جانوروں کے لئے شناختی کارڈ اور ویزا کا اجراء


جانوروں کے لئے شناختی کارڈ اور ویزا کا اجراء
تحریر:ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور ، لاہور
میڈیا کی نیوز کے مطابق پاکستان میں نادرا کی طرز کا ایک ادارہ بنایا جا رہا ہے جس میں ملک میں موجود تمام جانوروں کا ڈیٹا اکھٹا کیا جائے گا اور ان کو ایک مخصوص کوڈ جاری ہو گا جو ان کی شناخت ہو گا۔اس کے علاوہ ان جانوروں کو ویزے بھی جاری کئے جائیں گے۔دیکھنے میں تو یہ ایک مضحکہ خیز سی بات لگتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کرنے سے میرے ملک کے شہری گدھے اور کتے کھانے سے بچ جائیں گے۔کیونکہ جو بھی جانور ذبحہ خانہ لایا جائے گا اس کی رجسٹڑیشن ہو گی اس لئے معلوم کرنا آسان ہو گا کہ ذبحہ کیا گیا جانور کس قسم کا تھا۔اس کے علاوہ ہمارے ملک سے جانوروں کو سمگل کیا جاتا ہے ڈیٹا ہونے کی وجہ سے جانور سمگلنگ سے محفوظ رہیں گے اور صحیح طریقہ سے ہی جانور دوسرے ممالک کو برآمد کئے جا سکیں گے۔
ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمیں بیمار، لاغر اور کمزور جانور ذبح کر کے کھلا دیئے جاتے ہیں جس سے انسانوں کے بیمار ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں اب کیونکہ اس بل سے تمام جانوروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا اور ان کی اموات اور پیدائش کا بھی اندراج ہو گا جس سے ان جانوروں کی عمر کا بھی حساب رکھا جائے گا تا کہ ذبح خانہ میں کوئی کمزور اور عمر رسیدہ بیمار جانور نہ لایا جا سکے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بہت اچھا قدم ہے اور ہمیں اس کو سراہنا چاہیئے ۔
ہمارے ملک سے بہت سے جانور دوسرے ممالک میں سمگل کئے جاتے ہیں جن کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوتی اب کم از کم رجسٹریشن سے معلوم ہو سکے گا کہ کون سا جانور سمگل کیا گیا ہے اور یہ کتنی تعدا میں سمگل ہوئے ہیں اور ایسے شخص کو سزا دی جا سکے گی۔ہمارے ہاں زیادہ تر ایسے افراد مویشی پالتے ہیں جو ان پڑھ ہیں جنہیں ضرورت ہو گی کہ محکمہ کی طرف سے پہلے ان کو رجسٹڑیشن کا طریقہ کار سمجھایا جائے ۔
اس طریقہ سے جانوروں کی بہتر دیکھ بھال ہو سکے گی اور بیمار جانوروں کا شفا خانہ سے علاج بھی بہتر طریقہ سے کیا جا سکے گا۔اب ضرورت اس امر کی ہو گی کہ رجسٹریشن کے عمل کو صاف و شفاف طریقہ سے بنایا جائے تا کہ لاغر یا بیمار جانور کو صحت مند ظاہر کر کے ذبحہ خانہ نہ پہنچایا جا سکے۔امید کرتے ہیں کہ اس طریقہ سے ہمیں صحت مندانہ گوشت حاصل ہو سکے گا۔
تیسرا فائدہ یہ ہو گا کہ کوئی بھی جانور اگر چوری ہو جاتا ہے تو اسے تلاش کرنے میں مدد مل سکے گی۔اس طرح جانوروں کو چوری ہونے سے بھی بچایا جا سکے گاامید ہے کہ اس قانون سے کسانوں کو فائدہ ہو گا اور کوشش کی جائے کہ اس رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنایا جائے تاکہ ہر کوئی اپنے جانور کی رجسٹریشن کروا سکے۔اس کے علاوہ کسانوں کو اس رجسٹریشن کے فوائد سے بھی آگاہ کیا جائے اس سلسلے میں فیس کم سے کم ہو تاکہ غریب آدمی بھی آسانی ادا کر سکے کوشش کی جائے کہ غریب آدمی پر بوجھ نہ ڈالا جائے اور اگر ممکن ہو تو حکومت جانوروں کی فری رجسٹڑیشن کے عمل کو یقینی بنائے تا کہ غریب مویشی پال پر اس کا بوجھ نہ پڑے یا پھر انتہائی کم فیس ہو جو وہ آسانی سے دے سکے اور یہ بھی کوشش کی جائے کہ جانور کی رجسٹریشن صرف ایک بار ہی کروائی جائے ہر سال انسانوں کے شناختی کارڈ کی طرح عمل نہ دہرایا جائے کیونکہ اگر ایسا ہوا تو یہ مویشی پال افراد کے لئے زحمت بن جائے گی۔
گورنمنٹ کے لئے یہ کام اتنا سہل نہ ہو گا اس کے لئے بھر پور اور منظم طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہو گی تا کہ ہر شخص جو جانور رکھتا ہے اس کے لئے اپنے جانوروں کی رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے اور نہ کروانے پر بھاری جرمانے یا سزا دی جا سکے لیکن پہلے کم از کم ایک سال تک چھوٹ ہونی چاہیئے تا کہ ہر شخص اس سے فائدہ اٹھا سکے اور ایک سال کے بعد اگر کوئی رجسٹریشن نہ کروائے تو پھر اس کو جرمانہ یا سزا دی جائے اس ملک کی بد قسمتی یہی ہے کہ قانون تو موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کروایا جاتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com