ہمتِ مرداں،مدد خدا کی عملی تصویر،”توصیف احمد”

تحریر :
رضیہ رحمان
اسسٹنٹ پروفیسر وصدر شعبہ اردو
گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین خانیوال

قارئین محترم!آج ہم آپ کی ملاقات "اپنی دنیا آ پ پیدا کرنے" ،اپنی کمزوری کو"طاقت"میں بدلنے اور تقدیر کو تدبیر کے سامنے جھکانے کے فن کے ماہر ایک بہت ہی" "Special person،ایک"خصوصی فرد"قابل صد احترام و افتخار"توصیف احمد"صاحب سے کروا رہے ہیں۔ وہ بصارت سے محروم مگر صاحبِ بصیرت ،صاحبِ دل،صاحب حوصلہ انسان ہیں۔وہ گورنمنٹ سپیشل ایجو کیشن سنٹر کبیر والہ میں بطور سینیئر سپیشل ایجوکیشن ٹیچر خصوصی بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا مقدس فریضہ انجام دے رہے ہیں۔"آئیے توصیف احمد کے عزم وحوصلہ کی کہانی کچھ ان کی ،کچھ میری زبانی "سنئے۔
میں 18جنوری ؁ ء1984کو چک نمبر 53/10-Rتحصیل جہانیاں ضلع خانیوال میں پیدا ہوا۔الحمد للہ میرے والدین،بہن بھائی سب بالکل نارمل ہیں۔میرے حوالے سے بھی میرے والدین کے ذہن میں ایک نارمل انسان ہی کا تصور تھا۔وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہمارے گھر میں آئندہ پیدا ہونے والا بچہ کسی کمی کا شکار ہوگا،اور بینائی سے محرومی کا تو ظاہر ہے کوئی خدشہ بالکل بھی ان کے ذہن میں نہیں تھا۔
اس حوالے سے میری توصیف کی والدہ صاحبہ سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ توصیف میرا پہلا بچہ تھا۔میں اس کی پیدائش پر بہت خوش تھی کہ اس نے اولاد سے نوازا ہے اور وہ بھی نرینہ اولاد سے ۔میں نے اللہ کا بہت شکر ادا کیا،لیکن اسے دیکھ کر بہت پریشان بھی ہوئی کیونکہ یہ بہت کمزور تھا۔پاؤں تو بہت ہی کمزور تھے ۔میں پریشان ہوئی کہ پتہ نہیں میرا بچہ چل بھی پائے گا یا نہیں؟لیکن پھر میرے رشتہ داروں اور دیگر لوگوں نے تسلی دی کہ ان شاء اللہ یہ نہ صرف چلے گا بلکہ بہت نیک اور قابل ہوگا،تو مجھے تسلی ہوئی اور میں نے اس پر اپنی تما م تر توجہ مرکوز کردی۔الحمد للہ اب میں اس سے بے حد خوش ہوں۔یہ بہت نیک،فرمانبردار اور قابل ہے۔مجھے اس سے یا اپنے رب سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ 
توصیف نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے بتایا"میں پیدا ہوا تو میرا رنگ بہت سفید تھا،لیکن یہ سفیدی "گورا پن"نہیں تھی بلکہ ایک قدرتی کمزوری تھی۔لیکن ہمارے خاندان میں یہ کوئی "انہونی "بات یا پہلا تجربہ نہیں تھا۔ہمارے خاندان میں پہلے بھی میرے جیسے کچھ لوگ موجود تھے۔میری طرح کے لوگوں کو"البائنو" (Albaino) کہا جاتا ہے۔خاندان میں موجود ان البائنو افراد کو نظر اور بینائی کے مسئلے کا سامنا تھا۔سو میرے والدین کو بھی یہ فکر لاحق ہوئی کہ کہیں مجھے بھی نظر کا مسئلہ تو درپیش نہیں؟یا آئندہ مسئلہ پیدا ہونے کا اندیشہ تو نہیں؟سو وہ مجھے چھ ماہ کی عمر میں ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ڈاکٹر نے انہیں تسلی دی کہ فی الحال بچے کو نظر کا کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے اور یہ کہ جیسے جیسے یہ بچہ بڑا ہوگا اس کی نظر بہتر ہوتی جائے گی۔اس جواب سے میرے والدین مطمئن ہوگئے۔الحمد للہ میں نارمل بچوں کی طرح بڑا ہوا۔میں باقی بچوں کے ساتھ کھیلتا،کودتا تھا۔ٹی وی دیکھنا اور ویڈیو گیم کھیلنا وغیرہ میرے شوق تھے۔مگر اللہ کے فیصلوں سے انسان لا علم ہوتا ہے۔جب میں سکول جانے کی عمر کو پہنچا تو میرے والدین نے دوبارہ ڈاکٹر سے میرا معائنہ کروایا تو ڈاکٹر نے مجھے دھوپ کا چشمہ (Sun glasses) لگانے کی سختی سے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دھوپ ہو یا نہ ہو ،ہر وقت چشمہ لگانا ہے۔اس چشمے سے دھوپ میں تو کام چل جاتاتھا کیونکہ وہ چشمہ دھوپ سے بچنے کے لئے مفید تھا لیکن دھوپ کے علاوہ گھر کے اندر اور باہر اس چشمہ کی وجہ سے مجھے بہت دقت اور مشکل کا سامنا کرنا پڑتا تھا ،سو میں اس چشمے سے تنگ آگیااور میں نے اسے توڑ دیا۔پھر میں جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا ویسے ویسے مجھے احساس ہوتا گیا کہ ٹی وی دیکھنا،ویڈیو گیمز کھیلنا وغیرہ ہمارے جیسے لوگوں کے لئے نقصان دہ ہے۔مجھے کیونکہ ڈاکٹریا کسی اور نے یہ احساس نہیں دلایا تھا کہ ٹی وی ،ویڈیو گیمز اور نظر سے تعلق رکھنے والی باقی سرگرمیاں میرے لئے نقصان دہ ہیں تو میں نے یہ گیمز بہت کھیلیں۔
اس کے بعدمیں نے سکول جانا شروع کیا۔میں الحمد للہ اپنی کلاس کے اچھے طالب علموں میں شمار ہوتا تھا۔چھٹی جماعت تک میں نے نارمل بچوں کی طرح تعلیم حاصل کی۔ساتویں جماعت میں میری نظر اس قدر کمزور ہو چکی تھی کہ میرا نارمل بچوں کی طرح پڑھنا مشکل ہوگیا۔ پھر جس نے ،جس ڈاکٹر کا اور جس بابا جی کابتایا میرے والدین اسی کے پاس لے گئے۔کبھی اس ڈاکٹر کے پاس تو کبھی اُس بابا جی کے پاس اس چکر میں میرے چار قیمتی سال ضائع ہوگئے۔اچانک کسی نے بتایا کہ الشفاء ہسپتال اسلام آباد میں ماہرین امراض چشم کی ایک ٹیم آئی ہوئی ہے،تو میرے والدین مجھے وہاں لے گئے تا کہ ایک تو صحیح صورت حال کا پتہ چل سکے اور دوسرا اگر علاج ممکن ہو تو وہ جو علاج بتائیں وہ علاج کروا لیا جائے۔مجھے بہت امید تھی کہ سال چھ مہینے کے علاج سے میری بینائی بحال ہوجائے گی۔ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے میرا معائنہ کیا۔مکمل معائنے کے بعد انہوں نے مجھے ایک ماہر نفسیات کو ریفر کردیا۔اس نے مجھ سے گھر والوں کے رویوں،گھر میں لائٹنگ کی سہولیات سمیت بہت سے سوال وجواب کئے،اور آخر میں یہ سوال کیا کہ آپ اپنے چیک اپ سے مطمئن ہیں؟کیا آپ کے دل میں یہ خیال تو نہیں کہ آپ کا چیک اپ ٹھیک نہیں ہوا؟میں نے کہا نہیں مجھے کوئی شک یا پریشانی نہیں ہے،میرا چیک اپ بالکل ٹھیک ہوا ہے۔ماہر نفسیات نے پھر کہا اگر آپ کو شک ہے تو دوبارہ چیک اپ کروا لیتے ہیں،لیکن دس بار چیک اپ کے بعد بھی یہی رائے ہوگی کہ آپ کی نظر اب بحال نہیں ہو سکتی۔ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اس جدید دور اور جدید سہولتوں کے باوجود بھی میری بینائی بحال نہیں ہو سکتی۔یہ بات میری امیدوں اور آدرشوں کے خلاف تھی۔میری آنکھوں سے میرا غم آنسوؤں کی شکل میں بہنے لگا۔بے آواز چیخیں تھیں جو میرے اندر گونج رہی تھیں،رونے سے دل کا غبار نکل گیا۔یہ پہلے اور آخری آنسو تھے جو کسی انسان کے سامنے میری آنکھوں سے بہے۔ماہر نفسیات نے میرے جزبات کو سمجھتے ہوئے ،مجھے زندگی گزارنے کے دو طریقے سمجھائے۔ایک تو یہ کہ آپ اس بات کو دل کا روگ بنا لیں کہ میری تو نظر ختم ہوگئی ہے اور ۔۔۔اور اپنی زندگی کو یہیں روک لیں۔۔۔زندگی یہیں رک بھی جائے گی۔آپ کے گھر والوں کے لئے بھی یہ صورت حال تکلیف دہ ہوگی اور جو لوگ آپ کے گھر آئیں گے وہ بھی آپ پر ترس کھائیں گے۔کوئی کہے گا"کتنا پیارا بچہ ہے۔۔۔اگر اللہ اسے آنکھیں بھی دے دیتا تو۔۔۔؟؟؟"کوئی کہے گا"آنکھوں کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے؟کوئی کب تک اسے سنبھالے گا؟اس سے بہتر تھا کہ اللہ اسے۔۔۔پیدا ہی نہ کرتا۔"وغیرہ وغیرہ۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ سوچیں کہ اللہ نے آپ کو چار حسیں دی ہیں اور کہا ہے کہ ان چار حسوں کے ساتھ وہ کام کرو جو باقی لوگ پانچ حسّوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔اس طرح زندگی کوروکنے کی بجائے آگے بڑھاؤ ۔زندگی ایسے گزارو کہ کسی ایسے مقام پر پہنچ جاؤ جہاں آپ خود اور آپ کے والدین مطمئن ہو سکیں۔
میں نے کہا میری تو نظر چلی گئی ہے،میں اب کیسے پڑھ سکتا ہوں؟ماہر نفسیات نے کہا آپ سپیشل ایجو کیشن سسٹم
(Special education system)کے ذریعے پڑھ سکتے ہیں۔میرا کیونکہ پڑھنے لکھنے کی طرف رجحان زیادہ تھا،مجھے کہانیاں پڑھنے اور سننے کا بہت شوق تھا۔اس وقت 25پیسے کی ایک کہانی ملا کرتی تھی۔ٹارزن،عمرو عیارکی کہانیاں میں نے بہت پڑھیں۔بچوں کی دنیا،بچوں کی باجی وغیرہ بچوں کے رسائل تھے،میں نے وہ بھی خرید کر بکثرت پڑھے۔سو اللہ نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ مجھے اس کام کو چیلنج کے طور پر قبول کرنا ہے۔میں نے یہ نہیں سوچا کہ میری تو بینائی ہمیشہ کے لئے جاتی رہی ہے،یہ تو اب بحال ہی نہی ہو سکتی،بلکہ میں نے یہ سوچ لیا کہ ان شا ء اللہ سپیشل ایجو کیشن کے ذرائع تلاش کرکے آگے پڑھنا اور آگے بڑھنا ہے۔میں نے اس قول زریں کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا: "Allah helps those who help themselves"
"اللہ بھی ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں" 
میں نے سوچا کہ : ع بصارت چھن گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
اسلام آباد سے واپس آکرمیں نے شاہ رکن عالم کالونی ملتان میں نابینا طالب علموں کے ایک سکول میں داخلہ لے لیا۔ان دنوں ہماری رہائش بھی شاہ رکن عالم کالو نی میں تھی،خوش قسمتی سے سکول بھی وہیں تھا۔میں نے ساتویں جماعت تک پڑھا ہوا تھا اور پڑھائی میں بھی ٹھیک تھا ۔ انہوں نے کہا ہم اسے میٹرک کروا دیں گے۔میں کتابیں خود سے پڑھ لیا کرتا تھا،مجھے کچھ زیادہ مسئلہ نہیں تھا،مگر سکول والے مجھے میٹرک کروانے کا وعدہ پورا نہ کر سکے تو میں نے اپنے طور پر جستجو کی کہ میں یہ دیکھوں کہ نابینا طالب علم کیسے پڑھتے ہیں؟ایک ٹیچر تھے عبدالباری صاحب،وہ نابینا بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے تھے۔(افسوس ابھی حال ہی میں ان کا انتقال ہوگیا ہے)وہ کتاب کے اسباق کیسٹ میں ریکارڈ کرکے بچوں کو دے دیتے تھے،وہ سن کر تیاری کر لیتے تھے اور پھر ایک لکھنے والے(Writer)کے ذریعے لکھوا کر امتحان دے دیتے تھے۔نابینا بچہ بولتا تھا،لکھنے والا لکھتا جاتا تھا۔میں کچھ عرصے ان کے پاس پڑھنے جاتا رہا لیکن میرے والدین ضرورت سے زیادہ محتاط تھے،وہ پریشان رہتے کہ مجھے کوئی چوٹ نہ لگ جائے،میرا کوئی نقصان نہ ہو جائے تو میں نے ہوم ٹیوشن رکھ لی۔وہ گھر آکے ریکارڈنگ کر کے دے جاتے تھے،میں سن لیتا تھا۔اس طرح میں نے میڑک کے امتحان کی تیاری کی،امتحان دیا اور الحمد للہ میٹرک میں میری فرسٹ ڈویژن آئی۔2002 ؁ء میں ،میں نے 64%نمبروں کے ساتھ میٹرک کیا۔
میٹرک کے بعد اگلا سفر شروع کیا۔اس میں بھی عبدالباری صاحب کافی کافی ریکارڈنگ کر کے دے جاتے تھے جبکہ میں روزانہ کی بنیاد پر پڑھنا چاہتا تھا۔میرے بہن بھائیوں کو جو ٹیچر پڑھانے آتے تھے،مین نے ان سے کہا آپ مجھے بھی پڑھادیا کریں۔
انہوں نے پوچھا آپ کو کیسے پڑھانا ہے؟مجھے کیونکہ اب طریقہ پتہ چل چکا تھا سو مین نے انہیں ریکارڈنگ والا طریقہ بتایا۔انہوں نے مجھے پڑھانا شروع کردیا،میں نے دل لگا کر محنت کی اور 2004 ؁ء میں الحمد للہ میں نے انٹر کا امتحان بھی 65%نمبروں کے ساتھ فرسٹ ڈویژن میں پاس کرلیا۔
؁ پھر میں ایک دوسرے راستے پر چل نکلا۔میں"De track"ہوگیا۔بہ الفاظ دیگر میں کسی کی محبت میں گرفتار ہوگیا۔ پڑھائی سے میری توجہ ہٹ گئی۔میں نے سوچا کہ والدین سے شادی کی بات کرتا ہوں ،لیکن اس معاملہ میں بھی ایک آزمائش میری منتظر تھی۔میں شادی کا سوچ رہا تھا کہ فریق ثانی کی طرف سے اچانک انکار ہوگیا۔انکار کی وجہ میری بصارت ،میری نا بیبائی تھی ۔ میں اس صورت حال سے دلبرداشتہ ہوگیا۔میں نے بی۔اے کا داخلہ بھی نہ بھیجا۔میری والدہ اگرچہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہیں لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ ابھی داخلہ بھیجنے کی تاریخ باقی ہے تو انہوں نے مجھے کہا کہ داخلہ بھیجو اور بی۔اے کا امتحان دو۔میں نے کہا امی مجھے پتہ ہے میں فیل ہوجاؤں گاتو فیس کے پیسے ضائع کرنے کا کیا فائدہ؟لیکن امی کے اصرار پر آخری تاریخ کو داخلہ فیس جمع کروائی۔داخلہ بھیج دیا،سارے پیپر بھی بخیریت دے دیے لیکن بد قسمتی دیکھئے اسلامیات لازمی کے پیپر والے دن میرے مددگار(جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ نابیناؤ ں کے لئے پیپر میں ایک مددگار ہوتا ہے ،پیپر دینے والا بولتا جاتا ہے ،لکھنے والا لکھتا جاتا ہے۔)کی بائک خراب ہوگئی۔اس دن جمعہ تھا،اکثر دکانیں بند تھیں اس لئے بائک ٹھییک نہ ہو سکی اور میں اسلامیات کا پیپر نہ دے سکا۔جب بی۔اے کا نتیجہ آیا تو میں انگریزی سمیت تمام مضامین میں پاس تھا لیکن اسلامیات میں فیل ہو گیا۔ مجھے بڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ مسلمان ہوتے ہوئے اسلامیات مین فیل ہوگیا،کسی نے وجہ جاننے کی زحمت نہیں کی،بس طنز کے تیر برسائے۔خیر میں نے اسلامیات کی سپلی کلیئر کی اور گریجوایشن میں میری سیکنڈ ڈویژن بنی۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ کا احسان تھا ورنہ میرے حالات تو سیکنڈ ڈویژن والے نہیں تھے۔بی اے میں ،میں نے 53% نمبر حاصل کئے۔
مجھے کرکٹ کھیلنے کا بے حد شوق تھا۔مگر بینائی کے جانے سے میرا یہ شوق بھی پورا نہیں ہو سکتا تھا۔مگر میں نے حوصلہ نہیں ہارا ،میں نے اپنا یہ شوق اس طرح پورا کیا کہ میں کوچ بن گیا۔میں خود تو کھیل نہیں سکتا تھا مگر میں نے کرکٹ کی کوچنگ کرکے اپنا شوق پورا کیا۔ 2003 ؁ء میں انٹر کے دوران مجھے پتہ چلا کی فیصل آباد میں Skilled basedکورسز کروائے جاتے ہیں تو گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران میں وہاں گیا۔وہاں سے میں نے کمپیوٹر کورس اور ٹیلی فون آپریٹر کورس کیا۔ان کورسز میں الحمد للہ میری فرسٹ پوزیشن تھی ۔سپوکن انگلش کورس میں میری صرف 2نمبروں کے فرق سے تیسری پوزیشن تھی۔توصیف احمد نے Hadlay school for blind USA (www.hadley.edu) سے مختلف آن لائن کورس کئے،جن میں(1)Interner basics(2)Chess for beginners (3)Word study(4)Personal psychology(5)Effective listening(6)Self employment with a minimal investment.توصیف احمد نے Hadlay school for blind USA (www.hadley.edu) سے مختلف آن لائن کورس کئے،جن میں(1)Interner basics(2)Chess for beginners (3)Word study(4)Personal psychology(5)Effective listening(6)Self employment with a minimal investment.علاوہ ازیں انہوں نے بنیادی کمپیوٹر کورس 85%،ٹیلی فون آپریٹر کورس 93%،ٹیچر ٹریننگ کورس 89%انگریزی بول چال کورس92%نمبروں کے ساتھ مکمل کئے ۔مزید برآں بریل سسٹم کورس بھی مکمل کیا۔گریجوایشن اور ان کورسز میں پوزیشن نے مجھے دوبارہ حوصلہ دیا۔ میں نے ایک نئے جزبے سے ،ایک نئے حوصلے سے زندگی کا سفر شروع کیا۔
میں نے سوچا کہ اب مجھے ایم۔اے انگلش کرنا ہے اور ایم ۔اے میں ان شاء اللہ گولڈ میڈل لینا ہے۔میں نے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے معلومات لیں تو پتہ چلا کہ وہاں ابھی داخلے شروع نہیں ہوئے ۔داخلے کب ہوں گے یہ بھی ٹھیک طرح سے نہیں بتایا گیا ۔ جب میں نے دوبارہ رابطہ کیا تو داخلے بند ہو چکے تھے ۔سوشیالوجی اور ایجو کیشن شروع سے میرے سبجیکٹس تھے۔مگر میں ایم۔اے انگریزی کرنا چاہتا تھا۔میرے ماموں جو خود بھی پنجاب یونیورسٹی میں استاد تھے انہوں نے مجھے سمجھایا کہ سپیشل ایجو کیشن تمہارے لئے زیادہ مناسب ہے اس لئے تم اس میں ایم۔اے کرلو۔میں نے پنجاب یونیورسٹی میں سپیشل ایجو کیشن میں اور فیصل آباد میں سوشیالوجی میں داخلہ کے لئے درخواست جمع کروادی۔پنجاب یونیورسٹی میں میرے ماموں نے ایک بہت ہی محترم استاد عبدالحمید صاحب سے بات کی۔انہوں نے کہا کہ پہلے اسے موبیلٹی (Mobility)کی ٹریننگ دی جائے گی جس میں اسے سکھایا جائے گا کی اس کے لئے نقل وحرکت کا کیا اور کون سا طریقہ ہے؟اس وقت وہاں لیکچرار تھیں اب صدر شعبہ ہیں محترمہ حمیرا بانوصاحبہ نے مجھے ٹریننگ دی۔دوسرا وہاں داخلہ سے پہلے باقاعدہ Assesment ہوتی ہے۔اس سارے پراسس میں میری ڈیڑھ ماہ کی کلاسیں ضائع ہوگئیں۔ہمیں وہاں کوئی خاص سہولیات میسر نہیں تھیں۔ایک تو بریل(Braille system)اور دوسرا (Through screen reading system)سکین کر کے کمپیوٹر پر آواز کے ساتھ سننے کا طریقہ تھا۔لیکن یہ سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ہم اپنے کلاس فیلوز سے کہتے تھے وہ ہمیں آواز ریکارڈ کر دیتے تھے،ہم سن لیتے تھے۔میں اپنے اس کیریئر میں بہت بولڈ رہا۔خاص طور پرجب کبھی خصوصی افرادکے حقوق کی بات ہوتی ہے تومیں ہمیشہ ڈٹ جاتا ہوں۔ہماری ایک کلاس فیلو قوت سماعت سے محروم تھی۔ہم نے کہا کہ ہمیں توریکارڈنگ کی سہولت مل گئی ہے اس لئے ہمیں کوئی اور سہولت نہ بھی دیں مگر یہ لڑکی ذات کیا کرے گی؟اسے تو کوئی سہولت دیں۔یہ بات ڈیپارٹمنٹ والوں کو بہت بری لگی کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں اس بندے کو داخلہ لئے ہوئے اور یہ دوسروں کے حقوق کا علمبردار بننے لگا ہے اور وہ بھی ایک لڑکی کے لئے۔حالانکہ بات لڑکے یا لڑکی کی نہیں تھی بلکہ ایک مجبور انسان کے کیریئر کا معاملہ تھا۔اس پر بہت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی۔ابھی یہ معاملہ ٹھنڈا نہیں ہواتھا کہ ایک اور بات وجۂ نزع بن گئی۔ ہمارا کلاس نمائندہ،سی آر(Class representative,C.R)صحیح کام نہیں کر رہا تھاتو میں نے مطالبہ کیا کہ یا تو وہ اچھے سے اپنے فرائض انجام دے یا کسی اور ذمہ دارساتھی کو اس کی جگہ کام کرنے کا موقع دیا جائے۔لیکن وہ سی۔آر کچھ اساتزہ کا چہیتا تھااس لئے اس کی شکایت کرنا مجھے بہت مہنگا پڑا۔سی۔آر کے الیکشن قریب آئے تو میں نے کچھ دوستوں کے اصرار پر سوچا کہ میں خود ایک امیدوار کے طور پر حصہ لیتاہوں ۔حالات کے پیش نظر اکژیت میری حمایتی تھی اس لئے میری کامیابی کے بہت قوی امکانات تھے۔میرے الیکشن میں حصہ لینے کی خبر اڑتے اڑتے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ تک بھی پہنچ گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اس دن کا ڈیڑھ گھنٹے کا لیکچر CR ship کے نقصانات پر دیا اور مجھے باور کروایا کہ اس الیکشن میں حصہ نہ لینا ہی میرے حق میں بہتر ہے اور برملا کہا کہ تم CR ship کے امیدوار ہو حالانکہ ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ تمہیں ڈیپارٹمنٹ میں رہنا بھی ہے یا نہیں؟اور اس خواب کا مجھے یہ خمیازہ بھگتنا پڑا کہ اس سمسٹر میں ان کے سبجیکٹ میں میری سپلی آگئی۔ مگر میں نے ہمت نہیں ہاری۔میں نے سوچ لیا کہ اب ڈیپارٹمنٹ میں نہیں پڑھنا بلکہ ان شاء اللہ خود پڑھنا اور آگے بڑھنا ہے۔ ہمارے دوست ہمیں جو نوٹس آڈیو کیسٹوں میں ریکارڈ کرکے دیتے تھے میں نے انہیں پڑھنے کے لئے سارا ڈیٹا کمپیوٹر پرکنورٹ کرنا شروع کیا۔ایک کیسٹ کو کنورٹ ،کمپوزکرنے میں مجھے آٹھ گھنٹے لگتے تھے۔گھر آکے میں یہ کام شروع کرتاتھا اوررات کو میری ہمت جواب دے جائی تھی ،سورات کا کھانا کھا تے ہی میں سوجاتا تھا۔یوں میں نے بڑی محنت سے نوٹس مکمل کئے۔پھر عید کی چھٹیاں ہوگئیں اور میں گھر آگیا۔جب میں نے تیاری کے لئے اس فائل کو اوپن کرنا چاہا تو پتہ چلا کہ میری ساری محنت پر پانی پھر گیا ہے۔ وہ یو ۔ایس۔بی اور کمپیوٹر کا ڈیٹا کرپٹ ہوگیاہے تو۔۔۔۔بس پھر آڈیو کیسٹ دوبارہ سنے،امتحان دیا مجموعی نتیجہ تو 3.22 سی۔جی۔پی کے ساتھ بہتر رہا مگر میڈم کے پیپر میں سپلی کی وجہ سے گولڈ میڈل کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔بقول شاعر:
؂ قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند۔۔۔دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا
ایم اے کے دوران انہوں نے ایک تحقیقی مقالہ بعنوان"A comparative study of students with visual impairments in higher education coming from inclusive and segregated educational settings" لکھا۔چیس کے بین الاقوامی آن لائن مقابلوں میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ جینڈر سٹڈیز کے میگزین "Intellectual youth" میں ایک مضمون بعنوان "I am like you"لکھا۔انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن پر پنجاب یونیورسٹی کی نمائند گی کی ۔اپنے شعبے کی طرف سے منعقدہ خصوصی افراد کے کھیلوں کے مقابلوں میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔
توصیف احمد نے بتایا کہ :جب میں نے پہلا ایم۔اے مکمل کرلیا تو مجھے لگا کہ اگر میں لاہور سے واپس آگیا تو میں ایڈجسٹ نہیں کرسکوں گا۔سو میں نے سوچا کہ ایک اور ایم۔اے کرلیا جائے۔ پہلا ایم۔اے کرنے کے لئے میرے ماموں نے میری مالی مدد کی۔مگر دوسرے ایم۔اے کے لئے انہوں نے کہا کہ اب آپ اپنی مدد آپ کریں،میرے لئے مزید معاونت ممکن نہیں ہے۔میں نے ان سے کہا کہ اگر میں خود سے کچھ کرسکا تو ٹھیک ہے ،بہرحال میں اب ان شاء اللہ آپ کو زحمت نہیں دوں گا۔ مجھے پتہ تھا کہ وہاں سکالر شپ بھی موجود ہیں مگر میں نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا۔میں نے ایم۔اے سوشیالوجی کا سوچا۔داخلے کے لئے ٹسٹ دیا،میری اس ٹسٹ میں دوسری پوزیشن آئی مگر مجھے اس لئے داخلہ نہ مل سکا کیونکہ وہاں فریش طالب علموں کو داخلہ دیا جاتا تھا۔پھر ایک دوست نے جنڈر سٹڈیز میں داخلہ کا مشورہ دیا۔میں نے پنجاب یونیورسٹی میں ہی درخواست دی۔میڈم ثمرفاطمہ صاحبہ نے میرا ٹسٹ لیا اور الحمد للہ میرا وہاں داخلہ ہوگیا۔یہ امتحان میں نے 3.53 سی جی پی کے ساتھ2012 ؁ ء پاس کیااور الحمد للہ وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ سکیم کے تحت مجھے لیپ ٹاپ ملا۔ 
جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ میں نے الحمد للہ اپنے سارے کیریئر میں اپنے جیسے خصوصی طالب علموں کے حقوق کے لئے بھر پور کوششیں کیں۔میں نے دیکھا کہ اکثر والدین اپنے صحت مند بچوں پر تو خوشی سے خرچ کر تے ہیں مگر معزور بچوں کے بارے میں سوچتے ہیں کہ ان کو پڑھا کر کیا کرنا ہے؟سو میں نے کچھ دوستوں کو ساتھ ملا کر یہ کوشش کی کہ خصوصی طالب علموں کی فیس معاف کروائی جائے۔ہم نے حکومت سے معزور طالب علموں کی تعلیمی اور اقامتی فیسوں کی معافی کے مطالبہ کا سوچا۔ جواب ملاکہ ان کی تو پہلے سے فیسیں معاف ہیں۔میں نے اپنی اور نارمل طالب علموں کی فیس کی رسیدیں ساتھ لگا کے بھیجیں کہ فیس تو معاف نہیں ہے۔تو انہوں نے ٹیوشن فیس معاف کی جو صرف آٹھ،نو سو روپے تھی۔ہم سے پہلے بھی خصوصی افراد کی فیس معافی کے لئے کوششیں کی جاری تھیں۔ دوبارہ مطالبے پر جواب ملا کہ ہم فیس تو پوری لیں گے مگر آپ کو وظیفہ دیں گے۔کچھ لاکھ روپے اس مقصد کے لئے مختص کردیے گئے۔شروع میں تو یہ بہت بہترین رہا،مگر جیسے جیسے طالب علموں کی تعداد بڑھتی گئی یہ رقم کم پڑتی گئی کیونکہ رقم اتنی کی اتنی ہی رہی جبکہ طالب علموں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔پھرمیں نے اور کچھ دوستوں نے اس وقت کے گورنر پنجاب جناب خالد محمود سے ملے اورر درخواست پیش کی۔درخواست میں نے خود لکھی جس میں یہ مطالبہ کیا کہ ہماری صرف ٹیوشن فیس ہی نہیں اقامتی اور باقی فیسیں بھی معاف کی جائیں۔الحمد للہ 2007-8میں انہوں نے ہماری تمام فیسیں معاف کردیں۔جب پنجاب یونیورسٹی میں ،معاف ہوئیں تو ہم نے باقی اداروں کے اپنے ساتھیوں کو بتایا ۔انہوں نے ہماری مثال دے کر درخواست دی تو فیصل آباد میں بھی فیسیں معاف کردی گئیں۔
اس کے بعد ہم 14اگست 2012 کوگورنر پنجاب جناب لطیف کھوسہ سے ملے۔ہم نے انہیں چار مطالبات پیش کئے جو یہ تھے:
-1تمام یونیورسٹیوں میں معزور طلبہ وطالبات کی تمام قسم کی فیسیں معاف کردی جائیں۔
-2معزور طلبہ وطالبات کے لئے داخلوں کے لئے عمر کی حد ختم کردی جائے۔
-3اپنے زیر انتظام تمام یونیورسٹیوں کے "نابینا(Blind)"طلبہ وطالبات کو اختیار دیا جائے کہ وہ اپنے لئے مخصوص امتحانی طریقوں میں سے جس میں سہولت اور آسانی محسوس کریں ،اسے اختیار کر لیں۔
-4ملازمتوں میں معزور افراد کے لئے دو(2)فیصد کوٹہ بحال کیا جائے۔
الحمد للہ ہماریے یہ مطالبات مان لیے گئے۔
؂ نامی کائی بغیر مشقت نہیں ہوا۔۔۔سو بار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا
اردوڈائجسٹ کی کاوش "کاروانِ علم فاؤنڈیشن" کے تحت معزور طالب علموں کے حقوق کے لئے ایک کاروان بنا جس کے جنرل سیکر ٹری ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی (صدر مجلس ادارت اردو ڈائجسٹ ) اورسینئر ایڈوائزر ڈاکٹر عبدالحمید صاحب تھے جبکہ تین خصوصی افراد بھی اس کاروان میں شامل تھے ۔ان میں سے ہر ایک کا ایک خاص مشن یا نعرہ تھا جیسے کہ عامر کمالوی سینئر کو آرڈینیٹر کا نعرہ تھا :
؂ اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں۔۔۔ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا
محمد حماد ملک کو آرڈینیٹر کا نعرہ تھا:
؂ شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا۔۔۔اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
توصیف احمد کا نعرہ تھا:
؂ راہ عمل میں جذبہ کامل ہو جس کے ساتھ۔۔۔خود بڑھ کے تھام لیتی ہے منزل کبھی کبھی
اس کاروان کے تحت خصوصی افراد کے لئے صرف حکومتی اقدامات پر اکتفا نہیں کیا گیابلکہ اس کاروان کی طرف سے بھی خصوصی افراد کی مدد کے لئے بہت سے اقدامات اٹھائے گئے۔ 
توصیف احمد نے اپنی عملی زندگی کے آغاز کے بارے میں بتایا کہ میں نے ملازمت کاآغاز جنوری 2012 ؁ ء میں پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔اس کے بعد کالج آف انجینئر نگ اینڈٹیکنالوجی میں ڈیڑھ سال ملازمت کی۔آج کل میں سپیشل ایجو کیشن سنٹر کبیر والا میں سینئر ٹیچر ہوں۔خصوصی بچوں اور افرادکے لئے ایک کمپیوٹر سنٹر بنانا میری دلی خواہش اور کوشش ہے ۔ الحمد للہ !میری اس خواہش کی تکمیل کے آثار دکھائی دینا شروع ہوگئے ہیں۔مجھے اللہ پاک سے امید ہے کہ میرا یہ خواب ان شاء اللہ ضرور پورا ہوگا۔میں 2013 ؁ ء سے یونیورسٹی آف مینجمنٹ ایڈ ٹیکنالوجی لاہور سے ایم فل کر رہا ہوں۔الحمد للہ کورس ورک مکمل ہو چکا ہے،تھیسس پر کام جاری ہے۔میرے تھیسس کا موضوع ہے"
"Teachers perceptions about the cognitive
abilities of the sisually impaired students reading in class 10"
میرے اس سوال کا جواب بہت تکلیف دہ تھا کہ"آپ کی شادی ہوگئی؟"توصیف احمد نے بتایا کہ میری شادی ہوئی تھی۔مگر ختم ہوگئی۔میں نے پوچھا کہ کیوں کیا وجہ ہوئی؟تو جواب خلاف توقع تھا کہ خاتون کی فرمائش تھی کہ مجھے الگ رہنا ہے۔میں تمہارے والدین کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔تم اپنے والدین کو اپنی بہن کے گھر چھوڑ دو یا مجھے الگ گھر لے کے دو۔میں اپنے والدین کاسب سے بڑا بیٹا ہوں ،بڑا نہ بھی ہوتا تب بھی میں اس بڑھاپے میں اپنے والدین کو کیسے اکیلا چھوڑ سکتا ہوں؟میں موصوفہ کی یہ فرمائش کیسے پوری کر سکتا تھا؟سو ہمارے درمیان علیحدگی ہوگئی۔توصیف کی والدہ نے بڑے دکھ سے کہا کہ ہمارااپنا گھر ہے ، اللہ کے کرم سے سب کچھ ہے ہمارے گھر میں،مگر توصیف کی زندگی میں جو کمی ہے وہ مجھے بہت دکھی کرتی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے مجھ سے التجا کے انداز میں کہا کہ میں توصیف کے لئے کوئی لڑکی تلاش کرنے میں ان کی مدد کروں۔میں نے ان سے کہا ان شاء اللہ ،اس کی زندگی کی یہ کمی اللہ بہت جلد پوری کرے گا،انہیں ایک بہترین جیون ساتھی ضرور ملے گی۔
لوگوں کے خصوصی افراد سے رویے پر توصیف نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں میں خصوصی افراد سے رویوں کے حوالے سے شعور (Awareness)کی کمی ہے ۔کچھ لوگ تو ان پر اتنا ترس کھاتے ہیں کہ وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔کچھ لوگ صرف زبانی ترس کھاتے ہیں،کچھ بظاہر تو ترس کھاتے ہیں مگر ان کے الفاظ نہیں نشتر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں پروگرام ترتیب دے رہا ہوں کہ سکولوں ،کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں جاؤں اور بتاؤں کہ لوگوں کا خصوصی افراد سے اصل میں رویہ کیسا ہونا چاہیئے؟لوگ سڑک پار کرتے ہوئے یا دیگر جگہوں پر بجائے اس کے کہ کسی خصوصی فر د کا ہاتھ پکڑ کر سڑک پار کروادیں،کھڑے ہو کے دیکھتے رہتے ہیں کہ ذرا دیکھیں یہ کیسے سڑک پار کر تے ہیں؟
انہوں نے ایک واقعہ سنایا جسے سن کر میں بہت دکھی ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ ان کے ایک اور نابینادوست کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ہوا یوں کہ وہ دوست کسی دوسرے دوست کے پاس بیٹھے تھے۔ایک ملنے والے آئے۔دوست نے تعارف کروایا۔آنے والے نے جب دیکھا کہ نامینا شخص ہے تو اس سے پنجابی میں سوال وجواب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔نام پوچھنے کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ کچھ یوں تھی:آپ کیا کرتے ہیں؟جواب ملا میں ٹیچر ہوں۔موصوف نے اچھا،اچھا ما شاء اللہ کہ کر اگلا سوال کیا:کچھ پڑھے لکھے بھی ہیں؟جواب دیا گیا کہ جی میں نے ایم۔اے کیا ہے۔موصوف نے پھر سبحان اللہ،ماشاء اللہ کا ورد کرتے ہوئے اگلا سوال پوچھا:آپ کی شادی ہوگئی ہے؟انہوں نے کہا جی الحمد للہ شادی ہو گئی ہے ۔موصوف نے حیرت سے کہا!اچھااچھا،ماشاء اللہ،سبحان اللہ۔آپ کی بیوی بھی آپ کی طرح بلائنڈ ہے؟یہ اگلا سوال تھا،جس کا جواب تھا کہ نہیں وہ تو نارمل ہیں الحمد للہ۔اچھا،ماشاء اللہ،سبحان اللہ۔آپ کے بچے بھی ہیں؟سوال کیا گیا۔جی الحمد للہ میرے دو بچے ہیں،ایک بیٹا،ایک بیٹی۔اچھااااا۔واہ بھئی واہ ۔ماشاء اللہ۔اگلا سوال بچوں کے بارے میں یہ تھا کہ وہ نارمل ہیں؟جواب میں کہا گیا جی بالکل وہ نارمل ہیں۔اچھا اچھا،ماشاء اللہ،سبحان اللہ۔موصوف کا اگلا سوال تھا کہ شادی خاندان میں ہوئی ہے یا خاندان سے باہر؟جواب آیا خاندان میں ہوئی ہے۔میری بیوی میری پھوپھی زاد ہے۔اس پر اس کاجواب بہت ہی تکلیف دہ تھا۔موصوف نے کہا:" اچھا اچھا تبھی میں بھی حیران تھا کہ "بغانہ"اپنی دھی نوں کنویں ڈوب دا؟"(اچھا اپنے ہیں،اسی لئے تو رشتہ دے دیاورنہ کوئی غیر اپنی بیٹی کو کیسے دھکا دیتا؟)۔شاعر نے اس طرح کی صورت حال کے بارے میں کیا خوب کہا ہے:
؂ لفظ کہنے والوں کا کچھ نہیں جاتا۔۔۔لفظ سہنے والے کمال کرتے ہیں
"بینا"لوگوں کا نابینا لاگوں کے ساتھ یہ تکلیف دہ رویہ تبدیل ہو سکتا ہے اگروہ اپنے آپ کو ان کی جگہ رکھ کر سوچیں۔وہ یہ سوچیں کہ اس کمی میں ان کا اپنا تو کوئی ہاتھ یا قصور نہیں ہے،یہ تو قدرت کی طرف سے ہے جس میں اللہ کی کوئی نہ کوئی تو مصلحت یا بہتری ہوگی جو ہم جیسے محدود سمجھ اورذہن کے لوگ سمجھ نہیں پاتے۔انہیں تو اللہ کا شکر گزار ہوتے ہوئے ان کی مدد کرنی چاہیئے ۔بقول علامہ اقبال:
؂ دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب۔۔۔آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
ایک دانا کا قول ہے کہ: 
" میں نابینا لوگوں کی بہت عزت کرتا ہوں کیونکہ وہ لوگوں کے متعلق ان کے چہرے 
دیکھ کر نہیں بلکہ ان کے رویے دیکھ کر رائے قائم کرتے ہیں"۔
مختصر یہ کہ توصیف احمد بے بصر(نابینا)ہوتے ہوئے بھی نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے جیسے بے بصر اور خصوصی افراد کو اپنے پاؤ ں پر کھڑا کرنے کے لئے جدوجہد میں خلوص دل سے مصروف عمل ہیں۔وہ"احساس"اور"سماعت"کی آنکھ سے اپنے جیسے لوگوں کا دکھ نہ صرف محسوس کرتے ہیں بلکہ ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر ایسے افراد کو باوقار زندگی بسر کرنے اور باعزت روزگارکے ذرائع اور وسائل مہیا کئے جائیں تا کہ لوگ انہیں"اپاہج"کہنا اور سمجھنا ترک کردیں۔
جبار واصف نے"اپاہج"کی کتنی خوبصورت تعریف بیان کی ہے کہ:
؂ اپاہج وہ نہیں ہوتے جوبینائی نہ رکھتے ہوں
اپاہج تو وہ ہوتے ہیں جو سچائی نہ رکھتے ہوں
اپاہج وہ نہیں جن کو ہو کوئی ذہنی معزوری
اپاہج وہ ہیں جو معزوری بنا لیتے ہیں مجبوری
کسی کو تب تلک واصف اپاہج میں نہیں کہتا
کہ جب تک حوصلوں میں حوصلہ زندہ نہیں رہتا
سوفٹ ویئر انجینئرز اور اس شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد ان بے بصر یا نابینا افراد کی عملی مدد کر سکتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اردو پڑھ کے سنانے والا سوفٹ ویئر ایجاد کردیں جو ان کے لئے بھی یقیناًنیک نامی اور شہرت کا باعث ہوگا،ارباب اختیار اگر یہ کام اپنی نگرانی میں کروائیں توان لوگوں کی ڈھیروں دعائیں ان کی دنیا اور آخرت کوسنواردیں گی۔ان شا ء اللہ۔
توصیف احمد کے لئے اس دعا کے ساتھ اجازت دیجئے کہ:
؂ فضل خدا کا تم پر سایہ رہے ہمیشہ۔۔۔ہر صبح بخیر گزرے،ہر شب رہے مبارک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com