حضرت خواجہ غلام فرید ؒ ::: تحریر :مولانا محمد انور امرتسری

maulana-muhammad-anwar-amretsari

 

 

 

 

 

یارکوں کر مسجود ، چھڈڈے بیومعبود
ہر صورت وچ یارکوں جانی ، غیر نہیں موجود
سوہنے یار پنل دا ، ہر جاعین حضور
اول آخر ظاہر باطن ، اس کا جان ظہور

حضرت خواجہ غلام فریدؒ اپنے اس کلام میں فرماتے ہیں کہ خدا ہی عبادت کے لائق ہے ۔ اسی کے آگے سرجھکا نا چاہئے ۔ بقیہ تمام چیزوں سے اپنا دھیان ہٹالیں۔ کائنات کی ہرشے و ہر ذرہ میں اسی کی کاریگری موجود ہے ۔ کسی اور کی کاریگری کا اس میں دخل نہیں ۔ پھر فرماتے ہیں خدا ہی محبوب حقیقی ہے وہی اول ، آخر ، ظاہرو باطن ہے اور وہ تمام چیزوں کا جاننے والا ہے ۔
حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی پیدائش حضرت خواجہ خدا بخش کے گھر 2 نومبر 1840 ایک قول کے مطابق 1841ء بمطابق 1261 ھ بروزبدھ بہاول پور کی ریاست میں چاچڑاں نامی گاؤں میں ہوئی ۔ آپ کا شجرۂ نسب حضرت عمر فاروق ؒ سے جاملتا ہے ۔ آپ سلسلہ چشتیہ سے منسلک تھے ۔ آپ اپنے وقت کی تمام زبانوں ( عربی ، فارسی، اردو ) سمیت انگریزی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ حضرت خواجہ غلام فرید ا بھی کچھ ہی سالوں کے تھے کہ والد ین کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔ بعدازاں کفالت کی ذمہ داری بڑے بھائی حضرت خواجہ غلام فخرالدین کے حصے میں آئی ۔ غلام فخرالدین ایک اچھے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک روحانی انسان بھی تھے ۔ آپ کی تخلیقات فارسی میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ حضرت خواجہ غلام فرید کی پرورش ایک طرف جہاں آپ کے بڑے بھائی غلام فخرالدین اور ماما ملک غلام محمد نے کی وہیں دوسری جانب آپ کی کفالت کا شرف بہاول پور کے نواب صادق خاں کو بھی حاصل ہوا نواب صادق خاں کے gulam-fareed-dargahمحل میں آپ کو اکیلا پن محسوس نہ ہو اسی وجہ سے آپ کے ماما بھی آپ کے ساتھ رہا کرتے تھے ۔
آپ کی تعلیم وتربیت کا سلسلہ 15-16 سال تک جاری رہا ۔ آپ نے قرآن کی تعلیم میاں صدرالدین اور میاں محمد بخش سے جبکہ فارسی کی تعلیم میاں حافظ خواجہ جی اور میاں احمد یار خواجہ سے حاصل کی ۔ اس کے علاوہ جن کی شاگردی آپ نے اختیار کی اس میں استاد قائم دین ، خواجہ فخر الدین اور ملک محمد کے نام قابل ذکر ہیں۔ حضرت خواجہ غلام فرید ؒ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ (تفسیر، حدیث ، فقہ، مظق، اصول فلسفہ ) ودنیاوی علوم پرپوری طرح دسترس رکھتے تھے ۔ بلاشبہ آپ انتہائی ذہین وفطین تھے ۔
حضرت خواجہ غلام فریدؒ اپنے بھائی خواجہ فخر الدین کے انتقال کے بعد گدی نشین ہوئے ۔ اس کے بعد آپ کی دستاربندی اور شاہانہ لباس پہنانے کی رسم نواب صادق محمد خان نے ادا کی جو آپ کے مرید وں میں بھی شمار کئے جاتے ہیں ۔ غلام فرید جی بہت ہی سخی انسان تھے کہا جاتا ہے کہ آپ کے لنگر کا روزانہ کا خرچ 12من چاول اور 8 من گیہوں تھا ۔ تقریباً 100 سے لیکر 500 آدمیوں کی جماعت ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوتی تھی ۔ آپ کے پاس جو کچھ بھی آتا غربا ، فقرا و مساکین میں تقسیم کروا دیا جاتا ۔ آپ کی خود کی جاگیر کی سالانہ آمدنی 35 ہزار روپے تھی ۔ آپ انتہائی سادہ تھے ۔ دن میں گیہوں کی روٹی اور رات کو گائے کا دودھ استعمال کرتے تھے ۔ آپ تقریباً 18 سال تک روہی ( چولستان) میں رہے حضرت خواجہ غلام فرید اپنے مریدوں کو بیعت کے بعد اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کلمہ پڑھواتے ۔ گناہوں سے توبہ کرنے کی تلقین کرواتے اور سورہ اخلاص جس میں توحیدکی سراسر تعلیم دی گئی ہے اسے پڑھاتے اور نماز کی تاکید فرماتے حضرت خواجہ غلام فریدؒ چاچڑاں حضرت بابا شیخ فرد الدین مسعود گنج شکرؒ کی طرح شریعت پسند صوفی تھے ۔ آپ نے جب حج کا ارادہ کیا تو حرمین شریفین ( مکہ مدینہ ) جانے سے پہلے حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی سنجری اجمیری کی درگاہ پر گئے ۔ مراقبہ کیا ۔ پھر حج کیلئے روانہ ہوئے اور مدینتہ الر سول کی زیارت بھی کی ۔ کہا جاتا ہے کہ آپ سماع کا شوق بھی رکھتے تھے ۔
اگر آپ کی شاعری کی بات کی جائے تو اس میں آپ کا کلام زیادہ تر پنجابی میں ہے ۔ جسے دیوان فرید کے نام سے بھی جاناجاتا ہے ۔ آپ نے پنجابی کے علاوہ اردو ، عربی ، فارسی ، پوربی ، سندھی اور ہندی میں بھی شاعری کی ہے ۔ تصوف کے نظریہ سے دیکھا جائے تو آپ توحید وجودی کے قائل تھے ۔ آپ کا کلام اسی رنگ میں رنگا ہوا ہے آپ کو ہر رنگ اور انگ میں اللہ کے حسن کے جلوے نظر آتے ہیں۔ بقول پروفیسر دل شاد کلانچوی ، خواجہ غلام فرید ؒ عموماً وجد کی حالت میں اشعار کہتے تھے یعنی حال واردہوتا تو کچھ کہتے تھے ورنہ نہیں ۔ ہر وقت فکر سخن میں محورہنا آپ کا معمول نہ تھا ۔ لکھنے پر آتے تو الہام کی کیفیت ہوتی بعض اوقات تو لمبی لمبی کافیاں دس پندرہ منٹوں میں کہہ ڈالتے تھے ۔ حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کم کھانا اور کم بولنا پسند کرتے تھے ۔ آپ کے زمانے میں ریاست بہاول پور میں بھنگ پینے کا رواج عام تھا۔ لوگ اسے پینے کو کسی طرح کا عیب یا گناہ کی چیز نہیں سمجھتے تھے۔ خواجہ صاحب کو یہ چیز بالکل پسند نہیں تھی یہی وجہ ہے کہ آپ کسی بھی نشہ کرنے والے کو سماع کی مجلس میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے ۔ آپ لوگوں کو یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ وہ نماز کے وقت مال ودولت نہ لیکر آیا کریں اور فرمایا کرتے تھے کہ نماز کو رسمی طورپر مت پڑھا کرو آپ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بیمار ہوئے جس کا مستقل علاج چلتا رہا لیکن مالک حقیقی سے ملنے کا وقت آچکا تھا آپ نے اپنا آخری کلام اپنے مریدوں کو سنایا جو دنیا سے رخصت ہونے کی طرف اشارہ کررہا تھا۔
گزریاں ویلا ہسن کھلن دا
آیا وقت فرید چلن دا 
اوکھا پینڈا دوست ملن دا
جان لباں پر آندی ہے 

بالآخر 24 جولائی 1901 ء بمطابق 1319ھ 59 ۔60 سال کی عمر میں آپ نے اس دارِ فانی سے کوچ کیا ۔ آپ کا مزار کوٹ مٹھن ( ضلع راجن پور پاک) میں ہے ۔

تحریر :مولانا محمد انور امرتسری ، قاسمی ، ندوی
چیف کو آرڈی نیٹر آف قومی حقوق انسانی جسٹس کونسل 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com