نشہ کی لعنت اور ہمارے نوجوان

تحریر:ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور،لاہور
نشہ یقیناً ایک ایسی لعنت ہے جس سے ہمارے نوجوان سب سے زیادہ متا ثر ہو رہے ہیں۔ملک میں پہلے کیا کم مسائل ہیں ابھی تک ان پر پوری طرح قابو تو پایا نہیں جا سکا ۔انہیں مسائل میں ایک گھمبیر مسئلہ منشیات کا استعمال ہے اور منشیات کو ہمارا نوجوان طبقہ استعمال کرتا ہے ہمیں اپنی اس نسل کو اس تباہی سے بچانے کی ضرورت ہے ۔حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک سے منشیات کا مکمل خاتمہ کرے اور اس کا کاروبار کرنے والوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے اور ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے کیونکہ یہی لوگ ہمارے معاشرے ،ملک اور ہماری نسل کے دشمن ہیں۔پاکستانی ہونے کے ناطے ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کی نشاندہی کریں جو منشیات کے کاروبار سے منسلک ہیں یہ لوگ ہم میں ہی رہتے ہیں ان کو تلاش کرنا ہو گا ہم سب کو مل کر حکومت کا ساتھ دینا ہو گا تا کہ ایسے ضمیر فروشوں کا قلم قمع کیا جا سکے۔اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھیکا جائے تا کہ دوبارہ یہ ناسور ہماری نسلوں کو تباہ و برباد نہ کر دے ۔اگر کسی گھر میں ایک بھی نشہ کرنے والا ہے تو اس سے گھر کے تمام افراد متاثر ہوتے ہیں ۔گھر والوں کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھیں اور دیکھیں کہ ان کا بچہ زیادہ وقت کہاں گذارتا ہے اور جس کے ساتھ اس کی دوستی ہے وہ کیسے اخلاق کا مالک ہے۔ہم اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھ کر ہی ان کو ان درندہ صفت انسانوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ اپنے نوجوانوں کے لئے ایسے صحت مند پروگروام شروع کروائے جو نئی نسل کو پروان چڑھانے میں ان کے مدد گار ہوں۔
منشیات فروخت کرنے والے ہمارے نوجوانوں کو پہلے نشہ کی لت لگاتے ہیں اور پھر انہی کو بلیک میل کر کے اپنا مکروہ دھندے میں شامل کر لیتے ہیں ہمیں ایسے کوگوں کی نشاندہی کرنی ہو گی اور ان کو واقعی قرار سزا دینا ہوگی تاکہ یہ دوسروں کے لئے عبرت کا نشان بن جائیں۔ہمیں ایسے لوگوں کی بھی نشاندہی کرنی ہو گی جو ان کے مدد گار ہیں وہ بھی اس جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ان کے خاتمہ سے ہی ملک کے نوجوانوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح جو نوجوان نشہ کرنے کے عادی بن چکے ہیں ان کے علاج و معالجے کا انتظام کرنا چاہیئے تا کہ وہ بھی معاشرے کا سود مند شہریے بن سکیں۔ان کے لئے تربیت گاہیں بھی ہونی چاہیں تاکہ وہ کوئی ہنر سیکھ کر مناسب روزگار حاصل کر سکیں ہم سب کومل کر ان کے لئے کام کرنا ہو گا تاکہ انہیں بھی معاشرے میں رہنے کا حق ملے اور یہ ملک کے مفید شہری بن سکیں۔ملک کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے لیکن پھر بھی ہم ان سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔بہت سے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے پھرتے ہیں لیکن ان کے لئے کوئی مناسب روز گار نہیں ہونا تو یہ چاہیئے کہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد حکومت ان کی ملازمت کے لئے مناسب بندوبست کرے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔یہ نوجوان ہی ہمارے ملک کا بہترین سرمایہ ہیں اور ہمیں اس سرمائے کی حفاظت اپنی جان سے بھی زیادہ کرنی ہے تبھی ہمارا ملک ترقی اور خوشحالی کی منزلیں طے کر سکے گا۔مجھے اپنے نوجوانوں سے پوری امید ہے کہ آنے وقتوں میں وہ اپنا لوہا ضرور منوالیں گے ، اتنے کم وسائل ہونے کے باوجود ہمارے نوجوان ایسے کارنامے دکھا رہے ہیں جس سے پوری دنیا میں ہمارے ملک پاکستان کا نام روشن ہو رہا ہے انشا اللہ آنے والے وقتوں میں یہ نوجوان مزید ابھر کر سامنے آئیں گے بس ہمیں ان کی تعلیم و تربیت پر دھیان دینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ کسی منشایت فروش کے ہاتھوں کھلونا نہ بن سکیں۔والدین اپنے بچوں کو خصوصی توجہ دیں تاکہ وہ بھٹکنے سے بچ جائیں آپ کی ذرا سی توجہ آپ کے بچوں کے مستقبل کو روشن کر سکتی ہے۔اللہ تعالی میرے ملک کے نوجوانوں کو ملک و ملت کے لئے کام کرنے کی ہمت عطا کرے اور میرا ملک ہمیشہ قائم و دائم رہے۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com