ڈراؤنا خواب

%d9%85%d8%a8%db%8c%d9%86 محمد مبین امجد

سب لوگ بہت پریشان تھے بادشاہ غم وغصے میں تھا۔ دربار میں تھرتھلی مچی ہوئی تھی۔ کیا امراء کیا وزرا سب ہی کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ بادشاہ کے درباریوں میں بڑے بڑے عقل مند لوگ تھے مگر۔۔۔۔
بادشاہ آج صبح سے غصے میں پھنکار رہا تھا۔ اور دل ہی دل میں ڈر بھی رہا تھا کہ اس نے آج ایک ڈراؤنا خواب دیکھ لیا تھا۔ اور اس خواب کی تعبیر کسی کو معلوم نہیں تھی۔ کیونکہ یہ خواب بہت ہی عجیب اور خوفناک قسم کا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا تھا کہ سات فربہ گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات سوکھی بالیاں ہیں۔ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے اس خواب کی تعبیر پوچھی مگر کوئی نہ بتا سکا۔ اس لیے سب لوگ پریشان تھے اور بادشاہ غم وغصے میں تھا۔ دربار میں تھرتھلی مچی ہوئی تھی اور کیا امراء کیا وزراء سب ہی کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ بادشاہ کے دربار یوں میں بڑے بڑے عقل مند لوگ تھے مگر اس خواب کی تعبیر کوئی نہ بتا سکا۔
آخر ایک معمولی درباری نے عرض کی کہ اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں۔۔۔ اجازت ملنے پہ اس نے کہا کہ حضور قید خانے میں ایک ایسا قیدی ہے جو اس خواب کی تعبیر بتا سکتا ہے۔ اگر مجھے اجازت دی جائے تو میں اس سے تعبیر پوچھ کر آؤں۔۔؟؟؟ چنانچہ یہ بادشاہ کا فرستادہ ہو کر قید خانہ میں اس قیدی کے پاس گیا اور بادشاہ کا خواب بیان کر کے تعبیر دریافت کی کہ سات دبلی گائیں سات موٹی گایوں کو کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات سوکھی۔ اس قیدی نے کہا کہ سات برس مسلسل کھیتی باڑی کرو اور ان کے اناجوں کو بالیوں میں محفوظ رکھو۔ پھر سات برس تک سخت خشک سالی رہے گی، قحط کے ان سات برسوں میں پہلے سات برسوں کا محفوظ کیا ہوا اناج لوگ کھائیں گے اس کے بعد پھر ہریالی کا سال آئے گا۔ قاصد نے واپس جا کر بادشاہ سے اُس کے خواب کی تعبیر بتائی تو بادشاہ نے حکم دیا کہ اس قیدی کو جیل خانہ سے نکال کر میرے دربار میں لاؤ۔ قاصد رہائی کا پروانہ لے کر جیل خانہ میں پہنچا تو اس قیدی نے کہا پہلے مجھ پر لگائے گئے الزامات ہٹائے جائیں۔ تب میں باہر آؤں گا۔
وہ قیدی کون تھا۔۔؟؟؟ وہ قیدی بادشاہ کا غلام تھا جسے بادشاہ نے ایک بڑی قیمت ادا کر کے خریدا اور اسے اپنے محل میں لے آیا ۔ اوراپنی بیوی کو کہنے لگا کہ تم اس غلام کو نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ اپنی خدمت میں رکھو۔ یوں وہ غلام بادشاہ کے محل میں رہنے لگا۔ چونکہ غلام بہت حسین تھا اور بالکل نو خیز اور جوان تھا تو بادشاہ کی بیوی نے اسے ورغلانے کی کوشش کی مگر غلام اپنے مالک کے ساتھ وفادار بھی تھا اس نے مالک کی امانت میں خیانت نہ کی۔ وہ جب اپنی عزت کی حفاظت کرنے کیلیے باہر کو لپکا تو بادشاہ کی بیوی نے اس کا دامن پیچھے سے پکڑ لیا جس سے کپڑا پھٹ گیا اور اسی اثنا میں بادشاہ بھی آگیا تو ملکہ نے اپنی پوزیشن صاف کرتے ہوئے اس غلام پہ تہمت لگا دی۔
بادشاہ کیلیے معلوم کرنا مشکل ہو گیا کہ کس کا قصور ہے اور کون بے قصور ہے۔۔؟؟؟ آخر غلام کا کرتہ دیکھا گیا جو کے پیچھے سے پھٹا تھا تو قصور ملکہ کا نکلا۔ مگر ملکہ کے مشور ہ پہ بادشاہ نے اپنی بیوی کو بدنامی سے بچانے کیلیے غلام کو قید خانہ میں ڈال دیا۔ اور جس دن بادشاہ کو ڈراؤنا خواب آیا اس غلام کو قید میں سات یا بارہ سال ہو چکے تھے۔ اور اب جب بادشاہ اسے باہر نکالنا چاہ رہا تھا تو قیدی کی ضد تھی کہ پہلے ملکہ اور دوسری عورتوں کے ذریعہ میری بے گناہی اور پاک دامنی کا اظہار کرالیا جائے اس کے بعد ہی میں جیل سے باہر نکلوں گا۔ چنانچہ بادشاہ نے اس کی تحقیقات کرائی تو تحقیقات کے دوران ملکہ نے اقرار کرلیا کہ میں نے خود ہی غلام کو پھسلایا تھا۔ خطا میری ہے۔ قیدی سچا اور پاک دامن ہے ۔ اس کے بعد بادشاہ نے قیدی کو دربار میں بلا کر کہہ دیا کہ آپ ہمارے معتمد اور ہمارے دربار کے معزز ہیں۔ قیدی نے کہا کہ آپ زمین کے خزانوں کے انتظامی امور اور حفاظتی نظام کے انتظام پر میرا تقرر کردیں۔ میں پورے نظام کو سنبھال لوں گا۔ بادشاہ نے خزانے کا انتظامی معاملہ اور ملک کے نظام و انصرام کا پورا شعبہ آپ کے سپرد کردیا۔ اس طرح ملک مصر کی حکمرانی کا اقتدار قیدی کو مل گیا۔
اور یوں اللہ نے اپنے پیغمبر حضرت یوسف علیہ السلام کو عزت اور رتبہ عطا فرمایا۔ جنہیں ان کے بھائیوں نے کنویں میں پھینک دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com