ترکِ تمباکو نوشی 

ترکِ تمباکو نوشی 
تحریر۔۔۔ محمد ثاقب شفیع
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے تمباکو نوشی دنیا بھر میں اموات کا باعث بننے والی آٹھ اہم ترین وجوہات میں سے ایک خطرناک جان لیوا وجہ ہے،مارکیٹ واچ کے مطابق دنیا کی تقریباََ20فیصد بالغ آبادی تمباکو نوشی کی مرتکب ہو رہی ہے، جبکہ وکی پیڈیا کہ مطابق ۱یک بلین افراد سموکنگ کر رہے ہیں جوکہ مارکیٹ واچ کے دیئے گئے اعداد وشمار کی تصدیق کرتی ہے اس کے علاوہ ڈبلیو ۔ایچ ۔او اوٹو بیکو اٹلس کے اعداو شمار بھی کچھ یہی بیان کرتے ہیں،سب سے زیادہ تمباکو نوشی کرنے والے ممالک میں مونٹی نیگرو نمبر 1پر ہے،بیلا روس نمبر2 اور لبنان نمبر 3 پر ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک میں روس نمبر 5اور چین کا نمبر 9ہے اور پاکستان کا نمبر 99 ہے ۔
ہر سال کرہ ارض پر کم ازکم ستر لاکھ افراد تمباکو کو بذریعہ سانس ،سونگھنے یا کھانے کے باعث جسم میں اتارنے سے لاحق ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہو کرموت کا شکار ہوجاتے ہیں جوکہ ایک طرح کی خود کشی ہی ہے،تشویش کی بات یہ ہے کہ ہر سال 8لاکھ افرادبلاواسطہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد کے ہوا میں کیمکل شامل شدہ دھواں چھوڑنے کی زد میں آکر اپنی زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں جن میں تمباکو نوشی کرنے والوں کے رشتہ دار ،گھر والے ،نو زائیدہ بچے او ر مسافرحضرات کو یہ زہربلا واسطہ پینا پڑتا ہے۔صحت عامہ کے حوالہ سے عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں اموات آٹھ امراض کی بدولت ہوتی ہیں لیکن ان آٹھ امراض میں سے چھ امراض صرف سگریٹ نوشی سے پیدا ہوتے ہیں ،جن میں عارضہ قلب ،دمہ ،ٹی بی ،ذیابطیس اور پھیپھڑوں کے کینسر جیسے سنگین امراض شامل ہیں۔برٹش میڈیکل جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں ذیابطیس کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ سگریٹ نوشی کرنے سے انسانی لبلبہ براہ راست متاثر ہوتا ہے،اس کے علاوہ ایک اور تحقیق کے مطابق سگریٹ نوشوں کے ساتھ رہنے والے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ افراد دھوئیں کے اثرات کے وجہ سے ذیابطیس کے مرض کا شکارہوجاتے ہیں ۔تمباکو نوشی کرنے والے افراد کے ساتھ رہنے والے افراد کو سیکنڈ ہینڈ سمکوکنگ کہتے ہیں جیسے کہ سموکنگ کرنے سے ماحول میں آلودگی پیدا ہوجاتی ہے اس آلودہ ماحول میں غیر سموکنگ افراد کے سانس لینے سے ان کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں پھیپڑوں کا سرطان،بلند فشار خون اور دل کی بیماریاں شامل ہیں اور اس کے علاوہ بچوں میں سانس کی بیماریاں،تپ دق،نمونیااوراچانک موت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔
امریکن کینسر سوسائٹی نے اگست 2009کی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ 2010تک تمباکو نوشی سے پیدا ہونیوالی بیماریوں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا جن کی تعداد بڑھ کر 2020تک 6ملین ہوجائے گی لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ 2017تک ہی اموات کی تعداد 7ملین ہو چکی جس سے پتہ چلتا ہے کہ تمباکو نوشی کرہ ارض پر لوگوں کی زندگیوں کو نہائیت تیزی سے نگل رہی ہے اور جس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق سگریٹ نوشی کی بدولت ہر سال ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ،زمینی زرخیزی میں کمی اور میڈیکل اخراجات کی مد میں دنیا بھر کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جوکہ ڈبلیو۔ایچ ۔او کے مطابق 500بلین ڈالر سالانہ ہے۔
انٹرنیشنل اینٹی سمکوکنگ آرگنائزیشنز تمباکو نوشی کے استعمال کو ملکی ترقی کی راہ میں روکاوٹ اور معاشی اعتبار سے کسی بھی ملک کیلئے بھوج کی حیثیت سے دیکھتی ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے تمباکو نوشی کرنے والے 80فیصد افراد کا تعلق غریب پسماندہ ممالک سے ہے جوکہ اپنے ملک کی بیشتر آمدن کا حصہ تمباکو نوشی پر ضائع کر دیتے ہیں پاکستان کی آبادی بیس کروڑ ہے اور دو کروڑ سے زائد افراد تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہیں، پاکستان ڈیموگرافک ہیلتھ سروے کے مطابق 46فیصد مرد اور 5.7فیصد تعدا د خواتین سموکرز کی ہے ،پاکستان چوتھا بڑا ترقی پذیر ملک ہے جس میں تمباکو نوشی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سی۔ ٹی ۔سی۔ پاک کے مطابق ساؤتھ ایسٹ ایشیاء ریجن میں پاکستان تمباکو نوشی کرنیوالا سر فہرست ملک ہے،تمباکو نوشی کے خاتمے اور اس سے پیدا ہونے والے مضر اثرات سے صحت مند افراد کو محفوظ بنانے کے لئے پاکستان میں بہت سی انٹرنیشنل اور لوکل آرگنائزیشنز کام کر رہی ہیں ،ایسی ہی ایک آرگنائزیشن ورلڈ وائیڈ انیٹی سمکوکنگ ہے جو کہ عرصہ دراز سے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ افراد کی صحت کے تحفظ اورا نکے حقوق کے متعلق آگاہی سیشنز فراہم کر رہی ہے اس کے صدر رانا اعجاز صدیق ایڈووکیٹ جو کہ رضاکارانہ طور پر پاکستان میں سمکوکنگ کی لت کے خاتمہ کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں انہوں نے کیا خوب بیان کیا ،پاکستان محدود وسائل اور غیر مستحکم معاشی صورتحال کا حامل ملک ہے جبکہ ملک کی کل آبادی کا تیسرا حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبورہے اور پھر بھی 20ارب روپے سالانہ تمباکو نوشی پر خرچ کئے جاتے ہیں جس سے ملکی معشیت کو خوب دھچکا لگتاہے ،اس کے علاوہ پاکستان تمباکو نوشی کی صنعت کے لئے ایک منافع بخش منڈی بن چکا ہے ، جہاں1200افراد روزانہ پاکستان میں تمباکو نوشی کرنیوالوں میں اضافہ ہو رہاہے جن میں سکول اور کالج کے طلبا کی کثیر تعدادشامل ہے،اس وقت پاکستان میں 57انٹرنیشنل کمپنیاں تمباکو مصنوعات تیار کررہی ہیں جوکہ دنیا بھر میں بہترین ٹوبیکو مصنوعات ہیں جبکہ کل دنیا کی مارکیٹ کا 78فیصد یہاں موجود کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے جن میں فلپ مورس ٹوبیکو،برٹش ٹوبیکو،امریکن ٹوبیکو کا ذیلی ادارہ اور پاکستانی ٹوبیکو شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا ،پاکستانی حکومت نے 2002میں انسداد تمباکو نوشی تحفظِ غیر تمباکو نوشاں آرڈیننس جاری کیا ،اس کے آرٹیکل 5کے تحت تمام پبلک مقامات ،سرکاری غیرسرکاری دفاتر ،ہسپتال،تعلیمی ادارے،بس سٹینڈ،ائیر پورٹ،ریلوے اسٹیشن ،سینماگھر،ہوٹل اورلائبریز وغیرہ میں تمباکو نوشی پر قطعاََ پابندی عائد کی گئی ہے اور اسکو جرم قرار دیا ہے،سیکشن6کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی کرناجرم ہے اس کے علاوہ سکشن 8کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت کرنا منوع اور جرم ہے،سیکشن9کے تحت تعلیمی اداروں کی حدود کے اندر 50کلومیٹرکے احاطہ میں سگریٹ سٹور کا بنانا،فروخت یا ترسیل کرنا جرم اور ممنوع ہے،سیکشن10کے تحت ہر ادارہ کے مالک،مینجریا انچارج کے لئے لازم ہے کہ بلڈنگ کے اندر نو سموکنگ یاسگریٹ نوشی جرم ہے کا بورڈ واضح الفاظ میں آویزاں کرے ،اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنیوالے افراد جرم کے مرتکب ہونگے جن کے لئے مختلف سزاؤں کا اطلاق ہوگا جو کہ 3ماہ قید ایک ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک جرمانہ ہے،اس کے علاوہ تمباکو نوشی کے انسداد کے لئے 2003میں فریم ورک آن ٹوبیکو کنٹرول معاہدہ جیسے مختصراََ(FCTC)بھی کہتے ہیں عالمی اسمبلی برائے صحت نے منظور کیا جس پر 168نے دستخط کئے ؂جس کااطلاق پاکستان میں بھی ہوتا ہے اس معاہدے کا مقصد تمباکو نوشی کے استعمال اور اس کے دھوئیں سے پیدا ہونیوالے مضر اثرات سے آنیوالی نسلوں اور خصوصاََ اس کی زد میں آنیوالے سیکنڈہینڈ سموکر حضرات کی صحت کا تحفظ اور تمباکو کی سرحد پار سمگلنگ کی روک تھام کرناہے،اس کے علاوہ ممالک کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے ملک میں تمباکو نوشی کی تشہیر ،فروغ اور سپانسر شپ پر مکمل پابندی عائد کریں،سگریٹ نوشی کے پیکٹ پر اسکے مضر اثرات کی تصویر ی نمائش کریں اور کسی بھی قسم کی گمراہ کن ،مغالطہ انگیز وار ننگ یا لیبل لگانا منع قراردیں۔
گذشتہ چند سالوں میں پاکستانی حکومت صحتِ عامہ کے فروغ اور تمباکو نوشی کے انسداد کے لئے کافی سنجیدہ نظر آرہی ہے ،جس میں سول سوسائٹی کا رول بھی کافی اہم ہے جوکہ رضاکارانہ طورپر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ہمارے معاشرہ میں ایک غلط رائے یہ بھی ہے کہ سگریٹ نوش افراد کا ترکِ تمباکو نوشی کرنا اتنا آسان نہیں ،معاشرہ کی اس سوچ کو بدلنے کے لئے سیمنارز،لٹریچر کی تقسیم اور جگہ جگہ اسکی تباہ کاریوں کے بارے میں تشہیر کا عمل تمباکو نوشی میں کمی کا یقیناًباعث بن سکتا ہے دوسری طرف ایک اور رائے بھی موجود ہے جن کے مطابق خالی صرف تشہیر بازی یا سمینارز کی بابت یہ مسئلہ حل ہونے کو نہیں ا گر قانون کے دائرہ کا ر پر عمل کیا جائے تو یقیناًپاکستان سے تمباکو نوشی کی شرح میں خاطر خواہ کمی واقع ہو سکتی ہے ، عوام پر انسدادِ تمباکو نوشی آرڈیننس کی سزاؤں اور جرمانہ کا سختی سے اطلاق کیا جائے جو کی آج تک ممکن نہ ہو اہے جس سے عوام میں شعور اور خوف کی لہر پنپ پائے گی ،میرے خیال میں جو شخص تمباکو نوشی سے ہونیوالی تباہ کاریوں کو جاننے کے باوجود بھی اسکو ترک نہیں کرتا وہ شخص اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی ،صحت اور معیشت کو برباد کر رہا ہے۔ 
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com