نماز کا مقصد اور فوائد 

نماز کا مقصد اور فوائد 
ترتیب: عبدالعزیز 
(پانچوی و آخری قسط) 
’’قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے آدمیوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔ پہلے وہ شخص لایا جائے گا جو لڑکر شہید ہوا تھا۔ خدا اس کو اپنی نعمتیں جتلائے گا اور جب وہ ان کا اقرار کرلے گا تو پھر خدا پوچھے گا کہ تونے میرے لئے کیا کیا؟ وہ کہے گا میں نے تیرے لئے جنگ کی، یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔ اس پر خدا فرمائے گا ، تو نے جھوٹ بولا، تو تو اس لئے لڑا تھا کہ لوگ کہیں کہ فلاں شخص بڑا جری اور بہادر ہے، سو تیرا مقصد پورا ہوگیا۔ پھر خدا اس کیلئے عذاب کا حکم دے گا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا‘‘ الخ (الحدیث) ۔
دین اسلام میں تمام قسم کی نیکیوں کیلئے اخلاص کی اہمیت واضح ہوجانے کے بعد اب دیکھئے کہ نماز کس طرح نمازی میں اخلاص کی صفت پیدا کرتی ہے۔ 
بادشاہی و فرماں روائی کا اقرار: نماز کے شروع میں سُبْحَانَکَ اَللّٰہُمَّ کی دعا میں لاَ اِلٰہَ غَیْرُکَ کہہ کراور التحیات میں لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کی شہادت دے کر اس بات کا اقرار کیا جاتا ہے کہ کائنات میں بادشاہی اور فرماں روائی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ 
ربوبیت کا اقرار: سورۂ فاتحہ میں رَبُّ الْعَالَمِیْن کہہ کر اس حقیقت کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ سب کا خالق، مالک اور رازق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ 
جزا اور سزا پر ایمان: سورۂ فاتحہ میں مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کہہ کر یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ قیامت کے دن کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اسی کی عدالت میں جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے۔ 
عہدِ وفاداری: سورۂ فاتحہ میں اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہہ کر اس بات کا عہد کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے گی اور نہ ہی کسی کو اپنا مددگار جانا جائے گا۔ 
قبولیت کی دعا: سورۂ فاتحہ میں اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ رکوع کے بعد سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ ، اور نماز کے خاتمہ پر دوسری دعائیں اور درخواستیں پیش کرنے میں یہ بات مضمر ہے کہ دعائیں اور درخواستیں اللہ تعالیٰ ہی کے حضور میں پیش کرنی چاہئیں۔ وہی ان کو سنتا اور قبول کرتا ہے۔ 
عبادت خالصۃً لِلّٰہ: التحیات کے شروع میں اس بات کا اقرار کیا جاتا ہے کہ تمام قسم کی زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کیلئے ہیں۔ 
دیگر صفات: ان اقراروں اور عہدوں کے علاوہ نماز میں مندرجہ ذیل حقیقتوں کا اعتراف بھی کیا جاتا ہے: 
* اللہ تعالیٰ کی ذات تمام عیبوں اور خامیوں سے پاک ہے، (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی) ۔ 
* اللہ تعالیٰ کی ذات تمام خوبیوں کی مالک ہے، (اَلْحَمْدُلِلّٰہِ)۔ 
* اللہ تعالیٰ کی شان سب سے بڑی ہے، (اَلْعَظِیْمُ) ۔
* اللہ تعالیٰ کا مرتبہ سب سے بلند ہے، (اَلْاَعْلٰی) ۔ 
* بزرگی میں اللہ تعالیٰ کا کوئی ثانی نہیں، (اَللّٰہُ اَکْبَرُ)۔
* اللہ تعالیٰ کی ذات ہی بھروسہ کے لائق ہے، (نَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ)۔ 
* اللہ تعالیٰ کی ذات سے رحمت کی امید ہے، (نَرْجُوْا رَحْمَتَکَ)۔ 
سورہ فاتحہ کے بعد قرآن مجید سے جو سورتیں پڑھی جاتی ہیں، ان میں بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر اور اس قسم کے عہد و پیمان کا اعادہ کیا جاتا ہے۔ سورۂ اخلاص میں خالص توحید کا بیان ہے۔ اگر نمازی نماز کی دعاؤں کا مطلب جانتا اور سمجھتا ہے تو صحیح طور پر نماز ادا کرنے کا تقاضا یہی ہے کہ نماز میں جو کچھ پڑھا جائے اسے جانا بھی جائے، اس صورت میں نمازی اللہ کے حضور میں پاک اور صاف ہوکر بڑے ادب سے کھڑا ہوکر اور بیٹھ کر، رکوع میں اور سجدہ میں ان حقیقتوں کا اعتراف کرتا ہے کہ دنیا اور آخرت میں حاکمیت، فرمان روائی اور حکمرانی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، صرف وہی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے۔ اس کے سوا کوئی اسے نقصان یا فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور وہ خود خدائے واحد کا بندہ ہے اور بندہ ہونے کی حیثیت سے وہ اپنے اختیارات اور اپنی قوتوں کو اسی کے قانون و ضابطہ اور اسی کی رضا و خوشنودی کے مطابق استعمال کرتا ہے، تاکہ جب وہ قیامت کے روز اپنے مالک حقیقی کے سامنے حساب کیلئے پیش ہو تو اس کے زمانۂ زندگی سے یہ ثابت ہوکہ دنیا میں وہ اس کا سچا فرماں بردار بندہ تھا۔ 
لیکن اگر کوئی نمازی نماز کی دعاؤں کا مطلب نہیں جانتا (اس وقت اکثریت ایسے ہی نمازیوں کی ہے) تو اس صورت میں بھی نماز کی پابندی کیلئے جو چیز مجبور کرتی ہے وہ بھی محض اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے حصول کا جذبہ ہی ہے؛ ورنہ کام چھوڑ کر نماز کی ادائیگی میں جو وقت صرف ہوتا ہے اور ہر حال میں اس فرض کو بجالانے کیلئے جو اہتمام کرنا پڑتا ہے وہ کسی دنیوی لالچ یا بیرونی دباؤ کے تحت نہیں ہے اور بالخصوص موجودہ دور میں جبکہ نماز چھوڑ دینے پرنہ برادری کی طرف سے کوئی ملامت ہے اور نہ حکومت کی طرف سے کوئی باز پرس، بلکہ اس کے برعکس نمازیوں کونکو بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور انھیں ’’مُلّا‘‘ کا خطاب دیکر ایک قسم کی گالی سے نوازا جاتا ہے، ان حالات کے تحت خدا کی رضا کے حصول کی خواہش کے سوا اور کوئی چیز نماز کی پابندی کی محرک نہیں رہ جاتی۔ 
اس طرح جب دن رات میں پانچ وقت نماز خالصتاً توجہ اللہ ادا کی جاتی ہے تو پھر نمازی میں اس تربیت سے دوسرے فرائض کے ادا کرنے کیلئے بھی اخلاص کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر تجزیہ کیا جائے تو دوسرے ارکانِ اسلام یعنی زکوٰۃ، روزہ، حج اور دیگر فرائض وہی مسلمان خالصتاً للہ ادا کرسکتے ہیں جو خالص اور مخلص نمازی ہوں، بے نمازیوں کو بالعموم یہ توفیق حاصل نہیں ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کیلئے کوئی نیک عمل کریں۔ 
تعمیرِ سیرت: انسان اپنی بعض فطری کمزوریوں کی وجہ سے اجتماعی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے، لیکن سب انسان چونکہ ایک ہی طرح کی مخلوق ہیں اور ان سب کی حاجتیں اور ضرورتیں بھی قریب قریب ایک ہی نوعیت کی ہیں۔ اس لئے بتقاضائے بشریت اکثر ضرورتوں اور حاجتوں کی کشمکش میں باہمی تنازعات کا سرزد ہوجانا لازمی ہے۔ خلق آدم کے وقت فرشتوں نے بھی یہی چیز خدا کے سامنے پیش کی تھی۔ 
’’انھوں (فرشتوں) نے عرض کیا، کیا آپ اس (زمین) میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خوں ریزیاں کرے گا‘‘ (پ1، ع 3)۔
انسان کے باہمی تنازعات کے انسداد کیلئے ضروری ہے کہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو کہ اجتماعی زندگی میں افراد کے باہم دیگر حقوق و فرائض کیا ہیں۔ وہ دوسروں کے حقوق اور اپنے فرائض ادا کرے۔ اس طرز کی تربیت ہی خدا کی زمین سے فساد اور ظلم و جور کو دور کرسکتی ہے۔ 
اب رہا یہ سوال کہ انسان کے حقوق و فرائض کیا ہیں، ان کا تعین کرنا کسی فرد، گروہ یا طبقہ کا کام نہیں؛ بلکہ یہ حق صرف اسی ذات کو حاصل ہے جس نے انسان کو پیدا کرکے اسے دنیا میں خلافت کا منصب عطا فرمایا ہے؛ چنانچہ اس ذات نے ہماری رہنمائی کی ہے۔ حقوق و فرائض کو شریعت اسلامی نے واضح فرما دیا ہے۔ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے عدل و انصاف کے ساتھ بلکہ احسان کی حد تک اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے کا عملی نمونہ پیش کر کے ملک عرب کی جاہل اور اُجڈ قوم کی تربیت اس طرح فرمائی کہ انسان کی اجتماعی زندگی میں خیر و برکت کی بہار آگئی۔ 
قرآن مجید و احادیث کی تعلیمات اور تاریخ اسلامی کے اوراق شاہد ہیں کہ اس جاہل اور اُجڈ قوم کی سیرتوں کی مندرجہ ذیل ایمانیات و عقائد کی بنیادوں پر کی گئی تھی: 
* انسان کا خالق، مالک، حاکم، پرورش کرنے والا، رزق دینے والا، دعاؤں کے سننے اور قبول کرنے والا، ظاہر و باطن کا علم رکھنے والا اور نفع و نقصان دینے والا صرف اللہ ہی ہے۔ 
* حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ ان کی اطاعت اور ان سے وفاداری در اصل اللہ کی اطاعت اور اللہ سے وفاداری ہے۔ 
* انسان خدا کا بندہ اور اسے دنیا میں سب کچھ بندہ ہونے کی حیثیت ہی سے کرنا ہے اور محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کرنا ہے۔ 
* قیامت کے دن ہر بندے کو اپنے اعمال کا حساب دینے کیلئے خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور اعمال کے مطابق جزا یا سزا مل کر رہے گی۔ 
ان ایمانیات و عقائد کی بنیادوں پر جن افراد کی سیرتیں پختہ ہوگئیں ان کو ایک نظم میں منسلک کرکے ایک ریاست قائم کی گئی اور معاشرہ میں سے جن لوگوں نے اتمام حجت کے بعد اپنے حقوق کی حفاظت اور فرائض کی بجا آوری میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کی، انھیں شریعت اسلام کے قوانین کے مطابق سزا دی گئی، تاکہ آئندہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے باز رہیں اور دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں۔ 
مسلم معاشرہ کی اصلاح کیلئے اس سے جو رہنمائی ملتی ہے اس کا طریق کار وہی ہے کہ پہلے افراد کی سیرتوں کو اس خاص ڈھنگ پر تیار کیا جائے جو انسانی زندگی بسر کرنے کیلئے بہترین ہے اور پھر تربیت یافتہ افراد کو ایک نظم میں منسلک کرکے زمین پر خدا کے تعلیم کردہ نظام زندگی کو قائم اور نافذ کیا جائے اور قرآن مجید کی تعلیمات کے مطابق اس کی ابتدا اسلامی اعمال میں سے قیام صلوٰۃ اور ایتاء زکوٰۃ سے ہوگی؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 
’’یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں، معروف کا حکم کریں اور منکر سے روکیں‘‘ (الحج، ع 6)۔
قرآن مجید کی اس آیت سے صاف پایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے جماعتی اقتدار کی اصل علامت یہی دو عمل ، قیام صلوٰۃ اور ایتاء زکوٰۃ ہیں۔ اور جس گروہ کا اقتدار ان دو عملوں کے قیام سے خالی ہو، اس کا اقتدار اسلامی اقتدار نہ سمجھا جائے گا اور ان دو عملوں میں بھی نماز کو اولیت حاصل ہے۔ اس وجہ سے بھی کہ توحید و رسالت پر ایمان لانے کے بعد نماز اللہ تعالیٰ کی عملی اطاعت کی اوّلین اور دائمی علامت ہے اور اس وجہ سے بھی کہ اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کے بعد ہی دوسرے ارکانِ اسلام کی تعمیل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جو مسلمان نماز کو ضائع کرتا ہے وہ دوسرے فرائض اسلام کا سب سے زیادہ ضائع کرنے والا ہوتا ہے۔ 
فریضۂ نماز در اصل جوہرِ ایمان ہے۔ اس کی حقیقت رخصت ہوگئی تو خواہش پرستی کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ 
’’پھر ان کے بعد ایسے ان کے ناخلف جانشین ہوئے جنھوں نے نماز ضائع کردی اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑگئے۔ سو قریب ہے کہ ان کی سرکشی (کے نتائج) ان کے آگے آئیں‘‘(مریم، ع4)۔
جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ مسلمان معاشرہ کی اصلاح قیامِ نماز و ایتاء زکوٰۃ کے بجائے محض حکومت کے ڈنڈے، قوانین کی طاقت اور تعزیرات کی بھرمار سے کرسکتے ہیں وہ سراسر غلط فہمی میں ہیں۔ تعزیرات تو ذہنی تربیت سے افراد کی اصلاح کرنے اور ماحول کو سازگار بنانے کے بعد ہی مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ 
اب دیکھئے کہ مسلمان معاشرہ میں افراد کی سیرتوں کی تعمیر کرنے میں نماز کیا پارٹ ادا کرتی ہے۔ 
نماز کے بنیادی مقصد میں یہ چیز پوری طرح واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ دن رات میں پانچ وقت نماز کی دعائیں کس طرح نمازیوں میں بنیادی عقائد کو پختہ کرتی ہیں اور پھر کس طرح ان عقائد کی پختگی سے وہ فحشاء اور منکر سے بچ جاتے ہیں۔ 
فریضۂ نماز کے بنیادی مقصد اور اس کے ذیلی مقاصد پر ایک نظر ڈالنے سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ فریضۂ نماز کے قیام سے مسلم قوم کے افراد میں فرداً فرداً اور قوم میں بحیثیت مجموعی وہ اوصاف پیدا ہوتے ہیں جو خدا کی بندگی کا حق ادا کرنے اور دنیا میں خلافت الٰہی کا بار سنبھالنے کیلئے ضروری ہیں۔ اسی بنا پر فریضۂ نماز کو دین اسلام کا ایک اہم ترین ستون قرار دیا گیا ہے۔ یہ ستون اگر منہدم ہوجائے تو مسلمان قوم کی انفرادی سیرت اور اجتماعی ہیئت دونوں مسخ ہوکر رہ جاتی ہیں اور پھر یہ قوم اس مقصد عظیم کیلئے کام کرنے کی اہل نہیں رہتی ہے، جس کی خاطر وہ وجود میں لائی گئی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں کی حکومتوں کو زوال اس وقت آیا جب انھوں نے نمازوں کو ضائع کرنا شروع کردیا۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com