شہادت نواسہ رسول

شہادت نواسہ رسول
تحریر۔۔۔ ڈاکٹر عبدالمجید چوہدری
دنیا نے سینکڑوں دلدوزاور روح فر سا واقعا ت دیکھے ہو ں گے ۔رنج و غم کی داستا نیں سنی ہو ں گی ۔غمگسا روں کے حا لا ت اور ما تم کر نے والوں کے آ نسو ؤں کے در یا بہتے دیکھے ہو ں گے۔ لیکن تا ر یخ کے کسی دور میں دنیا کے کسی المنا ک حا دثہ پر نسل ا نسا نی نے اس قدر آنسو نہ بہا ئے ہو ں گے ۔جس قدر داستا ن کر بلا میں شہا دت حسین رضی اللہ عنہ پر ۔حضر اما م حسین رضی اللہ عنہ تین شعبا ن چا ر ھ مطا بق ۸جنو ر ی ۶۲۶ ء پیرکے دن پید ا ہو ئے ۔آپ کی والدہ جگر گو شہ رسو ل صلی ا للہ علیہ وسلم کی چہیتی بیٹی حضر ت فا طمہ رضی ا للہ عنھا تھیں ،آپ کے والد محتر م حضر ت علی مر تضے اور آپ سرورکونین فخردو عا لم حضر ت محمد صلی ا للہ علیہ و سلم کے لا ڈلے نو ا سے ۔حضو ر اکر م صلی ا للہ علیہ وسلم کے قلب مبا ر ک اما م حسین رضی ا للہ عنہ کی خصو صی محبت و دیعت کی گی تھی ۔ آپ صلی ا للہ علیہ وسلم حضر ت حسین رضی اللہ عنہ کی ا دنی سی تکلیف میں بے قرار ہو جا تے تھے ۔۶۱ھ میں بدقسمتی سے دنیا جبر و ظلم کے گٹھا ٹو پ اند ھیروں میں گھر گئی تھی ۔آزادی اورحر یت کی جگہ شخصیت پر ستی نے اور شوروی کی جگہ ڈکٹیٹر شپ نے لے لی تھی ۔جمہو ریت کا جنا زہ نکلنے لگا تھا ۔
وہ مسند خلا فت جس پر حضر ات صحا بہ کر ا م میں سے حضر ت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فا رو ق ، حضر ت عثما ن غنی،حضرت علی مر تضے رضی اللہ عنہ اور امیر معا ویہ جیسے خلفا ء متمکن تھیاس پر یزید جیسا ظالم و جا بر با د شا ہ بیٹھ گیا تھا ۔ اس نے اسلا م کے نو رانی چہر ے پر نفس پر ستی اور خو د غرضی کے جا لے تا ن دیے۔ یہ وہ حا لا ت تھے جن کو دیکھ کر حضر ت اما م حسین رضی اللہ عنہ بے چین ہو گئے ۔حمیتو غیرت نے گوارہ نہ کیا کہ ہما رے جیتے جی نا نا جا ن کا دین مٹ جا ئے ۔آپ کلمہ حق کا جھنڈا بلند کر نے ،انصا ف اور سچا ئی کا بو ل با لا کر نے ،جمہو ریت اور آ زادی رائے کا پر چم پھیلا نے کے لئے خا ند ا ن سمیت میدان میں کو د پڑ ے ، یزید اور اس کی حر کا ت کا پیر و چا ہتا تھا کہ اسلا م کا شو را ئی نظا م اما م حسین رضی اللہ عنہ کے نا م پر ا سلا م سے خا رج ہو جا ئے ، اس کے ا فسرا ن نے دولت و حکو مت کا لا لچ دیا جا ن و ما ل کا خو ف دلا یا ۔اگر آپ چا ہتے یزیدکی اطاعت کا ا علا ن کر کے تما م مصیبت سے نجا ت پا لیتے لیکن اما م حسین رضی ا للہ عنہ حق کی راہ سے نہ ہٹے اوراللہ کی مر ضی پر راضی بر ضا رہے اور اپنے مسلک پر چٹا نو ں کی طر ح قا ئم رہے ۔کیچھ اس طر ح ۔ تر ے ثبا ت نے دنیا پر کر دیا روشن۔ہواکی زدپہ بھیحق کا چر ا غ جلتا ہے ۔آپ نے جنگو جدال سے بچنے کی ہر چند کو شش فر ما ئی ، مگر یز ید ی فو ج نے یز ید کی بیعت کے سوا اور کو ئی شر ط منظو ر نہ کی ، اور ۱۰ محر م ۶۱ھ مطا بق ۱۰ ستمبر ۶۸۱ء کو با لآ خر حق و با طل کی وہ جنگ چھڑ گئی جس پر ا نسا نیت ر ہتی دنیا تک حسر ت و ا فسو س کے آ نسو بہا تی ر ہے گی ۔ادھر حضر ت اما م سید نا حسین ر ضی ا للہ عنہ کے بہتر چھو ٹے بڑ ے شید ا ئی جو تین دن سے بھو کے پیا سے تھے ، ادھر یز ید ی فو ج کی تعداد ہزارو ں پر مشتمل تھی۔ لیکن ہر ایک شید ا ئی اما م نے جر ا ت و ہمت کا مظا ہر ہ کیا اور جا ن عزیز حق کی حما یت میں قر با ن کر دی ۔اور رہتی دنیا تک وفا کی ایسی مثا ل قا ئم کر دی جس کی نظیر پیش کر نے سے دنیا قا صر ہے ۔شہا د ت حضر ت سیدنا اما م حسین رضی ا للہ عنہ تا ر یخ عا لم کا وہ درد نا ک وا قعہ ہے کہ جو ا یک ابد ی زند گی اور آنے والی نسلو ں کے لئے سبق آمو ز ہے ۔ ایسے نا زک وقت میں جب کہ آپ کے یا ر و مد گا ر خون میں لت پت تھے ، آپ صبر و تحمل کا پہا ڑ بن کر ا للہ کی جا نب متو جہ رہے ۔بے شک سید نا اما م حسین رضی ا للہ ونہ کے جسم کو تیر و ں نے چھلنی کر دیا ۔ تلو ار نے سر تن سے جد ا کر دیا ۔۔۔۔ لیکن آپ کا نا م آج بھی دلو ں کو گر ما نے اور تا ریک را ہو ں کو روشن کر نے کے لئے ایک مثا ل ہے ۔سید نا اما م حسین رضی ا للہ عنہ نے حق کے لئے ، راستی کے لئے ، شر یعت کی حفا ظت کے لئے انسا نیت کا بھر م رکھنے اور اس کا سر اونچا کر نے کے لئے اصو ل اور آزادی کے لئے ملک اور قوم کی تر قی کے لئے، ہر چیز اللہ کی راہ میں قر با ن کر دی اور سر تھا تو اس کو بھی حق کے لئے کٹا دیا ۔ہر گز کسی روح کے لئے جا ئز نہیں کہ وہ محبت حسین کا دعو یدار ہو اور ان کے ا عما ل سیر ت حسینی کے مطا بق نہ ہو ں ۔
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com