18 ذی الحجہ۔۔۔ یوم شہادت سیدناعثما ن غنیص

18 ذی الحجہ۔۔۔ یوم شہادت سیدناعثما ن غنیص
تحریر: مفتی محمد وقاص رفیعؔ 
نام اور کنیت:
نام عثمان،کنیت ابو عمراورلقب ذوالنورین ہے۔والد کا نام عفان بن ابی العاص اوروالدہ کا نام ارویٰ بنت کریز ہے۔
سلسلہ نسب:
والد کی طرف سے سلسلہ نسب یہ ہے: ’’عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی القرشی۔‘‘ اوروالدہ کی طرف سے سلسلہ نسب یہ ہے:’’ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس بن عبد مناف۔‘‘ اس طرح حضرت عثمان کا سلسلہ پانچویں پشت میں عبد مناف پر آنحضرت اسے مل جاتا ہے۔
ولادت باسعادت:
سنہ ولادت 574ء یا 581 ء یا 593 ء روایت کیا جاتا ہے۔حضرت عثمان ص جب اسلام لائے تو اس وقت آپ کی عمرپہلی روایت کے حساب سے 34 سال ، دوسری روایت کے حساب سے27 سال اورتیسری روایت کے حساب سے15سال بنتی ہے۔ اگر سن ولادت574ء ہوتوشہادت کے وقت عمر 82سال تھی۔ اگر ولادت 581ء میں ہوئی ہو تو شہادت75 سال کی عمر میں پائی۔اوراگر ولادت593ء ہو توبوقت شہادت عمر 63 برس تھی۔ (تاریخ طبری:۳/۴۷۷، طبقات ابن سعد:۳/۱۷۴)
حلقہ بگوشِ اسلام :
یزید بن رومان سے مروی ہے کہ عثمان بن عفان ص اور طلحہ بن عبید اللہص زبیربن العوام صکے نشان قدم پر نکلے، دونوں رسول اللہ اکے پاس گئے، آپ ا نے دونوں پر اسلام پیش کیا، انہیں قرآن پڑھ کر سنایا،حقوق اسلام سے آگاہ کیااور اللہ کی جانب سے بزرگی کاوعدہ کیا تو دونوں ایمان لے آئے اور تصدیق کی،عثمان صنے کہا:’’یا رسول اللہا!میں حال ہی شام سے آیاہوں،ہم لوگ معان اور الزرقاء کے درمیان قریب قریب سو رہے تھے کہ ایک منادی کرنے والا ہمیں پکارنے لگا کہ اے سونے والو!جلدی ہوا کی طرح چلو،کیونکہ احمدامکے میں آگئے ،یہاںآئے تو ہم نے آپ ا کو سنا، عثمان صکا اسلام قدیم تھا،رسولاللہ اکے دارِ ارقم میں داخل ہونے سے پہلے آپ مسلمان ہوئے، حضرت عثمان ذوالنورین صپہلے پہلے اسلام لانے والے(مردوں)میں چوتھے نمبر پر ہیں۔
(اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہؓ:۲/۵۱۶،وطبقات ابن سعدج۳/۔۔۔)
آنحضرت اسے رشتہ داری:
حضرت عثمان ذوالنورین صاگرچہ بنوامیہ کے چشم وچراغ تھے اور آنحضرت ا بنو ہاشم سے تعلق رکھتے تھے،تاہم قریش کے ان دوعظیم خاندانوں اور قبیلوں میں امتزاج ملاحظہ ہو کہ حضرت عثمان صبھی آنحضرت اکے قریبی رشتہ دار تھے۔آپ کی نانی ا م حکیم بنت عبدالمطلب آنحضرت اکے والدحضرت عبداللہ کی جڑواں بہن تھیں،اس طرح آپ حضورا کی پھوپھی کے نواسے ہوئے۔
آنحضرت انے اپنی بیٹی رقیہ کا نکاح آپ اکی ساتھ کیا،جب وہ فوت ہو گئیں تو ان کی بہن ام کلثوم رضی اللہ عنہابھی ان کے نکاح میں دے دی،ام کلثوم رضی اللہ عنہاکی وفات کے بعدآپ انے فرمایا:’’اگر میری چالیس بیٹاں بھی ہوتیں تو یکے بعد دیگرے ان کا نکاح عثمان صکے ساتھ کردیتا۔ ‘‘
’’ذوالنورین ‘‘کہلانے کی وجہ تسمیہ:
چوں کہ آنحضرت اکی دوبیٹیاں یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں اس وجہ سے آپ کو’’ذوالنورین‘‘ یعنی دونوروں والاکہا جاتاہے۔
آنحضرت انے ایک موقع پر فرمایا:’’میں نے کسی کی بیوی کے ساتھ یا ا پنی کسی بیٹی کا نکاح اللہ کی وحی کے بغیر نہیں کیا، آنحضرت اکے اس فرمان سے اللہ اور اللہ کے رسول اکے ہاں آپ کی قدرومنزلت کااندازہ ہوتا ہے۔
حضرت عثمان صنے آپ اکی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہاکے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی، اس موقع پر آنحضرت انے فرمایا:’’یہ جوڑا بہت خوبصورت ہے ۔‘‘
اس طرح ہجرت مدینہ اور ہجرت حبشہ کے بعد آپ کو ’’ذوالہجر تین ‘‘کا لقب عطا ہوا،ابن عساکرمیں ہے :’’حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ا تک کوئی ایسا انسان نہیں گزراجس کے نکاح میں کسی پیغمبر کی دو بیٹیاں آئی ہوں سوائے حضرت عثمان صکے‘‘۔حضرت عثمان صنے کل نو ( ۹) نکاح کیے جن میں سے دس بیٹے اور سات بیٹیاں تھیں۔ (طبقات ابن سعد،خلفائے راشدین ص۱۵۷،اسد الغابہ:۶/ ۵۱۶)
حضرت سیدنا عثمان ذوالنورین صاللہ تعالیٰ کی نظر میں:
حضرت سیدناعثمان ذ و النورین صکی وجہ سے۱۴۵۰صحابہ ث کے لئے جنت کا اعلان کیا گیا، امام ترمذی حضرت انس صسے روایت کرتے ہیں کہ: ’’ بیعت رضوان کے موقع پر حضرت عثمان صحضورا کی طرف سے سفیربن کر مکہ گئے تھے، خبر مشہور ہوگئی کہ عثمانؓ صشہید کر دیئے گئے، آپ انے فرمایا:’’کون ہے جو عثمانؓ کا بدلہ لینے کے لئے میرے ہاتھ پر بیعت کرے گا؟اس وقت ساڑھے چودہ سو صحابہ ثنے حضر ت عثمان ص کا بدلہ لینے کے لئے آپ ا کے دست مبارک پر بیعت کی،اس بیعت کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے درج ذیل الفاظ میں ان خوش نصیب صحابہ کرام ثکے لئے رضا مندی کا اعلان کیا گیا:’’بے شک اللہ تعالی ان مومنوں سے راضی ہو گیاجب انہوں نے آپ کے ہاتھ پر درخت کے نیچے بیٹھ کر بیعت کی ۔خداان کے قلوب کو جانتا ہے پس اس نے طمانیت اورسکون اتارااور فتح ان کے بہت قریب ہے۔‘‘
رسول اللہا کی نظر میں:
(۱) آنحضرت انے فرمایا:’’جنت میں ہر نبی کا ایک ساتھی ہو گا میرا ساتھی عثمان صہو گا۔‘‘
(۲) ابن عساکرنے زید بن ثابت صسے روایت کی ہے کہ آنحضرت انے فرمایا: ’’میرے پاس سے جب عثمان صگزرے تو میرے پاس فرشتہ بیٹھا ہوا تھااس نے کہایہ شہید ہے، ان کو قوم شہید کر دے گی؟مجھے ان سے شرم آتی ہے۔‘‘
(۳) امام بخاری اورامام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت کی ہے کہ آنحضرت انے فرمایا:’’جب حضرت عثمان صہمارے پاس آئے تورسول اللہ ااپنے لباس کو درست فرما لیتے اورفرماتے تھے: ’’میں اس شخص سے کس طرح شرم نہ کروں جس سے فرشتے بھی شرم کرتے ہیں؟‘‘۔
(۴) مستدرک حاکم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت ا نے فرمایا:’’اے عثمان ص !اللہ تعالیٰ تجھے خلافت کی ایک قمیص پہنائے گا،جب منافق اسے اُتارنے کی کو ششں کریں تو اسے مت اُتارنا،یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو‘‘ جس روز محاصرہ کیا گیاتو آپ صنے فرما یا: ’’مجھ سے حضورا نے عہد لیا تھا ،چنانچہ میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں‘ ‘۔
حضرت ابو ہریرہ صسے روایت ہے کہ آنحضرت اکے حکم کے مطابق حضرت عثمان صنے دو دفعہ جنت خریدی ہے، ایک دفعہ رومہ خرید کر اور دوسری دفعہ جنگ تبوک میں ایک ہزار اونٹ دے کر ۔
حضرت عثمان صکی دس خوبیاں:
(۱)حضرت عثمان صفرماتے ہیں کہ:’’اللہ تعالیٰ نے مجھے دس خوبیوں سے نوازا ہے جو میں نے لوگوں میں پوشیدہ رکھی ہیں۔(۲)چنانچہ میں چوتھے نمبر پر اسلام لایا۔(۳)رسول اللہ انے پہلے اپنی ایک بیٹی میرے نکاح میں دے دی۔(۴)جب پہلی فوت ہو گئی تو پھر اس کے بعد دوسری دے دی۔(۵)میں نے اپنے دائیں ہاتھ سے رسول اللہ ا کے ہاتھ پر بیعت کی ہے،اس وقت سے میں نے دائیں ہاتھ کو نجاست سے دور رکھا۔(۶)میں گانے بجانے سے دور رہا ہوں اور نہ ہی میں نے اس کی تمنا کی ہے۔(۷)میں نے زمانہ جاہلیت میں کبھی شراب نہیں پی اور اسلام میں تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔(۸)رسول اکرم انے فرمایا تھا:’’جوشخص زمین کے اس ٹکڑے کو خرید کرمسجد میں شا مل کرے اس کے لئے جنت میں عالی شان گھر ہو گا‘‘چنانچہ میں نے زمین کا وہ ٹکڑا خرید کرمسجد میں شامل کر لیا۔(۹)میں نے غسل خانے میں کبھی ننگے بدن غسل نہیں کیا۔(۱۰)میں نے عہد رسالت ا میں پورا قرآن مجید حفظ کیا۔ (کنزالعمال،سیرت عثمان )
حضرت عثمان صکا طرزِ خلافت:
خلیفۂ ثالث حضرت سیدنا عثمان ذوالنورین صکا دور 12دن کم12 سال پر محیط ہے۔ اس عہد میں کابل سے لے کر مراکش تک وسیع و عریض خطہ اسلام کے سایہ عاطفت میں رہا،شرافت وحیاء اوربے نفسی آپ صکا طرۂ امتیاز تھا،خلفاء میں آپ کی خشیت الٰہی، ور ع و تقوی،للہیت اورعبادت گزاری میں ذرہ برابرفرق نہ آیا، اسلامی حکومت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے آپ تجارتی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکے، اس طرح ذرائع آمدن محدودیا مسدودہو گئے ادھر دریا دلی، فیاضی، جود و سخامیں کوئی فرق نہ آیا،اس طرح آہستہ آہستہ دولت کی فراوانی ختم ہو گئی اوراس حالت کوسمجھنے کے لئے حضرت عثمان صکا ایک قول ملا حظہ ہو جسے امام قاضی ابویوسف رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب الخراج میں نقل کیا ہے: ’’جس وقت میں نے منصب قبول کیا تھامیں پورے عرب میں اونٹوں اور بکریوں کا سب سے زیادہ مالک تھااور آج میرے پاس حج کے دو اونٹوں کے سوا ایک اونٹ یا ایک بکری بھی نہیں۔‘‘
عزیمت کا یہ وہ راستہ تھا جس پر چل کر حضرت عثمان صنے 44 لاکھ مربع میل کے وسیع علاقے پر اسلامی سلطنت قائم کی،ہماری حالت پر غور کیا جائے تومعاملہ سارا بر عکس نظر آتاہے ،یعنی ایک چھوٹے سے چھوٹے عہدے والے انسان کی سب سے پہلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ جس طرح بھی ممکن ہو دولت جمع کرے،ناجائزذرائع سے جائیداد بنانا،بینک بیلنس رکھنا،پلاٹ اور کوٹھیاں تعمیر کرنا اس کی اولین ترجیحات ہوتی ہیں ،پٹواری سے لے کر تحصیل دار تک ہر شخص رشوت ،دھوکہ،فریب اور خیانت کے سارے ریکارڈتوڑ کر راتوں رات امیر بننے کے خواب دیکھتا ہے ،حصول رزق کے لیے تن من دھن لٹا دیتا ہے، وہ اپنے فرائض منصبی بھول کرصرف ذاتی منفعت کو مقدم رکھتا ہے،منتخب اراکین اسمبلی میں ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو انتخا بات میں خرچ کی گئی رقم جمع کرنا سب سے اہم فریضہ خیال کرتے ہیں ،حضرت عثمان صکاد رخشندہ دور اِن ساری خرافات سے کوسوں دورہے، غلط فہمی کج روی کے باعث بعض قلم کاروں نے حضرت عثمان صکے دورکے ایسے واقعات پر بھی طعن کیا ہے جس میں آپ نے بعض اقربا ء کو رقوم عطا کی تھیں ،لیکن تمام کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے کہ حضرت عثمان صنے جس کوبھی رقم دی اپنی جانب سے دی، انہوں نے تو ۱۲ سال تک قومی خزانے سے ایک روپیہ تنخواہ کا نہیں لیا،یہ خلافت اسلامی کا وہ اعجازہے جس پر جتنا بھی رشک کیا جائے کم ہے۔
مدت خلافت:
سیدنا فاروق اعظم صپر جب قاتلانہ حملہ ہوا تو آپ نے عشرہ مبشرہ میں سے چھ (6) نامور شخصیات کو نامزد کر کیا،انہی میں سے خلیفہ کے انتخاب کا حکم دیایہ چھ ( 6) اصحاب حضرت عثمان صحضرت علی صحضرت عبدالرحمان ابن عوف صحضرت طلحہ ص حضرت زبیر ص حضرت سعید بن زیدصتھے ،بالآخر حضرت عبدالرحمن بن عوف صنے خفیہ رائے شماری کے ذریعہ حضرت عثمان صکو خلیفہ نامزد کر دیا،آپ کی مدت خلافت12 دن کم12سال (24 تا 35ھ)44 لاکھ مربع میل پر اسلامی خلافت کا پرچم بلندکیا۔
شہادت:
حضرت عثمان صکے دور خلافت کے آخری سالوں میں آپ کی پے درپے کامیابیوں نے یہود و مجوس اور شرک اور تثلیث کے خوگروں کو نا کوں چنے چبوائے ،وہ کسی طرح بھی عہد عثمانی کی وسعت اورہمہ گیری کو برداشت نہ کر سکتے تھے ،سامنے آکر جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ یہودیوں نے منافقوں کا ایسا لشکر تیار کیا جو حضرت عثمان صپر اقرباء اور خیا نت کا الزام لگانے لگا،منافقت اور دجل و فریب کے بہی خواہوں نے مصر سے ایک سازش کا آغاز کیا،سات سو پچاس بلوائی خط کا بہانہ بنا کرمدینہ منورہ پہنچے ،بغاوت کا ایک ایسا وقت طے کیا گیا کہ مدینہ منورہ کے تمام لوگ حج پر گئے ہوئے تھے، صرف چند افراد یہاں موجود ہوں،ایسے وقت میں امیر المؤمنین کو خلافت سے دستبردار کروا کر اپنے مذ موم مقاصد حاصل کئے جائیں،من مانی کارروائی کے ذریعہ اسلام کے قصر خلافت کو مسمار کر دیا جائے رسول اللہ اکے شہر کو آگ اور خون میں مبتلا کر کے اسلام کی مرکزیت کو پارہ پارہ کر دیا جائے فتوحات اور کامیابیوں کے راستے میں فوری طور پر سد سکندری کھڑی کر دی جائے 35ھ
ذی قعدہ کے پہلے عشرے میں باغیوں نے حضرت عثمان صکے گھر کا محاصرہ کر لیا۔
امام ابن کثیر نے لکھاہے کہ باغیوں کی شورش میں بھی آپ نے صبرو استقامت کا دامن نہیں چھوڑا،محاصرے کے دورا ن آپ کا کھانا پانی بند کر دیاگیا، چالیس ( 40) روز تک بھوکے پیاسے بیاسی (82)سالہ مظلوم مدینہ ،ناشر قرآن، نبی اکے دوہرے داماد،خلیفہ راشد،شرم وحیا کے پیکرسیدنا عثمان صکو 18ذی الحجہ جمعہ کے دن انتہائی بے دردی کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔(البدایہ والنہایہ)
اناللہ وانا الیہ راجعون

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com