ہمارا جگر اور ہیپاٹائیٹس 

ہمارا جگر اور ہیپاٹائیٹس 
(By:Dr Ch Tanweer Sarwar , Lahore)
پوری دنیا میں ہیپاٹائیٹس کا دن 28 جولائی کو منایا جاتا ہے۔اسی لئے قارئین میں نے اس پر مضمون لکھنے کا رادہ کیا ہے۔ہیپاٹائیٹس کا تعلق ہمارے جگر سے ہے ۔جگر ہمارے نظام انہظام کا اہم حصہ ہے ۔جگر ہماری دائیں جانب کی پسلیوں کے بالکل نیچے موجود ہے۔جگر کا وزن تین پونڈ ہے۔جگر بھی ہمارے دوسرے اندرونی اعضاء کی طرح اہم کام سر انجام دیتا ہے۔ہماری غذا کا اثر ہمارے جگر پر بھی پڑتا ہے اس لئے ہمیں ایسی غذا کا چناؤ کرنا چاہیئے جو زود ہضم ہواور ہماری صحت کے لئے بھی مفید ہو ۔زیادہ تلی ہوئی اشیاء سے پر ہیز کرنا چاہیئے ۔جگر کی صحت کے لئے ضروری ہے کہ ہم نکوٹین ،شراب اور چکنائی سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کریں۔ہم مزید دیکھتے ہیں کہ جگر کن اشیاء سے متاثر ہوتا ہے۔
* تیز مرچ اور مصالحے کا استعمال جگر کے لئے نقصان دہ ہے۔
* چکنائی کا زیادہ استعمال جگر کی صحت کے لئے مفید نہیں ہے ۔
* چکن تکہ ،کباب کا زیادہ استعمال جگر کو نقصان پہنچاتا ہے۔
* چٹ پٹی چکن کڑاہی بھی جگر کی صحت کو خراب کر دیتی ہے۔تمباکو نوشی ،شراب اور دیگر نشہ آور اشیا سے بھی جگر کو نقصان ہوتا ہے۔
* ادویات کا بے جا استعمال بھی جگر کے لئے فائدہ ند نہیں ہے۔
* بار بار یرقان کے ہونے سے بھی جگر متاثر ہوتا ہے۔
* اسٹرائیڈز کا استعمال جگر کو تباہ کر دیتا ہے۔
* ایسے افراد جو تازہ سبزیوں کا استعمال کم کرتے ہیں یا بالکل نہیں کرتے وہ جگر کے عارضے میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
جگر کی صحت کے لئے مفید اناج:
* تازہ سبزیاں اور دالیں
* چکی کا آٹا استعمال کریں
* کھانوں میں زیتون کے تیل کا استعمال کریں۔
* سورج مکھی کے تیل کا استعمال بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔
* پھلوں کا استعمال خاص طور پر سیب اور انگور کا استعمال مفید رہتا ہے۔
ہیپاٹائیٹس کیا ہے؟
Hept جگر کو کہتے ہیں جبکہ Itis سے مراد سوزش ہے ۔یعنی جگر کے خلیات میں سوزش کے عمل کو ہیپاٹائیٹس کہتے ہیں۔جگر کی سوزش کی وجہ اگر وائرس ہو تو اس کو متعدی سوزش جگر کہا جائے گا جیسے اے،بی ،سی ،ڈی ،ای وغیرہ ہیں۔ر وائرس کے علاوہ ادویات کے استعمال سے ہونے والی سوزش غیر متعدی سوزش جگر کہلائے گی۔
وائرس لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی زہر کے ہیں ۔وائرس ہی کسی بھی بیماری کو پھیلانے کی وجہ ہوتے ہیں۔وائرس انتہائی چھوٹا ہوتا ہے جس کو خوردبین سے بھی نہیں دیکھا جاسکتا ہے ۔جیسے جیسے سائینس ترقی کرتی جا رہی ہے وائرس سے متعلق ہمیں نئی نئی معلامات مل رہی ہیں ۔یہ وائرس ہر وقت انسان کے ساتھ موجود ہوتے ہیں جو انسانی صحت کے لئے کظرناک ثابت ہو تے ہیں ۔ان وائرس کی وجہ سے ہی انسان بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
ہیپاٹائیٹس کی علامات:
* بھوک کا نہ لگنا،بخار،تھکن کا احساس،سردرد،پیٹ کے دائیں جانب درد،پیشاب کے رنگ میں تبدیلی،آنکھوں کی رنگت میں تبدیلی،ڈائیریا،سردی کا لگنا وغیرہ ہو سکتے ہیں۔
ہیپاٹائیٹس کی وجوہات اور احتیاطی تدابیر:
* انتقال خون یعنی اگر کو ئی ہیپاٹائیٹس کے مرض میں مبتلا ہے اور اس کا خون کسی صحت مند انسان کو لگا دیا جائے تو وہ بھی اس مرض میں مبتلا ہو جائے گا۔
* استعمال شدہ سرنج کا استعمال کرنا۔
* ناک چھدوانے کی سوئی اور دانت کے اوزاروں کا صاف نہ ہونا۔
* متاثرہ ماں سے بچے کو بھی یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے۔
* حجام کا استرے کو بار بار استعمال کرنا۔
* متاثرہ مریض سے بوس و کنار کرنے سے بھی یہ مرض ہو جاتا ہے۔
* بچوں کے ختنے کرواتے وقت آلات جراثیم سے پاک ہونا ضروری ہیں۔
* رفع حاجت کے بعد اپنے ہاتھ صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
*بچے کی پیدائش پر بھی اوزار جراثیم سے پاک ہوں۔
* لعاب دہن میں بھی وائرس موجود ہوتا ہے اس لئے متاثرہ مریض سے قریبی تعلق میں احتیاط ضروری ہے۔
*پانی ہمیشہ ابال کر استعمال میں لائیں۔
مندرجہ بالا تمام کام کروانے سے پہلے آلات کا جراثیم سے پاک صاف ہونا ضروری ہے۔ہمیں اپنی صحت کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ آج کل ہر چیز میں ملاوٹ کی جاتی ہے جو ہماری صحت کو خراب کر دیتی ہے۔ہمیں متوازن غذا کا استعمال کرنا چاہیئے اورورزش کو روزانہ کا معمول بنا لیں ۔روزانہ ایک گھنٹہ کی ورزش ہمیں کئی بیماریوں سے بچا سکتی ہے۔ کھلا بازاری تیل استعمال کرنے سے اجتناب کریں۔ان باتوں پر عمل کر کے ہی ہم اپنی صحت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com