حضرت ابراہیم علیہ السلام اورملت ابراہیمی 

حضرت ابراہیم علیہ السلام اورملت ابراہیمی 
امیر محمداکرم اعوان
حضرت ابراہیم علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ کریم کے اوالعزم رسول تھے ۔آپ دین حنیف پر قائم تھے۔ ان کے طریقے سے وہی منہ پھیرے گاجو اپنے آپ سے دھوکا کر رہا ہو ‘جو احمق ہو ‘بے وقوف ہوایساشخص جو اپنے آپ کو دھوکے میں رکھنا چاہتا ہو‘ وہ ملت ابراہیمی سے رو گردانی کرے گا۔اپنے آپ کے ساتھ دھوکے سے کیا مراد ہے؟ جو آدمی اتباعِ شریعت نہیں کرتا اور خود کو بہت بڑا حق پرست سمجھتاہے یا وہ لوگ جو دین سے محروم ہیں اورکفر پر ڈٹے ہوئے ہیں اورخود کو حق پر سمجھے ہوئے ہیں‘ یہ لوگ اپنے آپ کے ساتھ دھوکاکررہے ہیں۔یہ منوانا چاہتے ہیں کہ ہم نیک ہیں حالانکہ حق یہ ہے کہ اﷲکی بارگاہ میں جو بات قبول ہو وہی درست ہے ۔کافر نے تو خیراپنے آپ کو بہت بڑے دھوکے میں رکھا ہو اہے لیکن جو مسلمان ہونے کا مدعی ہے اور جسے اﷲ نے دین نصیب کیاہے‘ اس کے لئے بھی شرط یہ ہے کہ عقائد سے لے کر اعمال تک اﷲ کے احکام کی پیروی کرے‘ اپنی طرف سے باتیں جوڑ کر عقیدے نہ گھڑتا رہے۔ اگرایسا کرے گا توجسے وہ نیکی سمجھے گا‘ وہ جرم ہوگا لیکن وہ خود کو بڑا پارسا سمجھ رہا ہوگا۔ نیکی کی کسوٹی بیان کرتے ہوئے فرمایا۔حضرت ابرہیم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا جو طریقہ کار رہاہے‘ اگر اس سے کو ئی ہٹتاہے تو وہ اپنے آپ کے ساتھ دھوکا کررہاہے اس لئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اﷲ کے وہ مقبول بندے ہیں کہ ہم نے انہیں دنیا میں بھی اپنی رحمت‘ احسانات‘ کرم کے لئے منتخب کرلیاتھا۔ وہ خلیل اﷲ تھے اور آخرت میں بھی ان کا شمار اﷲکے مقرب بندوں میں ہے ۔دنیاوآخرت میں وہ سربلندہیں تو جو ان کے طریقے کار کو چھوڑے گا‘ ان کی ملت کو چھوڑ ے گا‘حماقت اور خود فریبی میں مبتلا ہوگا۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتاہے‘ بہت دفعہ لوگوں نے پوچھا بھی ہے کہ ہم اتباع کرتے ہیں آقائے نامدار حضرت محمدرسول اﷲﷺ کا اور کہا جاتاہے ملتِ ابراہیمی! اﷲکریم نے اس کی وضاحت فرما دی ہے کہ ملتِ ابراہیمی ہے کیا، ملتِ ابراہیم علیہ السلام سے کون منہ پھیرے گا ‘سوائے اُس بدنصیب کے جو اپنے آپ کے ساتھ دھوکا کررہا ہو۔ 3333جب اﷲ نے انہیں حکم دیا کہ آپ علیہ السلام میری فرماں برداری اختیار کریں تو انہوں نے فرمایا ‘سرتسلیم خم ہے اور جو اﷲ کا حکم ہے میں اس کا اطاعت گزار ہوں۔ ابراہیم علیٰ نبیناء وعلیہ الصلوٰۃوالسلام کا طریق کیا ہے کہ ہر کام میں اﷲکی اوراﷲکے حبیبﷺ کی غیر مشروط اطاعت کی جائے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہمارے سلسلے کونقشبندیہ اویسیہ کہا جاتاہے حالانکہ حضرت اویس قرنی رحمۃ اﷲتعالےٰ علیہ زندگی بھر بارگاہِ نبویﷺ میں حاضر نہیں ہو سکے۔ان کاشمار تابعین میں ہوتاہے، اپنی مجبوریوں کی وجہ سے حاضر نہیں ہوسکے لیکن عشقِ رسولﷺ کا یہ عالم تھا کہ سینکڑوں میل دور رہ کر بھی انہوں نے وہ توجہ حاصل کی جس نے انہیں بہت اعلیٰ مقام پہ پہنچا دیا۔ فاصلوں کے باوجود انہوں نے برکاتِ نبویﷺ اس قدر سمیٹیں کہ نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عہنم سے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد تم میں سے کسی کو اس طرف جانا نصیب ہوتو اویس سے ملنا‘ اسے میرا سلام کہنا اور اسے کہنا میری اُمت کے لئے دعا کرے۔ سیدنافاروق اعظم رضی اﷲتعالےٗ عنہٗ اپنے عہد خلافت میں انہیں تلاش کرکے وہاں پہنچے اور نبی کریمﷺ کاسلام پہنچایا اور دعاکے لئے آپﷺ کا حکم ان تک پہنچایا۔ہمارے سلسلے میں بھی سالک المجذولی سے آگے سالک کا جسمانی طور پرموجود ہونا شرط نہیں بلکہ دنیا کے کسی گوشے میں بھی ہو ‘اسے برکات اورانوارات وہاں پہنچتے رہتے ہیں یعنی طریقہ کار وہ ہے جو اویس قرنی رحمۃ اﷲعلیہ کا نبی کریمﷺ کے ساتھ تھا۔ہمارے سلسلے کے لوگوں کا اپنے شیخ کے ساتھ اسی طرح کا تعلق ہوتا ہے‘ اس لئے اسے نسبت اویسیہ کہتے ہیں۔
ابراہیم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملت یہ ہے کہ اﷲ اور اﷲ کے رسولﷺ کی غیر مشروط اطاعت کی جائے ۔
سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے
اسے کہتے ہیں ملت ابراہیمی ۔ جب اﷲ نے انہیں حکم دیا کہ سرتسلیم خم کر دیجئے توانہوں نے عرض کیا کہ میں کائنات کے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہوں ۔ نہ صرف یہ بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ‘حضرت اسحق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو بھی یہی وصیت کی: اے میرے جگر گوشو!اﷲ نے تمہارے لئے دین حق پسند فرمالیاہے تمہیں موت اسلام پر اور تسلیم ورضا پر آئے۔ تسلیم اوراسلام کا مصدر ایک ہی ہے اوراس سے مراد اطاعت گزاری ہے۔لہٰذا آدم علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃوالسلام سے لے کر آقائے نامدارﷺ تک ہر نبی نے جو بات بتائی وہ حق تھی اور اس کی اطاعت اسلام تھا‘ جس نے بھی تسلیم کیا وہ مسلمان ہی تھا۔ لوگو‘ کیا تمہیں پتہ ہے! جب حضرت یعقوب علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی موت کا وقت آیا‘ تم موجود نہیں تھے لیکن اﷲکریم فرماتاہے کہ میں تمہیں بتاتا ہوں: دنیا سے رخصت ہوتے وقت انہوں نے بیٹوں کو اکٹھا کیا اور فرمایا:میں تو دنیا سے جا رہاہوں میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے میرے ساتھ تو تم اﷲوحدہٗ لاشریک کی عبادت کرتے ہو‘ میرے بعد تمہارا طریقہ کار کیا ہوگا: انہوں نے عرض کی اباجان‘ ہم اسی رب کی ‘اسی پروردگار کی ‘اسی مالک کی عبادت کریں گے جو آپ علیہ السلام کامعبود ہے۔ یہ بڑی غور طلب بات ہے کہ اﷲ کو اس طرح ماننا شرط ہے جس طرح اﷲ کا نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام منواتاہے۔کوئی اپنی طرف سے بات گھڑ لے جو نبی کریمﷺ نے نہ بتائی ہواور وہ اﷲ کی طرف نسبت کرکے مانے تو یہ غلط ہوگا۔ اﷲکریم کی ذات اور صفات کاماننا شرط ہے جو نبی کریم ﷺ یا اﷲ کا نبی یااﷲ کارسول منواتاہے اس لئے انہوں نے کہا‘ ہم اسی کی عبادت کریں گے جو آپ علیہ السلام کامعبود ہے۔ اس کی ذات اور اس کی صفات کے بارے جو عقیدہ آپ علیہ السلام کا ہے‘ وہی ہمارا ہے اورہم اسی پر زندہ رہیں گے اور ان شاء اﷲ اسی پر ہماری موت ہوگی۔ آپ علیہ السلام کے آباؤ اجداد ابراہیم علیہ السلام‘اسمٰعیل علیہ السلام‘ اسحق علیہ السلام ‘یہ سارے اﷲ کے نبی تھے اورانہوں نے اﷲتعالیٰ کی جن صفات سے آگاہ فرمایا‘ان صفات کے ساتھ اس کو مان کر ہم اس کی عبادت کریں گے اور ہمارا سرتسلیم خم ہوگا اس کے ہر حکم کے ساتھ‘ یہی اسلام ہے۔ ہمیں ایک غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ ہم کچھ رسومات گھڑ لیتے ہیں اورانہیں دین سمجھ لیتے ہیں۔ بعض رسمیں ایسی ہوتی ہیں جو شرعاً منع نہیں ہیں لیکن اگر اس رسم کو رسم سمجھا جائے‘ پھر تو منع نہیں ہے۔ اگراس رسم کو عبادت سمجھا جائے تو پھر ضروری ہے کہ وہ رسول اﷲﷺ سے ثابت ہو‘ اﷲ کی کتاب سے ثابت ہو ‘اﷲ کے حبیبﷺ سے ثابت ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھروہ بے دینی بن جاتی ہے ۔
یہ ایک مقدس جماعت تھی جو دنیا سے گزر گئی ۔اب تم اسی بات کو پکڑ کر بیٹھ رہے ہو کہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی‘ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی ‘حضرت یعقوب علیہ السلام کی یا حضرت اسحق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں ۔اولاد میں ہونے سے تب فرق پڑے گا جب ان کا اتباع بھی کرو۔پھر تو سونے پہ سہاگہ ہوگیالیکن اگر اتباع چھوڑ دو گے تو پھر اولاد ہونے کا تم پر مزید جرم عائد ہوگا کہ اولاد ہوکر بھی تم نے اتباع چھوڑ دیا۔ یہ نیک لوگ تھے‘ اﷲکے برگزیدہ بندے تھے جو دنیا سے گزر چکے۔انہوں نے جو کیا‘ جو کمایا وہ ان کا حصہ ہیتمہارے لئے وہ ہے جو تم خود کروگے‘ تمہاراپنا عقیدہ‘ اپنے اعمال پیش آئیں گے۔ تم سے کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ انہوں نے کیا عمل کیے ۔اسی طرح کوئی کسی کے اعمال کاجواب دہ نہیں ہے بلکہ ہر کوئی جو وہ خود کرے گا اس کا اجر پائے گا۔ اگر تم ان کی اولاد ہونے کے دعوے دار ہو تو ان کا اتباع بھی کرو۔
یہود ونصاریٰ کہتے ہیں‘ یہودی یا نصرانی ہو جاؤ تو ہدایت ملے گی جب کہ ان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ہمارے پاس دین ابراہیمی ہے۔ سچا راستہ ملت ابراہیمی ہے جو اﷲ وحدہٗ لاشریک کی غیر مشروط اطاعت ہے۔ابراہیم علیہ السلام شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے یہود و نصاریٰ تو مشرک ہیں۔ جو نصرانی کہلاتے ہیں‘ انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو اﷲکابیٹا مان لیا ‘یہودیوں نے عزیرعلیہ السلام کو اﷲکا بیٹامان لیا‘ یہ شرک میں مبتلا ہیں اور ابراہیم علیہ السلام تواﷲکے کھرے بندے تھے۔وہ مشرکوں میں سے تو نہیں تھے اور یہ دعویٰ کرتے ہیں ان کی ملت ہونے کا!
ہم اﷲپر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ محمدرسول اﷲﷺ پر بذریعہ وحی نازل ہوا اس پر ایمان رکھتے ہیں‘ جو ابراہیم علیہ السلام پر نازل ہوا اس کو حق مانتے ہیں‘جو اسمعٰیل علیہ السلام پر نازل ہو ا اس کو حق مانتے ہیں‘ حضرت اسحق علیہ السلام ‘ حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد میں سے جتنے نبی ہوئے‘ جو کچھ ان پر نازل ہو ا ‘اس کو حق مانتے ہیں اور جو موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو عطا ہوا حتیٰ کہ اﷲ کے تمام نبیوں پر جو احکام باری نازل ہو ئے‘ ان سب کو ہم حق سمجھتے ہیں۔ ہم کسی نبی میں تفریق نہیں کرتے کہ کسی نبی کی نبوت کا انکار کر دیں۔
اس لئے کہ ہم اﷲ کے اطاعت گزار ہیں۔ جنہیں اس نے نبوت دی‘ وہ نبوت برحق ہے۔ ان پر جو کتاب ناز ل ہوئی وہ کتاب برحق ہے۔ اس پر ہمارا ایمان ہے‘ ایسا ہی ایمان اس پر بھی ہے جو محمدر سول اﷲﷺپر نازل ہو ا ہے۔ ہاں‘ اطاعت واتباع اس کی ہو گی جو محمدرسول اﷲﷺ پر نازل ہوا ۔جو پہلے نبیوں پر نازل ہوا ‘ وہ بھی حق ہے لیکن وہ اپنے وقت کے لئے تھا اوروہ وقت گزر گیا۔ وہ اﷲکا فرمان تھا اوراﷲ کا فرمان ہمیشہ حق ہوتاہے۔
اب اگر کفار ‘یہود ونصاریٰ اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم لائے ہو توہدایت یافتہ ہوں گے۔اس کے مخاطب اوّل صحابہ کرام رضوان اﷲعلیہم اجمعین ہیں اور پھر اس کے مخاطب قیامت تک کے وہ مسلمان ہیں جو راہ حق پر ہیں‘ جن کا عقیدہ اور کردار درست ہے اور یہی بعد میں آنے والوں کے لئے باعثِ عظمت ہے لیکن نزول قرآن کے وقت اس کے مخاطب صحابہ کرام رضوان اﷲعلیہم اجمعین تھے جنہیں اس آیت میں مثالی مسلمان قرار دیا۔ فرمایا‘ یہود و نصاریٰ یا دوسرے جو دین کے دعوے دار ہیں اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم لائے توپھر انہوں نے بھی ہدایت پالی۔اگر وہ عقیدہ اختیار نہیں کرتے تو پھر وہ بدبخت محض تمہاری دشمنی کی وجہ سے الگ ہو رہے ہیں‘ اپنا ایمان ضائع کر رہے ہیں اے مومنین! اگر کفار برگشتہ بھی ہو جائیں تو گھبرانے کی کو ئی بات نہیں‘ اس لئے کہ تمہیں ا ﷲ ہی کافی ہے۔شرط یہ ہے کہ تمہارا عقیدہ اور کردار درست ہوں اور وہ سننے والا ہے‘ علم والاہے‘ ہر بات جانتاہے‘ ہر بات سن رہاہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ روئے زمین پر صرف مسلمان خوار ہو رہے ہیں اور کفار ان پر غالب آرہے ہیں لیکن ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ قرآن کریم نے ہمیں جو حکم دیا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان ہم تب ہیں جب ہمارا عقیدہ اور عمل رسول اﷲﷺ اور صحابہ کے عقیدے اور عمل کے مطابق ہوں۔
ہمیں اﷲ کافی ہے وہ سنتا بھی ہے‘وہ علم بھی رکھتاہے اور یادرکھو‘ مسلمان کیا ہے!مسلمان اﷲ کا رنگ ہے یعنی ایک بندے کو کوئی دیکھے تو کہے‘ مسلمان ہے۔ اس سے بات کرے تو سمجھ آئے کہ مسلمان ہے۔ لین دین کرے تو پتہ چلے یہ مسلمان ہے۔ اس پر ایک رنگ چڑھ جاتاہے‘ اﷲ کا رنگ کہ ہر بات میں وہ اﷲ کی بات کرتاہے ‘ملتاہے تواﷲ کی رحمت پیش کرتاہے‘ بچھڑتاہے تو اﷲکی رحمت پیش کرتاہے‘ بات کرتا ہے تو بسم اﷲسے کرتاہے‘ الحمدﷲ کہتاہے‘ اٹھتا بیٹھتاہے تو اﷲاکبر کہہ کر‘ کھاتا پیتا ہے تو اﷲ کا نام لے کر‘ ایک رنگ ہے اﷲ کا جس میں وہ رنگا ہواہے اور اﷲ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہو سکتا ہے! عیسائیوں میں بچہ پیدا ہو تو اسے رنگدار پانی میں ڈبو کر کہتے ہیں‘ اب یہ رنگا گیا‘ عیسائی ہو گیا۔ فرمایا‘رنگ یہ نہیں ہے‘ رنگ وہ ہے جو بندے کوایمان‘ عقیدے ‘نظریے سے لے کر کردار تک رنگ دے۔یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام‘ حضرت اسمعٰیل علیہ السلام‘ حضرت اسحق علیہ السلام‘حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد یہودی یانصرانی تھے! فرمایا :کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اﷲ وحدہٗ لاشریک جانتاہے! جب اﷲ بتا رہاہے کہ ان کی ملت کیا تھی‘ ان کا دین کیا تھا‘ تم کون ہوتے ہو بات گھڑنے و الے! تمہاری حقیقی اور اصل کتابیں تمہارے پاس ہیں‘ ان میں یہ بات موجود ہے کہ وہ اﷲ کو وحدہٗ لاشریک سمجھتے تھے لیکن تم اس بات کو چھپاتے ہو تواس سے بڑا ظالم کون ہوگا!
اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جس کے پاس اﷲ کی طرف سے شہادت موجود ہو لیکن وہ لوگوں سے اسے چھپا لے۔ان کی کتابوں میں حق موجود ہے کہ اﷲ واحد ہے‘ لاشریک ہے لیکن تم لوگوں سے چھپا لیتے ہو!اﷲکسی کے کردار سے غافل نہیں ہے‘ کوئی بھی اﷲ سے کچھ نہیں چھپا سکتا۔ وہ دیکھ رہاہے‘ وہ سن رہاہے‘ حساب کا‘ محاسبے کاوقت آرہاہے‘ ہم سب کوجواب دینا ہوگا اور وہ لوگ! وہ ایک جماعت تھی‘ اﷲ کی برگزیدہ جماعت‘ اﷲ کے نبی‘ اﷲ کے رسول‘ اﷲکے پیارے بندے ‘ وہ دنیا سے تشریف لے جا چکے۔ اپنے حصے کا کام کر کے‘ اپنے وقت میں اﷲ کی اطاعت کرکے‘ اس کے دین کی خدمت کر کے ‘اﷲ کے بندوں پراحسان کرکے ‘کرم فرماتے ہوئے وہ دنیا سے تشریف لے جا چکے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com