حضرت شیخ شرف الدین بوعلی قلندرؒ 

مولانا محمد انور امرتسری ‘ قاسمی ‘ ندوی ۔ 
حضرت شیخ شرف الدین بوعلی قلندر ؒ کی ولادت 1209ء میں پانی پت میں ہوئی حضرت امام ابوحنیفہؒ آ پ کے جدا مجد ہیں ‘ آپ کے والد محترم کا نام شیخ فخر الدین ہے جوکہ اپنے وقت کے بہت بڑے صوفیوں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔آپ سلسلہ چشتی سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت بوعلی قلندرؒ کا دورِ ولایت ایک انتہائی زرخیز دور تھا۔ اس دور میں صوفیاء کی ایک کثیر تعداد آپؒ کی ہم عصر تھی۔ ان میں حضرت نظام الدین اولیاء ؒ ‘ حضرت جلال الدین رومی ؒ ‘ حضرت شمس تبریز ‘ حضرت علی احمد صابر کلیریؒ ‘ حضرت لعل شہباز قلندر ‘ ؒ حضرت شیخ کبیر الاولیاء ‘ حضرت فخر الدین عراقی ؒ ‘ حضرت امیر خسروؒ ‘ روشن چراغ دہلوی ؒ ‘ حضرت خواجہ حسن سنجری ؒ اور کئی دوسرے نامور اولیاء کرام اس دور میں موجود تھے۔
آپ نے اپنے ہم عصر مسلمان حکمرانوں کا دور بھی دیکھا جن میں غیاث الدین بلبل‘ جلال الدین خلجی‘ علاؤ الدین خلجی اور غیاث الدین تغلق وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں ۔
حضرت شرف الدین بوعلی قلندرؒ نے عبادت و ریا ضت اور درس وتدریس کے ساتھ ہمیشہ تبلیغ اسلام کا کام بھی جاری رکھا۔ آپؒ کی تبلیغ ہی سے بے شمار برادران وطن مشرف بہ اسلام ہوئے۔ پانی پت کے راجپوتوں نے آپ کی دعوت اسلامی پر لبیک کہا اوریوں راجپوتوں کی اکثریت حلقہ اسلام میں داخل ہو گئی۔ آپؒ کی زبان اور بیان میں اللہ تعالیٰ نے ایسا سحر بھر دیا تھاکہ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ سامعین کے دلوں پرایسا اثر کرتے تھے کہ وہ کلمۂ شہادت پڑھے بغیر واپس نہیں جاتے تھے ۔ آپؒ نے لوگوں کو اپنے حسنِ عمل ‘ حسن اخلاق اور حسنِ بیان سے قائل یا مائل کیا۔ وہیں آپ میدان خطابت کے شہسوار بھی تھے ۔ اپنی گفتگو کو دلائل و براہین سے اس طرح سجاتے اور سنوارتے تھے کہ زبان سے ادا کیاگیا لفظ لوگوں کے اذہان و قلوب میں نقش ہو کر رہ جاتا تھا۔ آپؒ برادران وطن کو اسلام کی دعوت ضرور دیتے تھے مگر انتہائی محبت و شفقت اوردلیل و ثبوت کے ساتھ بات کرتے تھے ۔ 
تاریخ کے مصدقہ اوراق اس امرکی شہادت دیتے ہیں کہ خلجیوں کی حکومت نے حتی المقدور کوشش کی کہ راجپوتوں کی ریاستی حکومتوں کا ایک ایک کر کے خاتمہ کردیا جائے ۔ کیونکہ راجپوتوں کی کثیر تعداد ہندوؤں اورسکھوں پر مشتمل تھی ۔ اگرچہ خلجیوں نے انہیں راہ حق کی اعلانیہ اور غیر مشروط دعوت دی مگر انہوں نے اسلام کی مخاصمت اور عداوت میں کمر باندھ رکھی تھی ۔ وہ مقابلے پر آئے لیکن مارے گئے ۔ 
ایک دفعہ حضرت بو علی قلندرؒ حسب معمول مسجد قوۃ الاسلام میں اپنے شاگردوں کو درس دے رہے تھے کہ یکایک وہاں سے ایک درویش گذرا۔ اس نے حضرت بو علی قلندرؒ کے سامنے کھڑے ہوکر بلند آواز سے تین بار نعرہ تکبیر بلند کیا۔ حضرت بو علی قلندرؒ خاموش ہوگئے اور اس کی طرف دیکھنے لگے ۔ اب اس نے حضرت بو علی قلندرؒ سے مخاطب ہو کر کہا ۔ ’’ شرف الدین تجھے اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے دنیا میں بھیجا تھا ۔ وہ تو نے کیوں بھلا دیا ؟ کن چکروں میں پڑا ہے ۔ جس کام کی تکمیل کے لئے آیا وہ تو پہلے پورا کر لے ۔ پھر پڑھاتے رہنا ‘‘ ۔ اس درویش کی بات میں نہ جانے کس طرح کا جادو تھا کہ حضرت بو علی قلندرؒ نے اسی لمحے درس و تدریس کو خیر باد کہا ۔ آپ کے شاگرد آپؒ کے پیچھے دوڑتے رہے مگر آپ تیزی کے ساتھ نکل گئے ۔ جذب و مستی کی حالت طاری کر لی اور نگر نگر بستی بستی مسافرت شروع کردی ۔ صبح کہیں گذارتے تو شام کسی اورجگہ ہوتے ۔ ہمہ وقت روزہ سے ہوتے ۔ افطار کے وقت کچھ مل جاتا تو کھالیتے ورنہ پانی ہی سے روزہ افطار کرلیتے ۔ اس حالت میں حضرت بو علی قلندرؒ ہندوستان سے باہر تشریف لے گئے یوں آپ کی ملاقات حضرت مولانا رومؒ ؒ ؒ اورحضرت شمس تبریزؒ سے بھی ہوئی جنہوں نے آپ کو جبہ و دستار سے سرفراز فرمایا ۔
حضرت بوعلی قلندرؒ کو شاعری سے ازحد شغف تھا ۔ اکثر اوقات فارسی میں اشعار کہتے تھے ۔ بعض موقع پر فی البدیہہ اشعار بھی آپ نے کہے اورسامعین کو حیران کردیا ۔ آپ کی شاعری آج بھی تشنگان علم و معرفت کی پیاس بجھا رہی ہے اور طالبانِ حق آج بھی آپ کی تصانیف سے مستفید و مستفیض ہو رہے ہیں ۔ آپ کے خیالات کی ایک جھلک ملاحظہ ہو ۔ ’’ چشم دل کھولو اور غور سے دیکھو کہ عاشق نے اپنے عشق سے تمہارے لئے کیا کیا چیزیں پیدا کیں اور کیسے کیسے جلوے دکھائے ۔ اس نے اپنے حسن سے ایک درخت سجایا اور طرح طرح کے میوے پیدا کئے ۔ہر میوے میں ایک ذائقہ سمویا ۔ درخت کو نہ تو اپنی ذات کی کچھ خبر ہے نہ اپنے پھول کی اورنہ اپنے میوے کی ۔ اس نے تمہارے لئے میٹھا گنا پیدا کیا جسے اپنی مٹھاس کی خبرنہیں ۔ اس نے تمہاری خاطر ہرن کی ناف میں مشک رکھا اس کی خود ہرن کو خبر نہیں۔ اس نے سمندری گائے سے تمہارے لئے عنبر پیدا کیا ۔ اس نے مشک بلاؤ سے تمہارے لئے خوشبو پیدا کی ۔ اس نے تمہارے لئے درخت سے کافور پیدا کیا جبکہ خود درخت کو کافور کا پتہ نہیں۔ لیکن تم اپنے نفس کو اچھی طرح پہچان لو ۔ سب کچھ پہچان جاؤ گے ۔ 
حضرت بوعلی قلندرؒ 9 رمضان المبارک 724 ھ 122 سال کی عمرمیں اس دنیاسے رحلت فرما گئے اور پانی پت میں ان کی تدفین عمل میں آئی ۔ 
( مولانا محمد انور امرتسری ‘ قاسمی ‘ ندوی ۔ 
چیف کوآرڈینیٹر آف نیشنل ہیومن رائٹس سوشل جسٹس کونسل (پنجاب)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com