یہ سچ ہے: میرا باپ کم نہیں میری ماں سے – یا باپ کم نہیں ہے ماں سے

Hafiz Mohammad Zahidگزشتہ مہینے ماں کے عالمی دن کے موقع پر میں نے اپنے کالم میں یہ باورکرایا کہ ماں دن رات میں چوبیس گھنٹے‘مہینے میں تیس دن اور سال میں 365دن مسلسل ممتا کی ذمہ داریاں نبھاتی ہے اس لیے ممتا کے لیے سال میں صرف ایک دن مخصوص کرنا‘ممتا کے رتبے کی توہین کے مترادف ہے۔اس کالم کو سراہتے ہوئے بہت سے دوستوں اور قارئین(جن میں خواتین اور مائیں بھی شامل ہیں) نے باپ کے موضوع پر بھی کچھ لکھنے کی فرمائش کی۔اس پُرزور فرمائش کی وجہ مجھے یہ نظر آئی کہ مغربی معاشروں(جہاں اکثر بچے اپنے باپ کے نام سے بھی آشنا نہیں ہوتے اور ان کی محبتوں کا مرکز ومحور ماں ہی ہوتی ہے) کی طرح اب ہمارے ہاں بھی باپ کو وہ رتبہ اور مقام نہیں دیا جاتا جو ماں کو دیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماں کے اوپر تو لوگوں نے پوری پوری کتابیں لکھ دیں‘نظموں اور اشعار کے انبارلگا دیے‘آئے دن ایسے کئی مضامین مختلف اخبارات اور رسالوں کی زینت بنتے ہیں جن میں ماں کو موضوعِ بحث بنایا ہوتاہے‘مگر باپ اور والد کے موضوع پر نہ توہمارے ادب میں (سوائے چند اشعار کے)نظمیں ہیں‘نہ کتابوں میں باپ کو موضوعِ سخن بنایا گیاہے اور نہ ہی قلم کارباپ کو اپنی تحریرات کا موضوع بناتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا باپ کا رتبہ ومقام واقعی ماں سے کم ہے؟یاکیا باپ اپنی اولادکی خوشی اور سکون کی خاطر ماں سے کم قربانیاں دیتا ہے؟اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو حقیقتیہہے کہ ماں اور باپ دونوں اپنی اولاد کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔اس ضمن یہ بھی ضرور ہے کہ خدمت کے لحاظ سے ماں کا رتبہ باپ کے مقابلے میں تین درجے زیادہ ہے۔اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ماں بچے کو نو ماہ تک اپنے پیٹ میں پالتی ہے اوریہ دور ماں کے لیے واقعی انتہائی مشکل اور تکلیف دہ ہوتاہے۔مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس تکلیف دہ دور میں باپ اپنے ہونے والے بچے کی خاطراپنی بیوی کا اس طرز سے خیال رکھتا ہے کہ اُسے تکلیف کا خاص احساس تک نہیں ہونے دیتا۔یہ بات اس بات کی غماضی کرتی ہے کہ باپ اپنے بچے کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اُس کے لیے اپنے تئیں کوششیں شروع کردیتا ہے۔میں ا پنی بات کروں تو میں نے بھی اپنے بیٹوں(حسن وحسین)کی پیدائش کے دنوں میں اپنی بیوی کا بہت خیال رکھا جسے آج بھی وہ احسان کے طور پریادکرتی ہے۔یہ ایک طرف تو میری اپنی بیوی سے اور دوسری طرف اپنے ہونے والے بچوں سے محبت کی علامت ہے۔
یہ تو میں نے صرف ایک دور کی بات کی ہے‘ورنہ بچے کی زندگی کے تمام ادوار میں باپ اپنے بچوں کی خوشیوں کے لیے ماں کی طرح یا شاید ماں سے بھی بڑھ کرتگ ودو کرتا ہے۔جس طرح ماں اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کو پالتی ہے تو اسی طرح باپ بھی اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کے لیے خوشیاں اکھٹی کرتا ہے۔اس سلسلے میں ‘میں ایک واقعہ ضرور سناؤں گا کہ ہمارے ایک انکل نے مجھے بتایا کہ گرمیوں کے موسم میں ایک رات میری آنکھ کھلی تو میں پانی پینے کے لیے فریج کے پاس گیا۔وہاں دو آم پڑے ہوئے تھے۔ ٹھنڈے آموں کو دیکھ کر میرا دل آم کھا نے کوبہت للچایا ۔میں نے آم نکالا اور کھانے کے لیے کاٹنے ہی لگا تھا کہ مجھے خیال آیاکہ میرے دو بیٹے ہیں اور اگر میں نے ایک آم کھا لیا تو صرف ایک آم بچ جائے گا۔یہ سوچ کر میں نے وہ آم دوبارہ فریج میں رکھ دیا تاکہ میرے دونوں بیٹے اپنا اپنا آم کھا سکیں۔یہ ہے ایک باپ کی اپنے بچوں کے لیے قربانی۔۔۔ شادی سے پہلے میں اس کو صرف ایک واقعہ ہی سمجھتا تھا‘مگر جب اللہ تعالیٰ نے مجھے اولادِ نرینہ سے نوازا تو مجھے پتا چلا کہ واقعی باپ اپنے حصے کی ساری خوشیاں اپنے بچوں پر قربان کردیتا ہے۔اب میں بھی اپنے حصے کی آئس کریم اور پھل اپنے بچوں کو دے دیتا ہوں اور آج کل گرمیوں کے دنوں میں‘میں خود گرمی برداشت کرکے اپنے بچوں کو اُس جگہ سلاتا ہوں جہاں اُن کو پنکھے کی ہوا زیادہ پہنچے اوروہ سکون سے سو سکیں۔
قارئین!ایک ماں اپنے بچوں کے لیے کیا کیا قربانیاں دیتی ہے وہ تو سب کو نظر آتا ہے مگر ایک باپ اپنے بچوں کے لیے کیا کیا کرتا ہے‘شاید وہ اب اولاد کی نظروں سے اوجھل ہوتا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ تو سب جانتے ہیں کہ خدمت کے اعتبار سے ماں کو تین درجے زیادہ حاصل ہیں مگر یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات اور قوانین کے مطابق اولاد کا قانونی حق دار باپ ہوتاہے۔اسی طرح نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان تو زبان زدِ عام ہے کہ’’جنت ماں کے قدموں تلے ہے‘‘ لیکن اس کے مقابلے میں نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان:’’باپ کی رضا میں رب کی رضا اور باپ کی ناراضگی میں رب کی ناراضگی ہے‘‘اتنا مشہور ومعروف نہیں ہے۔اسی طرح آپ نے اکثر جگہوں پر یہ لکھا دیکھا ہوگا:’’یہ سب میری ماں کی دعاہے‘‘لیکن کوئی باپ کی دعا کا ذکرنہیں کرتا‘حالانکہ باپ اپنے بچوں کے لیے ہمہ وقت دعاگو رہتا ہے۔میرے مطابق لوگوں کو یہ فقرہ لکھنا چاہیے:’’یہ سب میرے ماں باپ کی دعا ہے!‘‘
قارئین!آج کی اولادماں کی نسبت باپ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی ‘اس کی چند ایک وجوہات ہیں:(۱)ماں چونکہ سارا دن بچوں کے پاس ہوتی ہے اس لیے اُسے اپنی اولاد سے پیار بانٹنے کا زیادہ وقت ملتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں باپ چونکہ روزگار کے سلسلے میں گھر سے باہر رہتا ہے اس لیے اُسے اپنے بچوں سے بات کرنے اور ان سے ہنسنے کھیلنے کا موقع کم ملتا ہے اس لیے بچپن ہی سے بچے کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ باپ کی نسبت ماں اُسے زیادہ وقت اور توجہ دیتی ہے۔(۲)عموماً یہ ہوتا ہے کہ اولاد کی کسی غلطی پر ماں بچے کو ڈانٹنے کے بجائے یہ ذمہ داری باپ کے کندھوں پر ڈال دیتی ہے اور کہتی ہے کہ رات کو تمہارے بابا کو بتاؤں گی۔ رات کو باپ جب بچے کو سمجھاتا ہے اور کبھی کبھار سختی کی نوبت بھی آجاتی ہے تو بچے کے معصوم ذہن میں یہ سما جاتا ہے کہ میرے بابا مجھے ڈانٹتے ہیں اس لیے وہ بابا کو اُتنی اہمیت نہیں دیتا۔(۳)ہمارے گھروں کا یہ رواج ہے کہ بچے ماں سے سفارش کراکر باپ سے اپنی بات منواتے ہیں اور باپ بھی ماں کی سفارش پر مان جاتا ہے۔اس لحاظ سے بھی اولاد کا التفات ماں کی طرف زیادہ ہوتا ہے اس لیے کہ وہ اس کی سفارشی جو ہوتی ہے۔
اگربنظر غائر دیکھا جائے تو ان باتوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ باپ اپنے بچوں سے کم پیار کرتا ہے۔دیکھئے باپ سارادن گھر سے باہراپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے ہی محنت کرتا ہے اور وہ اپنے بچوں کو ڈانٹتا بھی اسی لیے ہے تاکہ وہ اچھے اور نیک بن سکیں۔ورنہ کون باپ ہے جو بلا وجہ اپنے بچوں کو ڈانٹے۔بچے اتنے معصوم ہوتے ہیں کہ وہ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ باپ ماں کے کہنے پہ بچوں پہ رُعب ڈالتا ہے۔
اس تناظر میں میری تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے باپ کا بھی ماں جتنا احترام کریں‘اُس کی خدمت کریں اوراُس کی قربانیوں کو یاد کریں جو شاید سب کو نظر نہیں آتیں۔باپ اپنے بچوں کے لیے کیا کیا کرتا ہے اس کا احساس انسان کو تب ہوتا ہے جب وہ خود باپ بنتا ہے۔میری والدہ ماجدہ کی طرح میرے والد محترم نے میرے لیے جو کچھ کیا‘اُس کا صحیح احساس اور ادراک مجھے تب ہوا جب میں خود باپ بنا۔آج میں جو کچھ ہوں وہ سب میرے والدین کی محنت اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے والدین کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے اور ہمیں اُن کی اُسی طرح خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس طرح انہوں نے ساری زندگی ہماری خدمت کی۔آمین!
آخر میں ایک گمنام شاعر کی ایک نظم جوباپ کے حوالے سے میرے جذبات کی صحیح عکاسی کرتی ہے:
عزیز تر رکھتا ہے مجھے وہ رگ و جان سے
یہ سچ ہے کہ میرا باپ کم نہیں میری ماں سے
پرانا سوٹ پہنتا ہے‘ کم وہ کھاتا ہے
مگر کھلونے میرے وہ سب خرید کر لاتا ہے
مجھے سوتے ہوئے دیکھتا رہتا ہے جی بھر کے
نجانے کیا کیا سوچ کے وہ مسکراتا رہتا ہے
وہ ماں کے کہنے پہ رعب مجھ پر رکھتا ہے
یہی وجہ ہے کہ وہ مجھے چومتے ہوئے جھجکتا ہے
میرے بغیر تھے سب خواب ویراں اس کے
یہ سچ ہے کہ میرا باپ کم نہیں میری ماں سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com