ماہ رمضان ایک انعام خداوندی

روزے کو عربی میں صوم کہتے ہیں۔ یہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔ مسلمان اسلامی سال کے مقدس مہینے رمضان المبارک میں روزے رکھتے ہیں۔ روزے میں مسلمان صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے اور پینے، جبکہ میاں بیوی آپس میں جنسی تعلق سے باز رہتے ہیں۔ روزہ رکھنے کے لئے صبح صادق سے قبل کھانا کھایا جاتا ہے جسے سحری کہتے ہیں جس کے بعد نماز فجر ادا کی جاتی ہے جبکہ غروب آفتاب کے وقت اذان مغرب کے ساتھ روزہ کھول لیا جاتا ہے جسے افطار کرنا کہتے ہیں۔
رمضان المبارک کے روزے دو ہجری میں فرض کیے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں 9 برس رمضان المبارک کے روزے رکھے۔ امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نو سال رمضان المبارک کے روزے رکھے ، اس لئے کہ ہجرت کے دوسرے سال شعبان میں رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ ہجری ربیع الاول کے مہینے میں دار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ المجموع ( 6 / 250 )
قرآن مجید میں فرمان الٰہی ہے:
’’اے ایمان والو تم پر روزے رکھنے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزے رکھنے فرض کیے گئے تھے تا کہ تم متقی و پرہیزگار بنو۔‘‘
روزہ اسلامی ارکان میں سے چوتھا رکن ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی صحت کو برقرار رکھتے ہیں بلکہ اسے بڑھاتے ہیں۔ روزوں سے دل کی پاکی، روح کی صفائی اورنفس کی طہارت حاصل ہوتی ہے۔ روزے ، دولت مندوں کو،غریبوں کی حالت سے عملی طور پر باخبر رکھتے ہیں۔ روزے ، شکم سیروں اور فاقہ مستوں کو ایک سطح پر کھڑا کر دینے سے قوم میں مساوات کے اصول کو تقویت دیتے ہیں۔ روزے ملکوتی قوتوں کو قوی اور حیوانی قوتوں کو کمزور کرتے ہیں۔ روزے جسم کو مشکلات کا عادی اور سختیوں کا خوگر بناتے ہیں۔ روزوں سے بھوک اور پیاس کے تحمل اور صبر و ضبط کی دولت ملتی ہے۔ روزوں سے انسان کو دماغی اور روحانی یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔ روزے سے بہت سے گناہوں سے انسان کو محفوظ رکھتے ہیں۔ روزے نیک کاموں کیلئے اسلامی ذوق و شوق کو ابھارتے ہیں۔ روزہ ایک مخفی اور خاموش عبادت ہے جو ریاونمائش سے بری ہے۔ قدرتی مشکلات کو حل کرنے اور آفات کو ٹالنے کے لیے روزہ بہترین ذریعہ ہے۔ ان فوائد کے علاوہ اور بہت فائدے ہیں جن کا ذکر قرآن و حدیث میں مذکورہے۔
احادیث کریمہ میں روزے کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے:
جب رمضان آتا ہے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دےئے جاتے ہیں۔ اور شیاطین زنجیر وں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں۔
جنت ابتدائے سال سے، سال آئندہ تک رمضان کے لیے آراستہ کی جاتی ہے اور جب رمضان کا پہلا دن آتا ہے تو جنت کے پتوں سے عرش کے نیچے ایک ہوا حور عین پر چلتی ہے وہ کہتی ہیں۔ اے رب ! تو اپنے بندوں سے ہمارے لیے ان کو شوہر بنا جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں ۔ جنت میں آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازے کا نام ریان ہے۔ اس دروازے سے وہی جائیں گے جو روزہ رکھتے ہیں۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب سے ملنے کے وقت اور روزہ دار کے منہ کی بو، اللہ عزوجل کے نزدیک مشک سے زیادہ پا کیزہ ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ وہ مہینہ ہے کہ اس کا اول رحمت ہے۔ اور اس کا اوسط (درمیانہ حصہ) مغفرت ہے اور آخر ، جہنم سے آزادی ہے۔ روزہ اللہ عزوجل کے لیے ہے اس کا ثواب اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہر شے کے لیے زکوٰۃ ہے اور بدن کی زکوٰۃ روزہ ہے اور نصف صبر ہے۔ روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی۔ اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری امت تمنا کرتی کہ پورا سال رمضان ہی ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ باتیں دی گئیں کہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملیں۔ وہ پانچ باتیں درج ذیل ہیں
اول یہ کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے اللہ عزوجل ان کی طرف نظر فرماتا ہے۔ اور جس کی طرف نظر فرمائے گا۔ اسے کبھی عذاب نہ کرے گا۔
دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو ، اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ اچھی ہے۔
تیسری یہ کہ ہر دن اور رات میں فرشتے ان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔
چوتھی یہ کہ اللہ عزوجل جنت کو حکم فرماتا ہے۔ کہتا ہے مستعد ہو جا اور میرے بندوں کے لیے مزیں ہو جا ، قریب ہے کہ دنیا کی مشقت سے یہاں آکر آرام کریں۔
پانچویں یہ کہ جب آخر رات ہوتی ہے۔ تو ان سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ کسی نے عرض کی کیا وہ شب قدر ہے؟ فرمایا ’’نہیں‘‘ کیا تو نہیں دیکھتا کہ کام کرنے والے کام کرتے ہیں جب کام سے فارغ ہوتے ہیں۔ اس وقت مزدوری پاتے ہیں۔
اللہ عزوجل رمضان میں ہر روز د س لاکھ افراد کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے۔ اور جب رمضان کی انتیسویں رات ہوتی ہے تو مہینے بھر میں جتنے آزاد کیے ان کے مجموعہ کے برابر اس ایک رات میں آزاد کرتا ہے۔ پھر جب عید الفطر کی رات آتی ہے۔ ملائکہ خوشی کرتے ہیں اور اللہ عزوجل اپنے نور کی خاص تجلی فرماتا اور فرشتوں سے فرماتا ہے ’’ اے گروہ ملائکہ اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جس نے کام پورا کر لیا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں۔۔ ’’اس کو پورا اجر دیا جائے‘‘ اللہ عزوجل فرماتا ہے میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں ان سب کو بخش دیا۔
قرآن کریم نے روزہ کے مقاصد اور اس کے اغراض تین مختصر جملوں میں بیان فرمائے ہیں:
مسلمان اللہ تعالیٰ کو کبریائی اور اس کی عظمت کا اظہار کریں۔
ہدایت الہٰی ملنے پر خدائے کریم کا شکر بجا لائیں کہ اس نے پستی و ذلت کے عمیق غار سے نکال کر ، رفعت و عزت کے اوج کمال تک پہنچایا۔
مسلمان پرہیز گار بنیں اور ان میں تقویٰ پیدا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com