نام محمد ﷺ کے سبب (قول سدید)

نام محمد ﷺ کے سبب (قول سدید)

خصوصی تحریر بمناسبت

یوم ولادت رسول ﷺ

مرزا محمد یٰسین بیگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے کریم آقاﷺ کی ساری کی ساری زندگی اسوہ حسنہ و کاملہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔آپ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد گرامی دنیا فانی کو خیر باد کہ کر جاچکے تھے اور ابھی آپ اپنی زندگی کی محض چھ بہاریں ہی گزار پائے تھے کہ آپ کی والدہ ماجدہ بھی داغ مفارقت دے گئیں ۔جب میرے آقا دنیا میں تشریف لائے تو آپ کے دادا نے قبیلے والوں کو دعوت پر بلایا ، قبیلے والوں نے پوچھا ،سردار جی بچے کا نام کیا رکھا ہے؟ تو عبدالمطلب نے جواب دیا کہ میں نے بچے کا نام ’’محمد‘‘ ﷺ رکھا ہے ۔۔۔قبیلے والے سن کر متعجب ہوئے کہ یہ نام تھوڑا منفردسالگتا ہے اور ہم نے پہلے ایسا نام کہیں سنا نہیں ہے ۔قبیلے والوں کی بات سن کر سردار عبدالمطلب گویا ہوئے کہ اگر آپ نے ایسا نام نہیں سنا تو ایسا پیکر جمال بچہ بھی نہیں دیکھا ہوگا۔ سردار عبدالمطلب آقاﷺ کو گود میں اٹھا کر قبیلے والوں کے سامنے لے کر آئے ۔قبیلے والوں نے جب حسن محمدﷺ کی جھلک دیکھی تو سب مبہوت ہوکر رہ گئے اور سب نے کہا کہ اس پیکر وجاہت کا نام محمد ہی ہونا چاہیے ۔میرے آقا ﷺ نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام حالت یتیمی میں گزارے۔ماں آمنہ کا دل کئی بار مغموم ہوتا ہوگا کہ کاش میرے بیٹے کا بابا زندہ ہوتا وہ میرے لعل کو کندھوں پر بٹھاکر سیرکرواتا ، میرے شہزادے کو انگلی سے پکڑ کر چلنا سکھاتا ، میرے لاڈلے کو کھلونے لاکر دیتا ، لیکن افسوس میرا لعل یتیم ہے ۔میرا تصور کہتا ہے کہ مشیت ایزدی جھوم کر کہتی ہوگی کہ اے آمنہ! غم نہ کر بیٹا تیرا ہے محبوب میرا ہے ۔ میں تیرے لعل کو اتنا مقام دے چکا ہوں کہ ساری کائنات تیرے لعل سے ادنیٰ ہے اور تیرا لعل ساری کائنات سے اعلیٰ و ارفعیٰ ہے ۔پتھر تیرے لعل کا کلمہ پڑھیں گے ،شجر تیرے لاڈلے پر سلام پڑھیں گے ، بوبکر،عمر،عثمان و علیؓ جیسے جانثار ساتھی تیرے بیٹے کے ہمسفر بناؤں گا کہ جن پر تاقیاقت دنیائے کائنات رشک کرے گی ، اگر تیرے لعل کا کھیلنے کو دل کرے گا میں آسمان کے چاند کو تیرے جگر گوشے کا کھلونا بنادوں گا اور اگر تیرے لاڈلے کا سیر کو دل کرے گا تو میں ساتوں آسمانوں کی معراج پر بلالوں گا ، والضحیٰ کی شکل میں اس نازنیں کے چہرے کی قسم اٹھاؤں گا ، والیل کہ کر اس کی زلف کا تذکرہ کروں گا ، ماذاغ البصر کہ کر اس کی خوبصورت آنکھوں کا ذکرکروں گا ، مزمل،مدثر، طہ ،یسین کہ کر تیس پاروں کی چھٹی تیرے بیٹے کے سینے پر اتارکر پوری کائنات کو ضابطہ حیات بنا دوں گا اور ورفعنا لک ذکرک کے وعدے کو عملی طور پر پورا کروں گا۔ اذان میں جہاں میرا ذکر ہوگا وہاں تیرے بیٹے کا بھی ذکر ہوگا ،نماز میں جہاں میری تحمید و تقدیس بیان کی جائے گی وہاں تیرے لاڈے پر درود سلام کے لیے بھی درود و سلام کے پھول نچھاور کیے جائیں گے ، جس دن کہیں پانی نہ ملے گا تیرا دریتیم ساقی کوثرﷺ کے مرتبے پر فائز ہوگا ، جس دن میرے بھیجے باقی انبیاء بھی نفسی نفسی کی گردان کررہے ہوں گے، تیرا راج دلارا شافع محشرﷺبنا ہوگا ۔ میں کملی والے کی ہرہر ادا کو آنے والوں کے لیے زریعہ نجات وسعادت بنادوں گا لوگ تیرے راج دلارے کے اعمال ،اقوال و افعال کو اپنی جان سے محبوب رکھیں گے ۔
اللہ تعالیٰ نے میرے آقاﷺ کو بہت زیادہ فضیلت،شان،مقام و مرتبہ عطا کیا ہے ۔ جو شخص بھی مسلمان ہونے کا دعویدار اسے کلمہ طیبہ کے ایک ایک جز پر ایمان لانا ہوگا اور کلمہ طیبہ جہاں اللہ کی وحدانیت کا اعلان ہے وہاں میرے آقاﷺ کی رسالت کا بھی اعلان ہے اور اس اعلان کے بغیر کلمہ طیبہ مکمل ہی نہیں ہوتا ۔
آپ ﷺ کی آمد سے پہلے کائنات ابترترین صورت حال سے دوچار تھی ، عد م برداشت، جہالت ، چوری رہزنی حتیٰ کہ دنیا کا کوئی ایسا جرم یا برائی ایسی نہ تھی جو کہ اس معاشرے میں نہ پائی جاتی ہو ۔ ان لوگوں کی شقاوت قلبی کو تو یہ عالم تھا کہ معصوم بیٹیوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا ، انسانیت سسک رہی تھی ، جہالت کا دوردورہ تھا ، اخلاقیات کا دیوالیہ ہوچکا تھا ، مذہب تحریف کے عمل سے گزرکر تعمیر کی بجائے تخریب کا زریعہ بن چکا تھا ،شرافت و رواداری عدم برداشت اور جارحیت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں ماررہی تھیں۔ایسے حالات میں خالق کائنات کو اپنی دنیا پر رحم آیا اور اس نے اپنے محبوب کو دنیا میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ۔ زمانہ ازل سے آپ ﷺ کے قدموں کی چاپ کا منتظر تھا کیونکہ آپ کی آمد کی دعا آپ کے جدامجد ابراہیم خلیل ؑ نے کی تھی اور آپ ﷺ کی آمد کی بشارت حضرت عیسیٰ ؑ نے سنائی تھی ۔ آپ تشریف لائے تو کائنات کو جینے کا شعور آیا ، جوخود راہ پر نہ تھے انہیں مقام رہبر عطا ہوا ، جس بنت حوا کو پاؤں کی جوتی سے زیادہ حیثیت حاصل نہ تھی اسے بہن ، بیٹی،بیوی اور ماں جیسے مقدس رشتوں کا نام عطا ہوا اور جنت جو کہ اللہ کے تخلیق کردہ سب انعامات میں اعلیٰ ترین انعام ہے اسے بنت حوا کے قدموں میں ڈال دیا گیا۔آپ ﷺکی حیات طیبہ کے تمام پہلو کائنات کے آنے والے تمام انسانوں کے لیے قیامت تک کے لیے نمونہ اور رہنمائی ہے ۔ آپ کے غزوات، آپ کی ازدواجی و عائلی زندگی، آپ کی تجارت، آپ کا انداز تبلیغ، آپ کا جذبہ خدمت گزاری ، آپ ﷺ نے دنیا کو ریاست مدینہ کی شکل میں ایک ایسا ماڈل دیا جس پر عمل کے زریعے دنیا کو جنت گلزار بنایا جاسکتا ہے ۔ آپ کی تعلیمات کا اثر تھا کہ چشم فلک نے مواخات مدینہ اور انصار و مہاجرین کی روح پرور محبت و ایثار کا مشاہدہ کیا ۔ آج بھی اگر ہم سارے ورلڈ آرڈر،ازم و نظام تج کرکے خالصتا نظام مصطفی پر کاربند ہوجائیں تو دنیا سے ہر قسم کی بے سکونی،بدامنی، شدت پسندی و دہشت گردی کا یقینی خاتمہ ہوجائے گا کیونکہ دینی،دنیوی و اخروی فوزوفلاح نام محمد اور پیغام محمد ﷺ کے ساتھ جڑنے میں مضمر ہے ۔۔ بقول جناب یعقوب پرواز۔
جس طرح ملتے ہیں لب نام محمد کے سبب
کاش ہم مل جائیں سب نام محمد کے سبب
تھا کہاں پہلے ہمیں حفظ مراتب کا لحاظ
ہم نے سیکھا ہے ادب نام محمد کے سبب 
جب لیا نام نبیﷺ حاصل ہوا کیف و سرور 
اڑگیا رنج و تعب نام محمد کے سبب
سرور عالم کے دم سے ہے عجم کی آبرو
محترم ٹھہرا عرب نام محمد کے سبب
جبر کے پنجے میں جکڑے جاں بلب انسان کو 
آگیا جینے کا ڈھب نام محمد کے سبب
بوزر و سلمان ہوں یا معصب و عثمان ہوں 
ایک ہیں پرواز سب نام محمد کے سبب
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com