شفا گاہیں یا قتل گاہیں

شفا گاہیں یا قتل گاہیں
تحریر: خزیمہ رشید کیلانی
کیا کوئی تصور کرسکتا ہے کہ لاہور کے بیچ وسط میں قتل گاہیں وجود میں آچکی ہیں، جنہیں شفا خانوں کی بجائے ’’عقوبت گاہیں یا قتل گاہیں‘‘ کہا جائے تو ذیادہ بہتر ہے۔ ہمارے ہاں سول سو سائٹی کے حقیقی تصور سے نا آشنا قوم نے صرف سول سوسائٹی کی چڑیا کا نام ہی سنا ہے مگر اس کے پیچھے جو تصور انفرادیٔ خیر ہے اس سے معاشرہ بالکل نابلد ہے۔ یہ تصور جس طرح معاشرے میں خیر وشر کا تصور ختم کررہا ہے،اس کی حقیقت جان افسوس ہوتا ہے کہ نئی تہذیب کے نام پرہمارے لوگوں کے ساتھ کیا ظلم ہورہا ہے ۔ باقی رہی سہی کسرمال کی حرص وحوس اور اور مسابقت پوری کررہا ہے۔ بدقسمتی سے اس بیماری نے ہر ادارہ میں اپنے پاؤں جما رکھے ہیں۔ عجیب معاشرہ ہے کبھی ڈاکٹرز ہیں جو ہڑتال کے نا م پر مریضوں کو خوار کررہے ہیں،ایمرجنسی بند پڑی ہے، آپریشن کے انتظار میں مریض جاں بلب ہورہے ہیں ۔کبھی گردہ فروش گروہ سامنے آرہے ہیں جن کے سرغنہ بھی ہمارے مسیحا حضرات ہیں، اور کچھ عرصہ قبل اغواکاروں کا غلغلہ تھا جو دن دیہاڑے بچے اغوا کئے جارہے تھے۔ مگر ان کا تدارک ہونے کو نہیں آرہا۔ ایسا ہی دل دہلا دینے والے واقعہ کچھ عرصہ قبل ہوا ، جب16 ستمبر کو ایک نوجوان عکاشہ ارسلان سیگریٹ نوشی سے چھٹکارا پانے کے لئے اکبر چوک، لاہور کےپرائیویٹ کلینک Promise میں داخل ہوا۔ اور قریبا ایک ماہ بعدہی اس کی شادی بھی تھی۔ موصوف کا خیال تھا کہ شادی سے پہلےمنشیات کے چھٹکارے کے لئے انسداد منشیات کے کسی بہترین سینٹر سے علاج کروایا جائے، جس کا ماحول بھی بہتر ہو۔ لہذا اپنے بھائیوں کے ہمراہ لاہور آیا، مختلف سنٹرز دیکھے اور جن میں ایک یہی پرومس سنٹرتھا جس میں کچھ بچے بظاہر متاثر کرنے کے لئے قرآن پاک پکڑا کر بٹھائے گئے تھے ۔ انہیں دیکھ کر عکاشہ اور گھر والے متاثر ہوئے ،اور موصوف کوداخل کرواتے وقت ڈیڑھ لاکھ روپیہ کلینک کی فیس دی اور ساتھ میں اس کے بہتر کھانے کے لئے پچاس ہزار روپیہ بھی کلینک کے ایڈمنسٹریٹر کودیاکہ جب بھی کچھ کھانے کو مانگے تو اسے دے دیا جائے۔ داخلے کے تیسرے روز ہی ارسلان نے کچھ مریضوں کو کہا کہ آج ہم سب مل کر کھانے پینے کا پراگرام کرتے ہیں، اور انتظامیہ سے اپنی رقم سے پیزا منگوانے کا مطالبہ کیا مگرایڈمنسٹریٹر نےمنع کردیا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں، عکاشہ کےاصرار پر کہ میرے گھر والے رقم دے کر گئے ہیں لہذا مجھے مطلوبہ چیز فراہم کی جائے ۔ تو ایڈمنسٹریٹر نے اپنے کارندو ں کو حکم دیا کہ اسے باندھ کر اس کی دھلائی کی جائے۔چنانچہ حکم کی خوب تعمیل ہوئی اور موصوف پر باندھ کر ڈنڈوں کے ساتھ انتہائی برے طریقےسے تشدد کیا گیا۔ اور عکاشہ کے معافی مانگنے پر ایڈمنسٹریٹر نے حکم دیا کہ سب لوگوں کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگو، عکاشہ کے انکار پر ایک مرتبہ پھر عکاشہ پر تشدد شروع ہوا، اس دوران وہ مسلسل پانی مانگتا رہا مگر بے حسوں نے پانی دینے سے بھی انکار کردیا۔ اور اتنے برے طریقے سے تشدد ہوا کہ وہ جس بیڈ پر تھا وہ بیڈ ہی ٹوٹ گیا اور اسی کے رشتے دار کے مطابق اس کی پسلیاں اس کے جگر اور پھیپھڑوں میں پیوست ہوگئیں، اور اس کا اثر دل پر بھی پڑا جس سے اس کی سانسیں اٹکنے لگی۔ چونکہ باقی مریضوں کی نسبت عکاشہ کو صرف سگریٹ نوشی کی عادت تھی اور تھا بھی وہ بھرپور جوان اور اس نے مزاحمت کی بھی کوشش کی، جبکہ باقی مریضوں کی حالت بہت بدترتھی،لہذا وہ احتجاج اور مزاحمت نہیں کرتے تھے،اس لئے انتظامیہ نے مل کر اس پر تشدد کیا گیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر انتظامیہ نے باقی مریضوں کو بھگا دیا اوراس پر خون کے نشانات مٹائے، کپڑے بدلے گئے، اور ایڈمنسٹریٹر نے گھر والوں کو فون کیا کہ آپ کے بیٹے کی آخری سانسیں ہیں آکر لے جائیں ، گھر والے فورا گوجرانوالےسے لاہور پہنچے، اتنی دیر میں موت واقع ہوچکی تھی، اور گھر والے تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر خاموش ہوگئے ۔ کسی کے صائب مشورہ پر میت کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا۔ اس قوم میں بدقسمتی سے ایسے لوگ بھی کثرت سے ملیں گے کہ صورت حال جتنی بھی پیچیدہ اور سنگین کیوں نہ ہو،کسی کی زندگی موت کا مسئلہ ہو،یا تو علاج سے انکاری ہوجائیں گے یاتھوڑی سی رقم میں اس کی زندگی کا سودا کرلیں گے ۔ ایسا ہی ہوا کہ اتنے ہی عرصے میں کلینک والوں نے ساز باز کی اور جس ہسپتال میں گئے وہاں سے پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کیا جاتا رہا، چونکہ کلینک والوں کے بااثر لوگوں سے رابطے بھی تھے ،لہذا پولیس بھی ایف آئی آر کاٹنے سے مسلسل انکار ی رہی، معلوم ہوا کہ کلینک انتظامیہ نے بارہ لاکھ روپیہ رشوت دے کر معاملہ دبانے کی کوشش کی۔ اور پولیس کی جانب سے بھی مسلسل ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا۔ اور اتنی دیر تک ایف آئی آر نہیں کٹی جب تک مقتول کے گھر والوں کی جانب سے بااثر افراد کا دباؤ نہیں پڑا۔ جب ایف آئی آر کاٹی گئی،تو پانچ مجرموں میں سے ایک فرار ہوگیا اور باقی چار اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں۔اسی دوران کچھ مریضوں سے جو کلینک سے نکل کر ہسپتال میں داخل ہوگئے۔ ان سے بھی اندر کے حالات معلوم ہوئے۔
اب اندر کی کہانی بھی سنئے۔اس باقاعدہ کاروباری ’’عقوبت خانہ ‘‘میں فی الوقت موجود مریض طویل عرصے سے رہ رہے تھے بلکہ یہ کہا جائے کہ انہیں جبرا رکھا جارہا تھا تو بہتر ہے۔ چونکہ اس کلینک میں عموما متمول خاندان کے لوگ داخل تھے، لہذا ان کا علاج صحیح طریقےسے نہیں کیا جا تاتھا، اور اسی بہانے انہیں ذیادہ دیر یہاں رکھ کر مزید مال بٹورا جاتا تھا۔ جن چمڑے کے بڑے جوتوں سے ہماری پولیس ہاتھی کو بکرا منوانے پر تلی ہوتی ہے، انہی جوتوں سے مریضوں پر تشدد کیا جاتا۔ اور پھر ان پر تشدد کرکے ان کے جسم پر تشدد کے اثرات مٹانے اور درد ختم کرنے کے لئے ان کے جسموں پر مختلف کریمیں بھی استعمال کی جاتی تھیں۔ مریضوں پر تشدد کرتے ہوئے انہیں سابقہ مریضوں پر مبنی پُرتشدد ویڈیوز دکھا کردھمکیاں اور زبان بند ی کا کہا جاتا ۔ ہفتے مہینے میں ایک دن تمام مریضوں کو نئے کپڑے پہنائے جاتے، انہیں بڑے بڑےخالی شاپرز پکڑا کر ان کی تصویریں کھینچی جاتیں ، اور گھر والوں کو بھیجی جاتیں کہ دیکھیں آپ کا بچہ آج خریداری کرکے آیا ہے اور بہت خوش ہے،پھر گھر والوں سے بھی بات کرواتے وقت انہیں تنبیہ کی جاتی کہ اپنے گھر والوں کو کچھ نہیں بتانا۔ اور تشدد اس انتہا درجے کا ہوتا کہ انہیں مریضوں میں سے ہسپتال میں داخل مریض نے بتایا کہ بعض مریض التجا کرتے کہ ہمیں گولی مار کر ایک مرتبہ ہی قتل کردو بار بار کیوں اذیت دیتے ہو ۔ اور ان لوگوں نے اس کام کو باقاعدہ کاروبار بنا رکھا تھا اورعلاج کے بہانے لوگوں سے لاکھوں روپے بٹورتےتھے ۔ میرے رشتے دار کا عکاشہ سے چونکہ ننھیالی رشتہ ہے اس لئے اس نے ساری تفصیلات بتائیں، اوریہ بھی بتایا کہ اس ’’عقوبت خانے‘‘ سے آزاد ہونے والے باقی مریضوں اور ان کے گھر والوں نے عکاشہ کو خراج تحسین پیش کیا کہ اس کی مزاحمت اور موت نے ان کی یہاں سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑوادی ہے ۔۔۔۔ ۔کیا ’’خادم ‘‘اعلی پنجاب شہباز شریف اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی اس المناک سانحہ سے بے خبر ہیں کہ ابھی تک مجرموں کو قرار واقعی سزا نہیں مل رہی۔ میاں صاحب نے جس طرح کچھ عرصہ پہلے شتر بے مہار انسانی جانوں سے کھیلتے اور چوکوں اڈوں میں بیٹھے عطائی ڈاکٹروں اور حکیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے انہیں ایک ضابطے پر عمل کرنے پہ مجبور کیا ہے،اسی طرح ان نام نہاد کلینک سنٹرز اور ان میں بیٹھے عوام کی زندگیوں سے کھیلنے والے قاتلوں کا بھی استیصال کرکے انہیں ایک ضابطے کے تحت لایا جائے۔ یہ تو ابھی ایک سنٹر کی کتھا ہے،یہاں تو جگہ جگہ سنٹرز کھلیں ہیں وہاں کیا ماجرا ہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اللہ ایسے بیوپاریوں سے سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com