جشن عید میلادالنبی ﷺ قریہ قریہ کونہ کونہ روشن ۔مرحبا یا رسول اللہ ﷺ

جشن عید میلادالنبی ﷺ قریہ قریہ کونہ کونہ روشن ۔مرحبا یا رسول اللہ ﷺ

( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) 
حضرت بی بی آمنہؓ فرماتی ہیں۔جب میں آپﷺ میرے پیٹ میں آئے تو ایک بادل کا ٹکڑا آسمان پر وارد ہوا اور جہاں میں جاتی وہ میرے اوپر چھاؤں کرتامیں جب بکریاں چرانے جاتی تو بکریاں میرے پیچھے پیچھے چلتیں،جب میں چلتی تو پتھر میرے پاؤں کے نیچے نرم روئی کی طرح ہو جاتے اور جب کنویں سے پانی نکالتی تب پانی اوپر چڑھ آتا اور آسانی سے بھرتی ،جب سوتی تو خوبصورت حوریں پنکھے سے ہوادیتیں اور روزانہ خواب میں ایک نبی مجھے مبارک باد دیتے ہوئے کہتے کہ آپکو مبارک ہو آپ آخری نبی ؐ کی والدہ ہیں،حدیث نبوی ؐ کے مطابق آپ ؐ نے فرمایا۔میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم مٹی اور پانی کے درمیان تھے میں ابراہیم ؑ کی دعا،عیسیٰ ؑ کی بشارت اور اپنی والدہؓ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا اور ان سے ایک نور ظاہر ہوا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے،محمد بن عبداللہ ﷺ کی ولادت مبارکہ مشہور عام تاریخ12ربیع الاول بمطابق571ء کو ہوئی جس پر آتش کدہ فارس جو کہ ہزار سال سے زیادہ عرصہ سے روشن تھا بجھ گیا،آپ ؐ کی کنیت ابو قاسم تھی آپ ؐ کابچپن عام بچوں کی طرح کھیل کود میں نہ گذرا بلکہ آپ ؐ میں نبوت کی نشانیاں شروع سے ہی موجود تھیںیہی رسول اکرم ،خاتم النبین ،رحمت العالمین ﷺ اپنی سچائی ،دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جاتے ،جن کی آمد کے مبارکہ دن کے حوالے سے آج قریہ قریہ گاؤں گاؤں شہر شہر ملک ملک ہر مسلمان عقیدت و احترام میں بڑھ چڑھ کر جشن منانے میں ایک دوسرے سے آگے ہے ،درود و سلام کی روحانی محافل کا انعقاد شباب پر ہے ،ہر کوئی شادمان ہے بہت خوش ہے ایسا کیوں نہ ہو حقیقت یہی ہے کہ آپ ؐ کی محبت مسلمانوں کے ایمان کا بنیادی حصہ ہے قرآن مجید کے مطابق کوئی شخص مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اپنی جان و مال اور پسندیدہ چیزوں پرانہیںؐ فوقیت نہ دے بلاشبہ قیامت تک کے مسلمان ان کی امت میں شامل ہیں ،رسول پاکﷺ کے بارے میں فرانسیسی مصنف دی لمرتین لکھتا ہے۔فلسفی ،مبلغ،پیغمبر،قانون ساز،سپہ سالار،ذہنوں کا فاتح ،دانائی کے عقائد برپاء کرنے والا،بت پرستی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے والا،بیسیوں ریاستوں کو ایک روحانی سلطنت میں متحد کرنے والے وہ محمدؐ ہیں جہاں تک انسانی عظمت کے میعار کا تعلق ہے ان میعاروں پر پورا اترنے والا محمدﷺ سے کوئی بر تر نہیں،خداوند اقدس نے آخری نبی ؐ کی بعثت کے ساتھ ہی آخری امت کی بعثت کا بھی فیصلہ فرمایا جس کو نبی کی تربیت کے ذریعہ سے انبیاء کرام کا کام سونپ دیا گیا جو مشن اس امت کو سونپا گیا اس کی نشاندہی اور تفصیلات کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد آیات نازل فرمائیں نبی کا تعارف ،ان کی خصوصیات،مشن اور جو چیزیں نبی کی ذات سے وابستہ ہیں ان سب کا ذکر کیا اور جو باتیں نبی کے ذریعہ سے امت میں منتقل ہواجائیں اور امت کو ان کا ذمہ دار ہونا ہے ان کا تذکرہ بھی فرمایا،سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ہم نے تم کو ایک ایسی بہترین امت بنایا تاکہ تمام انسانوں کے سامنے حق کے گواہ بن جاؤ تمام انسانوں کے سامنے حق کو واضح کریں ،اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اور امت کو شاہد قرار دیااس کے تحت عقیدہ ،عبادات،اخلاق،معاشرت،معاملات،تمدن،تہذیب،تربیت،ہدایت،انتظامی امور حتیٰ کہ زندگی کے جتنے شعبے ہیں چاہے وہ انفرادی یا اجتماعی اور زندگی کے جتنے بھی پہلو ہیں سب اس میں سمٹ گئے مطلب واضح ہوکہ یہ حق ہے یہ باطل ،یہ خیر ہے یہ شر،یہ ایمان ہے یہ کفر،یہ توحید ہے یہ شرک،یہ سنت ہے یہ بدعت،یہ حلال ہے یہ حرام،یہ معروف ہے یہ منکر،دین اسلام میں چیزوں کا تذکرہ اس طرح کیا گیا کہ دونوں میں تعلق کی نسبت تضاد ہے جیسے دن رات،روشنی تاریکی ،پانی آگ،دھوپ سایہ،یہ سب طاقتیں اندرونی بھی ہیں او ربالائی بھی ،ملکوتی بھی اور شیطانی بھی ،اعتقادی،فکری،عملی اور تنقیدی بھی جو انسانوں کے مابین ایک جنگ،ایک کشمکش،ٹکراؤپیدا کرایا جو جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا،خداوند کریم نے جب یہ دنیا بنائی تب سے آزمائش،امتحان،جانچ،پڑتال،تحقیق وغیرہ سب کی ذمہ داری اصلاً انسان پر ڈالی گئی،انسان کو موت اور زندگی کے تھپیڑوں ،موجوں اور بھنور میں اس لئے ڈالا گیا کہ اس کی آزمائش لمحہ بہ لمحہ ہوتی چلی جائے،خدا وند کریم نے اسی لئے فرمایا۔اللہ نے موت کو بھی پیدا کیا اور زندگی کو بھی پیدا کیا(سورہ ملک۔۲)،اس لئے خدا دیکھنا چاہتا ہے آزما کر ،جانچ کرکہ تم میں کون اچھا عمل کرنے والا ہے لہٰذا جب بھی حق کی بات آئے گی تو ایک طرف عقیدہ حق ایک طرف عقیدہ باطل،ایک طرف فکر حق ایک طرف فکر باطل،ایک طرف فلسفہ حق ایک طرف فلسہ باطل،ایک طرف عبادات ایک طرف غیر اللہ کی پوجا،ایک طرف رسوم حق ایک طرف باطل رسوم و روایات ،ایک طرف تمدن حق ایک طرف غلط اور باطل تمدن ،ایک طرف صحیح حق تعلیم ایک طرف باطل تعلیم اسی طرح کی مزید حق و باطل سے لبریز دو چزیں ہمیشہ مد مقابل رہیں گی اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا،یہ سلسلہ حضرت آدم ؑ سے شروع ہوا جیسے ہی اللہ تعالیٰ نے ان کی ابتدا فرمائی ان کو جان نصیب فرمائی عزت سے سرفراز فرمایا تو مد مقابل طاقت ابلیس کی شکل میں سامنے آئی جس وقت یہ طاقت سامنے آئی خداوند اقدس نے کا فیصلہ ہو گیا کہ اب یہ دونوں طاقتیں جاری رہیں گی،ان کی کشمکش،لڑائی اور بندش ہوتی رہے گی ،جیسے مادیات کے درمیان نشیب و فراز کا سلسلہ چلتا رہے گا ویسے ہی شیطانی اور ملکوتی طاقتوں،انسان کے شر اور خیر کے درمیان یہ معرکہ برپا رہے گا،اسی لئے فرمایا گیا کہ تم کو بہترین امت بنایا تا کہ تم انسانوں کے سامنے حق کی نشرواشاعت،پرچار،اعلان اور پھیلاؤ کریں تاکہ باطل کا مقابل ہو اسے نیست و نابود کیا جائے،یہی وہ وجوہات تھیں جب پیغمبر حقﷺ نے حق گواہی کے لئے حجتہ الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں ایک لاکھ چودہ ہزار افراد کے سامنے بیان فرمایا۔لوگو خبردار ہو جاؤ،کان کھول کر سن لو میں نے ساری باتیں پہنچا دی ہیں کہ نہیں؟لوگوں کی طرف سے جواب ملا۔اے پیغمبر آپؐ نے پیغام پہنچا دیا امانت کو ادا فرمادیا امت کے ساتھ خیر خواہی کا حق ادا کر دیا اور جو جدوجہد اللہ نے آپؐ کے اوپر لازم فرمائی تھی آپؐ نے اس جدوجہد کا حق بھی ادا فرمایا،میدان عرفات میں جب آپ ﷺ نے امت کے سامنے یہ گواہی پیش کر دی تو عرفات کے میدان جہاں خدا تعالیٰ کی رحمت ہر وقت موسلا دھار بارش کی طرح برستی ہے وہیں امت کے حاضر نمائندوں نے پیغمبر کے حق پیغمبری ادا کرنے کی گواہی دے دی،اس گواہی کے بعد پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔اے اللہ تو بھی گواہ رہنا ،اے اللہ تو بھی گواہ رہنامیں نے حق ادا کر دیا،بات پہنچا دی اور پھر لوگوں سے فرمایا لوگو سن لو جو بھی یہاں موجود ہے اور جو بھی اس حق کی گواہی کو سن رہا ہے اس پر یہ ذمہ داری ہے کہ ان تمام لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ،ہر انسان جو حق کو سن رہا ہے وہ ایک امانت قبول کر رہا ہے اور اس امانت میں خیانت کا انہیں حق نہیں ،اسی لئے سب سے بڑی امانت علم ہے ،شریعت ہے،خدا کے کلا م نبی کی تعلیمات سے ہے ان کے مقابلہ میں ساری امانتیں ہیج ہیں ،جب ایک مومن کا کامل یقین ہو اللہ پر،تمام پیغمبروں پر ،ختم نبوت پر،قرآن پر،فرشوں پر،آخرت پر،سزا و جزا پر،عالم بالا اور عالم غیب پر جس میں کوئی شک ،کوئی فلسفہ ،کوئی فکرجو چیز بھی اس کے سامنے آئے خس وخاشاک کی طرح بہہ جائے ،ہر فکر اس کے سامنے تحلیل ہو جائے لہٰذا ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ہم جہاں سرور کائناتﷺ کی آمد کی خوشیاں مناتے ہیں اور مناتے رہیں گے وہیں ہم تمام تر اسلامی اقدار اور رسول نبی اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ ،تعلیمات پر پوری طرح نہ صرف خود عمل پیرا ہوں بلکہ نیک اور بہتر پیغام جو ہمیں امانت میں ملا تھا کو آگے تک پہنچائیں،لوگوں میں پیار محبت بانٹیں،شرک سے محفوظ رہیں، ہمیں چاہئے اپنے کسی بھی ذاتی مفادات پر ختم نبوت سے چشم پوشی مت کریں،ہم سوچیں کہ کیا ہماری پریکٹیکل زندگی اور عمل درست ہیں؟ہم طہارت اختیار کر چکے ہیں؟نفاست،پاکیزگی اور صفائی ستھرائی کو اپناتے ہیں؟عبادات کے پابند ہیں؟اسلامی معاشرت قبول کر لی ہے؟ تجارت اور کاروبار اسلام کی اساس پر استوار ہے؟نظام تعلیم اسلامی ہے؟سکول و کالج و یونیورسٹیاں ،مدرسے اور مکتب اسلام اور قرآن کی بنیاد پر قائم ہیں؟صوم صلواۃ کے پابند ہیں؟جھوٹ تو نہیں بولا؟حسد ،لالچ اور سود خوری میں تو کہیں ملوث نہیں؟قربان جائیں اس رسول عربی ﷺ پر جنہوں نے فرمایامجھے بچوں کی پانچ عادتیں بہت پسند ہیں،1 ۔وہ رو رو کر مانگتے ہیں اور اپنی بات منوا لیتے ہیں،2۔وہ مٹی سے کھیلتے ہیں اورغرور تکبر خاک میں ملا دیتے ہیں،3 ۔جو مل جائے کھا لیتے ہیں زیادہ جمع یا ذخیرہ کرنے کی ہوس نہیں کرتے،4۔لڑتے جھگڑتے ہیں اور پھر صلح کر لیتے ہیں یعنی دل میں حسد ،بغض اور کینہ نہیں رکھتے ،5۔مٹی کے گھر بناتے ہیں کھیل کر گرا دیتے ہیں یعنی وہ بتاتے ہیں کہ یہ دنیا باقی رہنے والی نہیں بلکہ ختم ہو جانے والی ہے،وہ جو سب سے اکمل ،سب سے افضل سرکار دوجہاں ﷺ ہیں پر لاکھوں سلام ۔مرحبا یا رسول اللہ ﷺ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com