سلیم رضا خدا داد فنکارانہ صلاحیت کے مالک 

سلیم رضا خدا داد فنکارانہ صلاحیت کے مالک 
وہ وقت گزر گیا جب راہ چلتے کسی سے ملاقات ہوتی یا دوران سفر کسی سے بات چیت سے جان پہچان بن جاتی۔ اب سوشل میڈیا کا زمانہ آ چکا ہے۔ اب ملاقات یا جان پہچان سوشل میڈیا پر ہوتی ہے پھر وہ ہمارے خاص رشتے دار ہوں یا دنیا کے کسی اور خطے سے تعلق رکھنے والی شخصیت ہو۔گزشتہ روز فیس بک پر میری ملاقات ایسے ہی ایک با صلاحیت شخصیت سے ہوئی۔ جن کے بارے میں جاننے اور ان کے فنکو نزدیک سے دیکھنے کاتجسس پیدا ہوا۔ پی آئی اے سے ریٹائرڈ سلیم رضا کا تعلق لاہور شہر سے ہے ۔جہاں وہ اپنی چھوٹی سی فیملی کے ساتھ مقیم ہیں۔ سلیم رضا خدا داد فنکارانہ صلاحیت کے مالک ہیں ۔ انکے فن کو دیکھ کر دنیا عش عش کر اٹھے۔ سلیم رضا فوم سے جس پر ہم آپ آرام و استراحت سے محظوظ ہوتے ہیں ،وہ اپنا آرام و راحت تیاگ کر فوم پر کام کرکے مختلف مناظر تخلیق کرتے ہیں۔ جو حقیقت کے اتنے قریب ہوتے ہیں کہ بے ساختہ لبوں سے واہ نکل جاتی ہے سلیم رضا کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے سے اس فن کے موجد ہیں انہوں نے یہ کام 17 سال قبل شروع کیا۔ اپنے فن کے بارے میں انکا کہنا ہے کہ یہ ایک فطری تقاضا تھا جس نے مجھے کچھ الگ کرنے پر مجبور کیا۔ یہ میرا خود کا تخلیقی فن ہے اور میں نے اس فن میں کسی کی راہنمائی نہیں لی۔ اس کام میں تیز دھار آلے کو آگ پر گرم کر کے استعمال شدہ فوم کو ضرورت کے مطابق ٹکڑوں میں کاٹ لیا جاتا ہے اور پھر انکو آپس میں جوڑ کر ان پر نقش و نگار بناے جاتے ہیں اور پھر خاکہ مکمل ہوتا ہے یہ بہت محنت طلب کام ہے لیکن بد قسمتی سے میں اپنے اس کام کو دنیا میں متعارف نہیں کروا سکا تاریخی عمارتیں اور قدرتی مناظر میری کمزوری ہیں میں گھنٹوں انکو دیکھتا رہتا ہوں لیکن مجھے انکی زبوں حالی پر بہت دکھ بھی ہوتا ہے کہ یہ حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے محض منشیات فروشوں کا گھر بنی ہوئی ہیں سلیم رضا کا کہنا ہے کہ میرے اس کام میں میری بیوی نے بہت تعاون کیا وہ میرے حصے کے گھریلو کام بھی خود کرتی رہی ہیں۔ سلیم رضا نے اپنے اس فن کو شوق کی حد تک رکھا اور اس کو کمرشل نہیں کیا۔تاریخی عمارت کے پورٹریٹ کے علاوہ سلیم رضا پینسل ورک بھی بہت دلفریب کرتے ہیں مزید یہ کہ انکے ہاتھوں سے بنے سکیچ کسی مشینی کیمرہ سی لی گئی تصویر سے کم نہیں۔ بچپن کا ایک قصہ سناتے ہوے انہوں نے کہا ایک دفعہ میں نے ایک لڑکی کی تصویر بنائی اور بہت خوشی سے جا کر اپنی والدہ کو دکھائی کہ وہ دیکھ کر بہت خوش ہوں گی لیکن تصویر دیکھتے ہی وہ بہت غصہ ہوئیں اور میری خوب پٹائی کی اور انہوں نے تصویر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔بو کھلاہٹ میں معاملہ میری سمجھ سے باہر رہا انکے جانے کے بعد میں نے تصویر کے ٹکڑوں کو جوڑنا شروع کر دیا اور پھر خیال آیا کہ پہلی دفعہ تصویر کشی میں کسی منظر کی بجاے میں نے لڑکی کی تصویر بنا ڈالی۔ خیر وہ پٹائی کافی سبق آموز رہی اس کے بعد آج تک میں جو بھی کام کرتا ہوں اس کا تنقیدی جائزہ ضرور لیتا ہوں۔سلیم رضا ایک بہت پر وقار شخصیت اور انتہائی نرم و شگفتہ مزاج کے مالک ہیں۔ تصویر کشی کے علاوہ انکو لکھنے کا بھی بہت شوق ہے بہت سے افسانے اور مضامین اپنے شوق کے تحت لکھ چکے ہیں سلیم رضا جیسی شخصیت نہ صرف خصوصی داد و تحسین کی مستحق ہیں بلکہ دیگر افراد کے لئے قابلِ دید نمونہ بھی ہیں ایسے لوگ ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں پاکستان میں ایسے ہزاروں لوگ ہیں جو اپنے کسی نہ کسی فن یا کارنامے کے موجد ہیں لیکن بد قسمتی سے حقیقت اس کے برعکس ہے ۔جہاں سفارشی ٹولے کی واہ واہ ہو اور مخصوص لوگوں کو نوازہ جائے وہاں رئیل ہیروز کو نظر انداز کرنا کوئی اچنبے کی بات نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ سلیم رضا جیسے لوگوں کو ان کا جائز حق دیا جائے ورنہ تاریخ کبھی ہمیں معاف نہیں کرے گی
عروسہ جیلانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com