جب بھی سوچا لکھوں نعتِ رسولِ عربی

جب بھی سوچا لکھوں نعتِ رسولِ عربی
تحریر؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر
نعت کے لغوی و لفظی معنی اگرچہ سادہ و آسان فہم ہیں ،کہ وہ تعریفی و توصیفی کلمات جو سرورِ کونین،مالکِ دوجہاں ﷺکی شانِ اقدس میں تحریر کئے جائیں۔بلکہ میری نظر میں وہ کلماتِ احسن جو ہاتھ باندھے بارگاِ اقدس و مقدس میں نعت گو کی بخشش کا باعث بنیں نعت کہلاتی ہے۔اعتبارِ صنف نعت کی تعریف جتنی آسان و سادہ ہے،موضوعاتی اعتبار سے اپنے اندر کہیں زیادہ حسًاسیت اور ادب کی دامن گیر بھی ہے کہ ذرا سی لفظی چوک اوجِ ثریا سے پاتال کی گہرائیوں میں کہیں بہت گہرائی میں انسان کو دے مارتی ہے۔لہذا موضوع کی حسًاسیت کا تقاضا یہی ہے کہ لفظوں کے چناؤ اور ادب و احترام کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے سنجیدگی و متانت کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئیے۔کہ ہر لفظ کے ایک ایک حروف کی حرکات سے بس ایک ہی تصورِ کمال ابھرتا ہو کہ۔۔۔ورفعنا لک ذکرک۔۔۔کہ اے محبوب ہم نے تمھارے ذکر کو ارفع و اعلیٰ کر دیا۔جب اللہ سبحانہُ وتعالیٰ ذکرِ محبوب کو بلند کرنے کی وعید و نوید بذریعہ قرآن ہم تک پہنچا رہا ہے تو پھر کسی اور کا خیال بھی شرک کے مترادف خیال کیا جانا چاہیئے۔اسی خیال کو علامہ محمد اقبال نے شعری پیراہن یوں پہنایا ہے کہ۔
ہر کہ رمزِ مصطفیٰ فہمیدہ است
شرکِ را در خوف مضمر دیدہ است
یعنی جس نے بھی آقاﷺ کو پہچان لیا آپ کی رمز کو جان لیا اور پہچان لیا پھر کسی اور شخصیت کا خیال نہ صرف خیالِ باطل تصور کیا جائے گا بلکہ مترادفِ شرک سمجھا جائے گا۔موضوع نعت پہ جب خامہ فرسائی کرنے کا خیال من میں اچھلا تو سب سے پہلے جو خیال دل و دماغ میں وارد ہوا وہ سعدی شیرازی کا وہ مشہورِ زمانہ شعر تھا جو ادب و احترام اور عشقِ رسول کی انتہائی بلندیوں کو چھوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
ہزار بار بشویم دہن زمشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است
کہ اپنی زبان کو ایک ہزار مرتبہ بھی اگر مشک و کافور و گلاب سے معطر کر لیا جائے پھر بھی ڈر لگا رہتا ہے کہ اس زبان سے سیًد انس و جان کا نامِ نامی اسمِ گرامی لینا کہیں بے ادبی کے زمرے میں ہی نہ آ جائے۔سعدی شیرازی کا خیال اس لئے بھی دل کو چھوتا ہے کہ جس نام کی برکت اور مناسبت سے ہمارے بگڑے کام پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں ،اس نام کا معنی ہی تعریف و توصیف اور بکثرت و احسن کے ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ’’زمین پہ میرا نام محمدﷺ اور آسمان پہ احمدؐہے،توریت میں اسم محمدؐ اور انجیل میں احمدؐ ہے۔‘‘گویا نبی مکرمؐ کو نامِ احمد سے خاص مناسبت ہے۔حضورؐ کا اسم مبارک محمد و احمد اور مقامِ شفاعت کا نام مقامِ محمود ہے جبکہ امتِ محمدیہ کا نام حمادون ہے۔میر شیر علی افسوسؔ ’’آرائشِ محفل‘‘ کے شروع میں لکھتے ہیں کہ۔۔۔۔محمد نام ہے اس پیشوا کا ۔۔۔۔۔۔خلاصہ ہے وہ سارے انبیا کا۔۔۔۔۔قرآن و حدیث کو لکھنے اور محفوظ کرنے کی تاریخ ،حیاتِ رسولِ عربی التحیتہ والتسلیم کے زمانہ سے ثابت ہو چکی ہے کہ نزولِ وحی کے فوراً بعد آپﷺ کاتبینِ وحی کو بلا کر فرما دیا کرتے تھے کی اس آیت کو فلاں سورۃ سے قبل یا بعد میں تحریر فرما لیا جائے۔اسی طرح یہ بھی کئی حوالوں سے ثابت ہو چکا ہے کہ نعت جو صنفِ شاعری کا سب سے معتبر حوالہ ہے اس کے قواعد و ضوابط اور معیار بھی آنحضورﷺ کی حیاتِ طیبہ میں ہی مقرر ہوئے اور تواریخ کی کتابوں سے ثابت بھی ہو چکا ہے کہ بعض شعراٗ صحابہ کرام کو تو حضورﷺ نے از خود اصلاح بھی دی،گویا نعتیہ صنفِ شاعری بدرالدجیٰ کی فرمائش پر وجود میں آئی،واقعہ یوں ہے ایک روز سید الانبیاٗصحابہ رضوان اللہ اجمعین علیہم کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ارشادِ گرامی ہوا ’’جو لوگ تلوار سے میری مدد کرتے ہیں انہیں چاہیئے کہ زبان سے بھی مدد کریں‘‘حضرت حسان بن ثابت اس اشارے کو سمجھ گئے اور فرمایا یا رسول اللہ میں حاضر ہوں۔اردو ادب میں نعت فارسی اور فارسی میں عربی سے آئی۔اس لئے عربی و فارسی لغت کی طرح اردو لغت میں بھی نعت سے مراد ثنائے رسول اور وصف و کمال ہی لیا گیا ہے۔البتہ اس امر کا تعین کہ لفظِ نعت محبوب کریم کے وصف میں سب سے پہلے کب اور کس نے استعمال کیا اگرچہ مشکل ہے تاہم احادیث و سیرت کی امہات الکتب میں ایسی کچھ روایات مل جاتی ہیں جن سے کچھ حد تک اس کا سراغ مل جاتا ہے ۔جیسا کہ ایک حوالہ حضرت حسان بن ثابت کا دیا جا چکا ہے اور دوسرا حوالہ سید رفیع الدین اشفاق کی تحقیق کا ہے جن کا خیال ہے کہ سب سے پہلے حضورﷺ کے وصف میں حضرت علی ؐ نے توصیفی کلمات کہے خاص کر ان کے یہ کلمات ضرب المثل کی صورت اختیار کر گئے ہیں کہ ’’میں نے آپﷺ سے قبل اور بعد آپﷺ جیسا کوئی انسان نہیں دیکھا‘‘ ایک حوالہ کتب تواریخ میں یہ بھی ملتا ہے کہ جب کفار مکہ رسالت مآبﷺ کی ہجو اور گستاخی کے مرتکب ہوئے تو مسلمان شعراٗ نے موثر طور پر شعروں کی صورت میں پیکرِ رعنائی و زیبائی کا دفاع کیا۔نعت اسی لسانی جہاد کی پیداوار ہے۔دربارِ اقدس میں حضرتِ علیؓ ،اور حضرتِ حسانؓ کے بعد سب سے مضبوط حوالہ ہمیں حضرت کعب بن زہیرؓ کا ملتا ہے جن کا لکھا ہوا قصیدہ آج بھی اپنی اصل شاعری کے ساتھ تاریخ کی کتابوں کی زینت اور عاشقانِ رسولﷺ کے دلوں کی دھڑکن ہے۔وہ جس ہستی کے بارے میں قرآن اس طرح محوِ کلام ہو۔۔۔ورفعنا لک ذکرک۔۔انک لعلیٰ خلق عظیم۔۔۔وما ارسلنٰک الا رحمت اللعالمین۔۔یاایھاالمزمل۔۔یاایھالمدثر۔۔تو اس ذاتِ مطہر و مقدس کو الفاظ کے پیرائے میں محدود کیسے کیا جا سکتا ہے۔بندہِ خدا اس حق کو پورا کرنے ساے قاصر ہے۔ہاں مگر وہ جسے توفیق دے اور آقاﷺ کا کرمِ خاص ہو۔بقولِ غالب
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم۔۔۔۔۔۔کہ آں ذات پاک مرتبہ دانِ محمد است۔
الغرض کہ آپﷺ حضرت حسان بن ثابتؓ سے فرمائش کر کے شعر لکھوایا کرتے تھے اور شعر سنتے وقت صورت یہ ہوتی کہ حسان بن ثابت منبر پر اور آپﷺ فرشِ زمین پہ تشریف فرما ہوتے۔اس ضمن میں اگر سعدی کی عظمت کو سلام پیش نہ کیا جائے تو زیادتی ہو گی کہ جنہوں نے یہ اشعار لکھ کر دشمنانِ سیدالکونین کی زبانیں تا قیامت بند کروا دیں کہ
یا صاحب الجمال یا سید البشر
من وجھک المنیر لقد نور القمر
لا یمکن الثنا کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com