ایک صحابیؓ کی حضورﷺ سے اپنے والد کی شکایت : محمد طاہر جمیل

TAhir-Jamilحضور ﷺ کے پاس ایک صحابیؓ آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے والد میرا مال اور میری چیزیں مجھ سے پوچھے بغیر خرچ کر لیتے ہیں۔ میرے والد سے اس سلسلے میں سوال ہونا چاہئیے جبکہ مال و دولت بیٹے کی کمائی کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اچھا بلاؤ اپنے والد کو۔ جب والد کو پتا چلا کہ اسکے بیٹے نے حضور ﷺ سے شکایت کی ہے تو انہوں نے دل ہی دل میں کچھ اشعار پڑھے جو زبان سے ادا نہیں ہوئے۔ اس سے پہلے کہ وہ حضور ﷺ کے پاس پہنچتے حضرت جبرئیل ؑ ، حضور ﷺ کے پاس پہنچے ا ور کہا یا رسول اللہﷺ اللہ فرماتے ہیں پہلے اُن سے کہیں وہ اشعار سنائیں جو اُن کے دل نے پڑھے اور زبان تک نہیں آئے لیکن اللہ نے عرش پر ہوتے ہوئے بھی اُن کو سن لیاْ۔ حضور ﷺ کے پوچھنے پروہ صحابی کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ قربان جائیں آپ کے اس رب پر وہ کیسا رب ہے جس نے اِس خیال کو جو صرف میرے دل میں آیا تھا ، کو بھی سن لیا۔ حضور ﷺ نے کہا پہلے وہ سناؤ پھر تیرے مقدر کا فیصلہ ہوگا۔
تو اُنہوں نے کہا کہ میں نے بڑے درد و دکھ کے ساتھ یہ خیال کیا تھا کہ ’ اے میرے بیٹے میں نے تیرے لئے اپنا سب کچھ لگا دیا، جب تو اب گود میں تھا تو میں اس وقت بھی تیرے لئے پریشان رہا او جب تو سوتا تھا تو ہم تمھارے لئے جاگتے تھے ، تو روتا تھا تو ہم بھی تیرے لئے روتے تھے۔ میں سارا دن تیرے لئے خاک چھانتا تھا اور روزی کماتا تھا ، اپنی جوانی کو گرمی میں جھلساتا تھا کبھی خزاں کے تپھیڑوں سے اسے پٹواتا تھا، مگر تیرے لئے گرم روٹی کا میں ہر حال میں انتظام کرتا تھا، کیونکہ میں چاہتا تھا کہ میرے بیٹے کو روٹی ملے چاہے مجھے ملے نہ ملے۔ میں چاہتا تھا تمھارے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہے چاہے میرے آنسوؤں کے سمندر بہہ جائیں ۔ جب کبھی تم بیمار ہو جا تا تھا تو ہم تیرے لئے تڑپ جا تے تھے۔ جب تم پہلو بدلتے تھے تو ہم ہزار وسوسوں میں مبتلا ہو جاتے تھے، تیرے رونے پر ہم بیقرار ہوتے تھے، تیری بیماری ہماری کمر توڑ دیتی، ہمیں مار دیتی تھی، ایسا لگتا تھا کہ تم بیمار نہیں ہوئے ہم بیمار ہو گئے ہیں، ہم درد سے کڑہاتے تھے، تمہاری ہائے پر ہماری ہائے نکلتی تھی، ہر وقت ہر پل یہ ڈر لگا رہتا کہ کہیں میرے بیٹے کی جان نہ چلی جائے۔ اس طرح میں تجھے پروان چڑھاتا رہا اور تجھ میں جوانی رنگ بھرتی رہی اور میری جوانی گھٹتی رہی اور یوں میں بڑھاپے کی دہلیز پر آ پہنچا تو مجھے تمھارے سہارے کی ضرورت پڑی ۔ جب کہ تم بنا سہارے کے چل سکتے ہو تو اب میرے دل میں یہ تمنا ہوئی کہ جس طرح میں نے تجھ کو پالا ہے، تم بھی مجھ کو پالو گے ، جس طرح میں نے تمہارے ناز اٹھائے تھے اب تم بھی میرے ناز اٹھاؤ گے ۔ لیکن تیرا لہجہ بدل گیا ، تیری آنکھ بدل گئی ، تیرے تیور بدل گئے ۔ تومجھے یوں سمجھنے لگا جیسے میں تیرے گھر کا نوکر ہوں ، تم مجھ سے یوں بولنے لگا جیسے میں تمھارا زر خرید غلام ہوں۔ تم تو یہ بھی بھول گئے کہ میں نے تجھے کس طرح پالا تھا، تیرے لئے کیسے جاگا تھا، کس طرح رویا، تڑپا اور مچلا تھا۔ آج تم میرے ساتھ وہ کر رہے ہو جو آقا اپنے نوکر کے ساتھ بھی نہیں کرتا۔
اگر تم مجھے بیٹا بن کر نہیں دکھا سکتے اور مجھے اپنے باپ کا مقام نہیں دے سکتے تو کم از کم پڑوسی کا ہی درجہ دے دو کہ ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کا حال تو پوچھ لیتا ہے لیکن تم تو بُخل کی بات کرتے ہو‘ ۔۔
یہ اشعار اتنے دردناک ہیں کہ اُس باپ کی ایسی کیفیت کو بیان کرنا اور اسے عربی سے ترجمعہ کرنا نا ممکن ہے۔
جب یہ اشعار ختم ہوئے تو سردار دو جہاں حضور ﷺ کی آنکھوں میں آنسو تھے، آپ ﷺ نے اس نوجوان سے فرمایا اٹھ جاؤ میری مجلس سے، تم بھی اور تمھارا مال بھی تمھارے باپ کا ہے۔
اس حدیث پاک سے اللہ رب العزت کی یہ شان معلوم ہوتی ہے کہ جو الفاظ ادا ہی نہیں ہوئے دل میں ہی رہے اللہ تعالیٰ نے وہ بھی سن لئے۔
ہم اللہ تعا لیٰ کی کس کس صفت کو بیان کریں جو میرا اللہ سیاہ کالی رات میں کالی چٹان پر کالی چیونٹی کے چلنے سے جو کالی لکیر کھنچتی ہے نہ صرف اس کو دیکھ لیتے ہیں بلکہ اس چیونٹی کے چلنے کی آواز کو بھی سن لیتے ہیں ۔ اس حدیث سے ماں باپ کی محبت اور ان کے اپنے بچوں سے جزباتی تعلق اور کیفیت کا پتہ چلتا ہے اسی لئے تو قرآن میں کہا گیا ہے کہ ’ اپنے ماں باپ کو اُف تک نہ کہو‘ ۔ ہمیں چاہئے کہ جس طرح ہمارے ماں باپ نے بچپن میں ہماری پرورش کی ہے اسی طرح بڑھاپے میں ہم ان کا سہارا بنیں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com