قربانی کا فلسفہ
امیر محمد اکرم اعوان:
ہم قربانی کیوں کرتے ہیں؟اس پر جدید تہذ یب یا جدید معاشرہ یا جو نیا طبقہ ہے اس کا ایک بہت بڑا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ کروڑوں اربوں روپے کے جانور ایک دن میں ایک وقت میں ذبح کر دےئے جاتے ہیں اگر بجائے جانور ذبح کرنے کے کسی تعمیری کام پر خرچ کئے جاتے تو بہت سے قومی مسائل کا اور بہت سی ضرورتوں کا حل نکل سکتا تھایہ بظاہر بڑا دلکش اور بڑا پرُ زور سوال نظر آ رہا ہے اس کا سیدھا اور آسان سا جواب یہ ہے کہ ہم قربانی اس لئے کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے قربانی کی ہے اور قربانی کرنے کا حکم دیا ہے اس کا یہ جواب ہر گز نہیں ہے کہ یہ سنتِ ابراہیمی ہے یا اسماعیل علیہ السلام کو قربان کیا گیا یا ابراہیم علیہ السلام نے قربانی دی۔ ہم مسلمان یا امتِ محمدیہ ﷺ قربانی اس لئے کرتے ہیں کہ نبی رحمت ﷺ نے قربانی کی اور ہمیں قربانی کرنے کا حکم دیا۔آپﷺ نے حج پر بھی کی اور حج کے علاوہ بھی قربانی کی۔ ہم اسے سنتِ ابراہیمی اس لئے کہتے ہیں کہ یہ شروع ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی لیکن ہم کرتے ہیں حضورﷺ کی اطاعت میں ہم بالکل قربانی نہ کرتے اگر محمد رسولﷺ نے قربانی نہ فرمائی ہوتی۔ ہمارے لئے اتباع تو لازم ہے محمد رسول ﷺ کا اور سنتِ ابراہیمی پر عمل ہم اس لئے کرتے ہیں حضور ﷺ نے کیا اور کرنے کا حکم دیا۔ہم حضور ﷺکی اتباع میں حج کرتے ہیں سعی کرتے ہیں حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہیں کیا رکھا ہے حجر،ِاسود میں؟ پتھر ہے سیدنا فاروقِ اعظم حج کے موقع پر طواف کرتے ہوئے حجرِاسود کے سامنے کھڑے ہو گئے اور فرمایا میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے تجھے میرے نبی ﷺ نے چوما ہے میں اُن ہونٹوں کو چومناچاہتا ہوں توُ تو پتھر ہے۔ تیری حیثیت سے میں واقف ہوں لیکن تجھے جن ہونٹوں نے چوما ہے وہ بہت قیمتی ہیں، وہ بات بہت قیمتی ہے ،وہ کام بہت قیمتی ہے جو میرے آقا ﷺ نے کیا میں اتباع محمد رسولﷺ میں تمھیں بوسہ دیتا ہوں۔
اب اس سوال کا دوسرا پہلویہ کروڑوں اربوں روپے شاید بن جائیں تو اس کو اس حکم کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت پرہے کیوں لاگو کیا جاتا ہے؟ہم روزانہ اپنے وزیروں کے جلوس نکالتے ہیں اس پر کیوں لاگو نہیں کیا جاتا ؟ہم روزانہ غیر مذ ہبی تہوار جو واقعتاََ ہندوؤں کے ہیں اس پر کروڑوں روپے مسلمانوں کے صرف کرتے ہیں اس پر کیوں سوچا نہیں جاتا؟کوئی دانشور اس کے بارے کیوں نہیں کہتا کیا یہ سب فضولیات نہیں ہیں ؟کیا ان رقوم کو قومی یا تعمیری کاموں پر نہیں لگایا جا سکتا؟اس کے پیچھے نہ کسی نبی کا حکم ہے نہ کسی رسول کا حکم بلکہ اللہ نے منع فرمایا ہے اللہ کے نبی نے منع فرمایا ہے اور کافروں نے یہ انداز اپنا لیا ہے کہ وہاں مغرب میں اگر کوئی وزیر تعلیم سکول کے معائنہ کیلئے جائے تو شہر میں کسی کو خبر تک نہیں ہوتی کہ منسٹر آیا ہوا ہے یہ اُس کی ڈیوٹی میں شامل ہے کہ طالبِ علموں کی تکالیف سنے اساتذہ کی تکالیف سنے اور ہر ممکن ازالہ کرے اسِ کے لئے سکول کے کسی خوشامدی کی کسی کو جھنڈا لگانے کی جلوس نکالنے کی ضرورت ہی نہیں اسی طرح جب وزراء حضرات دفاتر سے فارغ ہوتے ہیں تو اپنے گھر کا سودا سلف خریدنے کیلئے عام سٹوروں پر کھڑے ہوتے ہیں کوئی انہیں باری نہیں دیتا کہ منسٹر آ گیا ہے اسے باری دو بلکہ لائن میں کھڑے ہوتے ہیں جب باری آتی ہے تو قیمت دے کر چل دیتے ہیں۔
جب ان امور کی تعلیم ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے دی۔ حضرت ابو ہریرہؓ مدینہ کے گورنر تھے بہت امیر صحابہ میں سے تھے ابتدا میں بڑے غریب تھے لیکن پھر امیربھی بڑے تھے اور مدینہ منورہ کے گورنر بھی تھے تو اپنی ضرورت کے لئے لکڑیوں کا گٹھہ جنگل سے خود لے آتے تھے شہر میں داخل ہوتے تو خود آواز لگاتے کہ اپنے گورنر کے لئے راستہ چھوڑ دوآواز بھی اس لئے لگاتے تھے کہ سب کو پتہ چل جائے کہ گورنر بھی عام آدمی ہے گورنری کرنا اس کے فرائص میں شامل ہے ورنہ وہ بھی ایک عام مسلمان ہے ۔اس لحاظ سے یہ اعتراض اپنی اہمیت کھو دیتا ہے کہ اسے صرف رسول اللہ ﷺ کے احکام پر لاگو کیا جائے اور ان رسومات پر لاگو نہ کیا جائے جو ہم یا ہمارے حکمران ذاتی تسکین کیلئے ایجاد کر لیتے ہیں ان پر کیوں کروڑں روپے ضائع کرتے ہیں؟اسے کیوں نہ روکا جائے ؟ہمارے دانشورحضرات کو صرف دین پر ہی اعتراض سوجھتے ہیں اب تو جدید تہذیب آگئی اب تو لوگ کہتے ہیں کہ جتنے جانور ذبح ہوتے ہیں یہ سارے پیسے جمع کر لئے جائیں تو بہت سی یو نیورسٹیاں کھل سکتی ہیں، سڑکیں بن سکتی ہیں ،نہریں کھودی جاسکتی ہیں لیکن کیا وہ یونیورسٹیاں ،وہ سڑکیں ،وہ نہریں، وہ درد دل دیں گی جو قربانی کر کے نصیب ہوتا ہے۔یونیورسٹیوں نے تو لوگوں کو اخلاق باختہ کر دیا ہے آج کی تہذیب نے لوگوں کا سکون چھین لیا ہے ۔ اس جدید مغربیت جس پر دنیا فریفتہ ہے اس نے لوگوں سے آبرو چھین لی اس نئی روشنی سے آدمی کے پاس بچا کیا وہ کسی دل جلے نے کہا تھا کہ 
اندھیرا ہو رہا ہے بجلی کی روشنی میں
کہ جب سے بجلی کی روشنیاں آئی ہیں دنیا تاریک ہو گئی ہے ۔اخلاق کے اعتبار سے، ایمان کے اعتبار سے، کردار کے اعتبار سے کیا دیا ہے انہوں نے انسانوں کو؟ اورقربانی تو وہ جذبے پیدا کرتی ہے جو اللہ کے نام پر جانیں نچھاور کر کے پھر دعا کرتے ہیں کہ ایک زندگی اور دے دے پھر تیری راہ میں شہید ہوں۔ وہ جوان جن کے بھروسے پہ آپ رات کو آرام سے سو جاتے ہیں کہ ہماری سرحدوں پہ پہرے دے رہے ہیں ان کو جذبہ شہادت ہی قربانی دیتی ہے ۔ یو نیورسٹیاں، نہریں ، سڑکیں بنائی جائیں اس سے کوئی منع نہیں ہے لیکن اگر ارکان دین ختم کر کے بنائی جائیں گی تو پھر دین نہیں ہو گا۔ جہاں دین نہیں ہو گا وہاں انسانیت نہیں ہوگی۔ بھیڑیوں کا جنگل ہو گا جس مغربی تہذیب پہ دنیا فریفتہ ہے وہاں جا کر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ بھیڑیوں اور درندوں کا جنگل ہے۔ کوئی کسی کا باپ نہیں ،کوئی کسی کی بیٹی نہیں ،کوئی کسی کی بہن نہیں ،کوئی کسی کا بھائی نہیں۔
اللہ نے یہ عطا نبی رحمت ﷺ پر کی کہ آپﷺ بھی جانور قربان کریں اور اس قربانی میں شریک ہو جائیں جس کے لئے اللہ کے دو رسولوں نے اپنے آپ کو پیش کیا اور حضور ﷺنے اپنے ساتھ اپنی پوری امت کو شریک فرمالیا کہ جو تیرا امتی ہے وہ جانور قربان کرے اور میرے ساتھ ثواب میں شریک ہو جائے۔ یہ ثواب کیا ہے؟ایک گول مول لفظ ثواب کہہ دینے سے حقیقت منکشف نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے وہ انوارات ، وہ برکات ،وہ رحمتیں ، وہ جذبے اور قرب الہٰی کے مدارج ہیں جو اُن باپ بیٹے دونوں اللہ کے رسولوں پر نازل ہوئے ۔انہی رحمتوں میں سے ہر قربانی کرنے والا بطفیل محمد ﷺحصہ پاتا ہے کوئی عشر عشیر سہی ،کوئی کرن سہی، اسی لئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کی جائے اگر نہ کر سکے تو پاس کھڑا رہے ،موجود رہے، خود نبی رحمت ﷺ نے ایک عید پر سو اونٹ قربان فرمائے تریسٹھ اپنے دست مبارک سے نحر فرمائے اور باقی کو حضرت علی کرم اللہ کو حکم دیا کہ میری طرف سے نحر کر دو۔ تو ثواب کا مطلب ہے کہ اس کے بدلے میں جو کیفیت نصیب ہو گی، جو درد نصیب ہو گا، جو عشق الٰہی نصیب ہو گا ،جو قرب محمد ﷺ نصیب ہو گا وہ تو حضور کی اتباع میں جانور کی قربانی کرنے سے ہی ہوگا۔ ہر قربانی پر ایک درد کو تازہ کر دیا کرو۔ ہر سال دل پر ایک نیا زخم لگے دل میں ایک نئی ٹیس اٹھے تب قربانی کا مزا آئے۔ یہ قربانی کوئی رسم نہیں ہے رشتہ ہے بند ے کا اپنے مالک کے ساتھ سب کچھ اس کا دیا ہوا ہے۔ اس میں سے تھوڑا سا خرچ کر کے ایک جانور اس کے نام پر درد کے ساتھ ذبح کرو۔ اس کے بے کس ،بے بس ،مفلس اور غریب بندوں کو کھلاؤ کہ وہ دعا دیں شاید کسی کے منہ سے اچھا لفظ نکل جائے ،شاید کسی کے دل میں خوشی آئے اور اس پر اللہ خوش ہو جائے۔ اللہ کریم ہم سب کو وہی برکات و انوارات جو آقائے نامدار ﷺ کے طفیل قربانی پر ملتے ہیں نصیب فرمائے آمین۔ 
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com