’’عیدالضحیٰ ‘‘احکامات وہدایات 

’’عیدالضحیٰ ‘‘احکامات وہدایات 
تحریر عقیل خان
حضرت اسمعیل ؑ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے تھے۔ حضرت ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ بچے ہی تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کو ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کو بنجر اور ویران علاقے میں چھوڑ آئے جو اب مکہ معظمہ کے نام سے مشہور ہے۔ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کررہا ہوں۔ اب تم بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت اسماعیل ؑ نے فرمایا کہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے۔ جب حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل ؑ کو منہ کے بل ذبح کرنے لیے لٹایا تو خدا کی طرف سے آواز آئی۔ اے ابراہیم ! تو نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا۔ ہم احساس کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں اور ہم نے اس کے لیے ذبح عظیم کا فدیہ دیا۔ مفسرین کاکہناہے کہ خدا کی طرف سے ایک مینڈھا آگیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اسی قربانی کی یاد میں ہر سال مسلمان عید الاضحیٰ مناتے ہیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کی مدد سے مکے میں خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی اور اس طرح دنیا میں اللہ کا پہلا گھر تیار ہوا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’عید الاضحٰی کے دن فرزند آدم کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں ،بالوں اور کھروں کے ساتھ (زندہ ہوکر) آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا کے مقام پر پہنچ جاتا ہے پس اے خدا کے بندوں ! دل کی پوری خوشی کے ساتھ قربانی کرو (ابن ماجہ ۲۳۲)
اس لیے ہمیں چاہیے کہ قربانی کرتے ہوئے ہمیں وہ عمل کریں جو اسلام کے مطابق ہوں ۔ناکہ دنیا دکھاوے کے لیے اپنے سارے نیک اعمال ضائع کر بیٹھیں۔ پیسہ بھی خرچ کریں اور اس کا ثواب بھی حاصل نہ کرسکیں۔ دنیا تو آپ کے قصیدے پڑھ دے گی مگر اللہ تعالیٰ وہ ثواب نہیں دیں گے جو ہمیں چاہیے۔ اس لیے قربانی کرنے سے پہلے درج ذیل باتوں پر نظر ضرور ڈال لیں۔
* جانور خریدنے سے پہلے حلال رقم کا بندوبست کریں۔ رب العزت کی رضا کا حصول اور فرض کی تکمیل کا جذبہ دل میں پیدا کریں۔ نمودو نمائش کے جذبات دل سے دفع کریں۔ حصہ داری کرنے کا ارادہ ہو تو ابھی سے حصہ دار چن لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔ جس شخص کے بارے میں تحقیق ہو کہ اس کی آمدنی حرام ہے اس کو حصہ دار نہ بنائیں۔ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے پہلے حجامت بنوالیں! ناخن اور زائد بال کاٹ لیں۔ یہ عمل مستحب ہے۔
*جانور خریدتے وقت یاد رکھیں کہ جس جانور کے بارے میں غالب گمان ہو کہ چوری کا ہے اسے نہ خریدیں۔ دوسرے مسلمان بھائی کا سودا طے ہوچکا ہو تو اس کا سودا خراب نہ کریں۔جانور کو خوب اچھی طرح دیکھیں، خصوصا ان چیزوں کا ضرور لحاظ رکھیں کہ گائے کی عمر دو سال سے کم نہ ہو، اونٹ کی پانچ سال سے اور بکری کی ایک سال سے کم عمر نہ ہو۔ دنبہ بھیڑ چھ 6 ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو۔کان ، زبان، دم، ان اعضاء میں سے کوئی عضو نصف سے زیادہ کٹا ہوا نہ ہو، آنکھ کی روشنی نصف سے زیادہ ضائع نہ ہو۔(تہائی اور تہائی سے زیادہ کا فتوی بھی موجود ہے)۔ سینگ اس قدر ٹوٹے ہوئے نہ ہوں کہ ٹوٹنے کا اثر دماغ تک پہنچ گیا ہو۔ ورنہ قربانی نہ ہوگی۔ جان بوجھ کر ولادت کے قریب جانور کو خرید کر قربانی کرنا مکروہ ہے۔ بانجھ کی قربانی جائز ہے۔ خصی کی قربانی زیادہ افضل ہے۔ ایسا جانور جو چارہ نہ کھا سکتا ہو یا چل ہی نہ سکتا ہو، کی قربانی درست نہیں۔
* جانورخریدنے کے بعدیاد رکھیں کہ جانور کی خوب خدمت کریں اور اسے کسی قسم کی ایذا نہ دیں۔ ایسی جگہ باندھیں جہاں آنے جانے والوں کو تکلیف نہ ہو۔ اس پر سواری کریں، نہ ہی اس کا دودھ خود پییں! اگر دودھ نکال لیا تو اسے صدقہ کردیں! اس کی قیمت غریب کو صدقہ کر دے تو خود پینا جائز ہے۔ حصہ داری میں قربانی کر رہے ہوں تو حصہ داروں کو تمام معاملات میں ساتھ لے کر چلیں۔ قربانی کی تیاری اس طرح سے کریں کہ صحیح العقیدہ مسلمان قصائی کا انتخاب کرلیں۔ قصائی کی اجرت پہلے سے طے کرلیں۔ قربانی کی کھال مستحق اور مستندلوگوں کو دیں۔
قربانی کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں۔ چھری پہلے سے خوب تیز کرلیں۔ ذبح سے پہلے جانور کو چارہ کھلا لیں، پانی پلا لیں۔ جب شہر میں کسی ایک جگہ نماز عید ہوجائے تب قربانی کریں۔ خود ذبح کریں، ورنہ کم از کم ذبح کے وقت وہاں موجود رہیں۔ جس کروٹ پر جانور گرے اسی کروٹ پر ذبح کردیں۔ گھسیٹ کر قبلہ رخ نہ کریں! کوشش کریں کہ جانور قبلہ رخ گرے۔ قبلہ رخ کرنا صرف مستحب ہے جبکہ جانور کو گھسیٹ کر اسے ایذاء دینا ممنوع و مکروہ ہے۔ چھری پھیرتے وقت تکبیر پڑھیں۔ کم از کم تین رگیں ضرور کاٹیں۔
قربانی کے بعد گوشت کے تین حصے کرنا مستحب ہے۔ ایک حصہ اپنے رشتہ داروں اور احباب کا، ایک حصہ غرباء کا اور ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے لیے رکھیں۔ قربانی کے جانور کاگوشت، چربی اور ہڈیاں بیچنا جائز نہیں۔ اگر بیچ دیا تو اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔ غیرمسلم کو قربانی کا گوشت دینا جائز ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بتائے ہوئے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق دے اور ہم جن جانوروں کی قربانی دیں انہیں اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دل میں قربانی کا وہ جذبہ پیدا کرے حضرت ابراہیم ؑ کے دل میں تھا۔ ہم دنیاوی دکھاوے کو چھوڑ کر اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے قربانی کریں تاکہ ہمارا رب ہم سے راضی ہوجائے اور ہماری بخشش فرمادے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com