روزداروں کا انعام ’’عید‘‘

روزداروں کا انعام ’’عید‘‘
تحریر عقیل خان 
’’ عید الفطر‘‘ دو لفظوں عید اور الفطر پر مشتمل ہے۔ اس کی تشریح اس طرح ہے کہ عید کا مادہ سہ حرفی ہے اور وہ ہے۔ عود عادً یعود عوداً وعیاداً کا معنی ہے لوٹنا، پلٹنا واپس ہونا ، پھر آنا چونکہ یہ دن ہر سال آتا ہے اور اس کے لوٹ آنے سے اس کی فرحت و مسرت اور برکت و سعادت کی گھڑیاں بھی اس کے ساتھ لوٹ آتی ہیں اس لیے اس روز سعید کو عید کہتے ہیں۔فطر کے معنی کس کام کو از سرنو یا پہلی بار کرنے کے ہیں:
رات بھر کی نیند اور سکون و آرام کے بعد انسان صبح کو اٹھ کرجس مختصر خوراک سے اپنے دن کا آغاز کرتا ہے اسے فطور کہتے ہیں۔ اسی طرح ماہ صیام میں سحری سے غروب آفتاب تک بن کھائے پیے رہنے کے بعد روزہ پورا کرکے روزہ دار کی بھوک مٹانے اور پیاس بجھانے کو افطار کہا جاتا ہے۔ مہینے بھر کے روزوں کا فریضہ مسلمان سر انجام دینے کی خوشی میں یکم شوال کو حسب حیثیت عمدہ و لذیذ کھانے اور میٹھے پکوان پکاتے ہیں اور اسلامی برادی کے ان افراد کو بھی صدقہ الفطر ادا کرکے اچھے کھانے پکانے کے قابل بناتے اور اپنی خوشیوں میں شریک کرتے ہیں جو اپنی ناداری و افلاس کے باعث اچھے کھانے پکانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
جوں جوں رمضان کا مہینہ اپنے اختتام کی طرف بڑھتا ہے ساری دنیا کے مسلمان عید الفطر کی خوشیاں منانے کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تہوار روزوں رکھنے کے انعام کے طورپر منایا جاتا ہے۔ مسلمان ہر سال دو عیدیں مناتے ہیں ایک عیدالفطر اور دوسری عید الضحٰی ۔ پہلی عید، عید الفطر جو رمضان کے بعد آتی ہیں اور دوسری عید، عیدالاضحٰی کی جو حج کے بعد منائی جاتی ہے اور اس دن کی یاد دلاتی ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایمان کی آزمائش کی اور بعد میں انہیں اپنے بیٹے کی قربانی کرنے سے بچا لیا۔
رمضان المبارک عاجزی وانکساری کا مہینہ ہے جو مسلمانوں کو بھوک پیاس کی اس تکلیف سے روشناس کراتا ہے جو معاشرے کے کم خوش قسمت لوگ اپنی روز مرّہ زندگی میں محسوس کرتے ہیں۔ رمضان المبارک میں بھی بہت سے مسلمانوں کے ذہن میں یہی سوچ ہوتی ہے کہ اپنی ذات پر کم خرچ کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ خیرات کی جائے۔عیدالفظر کی رات (چاند رات ) کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشش کرتا ہے اور جتنے بندوں کی بخشش پورے رمضان میں ہوتی ہے اس سے زیادہ اس چاند رات کو ہوتی ہے۔ جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو (آسمانوں میں) اس کا نام’’ لیلۃ الجائزۃ‘‘ (انعام کی رات ) سے لیاجاتا ہے اور عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ رب العزت فرشتوں کو تمام شہروں کی طرف بھیجتے ہیں، وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں (راستوں )کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی آوازسے، جس کوجن و انس کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے، پْکارتے ہیں کہ اے امتِ محمدیہ ! اْس ربِ کریم کی(بارگاہ کی) طرف چلو، جو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے،پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالی شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں :کیا بدلہ ہے اْس مزدور کا جو اپنا کام پورا کر چکا ہو؟وہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے معبود اور مالک ! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کو اس کی مزدوری پوری پوری ادا کر دی جائے،تو اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں۔’’ فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کر دی‘‘
عید الفطر کا دن مسلمانوں کا ایک ایسا تہوار ہے جو روزے رکھنے کا مہینہ مکمل ہونے پر خوشی کے اظہار اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لئے منایا جاتا ہے۔اس دن مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سْنّت پر عمل کرتے ہیں جو انہوں نے صدیوں پہلے قائم کی تھی۔ مسلمان اس تہوار پر اکثر اپنے اور اپنے خاندان کے لوگوں کے لئے نئے کپڑے خریدتے ہیں تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سْنّت پر عمل کرتے ہوئے عید کی نماز بہترین کپڑوں میں ادا کریں۔
مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سْنّت پر عمل کرتے ہوئے عید کے پہلے روز صبح اٹھتے ہی نماز پڑھنے کے لئے مسجد کا رْخ کرتے ہیں جہاں امام صاحب مختصر اور جامع خطبہ دیتے ہیں جس میں عموماً عید کے دن کی اہمیت اور فضیلیت بتائی جاتی ہے۔ عید کے نماز ادا کرنے کے بعد مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے گلے ملکر عید کی خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ بچے بڑوں کو سلام کرتے ہیں۔ رشتے داروں، دوستوں اور محلے داروں کے گھر جا کر ان سے عید ملی جاتی ہے۔ 
اس کے بعد سارا دن بالعموم کھانے پینے کی اشیا سے لطف اندوز ہوتے اور گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ ہنستے کھیلتے گزارتے ہیں۔عید کے دنوں میں سب سے زیادہ مزے بچوّں کے ہوتے ہیں جن پر والدین، عزیز واقارب اور دوست احباب کی طرف سے خوب نوازشات ہوتی ہیں، عیدی ملتی ہے اور مٹھائیاں اور تحفے دیئے جاتے ہیں۔ بچوں کو تفریح کے لئے پارک میں یا چڑیا گھر و غیرہ بھی لے جایا جاتا ہے۔ عید پر خاندانی تعلقات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں روزے رکھنے اور عید کی مبارکباد دینے کے لئے رشتہ داروں بالخصوص بڑوں کی طرف ضرور چکر لگایا جاتا ہے۔
عید کا تہوار جہاں مسلمانوں کے دل میں خوشیاں بھر دیتا ہے وہاں بہت سے مسلمانوں کو ا فسوس بھی ہوتا ہے کہ نیک اعمال اور نماز روزے کے ذریعے خدا کا روحانی قرب حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنے والا ماہِ رمضان اب اختتام پذیر ہوگیا ہے۔معلوم نہیں اگلے سال زندگی ہمیں یہ موقع فراہم کرے یا نہ کرے۔
عیدالفطر مسلمانوں کو دنیاوی خوشی کے ساتھ ساتھ روحانی خوشی بھی دیتی ہے کیونکہ جب انسان سچے دل اور نیک نیتی کے ساتھ رمضان المبارک کے روزے رکھتا ہے اور دوسری عبادات کرتا ہے تو اس کو قلبی سکون ملتا ہے اور جب عید کا چاند نظر آتا ہے تو سب سے زیادہ خوشی کا اظہار بھی وہی کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی محنت کا پھل دیتا ہے ۔
ہماری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ رب العزت تمام مسلمانوں کے لیے اس عید کو خوشیوں اور محبت کا گہوارہ بنا دے ۔ ہمارے پاکستان کو دشمن کی میلی نظر ، دہشت گردی، بے روزگاری،بے حیائی و فحاشی اور دیگر دنیاوی برائیوں سے بچائے اور آپس میں محبت ، پیار اور خلوص بڑھائے۔ آمین
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com