اپنی درگت بنوائی، ایک مرتبہ بس میں کرکٹ میچ کھیل کر پوری ٹیم آرہی تھی کنڈیکٹر سے کوئی بات ہوگئی انہوں نے اپنے سر سے ایسی ٹکر ماری وہ ایسا نیچے گرا کے اٹھ نہ سکا، جب اس کے حمایتی کئی آگئے تو خاموشی سے اپنا چشمہ اتار جیب میں رکھ لیا اور معصوم بن کر کھڑے ہوگئے۔ اب وہ سب ڈھونڈ رہے ہیں اس شخص کو جس نے کنڈیکٹر کو لہو لوہان کیا۔ ہم سب اندر ہی اندر دعا کر رہے تھے کہ وہ انہیں نہ ہی پہچانے تو اچھا ہے۔ جوش اور جذباتی ہمارے دونوں چچاتھے یعنی جلیس چچا مرحوم بھی بڑے جوشیلے اور غصے والے تھے۔دونوں چچا اپنے زمانے میں کرکٹ کے بہترین کھلاڑی تھے۔ جلیس چچا اپنے زمانے کے شاہد آفریدی تھے،ایسی جم کے بیٹنگ کیا کرتے تھے کہ بالروں کے پسینے چھوٹ جاتے ، شاہد آفریدی والے شارٹ کھیل کر تماشائیوں کو خوش کردیا کرتے تھے۔ مغیث چچا بھی اچھے کھلاڑی تھے۔ ان کی کرکٹ ٹیم کے ہم بارویں کھلاڑی ہوا کرتے تھے ، ہمارا کام بانڈری سے باہر گیند چلی جائے تو اسے اٹھا کر گراؤنڈ میں پھینک دینا اور کھیل کا سامان اپنے کاندھوں پر اٹھائے ر ہنا تھا۔ جہاں ہم رہا کرتے تھے وہاں ایک فلاحی ادارہ تاج ویلفیئر سینٹر قائم تھا ہماری تربیت میں اس ادارے کا اہم کردار ہے۔ یہاں بڑے چھوٹوں کا اور چھوٹے بڑوں کا ادب و احترام کیا کرتے، یہ گویا تربیت گا ہ تھی۔ مجھے اسٹیج پر بولنے کا حوصلہ اسی ادارے سے ملا۔ تاج ویلفیئر سینٹر کے ساتھیوں اور دوستوں میں منظور احمد بٹ،مظہر الحق، سراج الحق، ربانی خان، سید جمال احمد، سید ممتازعلی زیدی، حیدر زیدی ، چودہدری اشرف، زماں خان ،جلیس احمد، محمد اقبال، سبطین رضوی، ظفر احمد صدیقی، شیث احمد صمدانی، بابواسماعیل، ارشاد قاضی، صادق حسین ، انیس فاروقی، معین ، سلطان بھورا اور دیگر شامل تھے۔ مغیث چچا کی دوشادیاں ہوئیں ، دونوں خاندان میں، اول حمیرہ صمدانی سے اور دوم خاتون یثرب سے، دوسری شادی حمیرہ صمدانی کے انتقال کے بعد ہوئی۔ پہلی شریک حیات سے ایک بیٹی ہوئی۔ اپنے اخلاق اور مزاج کے باعث اپنی دونوں سسرال والوں میں ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے تھے۔ خود بھی سسرالیوں کا خوب خوب خیال رکھتے۔ ہم چار بھائی ہیں ۔ اب چاروں نذدیک نذدیک رہتے ہیں۔ ہم دو(رئیس اور ندیم) ایک چار دیواری میں آمنے سامنے اور دو (پرویز اور تسلیم)کچھ فاصلے پر ایک چار دیواری میں رہتے ہیں۔ وہ چاروں کے گھرآکر خوش ہوا کرتے ۔ستمبر2015 میں ان کے گردوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈائیلاسس پر آگے۔ لیکن اس قدر با ہمت تھے کہ کورٹ جانا نہیں چھوڑا۔ ڈائیلاسس ایک ایسا مرض ہے کہ جس کا دورانیہ وقت کے ساتھ ساتھ کم ہو جاتا ہے یعنی ہفتہ میں ایک دن ہوتا ہے تو کچھ عرصہ بعد ہفتہ میں دو دن، پھر تین، یہاں تک کہ ایک دن چھوڑ کر ڈائیلاسس ہونے لگتا ہے۔ بسا اوقات نوبت ہر دن کی آجاتی ہے۔مغیث چچا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا وہ بھی ہر دوسرے روز ڈائیلاسس پر آگئے لیکن علاج اور قوت ارادی کی بدولت ہفتہ میں ایک دن ڈائیلاسس ہونے لگا۔ ہمارے بیٹے ڈاکٹر نبیل جو ڈائیلاسس کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں ان کے معالج رہے، آخری وقت تک وہی ان کا معالج تھا۔ انہیں بھی اپنے پوتے کے علاج اور دیکھ بھال پر خوب خوب بھروسہ تھا۔ جس اسپتال میں ان کا ڈائیلاسس ہوا کرتا تھا وہ وہاں دادا کے نام سے جانے جاتے تھے۔ کہنے لگے نبیل اسپتال میں مجھے دادا ہی کہتا ہے، سب کو معلوم ہے کہ میں ڈاکٹر نبیل کا دادا ہوں اس لیے وہاں کے تمام لوگ مجھے دادا ہی کہتے ہیں۔ معالج نے بھی حق معالجی اور پوتا ہونے کا حق ادا کردیا، اپنے دادا کو لحد میں اتارنے والوں میں ان کے دو پوتے ڈاکٹر نبیل اور تحریم شامل تھے ، دیگر پوتوں نے بھی دادا کے سفر آخر میں جانفشانی سے دوڑ دھوپ کی۔ فیصلہ ہوا کہ جنازہ ان کے اپنے گھر سے ہی شہر خاموشاں لے جایا جائے گا۔ فلیٹس کی رہائش میں جگہ کی تنگی کے باعث ایسے موقع پر مشکلات پیش آتی ہیں ۔ تدفین میں بھی زیادہ وقت تھا اس لیے انہیں ایدھی کے سرد خانے میں رکھنے کا فیصلہ ہوا ، غسل بھی وہیں دیاگیا، پرویز، تسلیم ، شاہد احمد صدیقی اور میں اس عمل میں شامل رہے۔ غسل کے بعد جسد خاکی کو ایدھی سردخانے میں رکھوا دیا گیا۔ بعد نماز عصر سفر آخر شروع ہونا طے پایا۔ ہمارے خاندن اکثر احباب ہماری امی اور ابا یاسین آباد کے قبرستان میں مدفن ہیں ، میری تو خواہش تھی کہ انہیں بھی وہیں جگہ مل جاتی ، کوشش کے باوجود وہاں جگہ نہ مل سکی، ان کی مٹی تو سخی حسن تو قبرستان کی لکھی تھی، بھلا یاسین آباد میں کس طرح جگہ ملتی۔ عصر کا وقت قریب آیا، جسد خاکی کو ایدھی سرد خانے سے گھر لایا گیا، احباب رفتہ رفتہ جمع ہورہے تھے۔ رشتہ داروں کی تعداد زیادہ تھی، دوستوں کی تعداد کم ہونا ہی تھی اس لیے کہ ان کے دوست ان کی عمر کے ہی تو ہوں گے ، اب ہما را حال ہی خستہ ہوچکا ، ہم سے دس سال بڑوں کو کیا حال ہوگا، پھر بھی سید جمال احمد موجود تھے، ظفر احمد صدیقی تھے۔ عصر کی اذان کے بعد مغیث صمدانی اپنے سفر آخر پرمسجد غفران روانہ ہوئے، نمازعصر کے بعد نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ان کی آخری منزل سخی حسن قبرستان تھی۔جنازہ بس کے علاوہ کاروں کا یہ قافلہ گلبرگ سے ہوتا ہوا ، پیپلز چورنگی سے سخی حسن قبرستان پہنچاجہاں پرلحدِ مغیث اپنے ساکِن کے انتظار میں اپنا دامن واہ کیے ہوئے تھی۔اب وقتِ آخر تھا۔ سب لوگ سر جھکائے لحدِ مغیث کے گرد جمع تھے۔ نم آنکھوں،افسردہ اور بوجھل دل کے ساتھ شفیق و مہر بان بزرگ کے جسد خاکی کو اپنے ہاتھوں آغوش لحد کے سپرد کر رہے تھے ۔ گھنے درخت کے نیچے ، لحد کشادہ اور روشن محسوس ہورہی تھی، خدا کرے جب اس قبر کو اوپر سے پاٹ دیا جائے تو بھی قبر کشادہ اور روشن رہے۔ ڈاکٹر اسلم فرخی کا یہ شعر انہی لمحات کی ترجمانی کرتا ہے ؂ آج اپنے ہی ہاتھوں تجھے مٹی میں دباآئے کل تک تیرے جینے کی دعا مانگ رہے تھے موت بر حق ہے ۔ مغیث چچا دنیا سے رخصت ضرور ہوگئے لیکن وہ ہمیشہ ہماری یادوں میں رہیں گئے۔ یہ حقیقت ہے کہ ؂ مرنے والے مرتے ہیں فنا ہوتے نہیں یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں 24نومبر2017

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com