ازواجِ مطہراتؓ کی زندگیاں 

ازواجِ مطہراتؓ کی زندگیاں 
خواتین کے لئے بہترین نمونہ 
عبدالعزیز 
امہات المومنین رضی اللہ عنہما کی زندگیاں کیوں نہ مثالی اور لائق نمونہ ہوں جب معلم اخلاق، ہادی اعظم اور پیغمبر برحق، سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست تعلیم و تربیت سے فیض یافتہ ہوں۔ آپؐ کی پوری زندگی اقتدار و حکومت سے پہلے اور بعد میں بھی فقیرانہ اور درویشانہ زندگی تھی۔ آپؐ کے گھر میں ہمیشہ تنگ دستی رہی، امیرانہ ٹھاٹ باٹ کا تصور تک نہ تھا اورنہ دل میں عیش و عشرت کی کوئی خواہش اور چاہت تھی ۔ آپؐ خود بھی فقیرانہ زندگی کے طالب رہے اور اپنے اہل و عیال کو بھی کو اسی طرز زندگی کو اپنانے کی تعلیم و تربیت دی۔ فطری طور پر ایک دو بار امہات المومنینؓ کے دل و دماغ میں یہ بات ضرور آئی تھی کہ اب جبکہ آنحضرتؐ کو مال غنیمت مل رہا ہے تو ان کی زندگیوں میں بھی خوشحالی آئے اور غربت دور ہو لیکن آپؐ نے ان کی اس فکر کو پسند نہیں فرمایا اور انھیں اللہ کا حکم سنایا: 
’’اے نبی! اپنی بیویوں سے کہو، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کردوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کیلئے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے‘‘ (سورۃ الاحزاب، 29)۔
اللہ تعالیٰ کے اس حکم اور ہدایت میں کتنا بڑا پیغام ہے وہی سمجھ سکتا ہے جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم محبوب ہوں اور آخرت پر اس کا پکا اور سچا یقین ہو اور دنیا کی حقیقتوں سے کما حقہ واقف ہو۔ 
اس آیت کے نزول کے وقت حضورؐ کے نکاح میں چار بیویاں تھیں، حضرت سودہؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت حفصہؓ اور حضرت ام سلمہؓ۔ ابھی حضرت زینبؓ سے حضورؐ کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ (احکام القرآن لا بن العربی طبع مصر 1958ء، جلد 3، ص13 ، آیت 151)۔
جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے گفتگو کی اور فرمایا: ’’میں تم سے ایک بات کہتا ہوں، جواب دینے میں جلدی نہ کرنا، اپنے والدین کی رائے لے لو، پھر فیصلہ کرو‘‘۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم آیا ہے اور یہ آیت ان کو سنادی۔ انھوں نے عرض کیا: ’’کیا اس معاملہ کو میں اپنے والدین سے پوچھوں؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہوں‘‘۔ اس کے بعد حضورؐ باقی ازواج مطہراتؓ میں سے ایک ایک کے ہاں گئے اور ہر ایک سے یہی بات فرمائی اور ہر ایک نے وہی جواب دیا جو حضرت عائشہؓ نے دیا تھا۔ (مسند احمد، مسلم، نسائی)۔ 
سورہ تحریم کی آیت 5میں ایک خاص پس منظر کے تحت اللہ نے آنحضرتؐ کی بیویوں کو تنبیہ کی ہے۔ اس آیت کا پس منظر اور شانِ نزول احادیث کی کتابوں میں تفصیل سے آیا ہے۔ 
’’ان تمام روایات سے کچھ اندازہ ہوسکتا ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی میں کیا حالات پیدا ہوگئے تھے جن کی بنا پر یہ ضروری ہوا کہ اللہ تعالیٰ مداخلت کرکے ازواج مطہراتؓ کے طرز عمل کی اصلاح فرمائے۔ یہ ازواج اگر چہ معاشرے کی بہترین خواتین تھیں مگر بہر حال تھیں انسان ہی، اور بشریت کے تقاضوں سے مبرا نہ تھیں ۔ کبھی ان کیلئے مسلسل عسرت کی زندگی بسر کرنا دشوار ہوجاتا تھا اور وہ بے صبر ہوکر حضورؐ سے نفقہ کا مطالبہ کرنے لگتیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ احزاب کی آیات 29-28 نازل فرماکر ان کو تلقین کی کہ اگر تمہیں دنیا کی خوشحالی مطلوب ہے تو ہمارا رسول تم کو بخیر و خوبی رخصت کر دے گا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دارِ آخرت کو چاہتی ہو تو پھر صبر و شکر کے ساتھ ان تکلیفوں کو برداشت کرو جو رسول کی رفاقت میں پیش آئیں۔ (تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الاحزاب حاشیہ 41 اور دیباچۂ سورہ احزاب)۔ پھر کبھی نسائی فطرت کی بنا پر ان سے ایسی باتوں کا ظہور ہوجاتا تھا جو عام انسانی زندگی میں معمول کے خلاف نہ تھیں مگر جس گھر میں ہونے کا شرف اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمایا تھا اس کی شان اور اس کی عظیم ذمہ داریوں سے وہ مطابقت نہ رکھتی تھیں۔ ان باتوں سے جب یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی کہیں تلخ نہ ہوجائے اور اس کا اثر اس کارِ عظیم پر مترتب نہ ہو جو اللہ تعالیٰ حضورؐ سے لے رہا تھا، تو قرآن مجید میں یہ آیت نازل کرکے ان کی اصلاح فرمائی گئی تاکہ ازواجِ مطہرات کے اندر اپنے اس مقام اور مرتبے کی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہو جو اللہ کے آخری رسولؐ کی رفیق زندگی ہونے کی حیثیت سے ان کو نصیب ہوا تھا اور وہ اپنے آپ کو عام عورتوں کی طرح اور اپنے گھر کو عام گھروں کی طرح نہ سمجھ بیٹھیں۔ اس آیت کا پہلا ہی فقرہ ایسا تھا کہ اس کو سن کر ازواجِ مطہراتؓ کے دل لرز اٹھے ہوں گے۔ اس ارشاد سے بڑھ کر ان کیلئے تنبیہ اور کیا ہوسکتی تھی کہ ’’اگر نبی تم کو طلاق دے دے تو بعید نہیں کہ اللہ اس کو تمہاری جگہ تم سے بہتر بیویاں عطا کر دے‘‘۔ اول تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے طلاق مل جانے کا تصور ہی ان کیلئے ناقابل برداشت تھا، اس پر یہ بات مزید کہ تم سے امہات المومنین ہونے کا شرف چھن جائے گا اور دوسری عورتیں جو اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں لائے گا وہ تم سے بہتر ہوں گی۔ اس کے بعد تو یہ ممکن ہی نہ تھا کہ ازواج مطہرات سے پھر کبھی کسی ایسی بات کا صدور ہوتا جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت کی نوبت آتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بس دو ہی مقامات ہم کو ایسے ملتے ہیں جہاں ان برگزیدہ خواتین کو تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ ایک سورۂ احزاب اور دوسرے یہ سورۂ تحریم‘‘۔ (تفہیم القرآن، جلد ششم) 
احادیث شریف اور قرآن مجید میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی کی جو باتیں آئی ہیں ان سے کون نہیں سمجھ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیک، متقی اور پاکباز بیویوں نے کس صبر و شکر کے ساتھ فقر وفاقہ اور تنگ حالی کے باوجود آپؐ کے ساتھ زندگی کے دن گزارے اور تعلیم و تربیت حاصل کرکے امت مسلمہ میں نہایت اونچا مقام حاصل کیا اور امہات المومنین خاص طور سے حضرت عائشہؓ، حضرت ام سلمیٰؓ ، حضرت حفصہؓ اور حضرت میمونہؓ کا حصہ اسلام کی اشاعت و تبلیغ اور امت مسلمہ کی خدمت اگر مردوں سے زیادہ نہیں تو ان سے کم بھی نہیں۔ عورتوں سے متعلق نبی اکرمؐ کی تعلیمات زیادہ تر انھیں سیدات کے ذریعہ پھیلی ہیں اور پھیل سکتی تھیں۔ 
جو لوگ قرآن و حدیث اور سیرت رسولؐ کا مطالعہ کے بغیر معاندین اسلام کی الٹی سیدھی باتوں سے متاثر ہوجاتے ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی صف میں آسانی سے شامل ہوجاتے ہیں۔ انھیں تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی بنانے میں دیر نہیں لگتی کیونکہ وہ اسلام کے دشمنوں کے چہیتے ہوجاتے ہیں۔ اچھے داموں میں ان بکاؤمال کو خرید لیا جاتا ہے پھر ان کیلئے واپسی کا کوئی امکان (No Point of Return) نہیں رہتا۔ اگر کبھی کسی کے سمجھانے بجھانے سے ایسے لوگ اپنی راہ بدلنا چاہتے ہیں تو دشمنانِ اسلام ان کیلئے سد راہ بن جاتے ہیں پھر یہ مسلمانوں کے نئے دشمن پرانے دشمنوں سے بدتر ہوجاتے ہیں۔ تجربہ سے ثابت ہے کہ ایسے لوگوں کو سمجھانے بجھانے کی ساری تدبیریں اور کوششیں لا حاصل ہوجاتی ہیں۔ 
نکاحِ عائشہؓ پر معاندین اسلام کے اعتراضات: نئے پرانے دشمنان اسلام بڑے شد و مد سے نکاح عائشہؓ پر یہ اعتراضات پیش کرتے ہیں کہ 54سال کی عمر میں 9سال کی ایک لڑکی سے شادی کرنا اور 18سال کی عمر میں اسے بیوہ چھوڑ جانا اتنے سن رسیدہ آدمی جبکہ قرآن کی رو سے اس کا نکاح ثانی بھی کسی شخص ے نہ ہوسکتا ہو کیا یہ (معاذ اللہ) ظلم نہیں ہے؟ اور کیا اتنے سن رسیدہ آدمی سے اتنی کم سن لڑکی کا نکاح (معاذ اللہ) نفس پرستی کی تعریف میں نہیں آتا؟ اور کیا 9سال کی عمر ایسی ہوتی ہے کہ اس میں کسی لڑکی پر ازدواجی زندگی کا بوجھ ڈال دیا جائے ؟ صاحب سیرت سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم مولانا سید بوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی کتاب میں ان اعتراضات کا نہایت مدلل جواب دیا ہے۔ یہ ایسے دلائل ہیں کہ اگر کٹر سے کٹر دشمن اسلامی تعلیمات بغیر کسی تعصب کے پڑھ لے تو وہ ہتھیار ڈالے بغیر نہیں رہ سکتا۔ 
’’در اصل اس قسم کے اعتراضات صرف اس صورت میں پیدا ہوتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہؓ کے نکاح کو ایک عام مرد اور ایک عام لڑکی کا نکاح سمجھ لیا جائے۔ حالانکہ حضورؐ اللہ کے رسول تھے جن کے سپرد انسانی زندگی میں ایک ہمہ گیر انقلاب برپا کرنا اور معاشرے کو اس انقلاب کیلئے تیار کرنا تھا اور حضرت عائشہؓ ایک غیر معمولی قسم کی لڑکی تھیں جنھیں اپنی عظیم ذہنی صلاحیتوں کی بنا پر اس انقلابی معاشرے کی تعمیر میں حضورؐ کے ساتھ مل کر اتنا بڑا کام کرنا تھا جتنا دوسری تمام ازدواج مطہراتؓ سمیت اس وقت کی کسی عورت نے نہیں کیا بلکہ یہ بات بلا مبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ دنیا کے کسی رہنما کی بیوی بھی اپنے شوہر کے کام کی تکمیل میں ایسی زبردست مدد گار نہیں بنی جیسی حضرت عائشہؓ حضورؐ کی مددگار ثابت ہوئیں۔ ان کے بچپن میں ان کی صلاحیتوں کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہ تھا۔ اسی بنا پر اپنے رسول کی معیت کیلئے ان کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا۔ بخاری باب ترویج عائشہؓ میں ہے کہ حضور ؐ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ مجھے خواب میں تم کو دو دفعہ دکھایا گیا اور کہا گیا کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ ترمذی، ابواب المناقب میں ہے کہ جبریل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت عائشہؓ کی تصویر سبز ریشم میں لائے اور آپؐ سے کہاکہ یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی بیوی ہیں۔ پس یہ انتخاب حضورؐ کا اپنا نہ تھا؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کا تھا۔ اور اللہ ہی کو یہ معلوم تھا کہ 9سال کی اس کم سن لڑکی کو اس کے رسول پاکؐ کے فیض تعلیم و تربیت سے سیراب ہوکر اسلامی معاشرے کی تعمیر میں کس قدم خدمت انجام دینی ہے۔ 
جو لوگ اس معاملہ میں حضورؐ پر نفس پرستی کا الزام لگاتے ہیں وہ خود اپنے ضمیر سے پوچھ کر بتائیں، کیا ایسا شخص نفس پرست ہوسکتا ہے جو پچیس سال کی عمر سے پچاس سال کی عمر تک صرف ایک ایسی بیوی پر قانع رہے جو عمر میں اس سے 15برس بڑی ہو؟ جو پہلی بیوی کی وفات کے بعد ایک سن رسیدہ بیوہ سے نکاح کرے اور چار پانچ برس تک صرف اسی پر قناعت کئے رہے؟ جو اگر نفس پرستی کی خاطر شادیاں کرنے والا ہوتا تو معاشرے میں اسے اتنی زبردست محبوبیت حاصل تھی کہ وہ جتنی اور جیسی خوبصورت باکرہ لڑکیوں سے بیاہ کرنا چاہتا ان کے والدین اپنے لئے فخر و عزت سمجھ کر اس کے حضور پیش کرنے کیلئے تیار ہو جاتے؟ جو اس کے باوجود صرف ایک باکرہ لڑکی کے سوا بعد میں جتنی شادیاں بھی کرے بیوہ یا شوہر دیدہ (ثیبہ) عورتوں ہی سے کرے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس نوعیت کے اعتراضات کرنے والے اپنے ذہن میں ازدواجی زندگی کا صرف شہوانی تصور ہی رکھتے ہیں۔ ان کے پست ذہن اتنی بلندی تک جاہی نہیں سکتے کہ اس عظیم انسان کے مقاصد ازدواج کو سمجھ سکیں جو ایک اعلیٰ و ارفع کام کی مصلحتیں مد نظر رکھ کر کچھ خواتین کو اپنی شریک زندگی اور شریک کار بنائے‘‘۔ 
مولانا آگے کی سطروں میں رقمطراز ہیں ’’رہا ظلم کا الزام تو اس معاملہ میں بھی معترضین بس یہ ایک سادہ سی صورت واقعہ پیش نظر رکھتے ہیں کہ ایک سن رسیدہ آدمی نے 9سال کی لڑکی سے شادی کرکے 18سال کی عمر میں اسے بیوہ چھوڑ دیا جبکہ اس کیلئے نکاح ثانی کا بھی کوئی امکان نہ تھا اور اسے ساری جوانی بیوگی کے عالم ہی میں گزارنی تھی۔ اس عام سطح سے بلند تر ہوکر یہ لوگ کبھی یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور نہیں کرنا چاہتے کہ جس کارِ عظیم کا فائدہ خلق خدا کو کسی محدود زمانے کیلئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اور کسی محدود علاقے میں بھی نہیں بلکہ دنیا بھر میں پہنچنے والا ہو، اس کام میں ہزاروں لاکھوں انسانوں کی جانیں اور ان کے مال کھپ جانا بھی کوئی مہنگا نہیں ہے، کجا کہ صرف ایک خاتون کی جوانی اس میں کھپ جانے کو قربانی کے بجائے ظلم سے تعبیر کیا جائے۔ اور وہ جوانی بھی اگر قربان ہوئی تو صرف اس معنی میں کہ اس کو ازدواجی زندگی کے لطف سے محروم ہونا پڑا۔ اس کے ماسوا کسی اور نقصان کی وہ لوگ نشان دہی کرسکتے جو اس بلند پایہ خاتون کی ذات کو پہنچا ہو، لیکن دوسری طرف دیکھئے کہ گھریلو زندگی کے تمام خرخشوں اور مشغولیتوں سے فارغ ہوکر اپنی پوری بقیہ زندگی کو عورتوں اور مردوں میں اسلام اور اس کے احکام و قوانین اور اس کے اخلاق و آداب کی تعلیم دینے میں صرف کرکے اس عظیم ہستی نے کتنی بے بہا خدمات انجام دیں۔ علم حدیث کا جس شخص نے بھی مطالعہ کیا ہے وہ جانتا ہے کہ حضرت عائشہؓ کے ذریعہ سے جتنا علم دین مسلمانوں کو پہنچا اور فقہ اسلامی کی معلومات حاصل ہوئیں۔ اس کے مقابلہ میں عہد نبوت کی عورتیں تو درکنار، مرد بھی کم ہی ایسے ہیں جن کی علمی خدمات کو پیش کیا جاسکے۔ اگر حضرت عائشہؓ حضورؐ کے نکاح میں نہ آتیں اور آپؐ سے تعلیم و تربیت پانے کا ان کو موقع نہ ملتا تو اندازہ نہیں کیا جاسکتا کہ اسلام کے علم کا کتنا بڑا حصہ امت مسلمہ تک پہنچنے سے رہ جاتا۔ ان سے 2210حدیثیں مروی ہیں۔ اور وہ صرف احادیث روایت کرنے والی ہی نہ تھیں بلکہ فقیہ اور مفسر اور مجتہد اور مفتی بھی تھیں۔ انھیں بالاتفاق مسلمان عورتوں میں سب سے زیادہ فقیہ مانا جاتا ہے۔ اکابر صحابہؓ ان سے مسائل پوچھتے تھے؛ حتیٰ کہ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ بھی بعض مسائل میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔ ان کا شمار مدینہ طیبہ کے ان چند علماء میں ہوتا تھا جن کے فتوے پر لوگوں کو اعتماد تھا۔ اس بیش بہا اجتماعی فائدے کے مقابلے میں وہ تھوڑا سا ذاتی نقصان کیا حیثیت رکھتا ہے جو حضرت عائشہ کی جوانی میں بیوی ہوجانے سے پہنچتا۔ اور تعجب تو یہ دیکھ کر ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں یہ اعتراض وہ عیسائی حضرات کرتے ہیں جن کے ہاں کسی اجتماعی مفاد کے بغیر محض بے مقصد تجرد کی زندگی بسر کرنا راہبوں اور راہبات کیلئے صرف قابل تعریف ہی نہیں ہے بلکہ مذہبی خدمات بجا لانے والوں کیلئے لازم بھی ہے‘‘۔ 
مولانا مودودیؒ نے جو دندانِ شکن جواب دیا ہے اسے بھی ملاحظہ فرمائیے: 
’’پھر جن لوگوں کو 9برس کی عمر میں حضرت عائشہؓ کے زِفاف پر اعتراض ہے وہ نہیں جانتے کہ اسلام دین فطرت ہے اور فطری حیثیت سے جب ایک لڑکی کا نشو و نما اتنا اچھا ہو کہ وہ اس عمر میں جسمانی طور پر بالغ ہو چکی ہو تو اس کا شوہر کے پاس جانا بالکل جائز و معقول ہے۔ صرف ایک غیر فطری اور غیر اخلاقی قانون ہی نکاح کیلئے لڑکی اور لڑکے کی ایک خاص عمر مقر ر کرسکتا ہے؛ کیونکہ یہ قید صرف جائز ازدواجی تعلق ہی پر پابندی عائد کرتی ہے، خارج از نکاح تعلقاتِ زن و مرد پر کوئی پابندی نہیں لگاتی ۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ ایسے قوانین بنانے والوں کو عمر نکاح سے پہلے زنا کے ارتکاب پر کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ عملاً ان کے ہاں 9-10سال کی لڑکیاں اور لڑکے آزادانہ جنسی عمل کرتے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں اگر کوئی لڑکی ’’کنواری ماں‘‘ بن جائے تو ان کی ساری ہمدردیاں اسی کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اس وقت کوئی اعتراض نہ اس لڑکی پر ہوتا ہے جس نے عمر نکاح سے پہلے ایک لڑکی کو ماں بنایا۔ ایسی گھٹیا اخلاقی اقدار رکھنے والے آخر کیا منہ لے کر اسلام کے اس قانون پر اعتراض کرتے ہیں کہ جسمانی طور پر جو لڑکے اور لڑکیاں بالغ ہوں ان کا نکاح جائز ہے اور اس کیلئے کسی خاص عمر کی شرط نہیں ہے۔ شادی کیلئے قانوناً ایک عمر مقرر کر دینے کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ اس عمر کو پہنچنے سے پہلے عقدِ حلال بہر حال نہیں ہوسکتا، خواہ فعل حرام کتنا ہی ہوتا رہے‘‘۔ 
یوں تو ازواج مطہراتؓ میں سے ہر ایک کی زندگی خواتین اور خاص طور سے خواتین اسلام کیلئے بہترین اور قابل قدر نمونہ ہے اور سب نے اللہ کے رسولؐ کے کاموں اور تحریک میں جی جان سے حصہ لیا ہے لیکن حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ راقم نے اپنے ایک مضمون ’’سیرت امہات المومنینؓ کی ایک جھلک‘‘ میں حضرت خدیجہؓ کی زندگی کا کچھ حصہ پیش کیا ہے۔ اس مضمون میں حضرت عائشہ صدیقہ کی سیرت کے چند پہلو پیش کرنا چاہتا ہوں جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں حضرت عائشہؓ سے نکاح کا حکم دیا۔ 
جیسا کہ دنیا جانتی ہے کہ حضرت عائشہؓ کمسن تھیں کہ آنحضرتؐ سے آپ کا نکاح ہوا۔ کم سنی ہی میں رخصتی بھی ہوگئی۔ آنحضرتؐ نے ایک کامل اور مثالی بیوی بنانے کیلئے شروع ہی سے تعلیم و تربیت دینی شروع کردی تھی۔ خود حضرت عائشہؓ نہایت شوق و ذوق سے حضورؐ سے علم دین سیکھا۔ جہاں ان سے کوئی غلطی ہوئی آنحضرتؐ نے فوراً ٹوکا اور روکا کبھی سختی سے تو کبھی نرمی سے حضرت عائشہ کی زندگی کا یہ حصہ بھی نمونہ ہے۔ ایسا نمونہ جو نہایت دلکش اور بہترین بھی۔ نصیحتوں سے بھرا ہوا ہے۔ 
اسلامی تعلیم میں آخرت کا عقیدہ بنیادی عقیدہ ہے۔ آخرت کے حساب کے خوف سے ہر انسان کا دل لرز جاتا ہے۔ جب اس سے کوئی خطا سرزد ہوتی تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ توبہ و استغفار کرتا ہے پھر اللہ کا فرماں بردار بن جاتا ہے۔ 
*’’ایک بار آنحضرتؐ نے فرمایا ’’قیامت میں جس سے حساب ہوا، اس پر عذاب ہوا‘‘ غور فرمائیے۔ حضورؐ نے کیسی ڈراوے کی بات ارشاد فرمائی۔ جن لوگوں کی نظر ارشادات رسولؐ پر گہرہ نہیں وہ کہہ سکتے ہیں کہ حساب تو ہر شخص سے ہوگا یہاں تک کہ اگر شہید قرض دار ہوگا تو اس کا بھی۔ 
حضورؐ مسجد نبوی سے گھر (حجرۂ عائشہؓ) میں تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے ایک دلیل کے ساتھ عرض کیا۔ یا رسول اللہ! قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَاباً یَّسِیْراً۔ ’’اس سے آسان حساب لیا جائے گا‘‘ تو پھر آپؐ نے جو فرمایا اس کا مطلب کیا ہوگا؟ 
آپؐ نے سمجھایا ’’جس کے اعمال میں جرح شروع ہوئی وہ تو برباد ہی ہوا‘‘۔ ظاہر ہے کہ جرح اسی کے اعمال میں ہوگی جس میں کھوٹ ہوگی یعنی یہ کہ اس نے کس نیت سے عمل کیا تھا۔
سوچئے ؛ اگر حضرت عائشہؓ حضورؐ سے یہ نہ پوچھ لیتیں تو آج امت کیسی پریشانی میں پڑی ہوتی۔
* قیامت کا منظر قرآن میں جگہ جگہ پیش کیا گیا ہے؛ چنانچہ سورۂ زمر میں ہے: 
’’قیامت کے دن ساری زمین اس کی (اللہ کی) مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے (اللہ کے) ہاتھ میں لپٹے ہوں گے‘‘۔ 
حضرت عائشہؓ نے پوچھا ’’یا رسول اللہ! جب زمین و آسمان اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہوں گے تو لوگ کہاں ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا ’’پل صراط پر‘‘۔ 
دیکھا آپ نے ؛ کتنی مشکل بات کا حل سامنے آیا اور کس کے سوال پر۔ حضرت عائشہؓ کے سوال پر۔ 
* قیامت کے دن انسانوں کی بدحواسی کی کیفیت کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں بہت سی جگہوں پر فرمایا ہے۔ اگر ان مقامات کی تفصیل حضرت عائشہؓ حضورؐ سے نہ پوچھ لیتیں تو قیامت کی وحشت ناکی کا علم ہمیں اس طرح نہ ہوتا جیسا اب ہے۔ 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک وعظ میں فرمایا ’’قیامت میں لوگ ننگے اٹھیں گے‘‘۔ 
اس جملے کی نزاکت کو حضرت عائشہؓ نے ذہن میں رکھا پھر حضورؐ سے پوچھا ’’اے اللہ کے رسول! مرد اور عورتیں سب اکٹھا ہوں گے تو کیا ایک دوسری کی نظریں نہ اٹھ جائیں گی؟‘‘ 
اللہ اکبر! کیا پیارے الفاظ میں حضورؐ نے سمجھایا۔ ’’عائشہؓ! وہ بڑا نازک وقت ہوگا ، سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی، کسی کی خبر تک نہ ہوگی۔ احادیثمیں ایک جگہ آتا ہے کہ جہنم کو دیکھ لینے کے بعد ہر شخص یہی چاہے گا کہ میں بچ جاؤں چاہے سارے لوگ اس میں جھونک دیئے جائیں۔ حضرت عائشہؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا قیامت میں کوئی کسی کو یاد بھی کرے گا؟‘‘ فرمایا: ’’تین موقعوں پر کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔ ایک تو وہ موقع جب اعمال تولے جائیں گے، دوسرے جب اعمال نامے بٹ رہے ہوں گے، تیسرے جب جہنم گرج گرج کر کہہ رہی ہوگی کہ ’’میں تین قسم کے آدمیوں کیلئے مقرر ہوں‘‘۔ 
اب ذرا اس نزاکت پر غور کیجئے کہ جس کے بارے میں حضرت عائشہؓ نے سوال کیا تھا۔ 
* ایک اور نازک سوال ملاحظہ ہو۔ حضرت عائشہؓ خود عورت ذات ہونے کی وجہ سے شرم و حیا کی لطافتوں کو سمجھتی تھیں۔ چنانچہ انھیں خیال آیا کہ ایک کنواری لڑکی نکاح کے وقت رضامندی دیتے وقت کس درجہ شرماتی ہے؛ چنانچہ اسی مشکل کو حضورؐ کے سامنے رکھا تو آپؐ نے فرمایا ’’اس کی خاموشی ہی اس کی رضامندی ہے‘‘۔ 
* ایک بار سورۂ مومنون تلاوت فرمارہی تھیں چوتھی آیت پر رکیں (اور وہ لوگ جو کام کرتے ہیں اور ان کے دل ڈرتے ہیں کہ ان کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے) سوچنے لگیں کہ یہ چور، بدکار اور شرابی کی طرف اشارہ ہے؟ حضورؐ سے پوچھا ’’آپ نے فرمایا‘‘ ا س سے مراد وہ نمازی ہے، روزہ دار ہے جو خدا سے ڈرتا ہے۔ 
* پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں پوچھا کہ ان میں پہل کس پڑوسی سے کی جائے؟ فرمایا کہ جس کا دروازہ تمہارے گھر سے زیادہ قریب ہو‘‘۔ 
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہؓ سے بہت محبت تھی۔ اس کا اندازہ آپؐ کے اس ارشاد سے ہوتا ہے کہ جو آپؐ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا: 
’’الٰہی جو چیز میرے امکان میں ہے (یعنی بیویوں میں مساوات) اس میں عدل سے باز نہیں ؤتا لیکن جو میرے امکان سے باہر ہے (یعنی عائشہؓ کی محبت) اس کو معاف کرنا‘‘۔ 
ایک اور روایت ہے کہ حضرت عمرو بن العاصؓ نے سرورِ کائناتؐ سے پوچھا، ’’یا رسولؐ اللہ! آپؐ کو دنیا میں سب سے زیادہ کون عزیز ہے؟‘‘ 
فرمایا: ’’عائشہؓ‘‘! 
انھوں نے کہاکہ ’’مردوں میں کون عزیز ہے؟ یہ پوچھتا ہوں‘‘۔ 
آپؐ نے فرمایا: ’’عائشہؓ کا باپ‘‘۔ 
حضرت عائشہ صدیقہؓ کا سوکنوں کے ساتھ حسن سلوک: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں گیارہ خواتین آئیں۔ حضرت ماریہ قِبطیہؓ کے بارے میں مورخین اور فقہاء کرامؒ میں اختلاف ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ انھوں نے مصر سے مدینہ پہنچ کراسلام قبول کیا لیکن بعض کی رائے یہ ہے کہ حضرت ماریہؓ کے قبول اسلام کی وجہ سے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؐ سے نکاح کیا۔ مگر اس کے باوجود زیادہ تر مورخین نے ان کا شمار کنیزوں میں ہی کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماریہؓ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ خواتین سے نکاح کیا۔ آپؐ کی سب سے پہلی بیوی حضرت خدؓیجہ تھیں۔ جب تک وہ زندہ رہیں۔ اس وقت تک آپؐ نے دوسرا نکاح نہیں کیا۔ ان کے انتقال کے بعد دوسری شادیاں کیں۔ 
(1 ام المومنین حضرت خدیجہؓ کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ وہ رئیس مکہ خویلد کی صاحبزادی تھیں اور خود بھی با اثر اور رئیس خاتون تھیں۔ ان کے علاوہ جو خواتین آپؐ کے نکاح میں آئیں وہ یہ ہیں: 
(2 ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہؓ قبیلہ عامر بن لوی جو قریش کا بڑا نامی خاندان تھا۔ حضرت سودہؓ اسی خاندان کے رئیس کی بیٹی تھیں، جس وقت حضرتؐ سے ان کی شادی ہوئی تو ان کا بڑھاپا شروع ہوچکا تھا۔ 
(3 ام المومنین حضرت عائشہؓ خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کی لخت جگر۔ حضرت صدیقؓ کا جو مقام تاریخ اسلام میں ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ 
(4 ام المومنین حضرت حفصہؓ خلیفہ دوم حضرت فاروق عمر فاروقؓ کی صاحبزادی۔ حضرت عمرؓ کا نام ہی ان کے تعارف کیلئے کافی ہے۔ 
(5 ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہؓ۔ ام المساکین لقب تھا۔ قریشیہ تھیں۔ حضورؐ سے بہن کا رشتہ تھا۔ 
(6 ام المومنین حضرت ام سلمہؓ قریش کے خاندان مخزوم سے تھیں۔ مخزوم خاندان نہایت مشہور خاندان تھا۔ حضرت خالد اور ابو جہل وغیرہ اسی خاندان سے تھے۔ ام سلمہؓ کے والد ابو امیہ رئیس قوم نہایت فیاض اور مشہور آدمی تھے۔ ’زاد الراکب‘ ان کا لقب تھا؛ یعنی قافلہ والوں کا خرچ اٹھانے والے۔ علم و فضل میں حضرت عائشہؓ کے بعد حضرت ام سلمہؓ ہی کا نمبر ہے۔ نہایت غیرت دار خاتون تھیں۔ 
(7 ام المومنین حضرت زینب بن حجشؓ۔ یہ حضورؐ کی سگی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ عزت و وقار کی مالک تھیں۔ حضورؐ سے قریبی رشتہ تھا۔ اس پر انھیں بڑا فخر تھا۔ 
(8 ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ رئیس قوم، مشہور سیاست داں، سردارِ مکہ ابو سفیان کی بیٹی تھیں۔ حضورؐ پر ایمان لاکر بڑی قربانیاں پیش کیں۔ 
(9 ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارثؓ۔ خاندان بنو مصطلق کے سردار کی بیٹی تھیں۔ یہ خاندان بہادری میں مشہور تھا۔ 
(10 ام المومنین حضرت میمونہؓ قریشیہ ہیں۔ ان کا مرتبہ اتنا بلند تھا کہ جب ان کے پہلے شوہر کا انتقال ہوگیا تو لوگوں نے حضورؐ سے عرض کیا کہ یہ آپؐ کے لائق ہیں؛ یعنی آپؐ ان سے شادی کرلیں۔ 
(11 ام المومنین حضرت صفیہؓ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھیں اور خیبر کے سرداروں میں سے قبیلہ بنو نضیر کے سردار کی دختر تھیں۔ 
اس طرح حضرت عائشہؓ کی دس سوکنیں تھیں اور سب کی سب حسب و نسب میں برتر و بالا، بڑے بلند مرتبے والی، نہایت خود دار اور غیرت مند، سب کو حضورؐ سے عشق، سب دین و اخلاق میں پختہ، شکل و صورت میں کوئی حضرت عائشہؓ سے کچھ کم، کچھ ان کے ٹکر اور کچھ ان سے بڑھ کر اور سب حضورؐ کی محبت کی دعویدار۔ ان سب سے حضرت عائشہؓ سے بڑی بڑی چشمکیں رہیں، لیکن یہ حضورؐ کی صحبت کا اثر تھا کہ سب کے دل ایک دوسرے کی طرف سے آئینے کی طرح صاف و شفاف تھے۔ ان آئینوں کی صفائی کی گواہ کون؟ خود حضرت عائشہؓ۔ اگر حضرت عائشہؓ اپنی سوکنوں کے بارے میں کچھ نہ بتاتیں تو آج ان سب کا کردار اندھیرے میں ہوتا۔ دنیا کی کوئی سوکن ایسی ہے جو اپنی سوکنوں کا مقام اس طرح بلند کرنے کی کوشش کرے، جس طرح حضرت عائشہؓ نے کیا، ملاحظہ ہو۔ 
حضرت خدیجہؓ کے بارے میں وہ تمام حدیثیں جو ان کی فضیلت اور بڑائی میں ہیں ۔ سب حضرت عائشہؓ نے بیان فرمائی۔ حضورؐ پر وحی کا نزول ، حضرت خدیجہؓ کا ایمان لانا، حضورؐ کی نبوت کی تصدیق کرنا، جان و مال اور اولاد کی قربانی دینا، بائیکاٹ کے زمانے میں حضرت خدیجہؓ کی قربانیاں، پھر ان کے انتقال کے بعد حضورؐ کا ان کو یاد کرتے رہنا، یہ سب حضرت عائشہؓ کی زبانی ہی ہمیں معلوم ہوا۔ حضرت عائشہؓ یہ سب بیان کرنے کے بعد فرماتی ہیں: مجھے سب سے زیادہ اس بوڑھی خاتون پر رشک آیا جسے حضورؐ کبھی نہ بھولے۔ کاش! ان کی جگہ میں ہوتی۔ حالانکہ میں نے ان کو دیکھابھی نہیں۔ 
جی ہاں! یہ ایک سوکن دوسری سوکن کی تعریف کر رہی ہے۔ کیا یہ اعلیٰ ظرفی کا اعلیٰ درجے کا نمونہ نہیں ہے؟ اور کیا اس کی مثال کہیں مل سکتی ہے؟‘‘ 
میرا خیال ہے کہ معاندین یا مستشرقین امہات المومنینؓ میں سے اگر حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کی زندگیوں کا گہرا مطالعہ کرلیں تو ان کی رائے میں غیر معمولی تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے۔ مغرب یا مشرق کے دشمنانِ اسلام آج کے حالات میں اسلام پر یا ازواج مطہراتؓ پر محض اس لئے حملے کر رہے ہیں کہ اسلام ان کا فرضی دشمن ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کے پھیلاؤ کو اسلام کے خلاف پروپیگنڈے ہی سے روک سکتے ہیں؛ حالانکہ ان کا پروپیگنڈہ ان کے کام نہیں آرہا ہے۔ امریکہ یا یورپ میں جہاں مسلمان عورتوں کو بے حیائی اور عریانیت کا درس دیا جارہا ہے، پردہ کے خلاف قانون بنایا جارہا ہے۔ حجاب، نقاب اور پردہ قابل جرم ہے۔ وہاں مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ آغوش اسلام میں آرہی ہیں۔ اگر یورپ یا امریکہ میں پانچ افراد اسلام قبول کرتے ہیں تو ان میں سے تین خواتین ہوتی ہیں۔ کیا یہ اسلام کی حقانیت اور صداقت کا بین ثبوت نہیں ہے؟ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com