قرآن وحدیث کی روشنی میں اہل بیت کے فضائل

قرآن وحدیث کی روشنی میں اہل بیت کے فضائل
خوشبوئے قلم محمدصدیق پرہار
کتاب خاک کربلاکے صفحہ نمبرسولہ پرلکھاہواہے کہ ہرنبی ورسول نے اپنے اپنے وقت میں قوم کوتوحیدباری تعالیٰ ،احکام الٰہیہ اوراپنی رسالت کی تبلیغ فرمائی اورساتھ ہی یہ بھی فرمایاکہ اس تبلیغ واشاعت کااجرمیں تم لوگوں سے طلب نہیں کرتابلکہ اس کااجرمیں اللہ تعالیٰ سے لوں گا۔چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کوتوحید خداوندی کی دعوت دی اوراس کوایک خداکی عبادت کرنے کی تبلیغ فرمائی اوراس کواللہ کے عذاب سے ڈارایاتوساتھ ہی یہ بھی فرمایا ’’کہ اے میری قوم اس تبلیغ واشاعت کے بدلے میں میں تم سے کوئی مال ودولت نہیں مانگتابلکہ اس کاصلہ تومیرے خداکے پاس ہے۔‘‘اسی طرح حضرت ہودعلیہ السلام نیبھی جب اپنی قوم کواحکام خداوندی بتائے اورعبادت الٰہی کی تبلیغ فرمائی توساتھ ہی فرمادیا’’اے میری قوم میں اس تبلیغ کے بدلے میں تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتامگراس کااجرتومیرے اللہ کے پاس ہے جس نے مجھے پیداکیا۔پھرجب سیّدالمرسلین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاوقت آیااورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توحیدباری تعالیٰ ،اپنی رسالت، حساب وکتاب،حشرونشر، عذاب وثواب اوران کودعوت اسلام دی اورپھرپتھروں کے پجاریوں کوایک خدا کا پرستار بنایا اور کفروشرک کے سمندرمیں ڈوبنے والوں کودولت ایمان عطاکرکے کنارے پرلگایاتوخداوندتعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا۔’’ اے میرے محبوب پاک علیہ السلام ان کوکہہ دوکہ اس دعوت وتبلیغ دینے اورتم کودولت ایمان عطاکرنے کے صلے میں میں تم سے مال ودولت طلب نہیں کرتاالبتہ تم کوکلمہ پڑھانے کااجرتم لوگوں سے یہ مانگتاہوں کہ میری اہل بیت سے محبت کرو۔کتاب تاریخ کربلاکے صفحہ ۲۹ پرہے کہ اہل بیت نبوت وہ مقدس ہستیاں ہیں کہ جس طرح حضورنبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم سارے نبیوں اوررسولوں کے سردارہیں اسی طرح حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت تمام انبیاء کرام رسولان عظام کے اہل بیت کے سردارہیں۔ان پاکیزہ نفوس کی شان عالیہ میں اللہ جل شانہ اپنے مقدس کلام میں فرماتا ہے ’’اے نبی کے گھروالو!اللہ تویہی چاہتاہے کہ تم سے ہرناپاکی دورفرمائے اورتمہیں پاک کرکے خوب ستھراکردے۔کتاب خصائص اہل بیت کے صفحہ ۳۸پرہے کہ جب بنی نجران نے دعوت توحیدکوقبول نہ کیا اوراپنے عقیدہ تثلیث پراڑے رہے توان معاندین پرحجت قائم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوان سے مباہلہ کرنے کاحکم قرآن پاک کی اس آیت مبارکہ میں دیاجس کامفہوم یہ ہے کہ’’ اے حبیب مکرم !آپ فرمادیجئے کہ آؤہم بلائیں اپنے بیٹوں کوبھی تمہارے بیٹوں کوبھی اپنی عورتوں کوبھی تمہاری عورتوں کوبھی اپنے آپ کوبھی تم کوبھی پھربڑی عاجزی سے اللہ کے حضورالتجاکریں۔پھربھیجیں اللہ تعالیٰ کی لعنت جھوٹوں پر‘‘چنانچہ حضورسرورعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امام حسین کواٹھائے حضرت حسن کوانگلی سے پکڑے تشریف لائے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے خاتون جنت اوران کے پیچھے حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے۔جب انہوں نے یہ نورانی چہرے دیکھے توان کے اسقف(لاٹ پادری)نے کہاکہ اگرتم نے ان سے مباہلہ کیاتویادرکھوتمہارانام ونشان تک مٹ جائے گا۔چنانچہ انہوں نے صلاح مشورہ کے لیے مہلت طلب کرلی اوردوسرے روزمباہلہ کرنے سے انکارکردیااورجزیہ اداکرنے کے لیے تیارہوگئے اورصلح کرلی۔ قرآن پاک کی ان تین آیات مبارکہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اہل بیت کی کیاشان وعظمت ہے۔دعوت وتبلیغ کے بدلے میں اہل بیت سے محبت کرنے کاحکم اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اوراس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضااورایمان کی تکمیل کے لیے اہل بیت اطہارسے محبت ازحدضروری ہے ۔فضائل اہل بیت کے حوالے چنداحادیث مبارکہ کامفہوم پڑھنے کی سعادت حاصل کریں۔
کتاب خاک کربلاکے صفحہ سترہ پرہے کہ رسول اکرم نورمجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
کہ وہ شخص جواہل بیت کی محبت میں مراوہ مومن مرااورجوابھی آل رسول کی محبت میں فوت ہواوہ شہیدفوت ہوا۔۔۔اوروہ انسان کوعشق عترت پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مراتوخداوندتعالیٰ اس کی قبرکورحمت کے فرشتوں کے لیے مزاربنادے گا۔۔۔اوروہ شخص جواہل بیت کی محبت میں فوت ہواوہ اہلسنت وجماعت کے عقیدے پرفوت ہوا۔۔۔کہ وہ انسان جواہل بیت کے ساتھ بغض وعناداورعداوت ودشمنی میں مراوہ کافرمرااوروہ جنت کی خوشبوتک بھی نہ پائے گا۔۔۔کہ جس نے میری اہل بیت پرظلم کیااس پرخداتعالیٰ نے جنت حرام کردی۔اسی کتاب کے صفحہ ۲۲ پرلکھاہواہے کہ حضرت ابوذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔اوروہ کعبہ کی دیواروں کوپکڑے ہوئے تھے۔کہ میں نے نبی کریم علیہ السلام سے سناوہ فرماتے تھے۔’’میری اہل بیت کی مثال اے مسلمانوتمہارے لیے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے۔جوشخص بھی اس میں سوارہوگیاوہ بچ گیااورجوسوارنہ ہواہلاک ہوگیا۔حضرت زیدبن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں کھڑے ہوئے اورفرمایااے مسلمانومیں تمہارے اندردوبڑی ہی بھاری چیزیں چھوڑرہاہوں ایک اللہ کی کتاب کہ اس میں ہدایت بھی ہے نوربھی دوسری چیزمیری اہل بیت ہے۔نسل انسانی کی ہدایت وراہنمائی کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث پاک میں جن دو چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ان میں ایک قرآن پاک ہے اوردوسری اہل بیت اطہارتوجومسلمان بھی ان دونوں کومضبوطی سے پکڑے گاوہ کبھی بھی گمراہ نہیں ہوگا۔غرضیکہ بتانایہ مقصود تھا کہ قرآن پاک کی عظمت کے ساتھ ساتھ اہل بیت کی تعظیم وتکریم ،محبت والفت اورغلامی ونیازمندی بھی ایک کلمہ پڑھنے والے مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ کتاب تاریخ کربلا کے صفحہ ۵۴پرہے کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب آیت کریمہ(درودوسلام والی)توہم نے عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیک وآلک وسلم ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھادیاہے کہ آپ پرسلام کس طرح پڑھیں اب آپ فرمائیں کہ آپ پردرودکس طرح پڑھیں ؟ تو فرمایا یوں کہو اے اللہ درودبھیج محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پراورآپ کی آل پر،جیساکہ درودبھیجا ہے تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کی آل پربے شک توحمداوربزرگی والاہے۔حضرت ابومسعودانصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاجونمازپڑھے اوراس میں مجھ پراورمیرے اہل بیت پردرودنہ پڑھے اس کی نمازقبول نہ ہوگی۔اسی کتاب کے صفحہ۶۵پردرج ہے کہ حضرت مولاعلی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسنین کریمین کے ہاتھ کواپنے دست مبارکہ میں لے کرفرمایا جومجھ سے میرے ان دونوں اوران کے والدین سے محبت کرے گاوہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگااورجنت کے بھی اس درجہ میں رکھاجائے گاجہاں میں رہوں گا۔ویلمی نے روایت کی ہے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایااپنی اولادکوتین باتیں سکھاؤاپنے نبی کی الفت ومحبت،اہل بیت اطہارکی محبت اورقرآن کریم کی قرات۔بیہقی اورویلمی نے روایت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکوئی بندہ مومن کامل نہیں ہوسکتا۔یہاں تک کہ میں اس کواس کی جان سے زیادہ پیارانہ ہوجاؤں اورمیری اولاداس کواپنی جان سے زیادہ پیاری نہ ہواورمیرے اہل اس کواپنے اہل سے زیادہ محبوب نہ ہو۔امام احمدنے روایت کیا ہے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاجوشخص اہل بیت سے بغض رکھتا ہے وہ منافق ہے۔حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاقسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جس نے میرے اہل بیت سے بغض رکھاخداوندقدوس اس کودوزخ میں ڈالے گا۔ویلمی نے حضرت ابی سعیدسے بیان کیا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص یہ چاہتاہے اس کی عمرلمبی ہواوراللہ تعالیٰ نے جواسے دیاہے اس سے لطف اندوزہوتواسے چاہیے کہ میرے اہل بیت کے بارے میں میرااچھاجانشین بنے ۔اورجوان کے بارے میں میرے بعدان کااچھاجانشین نہ ہواتواس کی عمرکاٹ دی جائے گی اوروہ قیامت کے دن میرے پاس روسیاہ ہوکرآئے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے میرے اہل بیت پرظلم کرنے والے،ان سے جنگ کرنے والے اورانہیں براکہنے والے ان سب پرجنت کوحرام کردیاہے۔اسی کتاب کے صفحہ ۶۹ پرلکھاہواہے کہ طبرانی نے بیان کیاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایاتواورتیرے اہل بیت اور تمہارے چاہنے والے محب جنہوں نے میرے صحابہ کوگالی دینے کی بدعت اختیارنہیں کی وہ حوض کوثرپرسیراب اورسفیدروظاہرہوں گے اورتمہارے دشمن پیاسے اورسراٹھائے ہوئے آئیں گے۔حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:آل محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے ایک دن کی محبت ایک سال کی عبادت سے بہترہے اورمجھ سے اورمیرے اہل بیت سے محبت رکھناسات خطرناک مقامات پرفائدہ بخش ہے۔کتاب خصائص اہل بیت کے صفحہ چالیس پرہے کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اورحضرت حسین رضی اللہ عنہم سے فرمایاتم جس سے لڑوگے میں اس کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں اورجس سے تم صلح کرنے والے ہومیں بھی اس سے صلح کرنے والاہوں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاچھ بندوں پرمیں لعنت کرتاہوں اوراللہ بھی ان پرلعنت کرتاہے اورہرنبی مستجاب الدعوات ہے وہ بھی ان پرلعنت کرتاہے۔جوکتاب اللہ میں زیادتی کرنے والاہو،اللہ تعالیٰ کی قدرکوجھٹلانے والاہو،ظلم وجبرکے ساتھ تسلط حاصل کرنے والاہوتاکہ اس کے ذریعے اسے عزت دے سکے جسے اللہ نے ذلیل کیاہے اوراسے ذلیل کرسکے جسے اللہ نے عزت دی ہے ،اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کوحلال کرنے والامیری وعترت یعنی اہل بیت کی حرمت کوحلال کرنے والااورمیری سنت کاتارک۔حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے مخاطب ہوئے پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا:اے لوگو!جوہمارے اہل بیت سے بغض رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے روزقیامت یہودیوں کے ساتھ جمع کرے گا۔تومیں نے عرض کیایارسول اللہ اگرچہ وہ نمازروزہ کاپابندہی کیوں نہ ہواوراپنے آپ کومسلمان گمان ہی کیوں نہ کرتاہو؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاہاں اگرچہ وہ روزہ اورنمازکاپابندہی کیوں نہ ہواورخودکومسلمان تصورکرتاہو۔
اہل بیت اطہارکی فضیلت پرہم نے قرآن پاک کی آیات مبارکہ اورمنتخب احادیث مبارکہ لکھنے کی سعادت حاصل کی ہے۔قرآن پاک کی آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ سے اہل بیت نبوت کی عظمت وشان واضح ہوجاتی ہے۔قرآن پاک کی آیات اوراحادیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ اہل بیت اطہارسے محبت کتنی ضروری ہے۔یہاں تک کہ جب تک نمازمیں اہل بیت اطہارپردرودنہ پڑھاجائے تونمازہی قبول نہیں ہوتی۔ہدایت وراہنمائی پرقائم رہنے اورقیامت کے روزاپنے گناہوں کی بخشش اورجنت میں جانے کے لیے بھی اہل بیت نبوت سے محبت ازحدضروری ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اولادکوبھی اہل بیت نبوت کی محبت سکھانے کاحکم دیاہے۔ہم اپنی زندگیوں پرغورکریں کہ ہم اہل بیت اطہارسے کتنی محبت کرتے ہیں۔ہم اہل بیت سے محبت کادعویٰ توکرتے ہیں کیااس کاثبوت بھی ہمارے پاس ہے ۔اہل بیت نبوت سے محبت کرنے میں ہم اس وقت سچے ثابت ہوں گے جب ہم اہل بیت کی تعلیمات اوران کے طریقوں پرعمل کریں گے۔اہل بیت اطہارنے اپنی زندگیوں میں جوبھی نیک اعمال کیے ہیں ان اعمال کواپنانے کی کوشش کریں۔امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام نے توتیروں کی برستی ہوئی بارش میں بھی نمازنہیں چھوڑی اوریہاں مسلمان نمازکی کتنی پابندی کرتے ہیں یہ سب کواچھی طرح معلوم ہے۔اہل بیت اطہارتواپنی شدیدضرورتوں پربھی محتاجوں، سائلوں کی ضروریات کوترجیح دیتے تھے۔ہم مسلمانوں میں سے کتنے لوگ ایساکرتے ہیں۔اہل بیت سے محبت زبانی بھی ہونی چاہیے اورعملی بھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com