شیخ علاؤالدین علی احمد صابرکلیری ؒ 

مولانا محمد انورامرتسری ‘قاسمی ‘ندوی 

آپ کی پیدائش 19 ربیع الاول 592ھ میں ہوئی۔ آپ ایک ایسے عظیم صوفی ہیں جن کا ہندو اور مسلمان دونوں ہی احترام کرتے ہیں ۔آپ بھارت کے اتراکھنڈ کے رڑکی شہر سے کچھ فاصلے پر کلیر نامی مقام پر اپنی قبر میں آرام فرما رہے ہیں ۔ آپ کا نام علی احمد صابر تھا۔آپ کے والد صاحب کا انتقال آپ کی پیدائش کے کچھ سالوں بعد ہی ہوگیا تھا ۔ اس کے بعد حضرت صابر کو ان کی والدہ اپنے بھائی بابا فرید الدین گنج شکر ؒ کے پاس ’پاک پتن شریف‘ لیکر چلی گئیں۔یہاں صابر صاحب نے بابا فرید کی شاگرد ی اختیار کرلی ۔ 
علی احمدصابر کلیری کے والد صاحب کا نام حضرت عبدالرحیم عبدالسلام شاہ تھا۔ آپ کی شادی کی کہانی انتہائی دلچسپ ہے ۔ ایک لمبے عرصہ بعد ان کی ماں ہرات نامی مقام سے آئیں اوراپنے بھائی سے درخواست کیں کہ صابر کی اپنی کسی بیٹی سے شادی کردیں ۔یہ سن کر بابا فرید نے جواب دیا وہ شادی کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ لیکن بہن کے باربار کہنے پر انہوں نے خدیجہ نام کی لڑکی سے ان کی شادی کرنے کی سوچ لی ۔ رات کے وقت جب علی احمد صابر اپنے کمرے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہاں ایک اجنبی عورت نماز ادا کررہی ہے جب وہ نماز سے فارغ ہوگئی تو صابر کوبتایا گیا کہ یہ آپ کی ہونے والی بیوی ہیں۔ اس پر صابر علی نے بے ساختہ جواب دیا کہ یہ ہرگز ممکن نہیں ہے ۔ ایک دل میں بیک وقت ایک ہی چیز ہوسکتی ہے۔ میرا دل تو پہلے ہی اللہ اور اس کے رسول کی محبتوں سے سرشار ہے ۔ اب اس طرح کسی دوسرے کی گنجائش نہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زبان مبارک سے کچھ کلمات پڑھے جس کے نتیجہ میں ان کے سامنے موجود وہ خاتون راکھ کی شکل میں بدل گئیں۔ ایک دوسرے موقع پر حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ نے صابر کولنگر بانٹنے کے کام میں لگا دیا جسے انہوں نے بخوشی قبول کیا۔ لنگر بانٹنے سے فری ہو کرجو وقت بچتا اس میں وہ نماز ‘روزہ و دیگر اوراد و وظائف میں مشغول ہو جاتے ۔ انہوں نے 12سال تک مسلسل لنگر تقسیم کیا لیکن جب انہیں خود بھوک کا احساس ہوتا تو آس پاس کے جنگلوں میں جاکر درختوں کے پتے یاپھل وغیرہ کھا کر اپنا گزارہ کرلیتے اور پھر واپس آکر لنگر تقسیم کرنے میں مصروف ہو جاتے ۔
وہ مسلسل درختوں کے پتے وغیرہ کھانے سے لگاتار کمزور ہوتے جارہے تھے۔ جب ان کی والدہ ماجدہ دوبارہ لوٹ کرآئیں تو انہوں نے اپنے بھائی بابا فرید الدین گنج شکرؒ سے اپنے بیٹے کے کمزور ہو جانے کی شکایت کی۔ بابا فرید نے انہیں بلایا اور اس کی وجہ پوچھی تب حضرت صابر علی نے جواب دیا حضور آپ نے مجھے صرف لنگرتقسیم کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا نہ کہ اس میں سے کچھ اپنے لئے بھی لے لینے کا‘ بابا فرید گنج شکرؒ نے یہ سنتے ہی خوشی سے حضرت صابر علی کو اپنے گلے لگالیا اور فرمایا یہ صابر (صبر کرنے والا ) ہے اس دن سے وہ صابر کے نام سے مشہور ومعروف ہوگئے ۔ حضرت صابر علی نے بابافرید الدین گنج شکرؒ کے ساتھ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ گزارنے کے ساتھ ساتھ مذہبی و روحانی تعلیم و تربیت حاصل کی اس کے بعد حضرت بابا فرید ؒ نے آپ کو اپنا خلیفہ مقرر کردیا اور کلیر کی جانب روانہ کردیا۔آپ کی روحانیت اور کشف بارے بہت سے واقعات مشہور ہوئے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کسی وجہ سے شہر کلیر والوں سے ناراض ہوگئے تھے جس کی بنا پر یہ شہر ویران ہو گیا اور محض ایک گاؤں کی شکل میں اب تک موجود ہے اس سے زیادہ اس گاؤں نے کوئی ترقی نہیں کی ۔صابر صاحب کے مقبرے کو پیرِ کلیر شریف کے نام سے بھی جاناجاتا ہے ۔ یہ جگہ پوری دنیا کے لوگوں کیلئے ایک روحانی مرکز بنا ہوا ہے۔ آپ کی وفات 13ربیع الاول 690ھ کے دن کلیر شریف میں ہی ہوئی ۔
(مولانا محمد انورامرتسری ‘قاسمی ‘ندوی 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com