بچوں کے ایک بڑے ادیب و شاعر حافظ کرناٹکی سے ایک گفتگو

بچوں کے ایک بڑے ادیب و شاعر حافظ کرناٹکی سے ایک گفتگو

(۱)سب سے پہلے اختصار کے ساتھ آپ اپنے خاندانی پس منظر،تعلیم اور تدریسی خدمات ودیگر سرگرمیوں کے بارے میں بتائیں؟
*ہمارا سلسلہ نسب ہمارے بزرگوں کے قول کے مطابق عادل شاہی خاندان سے ملتا ہے۔ دادا جان محمد قاسم عرف چندا صاحب میں وہ تمام صفات موجود تھے جو ایک بکھرتے شریف رئیس خاندان کے سربراہ میں ہواکرتے تھے۔ ان کا ہاتھ کھلا تھا اور آمدنی محدود چنانچہ مالی حالت خستہ ہوگئی اور وہ ہجرت کرکے کرناٹک آگئے۔ میرے والد جناب نذیر پاشا اور میری والدہ محترمہ بصیرالنسا دونوں تدریسی خدمات سے وابستہ تھے۔ میری ابتدائی تعلیم و تربیت میں میرے والدین کا بہت ہی اہم رول ہے۔ والدہ کو شاعری کا بھی ذوق تھا وہ کلاس روم میں اپنے طالب علموں کو حمدیں، اور مناجاتیں کہہ کر سنایا کرتی تھیں۔ میری ابتدائی جماعت کے استاد امیدادیبی تھے جو بچوں کے لیے شاعری کرتے تھے ان کی نظرعنایت بھی مجھ پر تھی اس طرح بچپن میں ہی مجھ میں تھوڑا بہت ادب کا ذوق پیدا ہوگیا مگر حالات اتنے نامساعد تھے کہ میں تعلیمی تسلسل کو برقرار نہیں رکھ سکا اور اسکول کی تعلیم مکمّل کیے بغیر مدرسہ چلا گیا جہاں حفظ کی تکمیل کی۔ اس کے بعد اسکول کی تعلیم مکمّل کی۔ اس درمیان میں چھوٹی موٹی تجارتیں بھی کیں اور بچوں کو پڑھانے کے کام سے لے کر اصلاح معاشرہ کے کام میں بھی دلچسپی لی۔ انٹرنس کے بعد ٹیچرس ٹریننگ کا کورس کیا۔ اور جب میں باضابطہ طور پر مدرس بن گیا تو بھی اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ ۱۹۸۴ء ؁ میں فاصلاتی نظام تعلیم کے تحت پنجاب یونیورسٹی سے ادیب کامل کا امتحان پاس کیا بعد ازاں ۱۹۸۸ء ؁ میں مانس گنگوتری میسور یونیورسٹی سے ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ مگر چوں کہ مجھ میں سماج و معاشرہ کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ ابتداہی سے پایا جاتا تھا اس لیے جب آزادانہ طورپر قوم کے بچے اور بچیوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے کا موقع ملا تو میں نے ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لیا اور کرائے کے ایک مکان میں مدرسے کا آغاز کیا۔ یہ مدرسہ بہت کامیابی سے چلا چنانچہ بعد میں مدرسے کے ساتھ اسکول بھی شروع کردیا اور پھر اللہ نے توفیق دی تو مشکلیں آسان ہوتی چلی گئیں اور کئی خیرخواہ تعاون کے لئے آگے آئے اس طرح اپنی زمین پر لڑکیوں کا مدرسہ، زبیدہ للبنات قائم ہوا اور لڑکوں کے لیے مدرسہ مدینتہ العلوم بنا۔ اور پھر نرسری اسکول سے لے کر ڈگری کالج تک کا سفر کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس وقت ہمارے کیمپس میں نرسری، پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول کے علاوہ جونیر کالج، ڈگری کالج، اور ڈی ایڈ کالج کے ساتھ مدرسہ مدینتہ العلوم اور مدرسہ زبیدہ للبنات بفضلہ تعالیٰ کامیابی سے چل رہے ہیں اور میں حتی المقدور باغبانی اور تجارت کے ساتھ ان اداروں کو بھی سینچنے میں دن رات کوشاں ہوں۔ یہاں اس بات کا بھی اظہار ضروری ہے کہ جب مجھے نصابی کمیٹی کا ممبر بنایا گیا اور نصابی کتابوں کی تدوین و ترتیب کا ذمہ دیا گیا تو مجھے لگا کہ بچوں کی نصابی کتابوں کے لیے موضوعاتی نظموں کی اردو میں بہت کمی ہے سو میں نے ہمت کرکے خودہی موضوعاتی نظمیں کہنے کی سعی شروع کردی اور پھر دیکھتے دیکھتے ادب اطفال میری زندگی کا حصّہ بن گیا۔ مدرسوں، اور اسکولوں کے بچوں اور بچیوں کے درمیان شب و روز گذارنے کا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ان کی مانگ اور ضرورت کے تحت میں نے تصنیف وتالیف کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دی اس طرح شعر و شاعری اور تصنیف و تالیف کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا اس وقت تک میری پینسٹھ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔
(۲)آپ نے بچوں کے لیے وافرمقدار میں شعری اور نثری ادب کا خزانہ تیار کیا اور کررہے ہیں، صنفی لحاظ سے اس کا بیشتر حصہ شاعری پر مشتمل ہے۔ اب اس پس منظر میں آپ کو بچوں کا ادیب کہا جائے یا شاعر؟
*آپ جانتے ہیں کہ میں نظم و نثر دونوں میں حتی المقدور کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہوں اور دونوں اصناف میں میری کئی کتابیں آچکی ہیں اس تناظر میں میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ میں شاعرہوں یا ادیب۔ ویسے میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اس غرض سے کبھی کچھ نہیں لکھا کہ لوگ مجھے شاعر اور ادیب کے نام سے یاد کریں یا شاعر اور ادیب کے الگ الگ خانوں میں بانٹ کر دیکھیں میں تو بس اپنے موڈ مزاج اور بچوں کی فرمائش اور ضرورت کے مطابق جب جس چیز کی ضرورت محسوس کرتا ہوں لکھتا چلا جاتا ہوں۔ اب یہ لوگوں کی صوابدید پر ہے کہ وہ مجھے کس نام سے پکارتے ہیں۔
(۳)بچوں کا ادب کسے کہیں گے؟ جس ادب میں بچوں کے مسائل کو اٹھایا جاتا ہے یا جو خود بچے لکھتے ہیں یا پھر کوئی بھی ایسی تحریر جس میں بچوں کا ذکر ہو؟
*بچوں کا ادب اسے کہیں گے جسے بچے پسند کرتے ہیں۔ یا جسے بچے اپنا ادب سمجھتے ہیں چاہے اس میں بچوں کے مسائل کو پیش کیا گیا ہو یا ان کے موڈ، مزاج اور نفسیات کو مدنظر رکھ کر کچھ اور لکھا گیا ہو۔ میرا ماننا ہے کہ بچے جس کتاب کو قبول کرلیں اور پڑھنا چاہیں چاہے اس کا موضوع کچھ بھی کیوں نہ ہو وہ بچوں کے ادب میں شامل کی جائے گی۔
(۴)آپ کی کئی کتابوں پر میری نظر پڑی ہے، آپ نے بطورِ ادیبِ اطفال انتہائی خوبصورتی کے ساتھ اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔ اس سلسلے میں آپ نے اوڈیو اور دیدہ زیب وال پیپر کے ذریعے بھی بڑی عمدگی کے ساتھ بچوں کی دلچسپی کا سامان مہیا کیا ہے۔ اس کے پس پردہ آپ کے کیا احساسات اور اصول پیش نظر ہے؟
*اتنی بات تو آپ بھی جانتے ہیں کہ ہر علاقے اور خطے کے لوگوں کی بول چال کا لہجہ الگ الگ ہوتا ہے اور شمال و جنوب میں تو ایک عرصہ سے لوگ حد فاصل قائم کیے ہوئے ہیں کہ دونوں علاقوں کے لوگوں کی بول چال کی زبان اور زبان کے ساتھ ان کا برتاؤ بہت حد تک الگ ہے۔ ایسی صورت حال میں مجھے بارہا محسوس ہوا کہ بچے اور بسااوقات اساتذہ بھی اردو زبان پڑھاتے وقت اردو زبان کے تلفظ اور مخارج میں غلطیاں کرتے ہیں۔ میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ لفظوں کو بچوں اور بچیوں کی اچھی آواز میں تلفظ کی صحت کے ساتھ صدا بند کروادیا جائے اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ بچے اور بچیاں شوق سے نظمیں بھی سن لیں گی اور اپنی زبان اور اپنا لہجہ بھی درست کرلیں گی۔ اسی لیے میں نے آڈیو اور ویڈیو کی طرف توجہ کی۔ رہی بات وال پیپر کی تو اس سلسلے میں بھی میرے پیش نظر یہی بات تھی اور ہے کہ بچے خوب صورت مناظر اور رنگوں کے حسین امتزاج کے درمیان نظمیں پڑھنے پر دل سے آمادہ ہوں گے۔ اس طرح ان کے اندر اردو پڑھنے لکھنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اور وہ اپنی مادری زبان سے محبت کرنا سیکھیں گے۔
(۵)بچوں کا ادب یقیناًبچوں کا کھیل نہیں۔ آپ نے اس سلسلے میں کیا طریقہ کار اختیار کیا؟
*بچوں کا ادب یقیناًبچوں کا کھیل نہیں ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ بچوں کے ادب کو بچوں کاکھیل بنا کر پیش کرنا ہی زیادہ مناسب ہوتا ہے۔ کیوں کہ بچوں کو جب ادب کی طرف کھیل کھیل میں راغب کیا جاتا ہے تو ان کی دلچسپی بڑھتی ہے۔ اسی لیے میں اکثر بچوں کے لیے حمد و نعت خوانی کے مقابلے کے ساتھ ساتھ غزل خوانی، فی البدیہ تقریر،مناظرہ،بچوں کا مشاعرہ، بیت بازی، رباعیات بازی کے علاوہ زبان دانی کے دوسرے کھیلوں کا اہتمام کراتا رہتا ہوں اور ان تمام ضرورتوں کے مطابق کتابوں کی تیاری کا اہتمام کرتا ہوں تاکہ بچے ہنسی خوشی اپنی زبان سے دلچسپی لینے لگیں۔ مگر میں ان تمام مواقع کے لیے تحریر کردہ منظوم و منثور کتابوں کی اشاعت کے وقت بچوں کے مزاج اور ان کے ذوق و شوق کا حتی المقدور خیال رکھتا ہوں۔ اور کبھی بھی بچوں کی ذہنی سطح سے اوپر اٹھنے کی کوشش نہیں کرتا ہوں۔
(۶)گزشتہ دو سال قبل ادبِ اطفال سے متعلق دہلی کے ایک ورک شاپ میں شرکت کا موقع ملا اس میں کئی چیزوں پر مذاکرہ ہوا اور ادبِ اطفال کے سلسلے میں کئی آراسامنے آئیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ بچوں کو اول روز سے اخلاقیات کے سبق سے بوجھل نہیں کرنا چاہیے، بچہ جو چاہے وہ اسے مہیا کرنا چاہیے اور اس بات پر بہت زور دیا گیا کہ بچوں کے ادب میں ان کی عمر کا خیال بہت ضروری ہے۔ جب کہ آپ نے ایک انٹرویومیں کہا کہ’’میں ادبِ اطفال کو دوسرے شاعر و ادیب کی طرح تفنن طبع کی چیز نہیں سمجھتا ہوں‘‘ اس سلسلے میں آپ کا خیال؟
*تمام اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔ اگر آپ بچوں کو لطیفے سناتے ہیں یا کوئی کہانی سناتے ہیں تو ظاہرہے کہ اس میں بھی کوئی نہ کوئی اخلاقی پہلو ضرور ہوتا ہے۔ بچوں کو جب راست اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی ہے تو ان کی دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔ مگر جب کسی دلچسپ کہانی کے ذریعے کسی تاریخی واقعے کے توسط سے یا کسی نظم کے ذریعے بچوں کے اخلاق کی تربیت کی جاتی ہے تو بچے اسے بوجھ نہیں سمجھتے ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بچوں کو پتہ بھی نہیں چلتا ہے کہ انہیں اخلاقی اقدار سے آگاہ کرنے کے لیے کہانیاں سنائی جارہی ہیں۔ یا نظمیں پڑھائی جارہی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ بچوں کے ادب کا مقصد ہی دراصل بچوں کو ذہنی غذا اور تفریح مہیا کرنا ہے۔ مگر کس قسم کی تفریح؟ کیا تفریح اور کھیل کود میں بھی اخلاقی اقدار کادرس پنہاں نہیں ہوتا ہے۔ بظاہر ہم بچوں کو کرکٹ یافٹ بال کھیلنے کی آزادی دیتے ہیں مگر ان کھیلوں کے جو قواعد ہیں کیا ان میں اخلاقی اقدار کو مستحکم کرنے اور اسے قبول کرنے کا رمز پنہاں نہیں ہے۔ یہ تو شاعر اور ادیب کی صوابدید اور ان کی صلاحیتوں پر منحصر ہے کہ وہ تفنن طبع کے تناظر میں بچوں کے لیے کیا پیش کرتے ہیں اور کس طرح پیش کرتے ہیں۔
(۷)اس اکیسویں صدی میں بچوں کیا بڑوں کا بھی کاغذ سے رشتہ متزلزل ہورہا ہے، عوامی ذرائع ترسیل و ابلاغ روز افزوں ترقی پذیر ہیں۔ بچوں کے حفظانِ صحت کا عملی کھیل بھی ایک چھوٹی سی ڈبیا’’موبائل‘‘ میں قید ہو کر رہ گیا ہے اور اس سلسلے میں اسکول و گھر دونوں کی صورت حال یکساں ہے۔ اب ایسے میں کاغذی ادب کی کتنی اہمیت رہ جاتی ہے یا کچھ نیا کرنے کی ضرورت ہے؟
*اکیسویں صدی کو بجا طور پر الیکٹرونک میڈیا کی صدی قرار دی جاسکتی ہے۔ کیوں کہ بچے اور بڑے سبھی کاغذ قلم سے اپنا رشتہ منقطع کرنے پر آمادہ و بیقرار نظر آرہے ہیں۔ ایسی صورت میں اردو والوں کو بھی الیکٹرونک میڈیا کا سہارا لینا چاہیے اور وقت کی مانگ اور تقاضے کے مطابق اپنے آپ میں تبدیلی کرنی چاہیے۔ مگر اس بات سے گھبرانا نہیں چاہیے کہ اب کاغذی میڈیا کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہ گئی ہے۔ ہر زمانے میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ جب بھی کوئی نئی چیز آتی ہے تو لوگ محسوس کرتے ہیں کہ اب پرانی چیزوں کا دور ختم ہوگیا ہے۔ مگر فی الواقع ایسا نہیں ہو تا ہے۔ صدیوں کے تجربے اور توارث نے پرنٹ میڈیا کو ہماری فطرت کا حصّہ بنادیا ہے اس لیے اس بات کا خطرہ بالکل نہیں ہے کہ پرنٹ میڈیا کلّی طور پر فنا ہوجائے گا۔ ہاں الیکٹرونک میڈیا کے مقابلے میں پرنٹ میڈیا کو ثابت قدمی کے ساتھ قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کتابیں بہت خوب صورت چھپے۔ اور بچوں کا ادب وقت سے قدم ملا کر چلے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ وقت بہت آگے نکل جاتا ہے اور ہم جیسے اردو کے قلمکار بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔آج الیکٹرونک میڈیا کے توسط سے بچوں تک جو مواد پہونچایا جارہا ہے وہ اتنا دلچسپ،حیرت انگیز اور تجسّس خیز ہوتا ہے کہ بچے اس کے اسیر بن جاتے ہیں۔ مگر اردو میں اس طرح کی چیزیں اتنی کم تعداد میں لکھی جاتی ہیں کہ آٹے میں نمک کا احساس بھی پیدا نہیں ہوپاتا ہے۔ اگر ہمارے ادیب بچوں کے لیے آج کے تقاضے کے مطابق سائنس فکشن، اور مہماتی کہانیاں اور فنٹاسی داستانیں لکھنے پر آمادہ ہو جائیں اور وہ لکھ سکیں تو مجھے لگتا ہے کہ کاغذ قلم الیکٹرونک میڈیا کے سامنے یکسر ازکار رفتہ نہیں سمجھاجائے گا۔ مقابلہ سخت ہے جسے چلینج کی طرح قبول کرنے والے ادبا کی کمی ہے۔ اگر ہیری پوٹر مقبولیت کا نیا رکارڈ بنا سکتا ہے تو اردو میں بھی نیا کچھ ہو سکتا ہے۔ شرط حوصلے کی اڑان کا ہے۔
(۸)میرے ایک دوست جو جے این یو کے شعبہ عربی میں پی ایچ ڈی کے اسکالر ہیں، ان کا موضوع’’بچوں کی صحافت‘‘ ہے۔ کیا اردو میں بچوں کی صحافت جیسی کوئی چیز ہے یا یہ ایک ہی شئے کے دونام ہیں۔
*اگر بچوں کی صحافت سے مراد وہ ادب ہے جو بچوں کے ذریعہ لکھا جاتا ہے تو اردو زبان میں اس کی سخت قلّت ہے۔ پیام تعلیم ،امنگ اور کچھ دوسرے رسالوں میں پہلے بچوں کی چیزوں کو اہتمام سے شائع کیا جاتا تھا ۔ مگر اب اس کا رواج کم ہوگیا ہے۔ اور اگر بچوں کی صحافت سے مراد بچوں کے وہ اخبارو رسائل ہیں جو صرف بچوں کے لیے شائع کیے جاتے ہیں تو کہا جاسکتا ہے کہ اردو میں بچوں کی صحافت کا معیار بھلے سے اعلیٰ پیمانے کا نہیں ہے مگر اس کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اردو برادری ترقی کے اس معیار تک نہیں پہونچ سکی ہے جہاں کوئی اخبار یا رسالہ ایسا دیکھنے میں آئے جسے بچے ہی نکالتے ہوں اور اس کے لکھنے والے بھی بیشتر بچے ہی ہوں، حالاں کہ اس طرح کی کوشش کی جانی چاہیے تھی کہ آخر ہمارے یہاں مولانا ابولکلام آزاد کی بہت روشن مثال تھی۔ یہ اور بات ہے کہ ان کا موضوع کچھ اور تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ آج بھی کوئی ادارہ چاہے تو ایسا کچھ کرسکتا ہے۔ کہ باصلاحیت بچے تو بہرحال ہوں گے ہی۔
(۹)بچوں پر لکھے آپ کے ادبی سرمایے سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید پورے ہندوستان میں اس وقت بچوں کا کل وقتی ادیب آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہے؟ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
*میں بچوں کے ادب کا ڈاکٹر نہیں مریض ہوں اور یہ مرض لاعلاج ہے۔ میری زندگی کا مقصد ہی بچوں کی تعلیم و تربیت اور بچوں کے ادب کافروغ ہے۔ اس کے لیے جتنا کچھ میں کرسکتا ہوں کرتا ہوں۔ ویسے اب تک میں نے جو کچھ کیا ہے اسے میں دس فیصد سے زیادہ نہیں سمجھتا ہوں۔ ابھی بہت کچھ کرنے کا ارادہ ہے۔ سچ پوچھیے تو ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے والی کیفیت ہے۔ میں اللہ کی بخشی صلاحیت اور استطاعت کے مطابق بس کام کرنا چاہتا ہوں۔ اپنی زبان کی خدمت میں جو کچھ ممکن ہے کرتے رہنا چاہتا ہوں۔ اس چکر میں پڑے بغیر کہ میں ادب اطفال کا کل وقتی ادیب ہوں یا نہیں یا یہ کہ میں ادیب بھی ہوں یانہیں۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ اردو زبان کے فروغ اور بچوں کے ادب کی ترویج کے لیے مجھے آخری سانس تک کام کرنا ہے۔
(۱۰)اس وقت بطور خاص اردو میں ادبِ اطفال کو ادب کا ضروری حصہ کیوں نہیں گردانا جاتا۔ اس کے پسِ پردہ کہیں یہ سوچ تو نہیں کارفرما ہے کہ ادب اطفال پر خامہ فرسائی کرنا ضیاع وقت ہے اور اس عمل سے کوئی بڑا ادیب نہیں بنتا؟
*اردو میں غالباً اس طرح کی سوچ شروع ہی سے پائی جاتی ہے کہ بچوں کے لیے لکھنا بچگانا کام ہے۔ اور سچ پوچھیے تو اس سوچ کو ہمارے نام نہاد دانشوروں اور آج کے عہد کے بڑے نقادوں اور ادب کے پارکھوں نے تقویت پہونچائی ہے۔ کسی بھی بڑے ناقدنے بچوں کے ادب پر کوئی بھرپور مضمون نہیں لکھا ہے۔ اور نہ بچوں کے کسی ادیب کی خدمات کے اعتراف میں قلم اٹھایا ہے۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کی نظروں میں ادب اطفال کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ مگر میں ایسا نہیں مانتا ہوں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ ادب اطفال ادب کی بنیاد کا پتھر ہے۔ اگر ادب اطفال ہی نہیں ہوگا تو ہمارا ادب بھی زیادہ دنوں تک محفوظ و مامون نہیں رہ سکے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ادب اطفال سے متعلق ہم اپنی سوچ اور فکر کا ازسر نو جائزہ لیں۔
(۱۱)یہ سچ ہے کہ بچوں کی نشو ونما میں گھر، اسکول اور گردوپیش کے ماحول کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے ذہنی ارتقا میں ادبی کتابوں اور رسالوں کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن بچوں کی ادبی کتابوں اور رسالوں کو مرتب کرنے والے اداروں، ان کے مالکان و مدیران اور ادب اطفال کے ادبا اور شعرا کی مالی دشواریاں بھی ایک اہم مۂلہ ہے۔ یہ شکایت معقول ہے کہ لوگ اس طرح کے ادارے قائم نہیں کرتے، اداروں کی شکایت ہے کہ انہیں لکھاری نہیں ملتے اور ملتے ہیں تو اچھے نہیں ملتے اور قلمکاروں کو یہ شکوہ ہے کہ مفت میں ہم کب تک لکھتے رہیں؟؟؟ اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
*یہ سوال تفصیلی جواب کا متقاضی ہے۔ مگر میں حتی المقدور اختصار سے چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ بچوں کو ذہنی غذا فراہم کرنا ادب اطفال کا کام ہے۔ اگر انہیں اچھی ذہنی غذا ادب اطفال مہیا نہیں کرے گا تو اس کی ذہنی نشو ونما رک جائیگی۔ مگر مئلہ یہ ہے کہ اردو میں وقت اور حالات کے تقاضے کے مطابق بہت ہی مؤثر اور دلچسپ ادب اطفال کم ہی لکھا جاتا ہے ایسی کتابیں بہت کم چھپتی ہیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے بچے بے قرار ہو جائیں۔ اور اگر چھپتی بھی ہیں تو اس کی تشہیر نہیں ہوپاتی ہے۔ وہ چھپ کر اس طرح چھپ جاتی ہیں کہ لوگوں کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو میں کتابوں کی مارکیٹنگ کا نظام درست نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ اچھے قلمکار اور ادیب کچھ لکھتے بھی ہیں تو انہیں صلے میں کچھ نہیں ملتا ہے اس طرح ان کے حوصلے دم توڑ دیتے ہیں۔ اور سچ کہوں تو ناشرین کی شکایتیں بھی درست ہیں کیوں کہ اردو کے قلمکاران دنوں ایسی چیزیں لکھنے میں یاتو دلچسپی نہیں لیتے ہیں یا لکھ نہیں پاتے ہیں جو ہاٹ کیک کی سی اہمیت حاصل کرلے، آج بھی بچوں کے رسالوں میں انہیں قلمکاروں کی ناولیں اور کہانیاں قسط وار چھپتی ہیں جنہیں ہم بزرگ قلمکار کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ اردو میں کرشن چندر اور سراج انور کی جگہ آج تک خالی ہے؟ تو ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ دونوں کی شکایتیں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔
(۱۲)آپ ماشاء اللہ کرناٹک اردو اکیڈمی کے چیرمین بھی رہ چکے ہیں۔ اردو کے تناظر میں ادبِ اطفال کے سلسلے میں حکومت کا کیا رویہ رہا اور ہے؟
*میں نے بہ حیثیت چیرمین کرناٹک اردو اکادمی کے محسوس کیا ہے کہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ اس کا ہر ادارہ اتنی سرگرمی سے کام کرے کہ اس کی حکومت پر کوئی حرف نہیں آئے۔ حکومت جب کسی کو اردو اکادمی کا چیرمین بناتی ہے تو اس لیے نہیں کہ وہ صرف خانہ پری کرنا چاہتی ہے وہ تو چاہتی ہی ہے کہ چیرمین اپنے عہدے کا بھر پور فائدہ اٹھائے اور اردو زبان کے فروغ اورادب کی ترویج اردو زبان کی بہترتدریس اور ادب اطفال کے لیے جو کچھ بھی ممکن ہے اپنی صلاحیت کے مطاق بڑھ چڑھ کر کرے تا کہ حکومت کا ہر پرزہ کام میں مصروف معلوم ہو۔ جب میں اکیڈمی کا چیرمین بنا تو اکیڈمی کا صرف ایک رسالہ تھا ’’اذکار‘‘ جو سہ ماہی تھا۔ میں نے ایک ماہنامہ ’’ادیب‘‘ شروع کیا۔ پھر بچوں کا ماہنامہ ’’صدائے اطفال‘‘ شروع کیا۔ پھر ’’خبر نامہ‘‘کو ہر مہینے اہتمام سے شائع کروانے کا انتظام کیا اور ایک ششماہی رسالہ ’’دختران کرناٹک‘‘ بھی جاری کیا اور ان کاموں میں کبھی کوئی رکاوٹ کاسامنا نہیں کرنا پڑا۔ بلکہ جہاں تک ممکن تھا لوگوں نے تعاون کیا۔ اور اکیڈمی کی فعالی کو دیکھ کر حکومت کے لوگوں نے بھی اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ تو پھر میں یہ کیسے مان سکتا ہوں کہ دوسری اکیڈمیوں کو یہ سہولت میسر نہیں ہے؟ حکومت کی طرف سے کوئی پریشانی کھڑی نہیں کی جاتی ہے۔ بس کام کرنے والے لوگوں کی کمی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حکومت بچوں کی بنیادی تعلیم کی طرح بچوں کے ادب کے فروغ میں بھی اپنی دلچسپی کا اظہار کرتی ہے۔ اس لیے حکومت پر سوال اٹھانے سے پہلے ہمیں اپنے نمائندوں کا بھی قریب سے جائزہ ضرور لے لینا چاہیے۔
(۱۳)آپ کے شعرو ادب کا بیشتر حصہ مذہبی بلکہ اسلامی ہے اگر کوئی برادرِ وطن آپ سے یہ سوال کر بیٹھے کہ ’’آپ جیسے آج کے بچوں کے بڑے ادیب و شاعر کے ذخیرے میں میرے بچوں کے لیے کیا خاص ہے‘‘ تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟
*میرے ذخیرہ ادب میں اسلامیات کا عمل دخل زیادہ ہے تو مجھے اس بات کی خوشی ہے۔ کسی چیز کی زیادتی کا مطلب دوسری چیز کی نفی نہیں ہوتی ہے۔ اگر میری تمام کتابوں پر ایمانداری سے نظر ڈالی جائے تو اسلامیات کے تناظر میں دوسرے موضوعات بہت ہلکے قطعی نہیں لگیں گے۔ ایک تو میرے یہاں موضوعاتی نظموں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ جس میں اپنے ملک و قوم، تعلیم و تربیت، سائنس و جغرافیہ، طبیعات و حب الوطنی سب کچھ شامل ہے۔ دوسری بات یہ کہ میرے یہاں حب الوطنی کی نظموں کی بھی جو کثرت ہے شاید ہی کہیں اور دیکھنے کو ملے۔ شخصیات سے متعلق بھی میرے یہاں قابل قدر مواد ہے۔ چاچانہرو، رابندرناتھ ٹیگور، سراج الدولہ، علامہ اقبال، حضرت نظام الدّین اولیا، اے پی جے عبدالکلام،سبھاش چندربوس، ہندوستان، چند قومی رہنما، فخر وطن، وغیرہ کتابیں ایسی نہیں ہیں جنہیں مذہبیات سے جوڑ کر دیکھا جائے۔ جبکہ بچوں کی علمی صلاحیت میں اضافہ کی غرض سے لکھی گئی کتابوں میں ’’صد رنگ مضامین‘‘، ’’سب رنگ مضامین‘‘، ’’کون کرے انصاف‘‘، ’’اظہار‘‘ وغیرہ بھی میری ایسی کتابیں ہیں جنہیں بڑے لوگوں نے سراہا ہے۔
(۱۴)بچوں کے نئے ادباوشعرا کے لیے آپ کا کوئی خاص پیغام؟
*بچوں کے ادبا و شعرا کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ آپ صلے اور تمنا کی پرواہ کیے بغیر بچوں کے ادب کی تخلیق میں لگے رہیں۔ یہ سوچ کر کہ آپ صرف قوم ہی کے معمار نہیں ہیں بلکہ کائنات کی رگوں میں دوڑتے تازہ لہو کی حرارت کے بھی ضامن ہیں۔

فاروق اعظم قاسمی (پی ایچ ڈی اسکالر ) 
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com