اللہ کے رسولؐ کی دعائیں

اللہ کے رسولؐ کی دعائیں
ترتیب: عبدالعزیز 
عام طور پر مسلمان دعا کی اہمیت اور اس کی افادیت سے واقف ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دعا مغز عبادت ہے مگر دعا کی قبولیت کے شرائط سے ان کی واقفیت کم ہے اور جو واقف کار ہیں وہ بھی شرائط کو پورا کرنے میں کوتاہی سے کام لیتے ہیں۔ دعا کیلئے بہت ضروری ہے کہ حلال و حرام اس پر واضح ہو اور حرام چیزوں یا کاموں سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔ حرام کھانے پینے اور سننے والوں کی دعا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق قبول نہیں ہوتی۔ لہٰذا دعا کی قبولیت کیلئے اکل حلال ضروری ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس بات کو تفصیل سے سمجھایا گیا ہے۔ 
دعا اور اس کے آداب: عربی زبان میں دعا کا لفظ اور پکار کے معنی میں آتا ہے۔ دعا یدعوا کا مصدر ہے۔ یوں تو دعا اور ندا ہم معنی ہیں، مگر ندا کبھی بغیر نام لئے بھی یا اور ایا کے ساتھ ہوتی ہے اور دعا میں نام لیا جاتا ہے۔ جیسے فلاں اور کبھی دعا کا استعمال ندا کی جگہ اور ندا کا استعمال دعا کی جگہ بھی ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
’’یہ لوگ جنھوں نے خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے انکار کر دیا ہے ان کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے چرواہا جانور کا پکارتا ہے اور وہ ہانک پکار کی صدا کے سوا کچھ نہیں سنتے۔ یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اس لئے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ (سورہ بقرہ، آیت: 171)
اور کبھی دعا کا استعمال تسمیہ یعنی نام رکھنے اور نام لینے کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔ جیسے ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے: لا تجعلوا دعاء الرسول (نور:63)۔ اگر دعا یا اس کے مشتقات کے بعد ’’الیٰ‘‘ استعمال ہو تو اس صورت میں اس کے معنی ابھارنے اور کسی چیز پر آمادہ کرنے کے آتے ہیں، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے کہا:
’’اے میرے رب! قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھے سے چاہتے ہیں‘‘۔ (سورہ یوسف 
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دعا کا لفظ عبادت کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ حافظ ابن القیمؒ لکھتے ہیں کہ وہ تمام آیات جن میں مشرکین کی زبان سے اصنام و معبودانِ باطل کیلئے دعا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس عبادت کا مفہوم مراد ہے جو ضمنی طور پر سوال اور فریاد کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ 
انسان دنیاوی خوش حالی اور مادی ترقی کی بنا پر خواہ اپنے رب سے کتنا ہی دور ہوجائے اور غفلت و نسیان کے کتنے ہی دبیز پردے اس پر پڑجائیں مگر مصائب کے ہجوم میں بے ساختہ فریاد اور دعا کیلئے اس کے ہاتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے اٹھتے ہیں۔ 
کسی نے خوب کہا ہے کہ انسان کے سامنے اپنی ضرورت کیلئے ہاتھ نہ پھیلاؤ۔ اس سے مانگو جس کے فضل و کرم کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔ اگر بندہ اپنے رب سے مانگنا چھوڑ دے تو وہ ناراض ہوجاتا ہے، لیکن انسان کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ جب کوئی اس سے مانگتا ہے تو وہ غضبناک ہوجاتا ہے۔ 
انسان کو جس چیز کی ضرورت ہو خواہ وہ دنیا کا کام ہو یا دین کا اور خواہ اس میں اپنی کوشش کرنا پڑے یا کوشش اور قابو سے باہر ہو۔ سب خدا تعالیٰ سے مانگنا چاہئے، لیکن اتنا ضرور خیال رہے کہ وہ گناہ کی بات نہ ہو۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں ہر شخص کو اپنے رب سے حاجتیں مانگنی چاہئیں اور حضرت ثابتؓ کی روایت میں یہاں تک ہے کہ اس سے نمک بھی مانگے اور جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے وہ بھی اس سے مانگے، (ترمذی)۔ تدبیر و دعا کا ساتھ ساتھ ہونا ضروری ہے۔ اس طرح ہر کام اور ہر مصیبت میں اسی طرح جو اپنے کرنے کی تدبیر ہے وہ بھی کرے اور سب تدبیروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے عاجزی اور توجہ کے ساتھ ساتھ عرض بھی کرتا رہے۔ 
دعا فقط اس کا نام نہیں کہ دو چار باتیں یاد کرلیں اور نمازوں کے بعد اس کو صرف زبان سے آموختہ کی طرح پڑھ دیا یا یہ دعا نہیں ہے۔ محض دعا کی نقل ہے۔ دعا کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے دربار میں درخواست پیش کرنا ہے۔ جس طرح حاکم کے یہاں درخواست دیتے ہیں کم سے کم دعا اس طرح تو کرنا چاہئے کہ درخواست دینے کے وقت آنکھیں بھی اسی طرف لگی ہوتی ہیں۔ دل بھی ہمہ تن ادھر ہی ہوتا ہے۔ صورت بھی عاجزوں کی سی بناتے ہیں۔ اگر زبانی کچھ عرض کرنا ہوتا ہے تو کیسے ادب سے گفتگو کرتے ہیں اور اپنی عرضی کے منظور ہونے کیلئے پورا زور لگاتے ہیں اور اس کا یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم کو آپ سے پوری امید ہے کہ ہماری درخواست پر پوری توجہ فرمائی جائے گی۔ 
دعا مانگنے کیلئے آداب و شرائط دعا کا خیال رکھنا چاہئے۔ اس کی مثال ظاہری جسمانی علاج کی طرح ہے۔ بیمار، دوا کے ذریعہ شفایاب اسی وقت ہوسکتا ہے جبکہ ان شرائط وہدایات کو ملحوظ رکھے جو معالج نے بتائی ہیں اور ان چیزوں سے پرہیز کرے جن سے بچنے کا اس نے حکم دیا ہے۔ محض دوا کا استعمال ہی کافی نہیں۔ یہی حال اس روحانی علاج کا ہے۔ قرآن و حدیث کی دعائیں باطنی اور ظاہری امراض کیلئے اس وقت مفید ہوں گی جبکہ ان کے اثر کو قبول کرنے کی صلاحیت و استعداد کے ان تمام تقاضوں کو بھی پورا کرے۔ جو اس راہ میں ناگزیر ہیں۔ 
قبولیت دعا کے شرائط: (1 اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر ایمان کامل۔ (2 انابت، حضورِ قلب اور سوز یقین سے معمور ہو۔ (3 کبائر سے پرہیز کرے، مثلاً مکر و فریب، غیبت، چغلی، حسد، تکبر وغیرہ۔ (روایت مسلم والترمذی عن ابی ہریرہؓ)، (مستدرک و حاکم)
دعا کے باطنی اور ظاہری آداب: (1 تضرع، خشوع، خضوع، عاجزی و انکساری ہر ہر حرکت سے نمایاں ہو، دل اپنے رب کی عظمت و جلال سے بھرا ہوا۔ (صحاح ستہ، مستدرک حاکم، نسائی) 
(2 اللہ کے فضل و کرم کی توقع اور عذاب کے اندیشہ سے ملے جلے جذبات (بیم و رجا) موجود ہوں۔ قرآن میں مومنین صالحین کی صفات میں خوف اور امید دونوں کا ساتھ ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ ان دونوں کی یکجائی سے انسان میں توازن اور اعتدال پیدا ہوسکتا ہے۔ ابن قیم نے اس حقیقت کو ایک لطیف مثال کے ذریعہ واضح کیا ہے۔ یوں سمجھنا چاہئے کہ اس دنیا کے سفر میں خوف بمنزلہ کوڑے اور تازیانے اور ید حدی خوانی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے سفر کی مشقتیں بآسانی برداشت ہوسکتی ہیں۔ محبت سواری کی تکمیل ہے۔ اگر سوار کے پاس سواری کو قابو میں رکھنے کیلئے کوڑا نہ ہو تو سیدھی راہ سے ہٹنے کا اندیشہ قوی ہے۔ اس کے خوف کے تازیانے کے بغیر حدود الٰہیہ کی حفاظت ناممکن اور گمراہی یقینی ہے۔ خوف و رجا اور محبت سے جو دل بھی خالی ہوگا۔ اس کی اصلاح کی توقع ناممکن ہے اور جس قدر یہ صفات کمزور ہوں گی اسی قدر ایمان کمزور ہوگا۔ 
(3 دعا میں جہاں تک ہوسکے اخفا سے کام لیا جائے۔ حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ سری اور جہری دعا کے درمیان ستر گنا فرق ہے، اس لئے کہ سری دعا ایمان و یقین کو پختہ کرتی ہے۔ ادب و تعظیم اور خشوع و خضور کیلئے بھی یہ طریقہ زیادہ موزوں ہے، اس کے علاوہ اس شکل میں ریا کاری اور نمائش پسندی کے بجائے اخلاص کا پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے، نیز پست آواز کی شکل میں شیطانی وساوس و موانع اور رکاوٹوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ خدا کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی طرف کامل یکسوئی اور پوری توجہ کے مواقع حاصل کرسکے۔ یہ بھی واضح رہے کہ کوئی نعمت خواہ چھوٹی ہو یا بڑی حاسدوں کی نگاہ سے نہیں بچ سکتی۔ پھر اس اعلیٰ نعمت پر حاسدین کا پیدا ہوجانا بعید از قیاس نہیں۔ ایسی صورت میں حاسد کی شرر یا نگاہوں سے بچنے کی شکل یہی ہوسکتی ہے کہ اس نعمت کو پوشیدہ رکھا جائے اور اس کا چرچا نہ کیا جائے۔ 
(4 دعا مانگنے میں حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ یہ ادب قرآن کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے۔ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْن (سورہ بقرہ، آیت:90)اس اعتدال کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔
۱۔۔۔ دعا میں ایسی چیزیں طلب کرنا جن کا داعی اہل نہیں ہے، مثلاً انبیاء کرامؑ کے درجات و مراتب مانگنا۔ 
ب۔۔۔ حرام کاموں پر نصرت طلب کرنا۔ 
ج۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے ایسی آرزو کرنا جو پوری نہیں ہوسکتی، مثلاً قیامت تک کی زندگی یا بشری ضرورت سے بے نیازی حاصل کرنا۔ 
د۔۔۔ ابن جریح ؒ کا قول ہے کہ چلّا چلّا کر دعا مانگنا بھی اعتدا میں شامل ہے۔ 
ہ۔۔۔ سب سے بڑا اور خطرناک اعتدا یہ ہے کہ بندہ دعا و عبادت میں غیر خدا کو بھی شریک کرے اور ان سے اسی طرح مدد طلب کرے جس طرح خدا سے ہوتی ہے۔ 
و۔۔۔ دعا میں تضرع و عاجزی کے بجائے بے پروائی یا تغافل کا اظہار کیا جائے۔ 
(5ان احوال و اوقات میں دعا مانگنے کا خاص طور پر اہتمام کیا جائے۔ جن میں دعا کے مقبول ہونے کی تصریح احادیث میں مذکور ہے۔ 
(6 فراخی ہو یا تنگ دستی ہر حال میں اپنے رب سے دعا و طلب ہو۔ یہ انتہائی خود غرضی ہے کہ مصیبت اور پریشانی میں تو خدا کو پکارا جائے لیکن جب راحت و آرام ہو تو بھول جائے۔ 
(7 دعا کے وقت اپنی حاجت اور ضرورت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرنے سے پہلے حمد و ثنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا ضروری ہے۔ دعا سے قبل دو رکعت کی ادائیگی بھی مسنون ہے۔ 
(8 خدا کی رحمت و نعمت خاص اپنے ہی لئے نہ کی جائے۔ اگر کوئی شخص امام ہے اور وہ دعا کرتے وقت مقتدیوں کو نظر انداز کرکے محض اپنا ہی خیال رکھتا ہے تو یہ طرز عمل خیانت کے ہم معنی ہے۔ 
(9 دعا میں اپنی ضرورت پیش کرنے سے پہلے اپنے گناہوں کا اعتراف ضروری ہے۔ 
(10 دعا کرتے وقت ہاتھ اٹھانا بھی مسنون ہے اور دعا کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہرہ پر پھیر لینا بھی مسنون ہے۔ 
(11 دعا کے وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے منع کیا گیا ہے ۔ 
(12 دعائیہ کلمات کو بار بار دہرانا چاہئے۔ (13 دعا کے خاتمہ پر آمین کہنا بھی مسنون ہے۔ 
اوقاتِ دعا: یوں تو اللہ تعالیٰ ہر آن اپنے بندوں کی فریاد سنتا ہے اور ان کی دعا قبول کرتا ہے لیکن کچھ خاص اوقات ایسے ہیں جن میں دعائیں بہت جلد مقبول ہوتی ہیں اور اپنا اثر دکھاتی ہیں۔ 
(1 سب سے زیادہ اعلیٰ اور مقبول ترین وقت رات کا پچھلا حصہ ہے۔ (مسند احمد) 
(2 جمعہ کے دن میں ایک ساعت۔ (ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ) 
(3 شب قدر۔ (4 اذان(ابو داؤد، مستدرک)۔ (5 اقامت کے وقت۔ 
(6 اذان و اقامت کے درمیان (ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)۔ 
(7 جہاد کی صف بندی کے وقت (طبرانی، ابن حبان، موطا)۔
(8 فرض نمازوں کے بعد (ترمذی، نسائی)۔ (9 سجدے کی حالت میں (مسلم، ابو داؤد، نسائی)۔ 
(10 تلاوتِ قرآن یا ختم قرآن مجید کے موقع پر (ترمذی، طبرانی)۔ 
(11 عرفہ کے دن (ترمذی)۔ (12 ماہ رمضان میں خصوصاً افطار کے وقت۔ 
(13 بارش کے وقت بارش میں کھڑے ہوکر۔ 
(14 ذکر الٰہی کیلئے مسلمان جمع ہوں تو یہ وقت دعا کی قبولیت کیلئے سازگار ہے۔ 
دعاکے مقامات: (1 بیت اللہ شریف۔ (2مسجد نبویؐ۔ (3 بیت المقدس۔ (4 رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ملتزم پر۔ (5 صفا و مروہ پر۔ (6مقام سعی۔ (7 میدانِ عرفات۔ (8 مزدلفہ۔ (9 تینوں جمرات کے پاس۔(10 میزاب کے نیچے۔ (12 مقام ابراہیم کے پیچھے۔ 
مستجاب الدعوات: (1 مظلوم و مضطر۔ (2 باپ کی دعا بیٹے کے بارے میں۔ (3 مسافر۔ (4 نیک اولاد کی دعا ماں باپ کے حق میں۔ (5روزہ دار۔ (6 انصاف پسند حاکم کی دعا۔ (7 مسلمان کی دعا اپنے غیر حاضر مسلمان کیلئے ۔ (8 گناہ سے توبہ کرنے والے کی دعا۔ (9 آیت کریمہ پڑھنے کے بعد کی دعا۔ (10 حاجی جب تک سفر میں ہوتا ہے۔ (11 رات کو جاگنے والا اگر لا الٰہ الااللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ لہ الملک ولہ الحمد و ہو علیٰ کل شیءٍ قدیرo پڑھ کر دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ (ترمذی، بخاری) (جاری) 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com