پاکستان میں منشیات کا بڑھتا رحجان اور تدارک

پاکستان میں منشیات کا بڑھتا رحجان اور تدارک
تحریر : ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور ، لاہور
ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ہر سال منشیات کے عادی افراد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ایک سروے کے مطابق اس وقت پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد سات ملین کے لگ بھگ ہے اور ہر سال ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جب کہ دنیا بھر میں ان کی تعداد انتیس ملین کے قریب پہنچ چکی ہے جو نہ صرف پاکستان کے لئے بلکہ پوری دنیا کے لئے لحمہ فکریہ ہے۔ان میں زیادہ تر افراد کی عمریں پچیس سے انتالیس سال کے درمیان ہیں ۔یہ ہمارے لئے بہت بڑا المیہ ہے ہمیں اس کے فوری تدارک کے لئے لائحہ عمل اپنانا ہو گا تاکہ ہماری نئی نسل اس موذی نشہ سے مکمل طور پر محفوظ ہو سکے پاکستان میں سب سے زیادہ جس چیز کا نشہ کیا جاتا ہے وہ چرس ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک میں چرس کا کاروبار ہو رہا ہے لیکن سوالیہ نشان یہ ہے کہ یہ کس کے زیر سایہ چل رہا ہے ہمیں ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنی ہو گی جو اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہیں اور انہیں عبرت ناک سزا دینی ہو گی تب ہی ہمارے نوجوان منشیات جیسی لعنت سے محفوظ رہ سکیں گے اور حکومت کو بھی چاہئیے کہ وہ ان نوجوانوں کے علاج معالجہ کے لئے سنٹر بنائے جہاں ان کو مفت علاج کی سہولتیں ہوں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی6% آبادی میں نشہ آور اشیاء کا استعمال ہو رہا ہے۔
منشیات کے استعمال سے ہی ملک میں ایڈز کے مریضوں کی تعدا میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے سب سے زیادہ ایڈز کے مریض کراچی میں ہیں جو زیادہ تر منشیات کے عادی ہیں یہ منشیات کے عادی افراد زیادہ تر نشہ کے لئے سرنج کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ایڈز جیسے امراض میں ن مبتلا ہو رہے ہیں۔منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں ان کے لئے علاج معالجہ کی سہولتیں موجود نہیں ہیں اگر ان کا بروقت علاج ہو جائے تو یہ کئی موذی امراض سے بچ سکتے ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے آئے دن ان منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کرتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان میں منشیات فروخت کرنے میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے ان منشیات فروشوں نے جو یقیناً بے ضمیر لوگ ہیں ہمارے نوجوانوں میں اس لعنت کا زہر بھر دیا ہے جو کسی طرح بھی معافی کے قابل نہیں ہیں۔
منشیات کے عادی افراد میں غربت اور بے روزگاری سب سے بڑی وجہ ہیں اس کے علاوہ تعلیم کی کمی،سماجی رویے بھی اس کاسبب ہیں حکومت کو فرض ہے کہ ایسے نشہ کے افراد کا نہ صرف مفت علاج کا بندوبست کرے بلکہ ان نوجوانوں کے لئے ہنر مندی کے کورس کو بھی اجراء کرے تاکہ یہ نوجوان بھی معاشرے کے لئے بوجھ نہ بنیں۔
منشیات کی روک تھام کے لئے پاکستان میں اینٹی نارکوٹکس کا ادارہ موجود ہے ہم سب کو اس ادارے کی مدد کرنی چاہیئے تا کہ منشیات جیسی لعنت سے ملک کو پاک صاف کیا جا سکے یقیناً اینٹی نارکوٹکس ملک بھر میں مختلف سیمینار اور اجلاس کرتی رہی ہے تاکہ لوگوں میں منشیات کے خلاف آگاہی پیدا کی جا سکے اس کے علاوہ سکول اور کالجز میں بھی اس کے آگاہی پروگرام مرتب ہوتے رہتے ہیں جو ایک حوصلہ افزا بات ہے لیکن جب تک عام عوام اس ادراے کی مدد نہیں کرے گی تب تک بہتر نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔
اسلام میں بھی نشے کی ممانت ہیاور اس کو برا کہا گیا ہے کیونکہ یہ انسانی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور انسان سمجھ بوجھ کے قابل نہیں رہتا اور رفتہ رفتہ نشے کا عادی شخص پاگل دیوانہ ہو جاتا ہے اس لئے ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں ہر دکھ و پریشانی میں اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھنا چاہیئے تاکہ ہم دنیااور آخرت کی زندگی میں کامیاب ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوانوں کو منشیات جیسی لعنت سے محفوظ رکھے آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com