قومی سطح کے باصلاحیت نامور کرکٹر غلام مرتضی کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو: حفیظ خٹک
سوال :
غلام مرتضی ، اپنا ذاتی تعارف کراتے ہوئے یہ بھی بتائیں کہ کرکٹ کب سے کھیل رہے ہیں ؟ 
غلام مرتضی :
شہر قائد میں ہی میری پیدائش ہوئی اور اس وقت میری عمر 42سال ہے۔ ابتدائی تعلیم سمیت اور انٹر تک کی تعلیم پشاور سے حاصل کی اس کے بعد واپس کراچی منتقل ہوئے اور یہیں سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔17برس کا تھا جب میں نے کرکٹ کھیلنا شروع کی ۔یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ 25برسوں سے کرکٹ کھیل رہا ہوں ۔
سوال:
کن کی جانب سے کرکٹ کھیلتے رہے ہیں اور طویل عرصے سے کرکٹ کھیلنے کی خاص وجہ کیا ہے ؟
سوال :
ان دنوں رنگون ولا وئیر ہاؤس کی جانب سے کرکٹ کھیل رہا ہوں اس سے قبل مختلف کلبس کی جانب سے کرکٹ کھیلتا رہا ہوں ۔ ملک میں کھیلے جانے والے ہر سطح کی کرکٹ اور ٹورنامنٹ میں شرکت کرتا رہا ہوں ۔ملکی سطح کے کلب کرکٹر ہونے کے باوجود میں اب تک قومی ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکا ، جس کا دکھ ہے ۔ جہاں تک طویل عرصے کرکٹ کھیلنے کا تعلق ہے تو شوق وہ واحد و ذریعہ ہے جو میرے کرکٹ کھیلنے کا باعث ہے۔
سوال :
قومی ٹیم میں اب نہ پہنچنے کی کیا وجوہات ہیں ؟ 
غلا م مرتضی :
قومی ٹیم تک پہنچنے اور اس کی جانب سے کھیلنے کیلئے آپ کو ایک ٹھوس اسپانسر چاہئے ۔یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی باعث میں قومی ٹیم میں اب تک نہ پہنچ پایا ہوں ۔ جس طرح مجھے آج تک کوئی اسپانسر نہیں ملا اسی طرح ہمارے ملک میں متعدد کھلاڑی ہیں جنہیں اسپانسر نہیں ملے ہیں ۔ اسی وجہ سے وہ کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ اپنی قومی ٹیم میں رہہ کر کئے بغیر ان دنوں اک عام کھلاڑی کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔جنہیں چند مواقع ملے وہ ادھورے رہے اسی وجہ سے وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر سکے ۔ عتیق الرحمان ، سرفراز عالم ، ناصر خان اور اعظم خان نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی اس کے ساتھ انہوں نے لیول کرکٹ بھی کھیلی لیکن محسوس صورتحال اور منصوبہ بندی کے باعث یہ لوگ ملک کیلئے خدمات سرانجام نہیں دے پائے ہیں ۔
سوال :
باؤلنگ ، بیٹنگ میں سے کس شعبے کو ترجیح دیتے ہیں اور قومی ٹیم میں اس وقت فاسٹ باؤلنگ کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں ؟ 
غلام مرتضی: 
جی میں اک آل راؤنڈر کی حیثیت سے ٹیم میں شرکت کرتا ہوں ، جہاں تک فاسٹ باؤلنگ کا تعلق ہے اس حوالے سے تو میں یہ کہونگا کہ موجودہ قومی کرکٹ ٹیم میں جو فاسٹ باؤلر ہیں ان سمیت اس وقت کرکٹ کھیلنے والی دیگر ٹیموں کے فاسٹ باؤلرز میں کوئی بھی اس قابل نہیں جو تین اوورز بھی لگاتار کراسکیں ۔فاسٹ باؤلنگ کا رجحان ملک میں کم ہو رہا ہے یہ بھی اک عالمی منصوبندی ہے جس کے تخت ہمارے ملک کے تیز رفتار باؤلرز کی حوصلہ شکنی کر کے انہیں اپنی صلاحیتوں کودیکھانے کا موقع فراہم نہیں کیا جارہا ہے ۔بحرحال میری نظر میں ناصر خان ایسے باؤلر ہیں جوکہ لگاتار دس اووز کراسکتے ہیں ۔ 
سوال : 
غلام مرتضی ، فاسٹ باؤلنگ کے حوالے سے آپ کی رائے قابل توجہ ہے ،اسپن باؤلنگ کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں ؟ 
غلام مرتضی :
دیکھئے اب ایک بار پھر میں اپنے الفاظ دہراؤں گا اور یہ کہونگا کہ منظم منصوبہ بندی کے ذریعے پاکستان کی اسپن باؤلنگ کو آگے لایا جارہا ہے اور ٹیT20 میچز میں بھی انہی کو آگے لاکر ابتدائی اووز کرائے جاتے ہیں جس سے تیز باؤلز کی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ 
اسی منصوبہ بندی کے ذریعے پاکستان کے اسپن باؤلر پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے جبکہ بین الاقوامی اسپن باؤلرز کو اس ضمن میں نہیں دیکھا اور پرکھا جاتا ہے ۔ اس کے باعث پاکستان میں پچاس فیصد اسپنرز کی کرکٹ ختم ہوکر رہ گئی ہے ۔بھارت کے کئی کھلاڑی ایسے ہیں جن کا انداز قابل اعتراض ہے اور چند کو باؤلنگ سے منع بھی کر دیا گیا ہے تاہم بھارتی لیگ کرکٹ میں وہ پوری دنیا کے سامنے اپنے باؤلنگ کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں اور وہاں ان کے ملک میں ان کے بورڈ اور عالمی بورڈ کو کوئی نہیں پوچ رہا ہوتا ہے۔ 
سوال :
فاسٹ اور اسپن باؤلنگ میں بنیادی فرق کے ساتھ یہ بھی بتائیں کہ ان کی تیاری میں کن عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے ؟ 
غلام مرتضی :
بنیادی طور پر اسپن باؤلنگ کم رفتار کی مانند سمیت سوئنگ ہوتی گیندوں کو جبکہ فاسٹ تیز رفتار باؤلنگ کو کہا جاتا ہے ۔ فاسٹ باؤلر قدرتی طور پر ہی فاسٹ باؤلر ہوتے ہیں اور ان کی یہ صلاحیت قابل دید ہوتی ہے۔ جبکہ اسپن باؤلنگ کا معاملہ بھی اسی نوعیت کا ہی ہوتا ہے ۔ تاہم تیز رفتار باؤلرز کو اپنے انداز میں ناکارہ بنادیا جاتا ہے جس کے سبب فاسٹ باؤلر بسا اوقات دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں اور ان کی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ 
سوال :
عمران خان ، وسیم اکرم ، وقار یونس اور عاقب جاوید سمیت متعدد تیز رفتار باؤلر ز قومی ٹیم میں اپنا کردار ادا کرچکے ہیں ،اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے خدمات حاصل کیوں نہیں کی جاتی؟ 
غلام مرتضی :
ان سابقہ کھلاڑیوں سمیت اور بھی ایسے متعدد کھلاڑی ہیں جن پر ہمیں فخر ہے اور ان سے سیکھتے رہے ہیں اور اب بھی سیکھ سکتے ہیں ۔ تحریک انصاف کے قائد اور سابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان ان دنوں بھی کرکٹ پر اپنے انداز میں کام کر رہے ہیں ٹیلنٹ پر کام کرتے ہیں ۔ ہم عمران خان کی ان صلاحیتوں کے قائل ہیں ۔اس وقت بھی آپ دیکھیں قومی ٹیم میں پشاور کے کھلاڑیوں کا کردار کس طرح کا ہے ۔ عمران خان جس طرح ملک کی صورتحال کو سیاست کے ذریعے مثبت انداز میں لانا اور بدلنا چاہتا ہے اسی طرح وہ کرکٹ میں مثبت صلاحیتوں کے حامل کھلاڑی کو ٹیم میں لاکر بہترین ٹیم بنانا چاہتا ہے ۔وہ تو بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ قومی ٹیم جلد اس نوعیت کی بنے گی جس پر قوم کو فخر ہوگا اور عالمی کپ کو دوبارہ جیتیں گے۔باقی ماندہ کھلاڑیوں کی صورتحال آپ سمیت سب کے سامنے ہے۔ وقار یونس باؤلنگ کوچ ہونے کے باوجود اپنی قومی ٹیم کے معیار کو بہتر نہیں بنا سکے ہیں ۔ 
سوال :
قومی ٹیم میں پنجاب کے کھلاڑیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی کیا وجوہات ہیں ؟
غلام مرتضی :
پنجاب کے کھلاڑیوں کی مقدار ٹیم میں زیادہ ہونے کی وجوہات یہ ہیں کہ انہیں محسوس انداز میں لایا جاتا ہے ۔ جس طرح ملک کی دیگر انتظامی سرگرمیوں میں پنجاب کی مانپلی ہوتی ہے اور و ہ مخصوص انداز میں آگے کی جانب لائی جاتی ہیں اسی انداز میں کرکٹ کے اند ر بھی ان ہی کی منا پلی ہے۔یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ کرکٹ کے میدانوں پر بھی پنجاب اسی طرح قابض ہے جس طرح وہ ملک کی دیگر کھیلوں صنعتوں و اداروں پر قابض ہے۔ 
سوال : 
شہر قائد میں کرکٹ کی کیا صورتحال ہے اور ماہ رمضان میں کرکٹ کہیں نہیں کھیلی جاتی لیکن یہاں بہت ٹورنامنٹ ہوتے ہیں اس کی کیا وجوہات ہیں ؟ 
غلام مرتضی : 
شہر قائد میں ماہ رمضان کے دوران کرکٹ سب سے زیادہ ہوتی ہے ۔ متعدد کرکٹ ٹورنامنٹ ہوتے ہیں ، جبکہ پشاور و پنجاب سمیت کہیں بھی ماہ رمضان میں کوئی کرکٹ نہیں کھیلی جاتی ہے ۔ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ماہ رمضان میں شہر قائد کے اند ر کرکٹ عروج پر ہوتی ہے ۔ شہر میں بننے والے متعدد کرکٹ گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلی جاتی ہے لیکن قومی نیشنل اسٹیڈیم میں کسی بھی طرح کا کرکٹ نہیں کھیلاجاتا ہے ۔ جس سے اس کی حالت قابل توجہ ہوتی جارہی ہے ۔ 
سوال : 
یہ مخصوص منصوبہ بندی کیا ہے اور کھلاڑیوں کے درمیان اسے کیوں کر اختیار کیا جاتا ہے ؟ 
غلام مرتضی :
ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن محسوس منصوبہ بندی کے باعث انہیں پی سی ایل میں کھیلنے کا موقع نہیں دیا جاتا ہے۔ ایسے متعدد کھلاڑی ہیں جنہوں نے بلے بازی کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرپل سینچری بنائیں لیکن انہیں بھی پی سی ایل میں کھیلنے کا موقع نہی دیا گیا ۔
سوال :
تمام مسائل کے باوجود آپ کرکٹ کے فروغ کیلئے کیا کردار ادا کرسکتے ہیں اور کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ؟ 
غلام مرتضی :
گذشتہ 25برسوں سے کرکٹ کھیل رہاہوں اور ہمیشہ یہ کوشش کی ہے اس کھیل کیلئے خدمات بھی سرانجام دوں ۔ کرکٹ کو فروغ دے رہے ہیں تاہم یہ تلخ حقیقت ہے کہ مفاد پرستوں میں کوئی کرکٹ کا علم نہیں رکھتا ۔ قومی کرکٹ میں کراچی کے باصلاحیت کھلاڑیوں کا بھی اضافہ ہونا چاہئے ۔ اسی صورت میں قومی ٹیم ایک بار پھر ماضی کا وہ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی ۔جس پر ہمیں ناز رہا ہے۔ وطن عزیز میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن ضرورت بھی اس امر کی ہے کہ اس ٹیلنٹ کو موقع دیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com