جن کے تلوے کا دھوؤن ہے آب حیات 

تحریر ۔اللہ دتہ 
جن کے تلوے کا دھوؤن ہے آب حیات 
ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبیﷺ

ماہ ربیع الاول امت مسلمہ کے لیے خاص اہمیت کا حامل مہینہ ہے کیونکہ اس مہینے نبی آخرالزماں ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری ہوئی، جو انسان کامل، ہادی عالم اور وجہ تخلیق کائنات ہیں،ربیع الاول امت مسلمہ کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل مہینہ ہے، عید میلاد النبی ایک تہوار یا خوشی کا دن ہے جو دنیا بھر میں مسلمان مناتے ہیں، یہ دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ یہ ربیع الاول کے مہینے میں آتا ہے جو اسلامی تقویم کے لحاظ سے تیسرا مہینہ ہے۔ ویسے تو میلاد النبی اور محافلِ نعت کا انعقاد پورا سال ہی جاری رہتا ہے لیکن خصوصاّ ماہِ ربیع الاول میں عید میلاد النبیﷺ کا تہوار پوری مذہبی عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے،اس ماہ مبارک میں ہی حضورانور سرور کونین حضرت محمدﷺ کو دنیا کو اندھیروں سے نکالنے کیلئے بھیجا گیا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری دنیا کے لئے نمونہ بن کر آئے، وہ ہر شعبے میں اس اوج کمال پر فائز ہیں کہ ان جیسا کوئی تھا اور نہ ہی آئندہ آئے گا12,ربیع الاول ولادت نبوی اور خوشیاں منانے کا دن ہے۔ قرآن کی روشنی میں ارشاد باری تعالٰی ہوا، (اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ)۔ (ابراہیم، 5) امام المفسرین سیدنا عبد اللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) کے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں۔ جن میں رب تعالٰی کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو۔ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں، ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے، احادیث صحیحہ سے دو باتیں ثابت ہیں10ہجری میں حجتہ الوداع میں یوم عرفہ 9ذوالحج جمعتہ المبارک تھارسول ﷺ کا وصال سوموار کے روز ماہ ربیع الاو ل میں ہوا۔ اب 9ذوالحج 10 ہجری اور ماہ ربیع الاول کے درمیان ماہ محرم اور ماہ صفر دو ماہ آتے ہیں۔ لہذا ذوالحج محر م اور صفر تینوں ماہ جس طرح بھی شمار کر لیں (تینوں ماہ تیس دن کے، دو ماہ تیس دن کے، ایک ماہ انتیس دن کاایک ماہ تیس دن کا، دو ماہ انتیس د ن کے، اور تینوں ماہ انتیس دن کے) کسی بھی صورت میں 12ربیع الاول سوموار کو نہیں بن سکتا۔ 12ربیع الاول ۱۱ ہجری میں بالترتیب اتوار، ہفتہ، جمعہ، جمعرات میں سے کوئی ایک بن سکتا ہے۔ اور 2ربیع الاول یوم وفات والی روایت کو ترجیح دی ہے۔ اور اگر بالفرض 12ربیع الاول ہی یوم وفات ہو تو بھی میلا د منانے اور خوشیاں منانے سے کوئی امر مانع نہیں کیونکہ بخاری ومسلم سمیت متعدد کتب حدیث میں10کے قریب صحابہ و صحابیات سے مروی ہے کہ: ’’ہمیں منع کیا گیا ہے کہ ہم شوہر کے سوا کسی وفات پانے والے پر تین روز کے بعد سوگ (غم) منائیں‘‘ اس حدیث سے ثابت ہے کہ سوگ منانا وفات کے بعد صرف تین دن جائز ہے۔ لہذا ہر سال نبی اکرم ﷺ کے وصال کے روز سوگ منا نا شرعاً جائز نہیں البتہ تشریف آوری کی خوشی منانے کی شرعاً کو ئی حد نہیں ہر سال جائز ہے،زمانہ قدیم سے اہل حرمین شریف (مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ) مصر یمن شام اور تمام عرب ممالک اور مشرق و مغرب کے مسلمانوں کا معمول رہا ہے کہ وہ ربیع الاول کا چاند دیکھتے ہی میلاد شریف کی محفلیں منعقد کرتے، خوشیاں مناتے، غسل کرتے، عمدہ لباس زیب تن کرتے، قسم قسم کی زیبائش وآرائش کرتے، خوشبو لگاتے، ان ایام میں خوب خوشی ومسرت کا اظہار کرتے، حسب توفیق نقد وجنس لوگوں پر خرچ کرتے، میلاد، شریف پڑھنے اور سننے کا اہتمام بلیغ کرتے، اور اس کی بدولت بڑا ثواب اور عظیم کامیابیاں حاصل کرتے،اسی طرح ملک پاکستان میں بھی یکم ربیع الاول سے ہی مساجد اور دیگر مقامات پر میلاد النبی اور نعت خوانی (مدحِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی محافل شروع ہو جاتی ہیں جن علماء کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت، آپ کی ذات مبارکہ اور سیرت طیبہ کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اسی طرح مختلف شعراء اور ثناء خواںِ رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نعتیہ گلہائے عقیدت اور درود و سلام پیش کرتے ہیں،بارہ ربیع الاول کو تمام اسلامی ممالک میں سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، کوریا، جاپان اور دیگر غیر اسلامی ممالک میں بھی مسلمان کثرت سے میلادالنبی اور نعت خوانی کی محافل منعقد کرتے ہیں،حضرت آمنہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں، (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہوگئی)۔ مسلمان تو عید میلاد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اپنے گھروں ا ور مساجد پر چراغاں کرتے ہیں، خالق کائنات نے نہ صرف سا ر ی کائنات میں چراغاں کیا بلکہ آسمان کے ستاروں کو فانوس اور قمقمے بنا کر زمین کے قریب کردیا۔حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی والدہ فرماتی ہیں، (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی میں خانہ کعبہ کے پاس تھی، میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ نور سے روشن ہوگیا۔ اور ستارے زمین کے اتنے قریب آگئے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر گر نہ پڑیں،جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعات کی تاریخی خوشی میں مسرت و شادمانی کا اظہار ہے اور یہ ایسا مبارک عمل ہے جس سے ابولہب جیسے کافر کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ اگرابولہب جیسے کافر کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی میں ہر پیر کو عذاب میں تخفیف نصیب ہوسکتی ہے۔ تو اُس مومن مسلمان کی سعادت کا کیا ٹھکانا ہوگا جس کی زندگی میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشیاں منانے میں بسر ہوتی ہو۔حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی اپنے یومِ ولادت کی تعظیم فرماتے اور اِس کائنات میں اپنے ظہور وجود پر سپاس گزار ہوتے ہوئے پیر کے دن روزہ رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے یوم ولادت کی تعظیم و تکریم فرماتے ہوئے تحدیثِ نعمت کا شکر بجا لانا حکم خداوندی تھا کیوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے وجودِ مسعود کے تصدق و توسل سے ہر وجود کو سعادت ملی ہے۔جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل مسلمانوں کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام جیسے اَہم فرائض کی رغبت دلاتا ہے اور قلب و نظر میں ذوق و شوق کی فضاء ہموار کرتا ہے، صلوۃ و سلام بذات خود شریعت میں بے پناہ نوازشات و برکات کا باعث ہے۔ اس لیے جمہور اُمت نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِنعقاد مستحسن سمجھا۔خیر البشر کی ذات اقدس اس کائنات کے لئے باعث رحمت تو ہے ہی لیکن انہیں ہر شعبے میں وہ معراج حاصل ہے، جس کی مثال ہی نہیں ملتی، عالم دین حضور پاک کی زندگی کا احاطہ کرنا تو انسان کے لئے شاید ممکن نہ ہو لیکن ہر شعبہ ہائے زندگی میں وہ عام انسان کے لئے بہترین عملی نمونہ نظر آئے۔آپﷺ نے علم و نور کی ایسی شمعیں روشن کیں جس نے عرب جیسے علم و تہذیب سے عاری معاشرے میں جہالت کے اندھیروں کو ختم کر کے اسے دنیا کا تہذیب یافتہ معاشرہ بنا دیا، آپﷺ نے اپنی تعلیمات میں امن،اخوت،بھائی چارہ،یکجہتی اور ایک دوسرے کو برداشت کا درس دیا۔جہاں ایک طرف اس ماہ ہم آپﷺ کی ولادت کا جشن مناتے ہیں وہیں ہم پر لازم ہے کہ ہم آپ
ﷺکی تعلیمات پر عمل کریں تبھی ہم آپﷺ سے محبت کا دعویٰ کرسکتے ہیں، آج کے اس پر فتن دور میں اگر ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل کو بھول کر ملت اسلامیہ کے عظیم مفاد میں اکھٹے ہوجائیں اور آپﷺ کی تعلیمات کو اپنے لیے مشعل راہ بنالیں تو گھر کی دہلیز سے ریاست اور عالم اسلام کی مضبوطی تک تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔
مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
؂شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
؂جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com