یکم محرم الحرام یوم شہادت سیدنا عمر فاروق

یکم محرم الحرام یوم شہادت سیدنا عمر فاروق 
تحریر: مفتی محمد وقاص رفیعؔ 
آپ کا نام نامی اسم گرامی عمر ،کنیت ابو حفص ، ابو اسد،لقب فاروق ،والد کا نام خطاب ، دادا کا نام نفیل اوروالدہ کا نام خنتمہ بنت ہاشم ہے۔ پورا سلسلۂ نسب یہ ہے:’’عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبد الفری بن رباح بن عبد اللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک۔‘‘عدی کے دوسرے بھائی مرہ تھے جو رسول اللہ اکے اجداد میں ہیں اس لحاظ سے عمرصکا سلسلہ نسب آٹھویں پشت میں رسول اللہ اسے جا کر ملتا ہے۔ ( الاصابہ في تمیز الصحابہ :۲/۵۱۸ )
حضرت عمر صکی ولادت واقعہ فیل کے تیرہ (۱۳)برس بعد ہوئی اورحضرت عمرص سے روایت ہے وہ کہتے تھے کہ واقعہ فجار اعظم کے چاربرس بعد میں پیدا ہوا تھا۔ (اسد الغابہ في معرفۃ الصحابہ : ۷/ ۶۴۱ )
انس بن مالک صسے مروی ہے کہ حضرت عمر ص تلوار لٹکائے ہوئے نکلے ،بنی زہرہ کا ایک شخص ملا تو اس نے کہا: ’’ اے عمرص! کہاں کا قصد ہے؟ تو اُنہوں نے کہا کہ محمداکے قتل کا ارادہ ہے،اُس نے کہا کہ محمدا کو قتل کر کر کے بنی ہاشم اور بنی زہرہ میں تمہیں کیسے امن ملے گا؟عمرصنے کہا کہ میں تمہیں سوائے اس کے نہیں سمجھتا کہ تم پھر گئے اور اپنا دین چھوڑ دیا جس پر تم تھے ‘‘اُس شخص نے کہا :’’اے عمرص!میں تمہیں ایک تعجب خیز بات نہ بتاؤں کہ تمہارے بہنوئی اور بہن بھی اپنے دین برگشتہ ہو گئے ہیں ،اُنہوں نے وہ دین ترک کر دیاجس پر تم تھے۔‘‘ ( طبقات ابن سعد : ۳ /۵۹ )
اس واقعہ میں اپنی بہن فاطمہؓ کے گھر قرآن سننے کا موقع ملا،قرآن سنتے ہی اسلام دل میں اُتر گیا،اُسی وقت نبی اکرم ا کی خدمت میں حاضر ہوئے ،نبی اکرم انے آپ کے سینے پر ہاتھ رکھااور فرمایا’’اے اللہ !اس کے سینے میں جو میل کچیل ہے وہ دُور کر دے اس کے بدلے ایمان بھر دے‘‘۔آپ صکی عمر اُس وقت تینتیس (۳۳) برس تھی۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے مطابق قرآن کریم کی ستائیس ( ۲۷) آیات حضرت عمرصکی رائے پر نازل ہوئیں۔ لیظہرہ علی الدین ، الم غلبت الروم اورایسی بے شمار آیات کی پیش گوئیاںآپ ص کے عہد میں پوری ہوئیں۔ ( ازالۃ ا لخفاء عن خلافۃ الخلفاء )
حضرت عمرصچالیسویں نمبر پر رسول اللہ اکے حلقہ ادارت میں شامل ہوئے، آپ کی بہادری اور ناموری پہلے ہی عرب میں مسلم ،تھی لیکن جب آپ اسلام کے خلعت سے آراستہ ہوئے تو رسول اللہ ا سمیت تمام مسلمان خوشی سے نڈھال ہو گئے۔
حضرت عمر فاروق صعہدِ نبوی امیں ہر موقع پر آپ ا کے ساتھ رہے ،مدنی زندگی میں آپ اکی رفاقت میں ۲۷ جنگوں میں شرکت فرمائی۔حضرت ابوبکر صدیق صکے دور خلافت میںآپ کے بطورمشیر اور خصوصی وزیر کام کیا۔ حضرت ابو بکر صدیق صنے وفات کے وقت رائے عامہ اور اسلام کی تعمیر وترقی کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے، جب آپ کو خلیفہ نامزد کیا توآپ اُس اعتماد پر پورے اُتر ے اور خلافت کا منصب سنبھالا۔
حضورِاقدس انے ارشاد فرمایا:
(۱) جس راستے سے عمرصگزرتا ہے، شیطان وہ راستہ ہی چھوڑ دیتا ہے۔(بخاری و مسلم)
(۲) حضرت عمرصکی زبان پراللہ تعالیٰ نے حق جاری کر دیا ہے۔ (سنن بیہقی)
(۳) میرے بعد ابو بکر صو عمر صکی اقتدا ء کرنا۔ ( مشکوۃ شریف)
(۴) میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر صہوتا۔ ( ترمذی شریف)
(۵) اللہ تعالی نے عمرصکی زبان اور قلب پر حق کوجاری فر ما دیا۔ ( مشکوۃ شریف)
حضرت عمرفاروق صکی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہاحضوراکے نکاح میں آئیں۔آپ کے دورِ خلافت میں حضوراکی نواسی اورحضرت علی صکی صاحبزاد ی ام کلثوم رضی اللہ عنہاسے آپ کا نکاح ہوا،جن سے زید بن عمرصاور رقیہ بن عمر صپیدا ہوئے۔
حافظ عبداللہ محمد بن سعد زہری(متوفی۲۳۰ ؁ھ)طبقات میں لکھتے ہیں:’’اُم کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہاجن کی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں ان سے حضرت عمرصنے نکاح کیااور وہ چھوٹی عمر کی تھیں اُن کے یہاں حضرت عمرصسے زیدص اور رقیہ رضی اللہ عنہاپیدا ہوئے۔ ‘‘ (طبقات ابن سعدبحوالہ خلفائے راشدین ج اوّل ص۴۲۸،۴۲۹)
حضرت علی صفرماتے ہیں کہ جس کسی نے ہجرت کی چھپ کرکی مگرحضرت عمرص مسلح ہو کرخانہ کعبہ میں آئے اور کفار کے سرداروں کو للکارااور فرمایاکہ جو اپنے بچوں کو یتیم کرناچاہتا ہے وہ آج مجھے روک لے،حضرت عمر صکی زبان سے نکلنے والے الفاظ سے کفار پر لرزا طاری ہو گیااور کوئی مد مقابل نہ آیا۔
ہجرت کے بعد آپ صنے جان وما ل سے ا سلام کی بہت خدمت کی تقریباً بیس (۲۰ )صحابہ ث نے آپص کے ساتھ ہجرت کی ،آپ صنے اپنی تمام زندگی اسلام کی خدمت کر نے میں گزار دی،آپ صحضور اکرم اکے وفادار صحابی ہیں،آپ صنے تمام اسلامی جنگوں میں حصہ لیااور مجاہدانہ کردار ادا کیا،اسلام کے فروغ اوراُ س کی تحریکات میں حضور اکرم اکے ر فیق رہے۔
حضرت سیدناابوبکرصدیق صنے اکابر صحابہ ثکے مشورے سے ا پنے بعد حضرت عمرصکو تحریراً خلیفہ نامزد کیا،آ پص کی خلافت پر تمام صحابہ ثمتفق تھے ،آپ صکو ۲۲/جمادی الثانی ۳۱ ؁ھ کو خلافت ملی آپصنے دس سال چھ ماہ چار دن خلافت کی آپصکا دورِ خلافت سادگی اور عدل وانصاف کا بہترین نمونہ تھا،آپصکی عدالت مسجد نبوی امیں لگا کر تی تھی، آپ صکے دور خلافت میں چھ سو (۶۰۰)علاقے فتح ہو ئے اورنو سو (۹۰۰)جامع مساجداورچالیس ہزار (۰۰۰,۴۰)عام مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ قیصر و کسریٰ دو بڑی سلطنتوں کا خاتمہ آپ صہی کے دور میں ہوا۔ آپصکے عہد میں عدالت کے ایسے بے مثال فیصلے چشم فلک نے دیکھے جن کا چرچا چہار دانگ عالم میں پھیل گیا۔
فتوحات عراق،ایران،روم،ترکستان،اور دیگر بلاد عجم پر اسلامی عدل کا پرچم لہرانا سیدنا فاروق اعظم صکا بے مثال کارنامہ ہے۔
حضرت عمرصکے عہد زریں اور درخشندہ عہد پر کئی غیر مسلم بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے حقیقت میں آنحضرت اکے آفاقی دین کی تعمیر و ترقی کو اوجِ ثریا پرپہنچانے اور دنیا بھرمیں اسلام کی سطوت و شوکت کا سکہ بٹھانے کا سہرا سیدنا فاروق اعظمصکے سر ہے۔ 
آپص نبی کریم اکے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے،غزوۂ بدرمیں آپص کی رائے کے بر خلاف قیدیوں سے فدیہ لیا گیاتو اللہ نے آپ صکی رائے کے موافق قرآن پاک کی آیات نازل فرمائیں۔
اس کے علاوہ غزوہ سویق ۲ ؁ھ ٗغزوہ اُحد ۳ ؁ھ ٗواقعہ بنو نضیر ۴ ؁ھ ٗ غزوۂ احزاب ۵ ؁ھ واقعہ حدیبیہ ۶ ؁ھ،جنگ خیبر ۷ ؁ھ،اور غزوہ حنین ۷ ؁ ھ، میںآپ صنبی ا کے شانہ بشانہ شریک رہے۔جب کبھی نبی اکرم انے مالی تعاون کا مطالبہ کیا تو آپ صنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،اس کے علاوہ جب قران میں غیر مسلم عورتوں سے نکاح کی ممانعت کا حکم نازل ہوا تو فوراً آپ صنے اپنی دو غیرمسلم بیویوں کو طلاق دے دی۔
۱۰ ؁ھ میں جب حضور اکرم ا کا سانحہ ارتحال پیش آیاتو آپ صنے غم کی وجہ سے یہ اعلان کر دیاکہ جس نے کہا کہ محمداوفات پا گئے ہیں میں اس کا سر قلم کر دوں گا۔ 
۲۶ذی ا لحجہ ۳۲ھ ؁بروزچہار شنبہ نماز فجر میں ابو لؤلؤ فیروز مجوسی(ایرانی)کافر نے آپ صکو شکم میں خنجرمارا ٗا ورآپ صزخمی ہوئے او ر یکم محرم الحرام کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہو گئے،بوقت شہادت آپ کی عمر۶۳ برس تھی آپ کی نمازجنازہ حضرت صہیب رومی صنے مدینہ میں پڑھائی اور آپ ص کو آپ اکے روضۂ مبارک میں اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق صکے پہلو میں دفن کیا گیا۔( ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com