ماہر تعلیم مادام نبیلہ کوکب سے ایک ملاقات

ماہر تعلیم مادام نبیلہ کوکب سے ایک ملاقات
انٹرویو؛مراد علی شاہد دوحہ قطر
نیلسن منڈیلا سے تعلیم کی بابت جب سوال کیا گیا تو نیلسن منڈیلا نے اس کی بڑی جامع تعریف یوں بیان کی کہ" تعلیم ایک ایسااسلحہ(ہتھیار)ہے جس سے آپ دنیا میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں" تاریخ اس بات کی شاہد بھی ہے کہ ہمیشہ زوال و انحطاط پزیر معاشرہ،ترقی وکامیابی و کامرانی کے زینے تب طے کرتا ہے جب ریاست کے تمام اداروں اور انسانوں کے ہر شعبہ ہائے زندگی پر جدید تعلیم یا وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کے قبضے میں ہوں۔ملکی نظام اگر جدید تعلیمی خطوط پہ استوار ہوگا تو کسی بھی ملک کے فلاحی ریاست بننے میں صدیوں نہیں ،لمحے درکار ہوتے ہیں۔مگر یہ سب تب ممکن ہوتا ہے جب نظام تعلیم کے ساتھ ساتھ ،اطلاق کے حامل افراد محنت و مشقت اور خلوص سے کچھ کرنے کے عزمَِ صمیم سے لبریز ہوں۔
شعبہ تعلیم میں شب و روز محنت شاقہ کرنے والی ماہر تعلیم مادام نبیلہ کوکب دوحہ قطر میں پاکستانی کمیونٹی میں ایک ایسی شخصیت ہیں جو تقریباً گذشتہ تین دہائیوں سے قدیم تعلیمی ادارے گروپ آف پاک شمع سکولز و کالج میں بطور ماہرِ تعلیم اپنے فرائض منصبی ادا کر رہی ہیں۔انکی جہدِ مسلسل اور انتھک شبانہ روز محنتِ شاقہ ہی کا ثمر ہے کہ جس تعلیمی ادارے سے وہ وابستہ ہیں اب باقاعدہ تعلیمی نیٹ ورک کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے۔سکول،کالج،انٹرنیشنل سٹریم،فیڈرل تعلیمی سسٹم و کیمرج تعلیمی سسٹم پر مشتمل برانچز باقاعدہ تعلیمی ویبweb کی صورت اختیار کر گیا ہے۔گذشتہ روز ان سے ایک ملاقات پر کئے گئے چند سوالات قارئین کی نذر ہیں۔
س؛آپ کی نظر میں فلسفہ تعلیم کیا ہے؟
ج؛بہت شکریہ،میری نظر میں تعلیم بچوں کو محض سبق یاد کروا دینے یا کتابوں کو رٹہ لگانا نہیں ہے بلکہ میں تعلیم میں مقصدیت،فکرو نظر،خیالات و رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کے عمل کو تعلیم کا بنیادی مقصد اور فلسفہ خیال کرتی ہوں۔
س؛ قدیم و جدید فلسفہَ تعلیم و فکر کی آپ کے ہاں کیا گنجائش ہے؟
ج؛ہم تو اس لحاظ سے بہت خوش قسمت قوم ہیں کہ جس کے راہبر و راہنما حضرت محمدﷺ نے فرمایا کہ " علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے" علاوہ ازیں مرد و زن کو حصول تعلیم میں کسی قسم کا کوئی امتیازی سلوک کی بھی گنجائش نہیں رکھی۔یعنی ہمیں قدامت پسندی اور جدیدیت دونوں فلسفہ اور تعلیمی جدّات و انقلاب کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے ایسی تعلیم کے حصول کو ممکن بنانا ہے کہ دنیا میں ہم ایک مثال بن کر ابھریں۔اقبال کا ایک شعر یا د آ رہا ہے کہ 
اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
س؛آپ کے خیال میں تعلیم،شخصیت سازی و کردار سازی میں کیسے ممد و معاون ہوتی ہے؟
ج؛شخصیت و کردار سازی میں تعلیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔تعلیم آپ کے اندر اعتماد پیدا کرتی ہے۔شخصیت و کردار بغیر اعتماد کے ادھورے ہیں۔گویا آپ کہہ سکتے ہو کہ علم ہی وہ پارس ہے جس کے لمس سے آپ میں بھرپور اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔تعلیم خیالات کو سوئے فلک پرواز کرواتی ہے اور انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ جان لے کہ،حق و باطل میں خطِ فاصل کیسے لگانا ہے،نیک و بد میں کیا فرق ہے،خیر و شر میں کون بہتر ہے؟رجلِ احسن و رجلِ شیطان کی پہچان کیا ہے؟جب آپ میں ان باتوں میں تمیز کے شمائل و خصائل پرورش پا جاتے ہیں تو آپ شخصیت و کردار سازی کے اعلیٰ مقام پہ متمکن ہو جاتے ہو۔اور یہ وہ مقام ہے کہ جس کا اشارہ اقبال اپنی شاعری میں فرماتے ہیں کہ" خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے" اور یہ سب تعلیم کی وجہ سے ممکن ہو پاتا ہے۔
س؛مادام آپ کیا سمجھتی ہیں کہ کامیابی میں محنت کا کتنے فی صد ہاتھ ہوتا ہے؟
ج؛اس سلسلہ میں قرآن ہماری بہترین راہنمائی فرماتا ہے کہ "ولیس للانسان الا ماسعیٰ" بس انسان کو اپنے مقصد کے حصول کے لئے درست سمت کا تعین خود کرنا ہے اور پھر محنت پہ ڈٹ جانا ہے۔باقی انسان کا اپنا نصیب ہے اللہ جسے چاہے جتنا نواز دے۔مگر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے رہنے سے بھی انسان لاحاصل ہی رہتا ہے۔تو کیا یہ بہتر نہیں کہ حاصل کے حصول کو ممکن بنانے کے لئے شبانہ روز محنت پہ لگ جائیں اور منزل کے حصول کو ممکن بنا لیں۔
س؛آپ کی نظر میں طالبِ علم میں ایسی کون سی خوبی ہونی چاہئے جو اس کی زندگی میں تبدیلی لا سکتی ہوں؟
ج؛میرا ہمیشہ اس بات پہ یقینِ کامل رہا ہے کہ only passion can change the world ۔زمانہ طالبِ علمی سے عملی زندگی تک جنون ہی ایسا عمل ہے جس سے آپ اپنی ذات اور پوری دنیا میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ اگر passion کو آپ profession اور زندگی کی تسبیح بنا لیں تو ہر میدان میں کامیابی آپ کے مقدر کا حصہ بن جائے گی۔
س؛بطور ماہرِ تعلیم آپ کا تجربہ کیا کہتا ہے؟کہ پاکستان اپنے متعین تعلیمی اہداف میں اب تک کامیاب ہو پایا کہ نہیں؟
ج؛بدقسمتی سے ہماری تعلیم بھی باقی شعبوں کی طرح سیاست کی نذر ہو گئی ہے۔جس کی وجہ سے ہم تعلیمی میدان میں خاطر خواہ نتائج اور اہداف کے حصول میں کامیاب نہیں ہو پائے اگرچہ کچھ بہتر تعلیمی صورتِحال نظر ضرور آتی ہے تاہم وہ تبدیلی بھی نجی اداروں کی مرہونِ منت ہے۔وگرنہ سرکاری ادارے تو آج بھی چاک اور ڈسٹر کے مسائل سے آگے نہیں بڑھ پائے۔
س؛ بیرونِ ملک مختلف کمیونٹی کے بچوں اور والدین سے رابطہ میں کن مسائل سے دوچار ہیں؟
ج؛مسائل سے تو ظاہر ہے کہ دنیا کے ہر خطہ میں آپ کو واسطہ رہتا ہے۔مگر تقاضائے عقل مندی یہی ہے کہ اپنی بصیرت سے ایسا حل تلاش کریں جو فریقین کے لئے قابلِ قبول ہو۔ایسا صرف باہمی مشاورت سے ہی ممکن ہو پاتا ہے۔الحمد للہ اس سلسلہ میں سبھی کمیونٹی کے والدین معاونت فرماتے ہیں جو خوش آئند ہے۔۔۔۔۔۔مادام آپ کے قیمتی وقت کا شکریہ

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com