سیزنل انفلوئنزاء (سوائن فلو) اور حفاظتی تدابیر

سیزنل انفلوئنزاء (سوائن فلو) اور حفاظتی تدابیر
تحریر :ڈاکٹڑ چوہدری تنویر سرور ، لاہور
سیزنل انفلوئنزاء (سوائن فلو) میں میں پچھلے سال بھی ایک مضمون لکھ چکا ہوں لیکن کیوں کہ اس سال بھی سوائن فلو کے مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس لئے اس مضمون کو لکھنے کا ارادہ کیا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ مہلک بیماری H1N1 نامی وائرس سوائن فلو کا ہے یاد رکھیں یہ وائرس جانوروں سے انسانوں اور پھر متاثرہ انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو جاتا ہے سب سے پہلے یہ وائرس 1918 میں نمودار ہوا تھااس وائرس سے امریکہ ،ہانگ کانگ،سپین ،فلپائن اور دوسرے کئی ممالک کے افراد متاثر ہوئے تھے۔ایک بات کا میں ذکر کرتا چلوں کہ پہلے اس بیماری کوسوائن فلو کے نام سے پکارا جاتا تھا لیکن اب موجودہ دور میں اسے سیزنل انفلوئنزاء کے نام سے جانا جاتا ہے۔
پاکستان میں اس وائرس کے مریض 2009 میں مبتلا ہوئے تھے جو اب تک جاری ہے اور ہر سال اس سے کئی پاکستانی متاثر ہوتے ہیں اور کئی بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔یہ بیماری ایسے ممالک میں پائی جاتی ہے جہاں خنزیر زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں جیسا کہ میں اوپر کچھ ممالک کا ذکر کر چکا ہوں کیونکہ پاکستان میں بھی یہ جانور موجود ہے اور اس کو دیکھتے ہی مار دیا جاتا ہے۔ہمارے ہاں یہ جانور بیلہ یا جنگلوں میں پایا جاتا ہے اکثر یہ راستہ بھول کر گاؤں یا شہر کی جانب آ جاتے ہیں جنہیں دیکھتے ہی مار دیا جاتا ہے ۔
اصل میں یہ وائرس متاثرہ جانور سے ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے اور پھر سانس لینے سے یہ انسانوں میں منتقل ہوجا تا ہے اگر یہ مرض لاحق ہوجائے تو متاثرہ شخص کو نزلہ و زکام ہو جاتا ہے اگر مرض میں اضافہ ہو جائے تو یہ سیزنل انفلوئنزاء میں بدل جاتا ہے اس لئے آپ نزلہ و زکام کو بھی ہلکا نہ لیں اور فوراً اپنے معالج سے رجوع کریں تا کہ بر وقت علاج ممکن ہو سکے ۔اگر کسی کو نزلہ و زکام کی شکائت ہو جائے تو وہ اپنا ٹیسٹ ضرور کروائے تا کہ اس موذی مرض کا پتا چل سکے اس مرض سے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچتا ہے لیکن یہ مرض لا علاج نہیں ہے اس کا علاج ممکن ہے اگر بروقت تشخیص ہو جائے۔اس میں آپ کو کچھ حفاظتی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے۔جن کا ذکر میں اگے چل کر کروں گا ۔پہلے اس مرض کی علامات دیکھتے ہیں۔
علامات:
اس مرض کی علامات عام نزلہ و زکام کی طرح ہی شروع ہوتی ہیں لیکن اس کی ویکسین بروقت کروانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
*مرض میں متاثرہ شخص کو بخار اور تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔
*ناک اور آنکھوں سے پانی بہنے لگتا ہے۔
* سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔
*تمام جسم میں درد ہوتا ہے
*مریض کو زیادہ چھینکیں آنے لگتی ہیں۔
*گلے میں سوزش ہو جاتی ہے اور درد ہوتا ہے۔
*مریض کو سردی زیادہ لگتی ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے۔
*مریض سست اور بے چین ہو جاتا ہے۔
*متاثرہ مریض کو قے آنے لگتی ہے۔
*مریض کو پیچش لگ جاتے ہیں۔
حفاظتی تدابیر:
اس بیماری سے بچاؤ کے لئے سب کو ہی حفاظتی تدابیر پر عمل کرنے کی ضرورت ہے لیکن بچوں،بوڑوں ،حاملہ خواتین،شوگر کے مریضوں،دل جگر گردہ کے مریض اور اس کے علاوہ دمہ اور پھیپھڑوں کے مرض میں لاحق افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے سرد موسم کے آغاز میں ہی ایسے افراد کو ویکسین کی ضرورت ہوتی ہے�ۂ۱۔اگر خدانخواستہ کسی گھر میں کوئی سوائن فلو کا مریض ہو تو وہ گھر سے باہر نہ نکلے اور گھر کے تمام افراد بشمول مریض منہ پر ماسک پہن لیں ۔مریض کے فوری علاج کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
۲ ۔کوشش کریں کہ متاثرہ مریض کی دیکھ بھال کے لئے گھر ایک شخص کی زمہ داری لگا دیں۔جو ماسک پہن کر ہی مریض کے پاس جائے۔
۳۔کھانسی یا نزلہ کی صورت میں جو بھی ٹشو یا رومال استعمال کریں اسے استعمال کے بعد تلف کر دیں۔
۴۔جب بھی حاجت سے فارغ ہوں تو اپنے ہاتھوں کو کسی اطھے میڈیکیٹڈ صابن سے دھوئیں ۔
۵۔اگر کسی ایسے ممالک کا سفر کر رہے ہیں جہاں ممکنہ طور پر اس بیماری کا خطرہ ہو تو حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔
۶ بروقت علاج کے لئے قریبی ڈاکٹر یا ہسپتال سے رجوع کریں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com