محمد ابراہیم جو یو۔ روشن خیال و ترقی پسند ادیب ودانشور

محمد ابراہیم جو یو۔ روشن خیال و ترقی پسند ادیب ودانشور

* ڈاکٹر رئیس صمدانی

شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے یعنی 9نومبرکو ایک افسوس ناک خبر سننے کو ملی کہ سندھ دھرتی کی ایک قابلِ احترام علمی وادبی شخصیت ، روشن خیال و ترقی پسند ادیب و دانشورہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لے جد ا ہوگئی۔محمد ابراہیم جویو ہم سے جدا ضرور ہوگئے ، موت بر حق ہے، ہر ایک کو ایک نہ ایک دن اس دنیا سے چلے جاناہے ۔ لیکن ابراہیم جویو اپنے پیچھے اپنی ایسی عظیم یادیں چھوڑ گئے، اتنا علمی و ادبی ذخیرہ چھوڑ گئے جو ہمیشہ انہیں زندہ رکھے گا۔ ان کا تخلیق کیا ہوا علمی سرمایا طالبان علم کی پیاس تا دیر بجھاتا رہے گا۔ ابراہیم جویو 13اگست1915کو سندھ کے ضلع دادو(اب جامشورو) کے گوٹھ ’آباد‘ میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے طویل عمر پائی اور 102سال کی عمر میں 9نومبر2017کو داعی اجل کو لبیک کہا ۔وہ ایک با اصول اور نظریاتی انسان تھے۔پیشے کے اعتبار سے معلم تھے۔ اسکول کے استاد کی حیثیت سے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ جاوید سومرو کے مطابق سندھ سے والہانہ محبت اور سیاسی ذہنی پختگی نے انہیں کم عمری میں ہی ممتازشخصیت بنادیا تھا۔ 1931میں جب ان کی عمر صرف 26برس کی تھی ان کو کراچی کے سندھ مدرستہ الا سلام جو اب یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے کا استاد منتخب کر لیا گیا، ساتھ ہی ان کا قلم و قرطاس سے بھی انہوں نے رشتہ استوار کر لیا، اپنی تحریروں کے توسط سے انہوں نے سندھ کے لوگوں کو خاص طور پر حکمرانوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ انہوں نے ایک کتاب تحریر کی ’’سیو سندھ ، سیو دی کانٹینینٹ Save Sindh Save Continent، اس کتاب پر سندھ کے حکمران ان سے ناراض ہوگئے اور انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔ واضح رہے اس وقت وزیر تعلیم پیر الہٰی بخش مرحوم تھے ۔ ابراہیم جو نے کسی دوسرے پیشے کا انتخاب نہیں کیا بلکہ خاموشی سے ٹھٹھہ کے ایک اسکول میں معلم ہوگئے۔ ابراہیم جویو سندھ میں ترقی پسندی ، روشن خیالی اور سیکو لرزم کے حامی تھے۔ کیوں کہ وہ ایک نظریاتی تھے اس لیے ان کی تحریریں ان کے نظریات کا پرچار کرتی اور اپنے نظریے کی بھر پور حمایت کرتی نظر آتی ہیں۔ اس بات کا اندازہ ان کی تحریروں سے بخوبی ہوتا ہے۔ ان کی کے زیادہ دلچسپی یا بنیادی موضوعات جن پر انہوں نے زیادہ لکھا اور ساتھ ہی ذوق و شوق سے لکھ ان میں منطق، تاریخ، شاعری اور انقلابی ادب شامل تھا۔ ان کی تصانیف میں شاہ سچل آئیں سامی، فکر جی آزادی، وحشی جیوت جانشان، بارن جو مسیح (ترجمہ)،ماٹھؤ جو بھاگ (کہانیاں)فکر جی آزادی ،تاریخ پاکستان اورسیو سندھ سیو کانٹینینٹ شامل ہیں۔ان کے تحریر کردہ مضامین کی تعداد بے شمار ہے ، معروف اور پسند کیے جانے والے مضامین میں اسلام کا تاریخی کارنامہ، بچوں کی تعلیم، فکر ی آزادی، گلیلیو کی زندگی، بچوں کا مسیح، مظلوموں کی تعلیم و تدریس، سماجی ابھیاس، شاعری کے سماجی تقاضے، جدید دور میں بین الا قوامی تعاون کا مسئلہ، باغی، غریبوں کا نجات دہندہ، بھٹو کی زندگی شامل ہیں۔وہ سندھی زبان کے شاعر بھی تھے ، ان کی مشہور نظموں میں اُو سندھ، محنت کش کے غم محنت کش کے یار، آپ اپنی پرستش کرنے والے ۔ انہوں نے جی ایم سید ، عبداللہ داؤد پوتہ ، پیر حسام الدین راشدی اور دیگر علمی ادبی شخصیات کے خاکے بھی تحریر کیے۔ سندھی زبان کے مصنفین اپنی تصانیف پر ابراہیم جویو سے پیش لفظ یا مقدمہ لکھوانا اپنے لیے بڑا اعزاز تصور کیا کرتے تھے۔جویا مرحوم خود تو اعلیٰ درجہ کے لکھاری تھے ہی نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی میں بخل سے کام نہ لیا کرتے بلکے نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی تحریر میں اصلاح کا فریضہ بھی خوشی سے انجام دیا کرتے۔ کیوں کہ وہ تھے ہی ایک نظریاتی اور روشن خیال اس لیے ان کی تحریر اپنے ہوتی یا دوسرے کی تحریر پر ان کے خیالات، اس میں ان کے نظریات کی جہلک صاف دکھائی دیا کرتی تھی۔ یعنی ان کا ظاہر اور باطن ایک تھا۔ ڈر و خوف سے اپنے نظریات کا اظہار نہیں بلکہ کھلے بندوں ، بے باکی کے ساتھ کرنے والے انسان تھے، دلائل اور سمجھ بوجھ کے ساتھ اپنا نقطہ نظر پیش کیا کرتے تھے۔ ابراہیم جویو صاحب اسلوب نثر نثار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے مترجم بھی تھے انہوں نے کئی زبانوں کے ادب کو سندھی زبان میں مہارت کے ساتھ ترجمہ کر کے سندھی زبان میں پڑھنے والوں کو عالمی ادب کے شہ پاروں سے روشناس کرایا جو ان کا بڑا کارنامہ ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے چی�ئمین ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے ابراہیم جویو کے انتقال کو علم و ادب کا عظیم نقصان قرار دیا ان کا کہنا ہے کہ ’ ابراہیم جویو ایک معتبر اہل قلم کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے‘۔ بلاشبہ پاکستانی اہل قلم و اہل ادب عام طور پر اور سندھ دھرتی خاص طور پر سندھی زبان کے ایک عظیم ادیب و دانشور ، مصنف، مترجم اور روشن خیال انسان سے محروم ہوگئی۔ وہ ایک ترقی پسند اور روشن خیال ادیب دانشور اور شاعر تھے ۔انہوں نے تمام عمر علم و ادب کی خدمات کی حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2013کوصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا اور اکامی ادبیات پاکستان نے اناہیں2013 میں ’’کمال فن ادب انعام‘‘ برائے سال 2011 سے نوازا۔ ابراہیم جویو کا حقیقی اعزاز یہ ہے کہ وہ علم و ادب کی دنیا میں تا دیر یاد رکھے جائیں گے۔ (15نومبر2017)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com