تیڈے وچ رب سمایا ہے تیڈا ڈیکھن عبادت ہے

تحریر:رانا عبدالرب

Rana abdul Wahab

 

 

آج جب اکیسوی صدی جب دنیا چاند کو تسخیر اور ایک گلوبل ویلج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔جب لوگ ایک کمرے میں مقفل ہو چکے ہیں مادرِ وطن کو تعصب،لسانی،دہشت گردی،کرپشن جیسی موذی امراض نے اپنے لپیٹے میں لئے ہوئے ہے جہاں نہ بیٹی کی عزت باپ کے ہاتھوں محفوظ ہے نہ کسی بہن کی بھائی کے ہاتھوں،جہاں قتل کی خبریں ایک معمول کی صورت اختیار کر چکی ہیں ایسے حالات میں تپتے صحرا میں بیٹھنا والا شاعر’’عارش گیلانی‘‘محبت،امن،شانتی،اور اتحاد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

Aarish Gillaniعارش گیلانی ۱ مارچ ۱۹۷۳ء کو لیہ کے نواحی گاؤں جمن شاہ میں طالب حسین گیلانی کے گھر میں پیدا ہوئے اور انتہائی کم عمری میں انہوں نے ادبی سفر کا آغاز کر دیا یہی سفر ناانہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچانے میں کارگر ثابت ہوا ۔اب تک ان کی دو تصانیف ’’اڈراک۲۰۱۱‘‘ اور ’’بک پانی دا۲۰۱۳‘‘میں شائع ہوئیں اتنی ان کی اور کتابیں زیر طبع ہیں۔ان کے بیشتر گیت مختلف نامور گلوکاراپنی مادھری آواز میں گا چکے ہیں۔یہی نہیں عارش گیلانی اپنی ایک ادبی سنگت’’بزم عارش ‘‘۷ سال سے چلا رہے ہیں اور اپنے آبائی گاؤں جمن شاہ میں ہی ماہانہ ادب نشست کا اہتمام کرتے ہیں جس میں نہ صرف ضلع لیہ بلکہ میانوالی،بھکر اور مظفر گڑھ سے بھی شعراء کرام اپنا کلام پیش کرنے آستانہ گیلانی پر حاضری دیتے ہیں

عارش گیلانی سے ہماری محبت کوئی سالوں اور صدیوں تک محدود نہیں بلکہ ان سے محبتوں کا سفربہت کم عرصہ پر محیط ہے۔اس محدود عرصہ میں عارش گیلانی کے ہم بہت قریب آگئے اور یوں دیکھتے دیکھتے ادبی تعلق نے دوستی کا روپ دھار لیا ۔ان کے ساتھ ملاقات کا ایک ذریعہ ’’بزم عارش‘‘ کی ماہانہ ادبی سنگت ہے یا پھر’’بزم افکار لیہ‘‘ کی ماہانہ ادبی نشست۔

اگر بات کی جائے عارش گیلانی کی شاعری کی توعارش گیلانی نے ہر صنف پر اپنی طبع آزمائی بخوبی انداز میں کی ہے ان کے ہاں ڈوہرہ،غزل،نظم،نعت ،شعر،گیت،نغمے بھیان کی شاعری میں موجود ہیں ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے سرائیکی وسیب کی زبان سرائیکی کا فرض احسن طریقے سے نبھاتے ہوئے ایسے ’’ٹھیٹھ‘‘الفاظ کا استعمال کیا ہے جسے خالصتاً سرائیکی سے جڑت رکھنے والا ہی سمجھ سکتا ہے اور جو اس ماڈرن ازم دور میں متروک ہو چکے ہیں ان کا ایک شعر ہے کہ


چنگیں وات گریڑہ عارش

کم آویسی بک پانی دا


عارش کے ہاں محبوب سے گلے شکوے ،محبت،روٹھنا،مناناہی موضوع نہیں بلکہ ان کی شاعری میں حب وطن کی جھلک اور انقلابی سوچ بھی موجود ہے ۔انہوں نے جہاں معاشرے کی بے حسی اور بے بسی کا رونا رویا ہے وہیں پہ انہوں نے اس تاریکی میں دیا بھی دیکھایا ہے ان کا ایک شعر ملاحظہ کریں

غضب ناک اے لب و لہجہ تہوں لا خوف راہندے ہیں

ہوا دے رخ تھئے روشن ودے ڈیوے بلیندے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com