اولاد اللہ کی نعمت ہے ۔ بیٹا ہو یا بیٹی

اولاد اللہ کی نعمت ہے ۔ بیٹا ہو یا بیٹی

نیک اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ہمارے نبی ﷺ کے جدّ امجد حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی
پارہ 23؍سورہ والصّفٰت آیت نمبر 100؍ رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْن اِلٰہی مجھے نیک اولاد دے ۔ اللہ نے فرمایا فَبَشَّرْنٰہُ بِغُلَامٍ حَلِیْم پارہ 23؍سورہ والصّفٰت آیت نمبر 101(ترجمہ کنزا لایمان) تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقلمند لڑکے کی۔ متعدد جگہ قرآن میں اللہ نے اولاد جیسی نعمت کا ذکر فرمایا سورہ مریم آیت نمبر 6(ترجمہ کنزا لایمان) اے ذکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں ایک لڑکے کی جس کا نام یحیٰ ہے ۔
اس سے معلوم ہوا نیک و صالح بیٹا اللہ رب العزت کی بڑی رحمت و نعمت ہے کہ رب کریم نے اس سورہ میں فرزند صالح (نیک ) کو رحمت و نعمت فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ بیٹے کی دعا کرنا سنت انبیاء ہے مگر اس لیے کہ وہ توشۂ آخرت ہو(ہاں بیٹی پیدا ہونے کا غم کرنا کفار کا طریقہ ہے) مفسرین، علماء، فقہائے کرام فرماتے ہیں یوں تو سبھی نعمتیں اعلیٰ ہیں پر ایمان کی دولت و اولاد کی نعمت تمام نعمتوں میں اعلیٰ نعمت ہے نعمتوں کے بارے میں فرمان الٰہی ہے پارہ 13؍رکوع 16؍ سورہ ابراہیم آیت نمبر 33؍ وَاَتٰکُمْ مِنْ کُلِّ مَا سَالْتُمُوہُ وَ اِنْ تَعُدُّ وْنِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا ط اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّار (ترجمہ کنزالایمان)اور تمہیں بہت کچھ منہ مانگا دیا اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے بے شک آدمی بڑا ظالم نہ شکرا ہے ۔ تہماری ہر قسم کی منہ مانگی مرادیں کروڑوں نعمتیں تمہارے بغیر مانگے تمہیں انعام میں عطا کیں ۔ اور بہت سی نعمتیں منہ مانگے بخشیں ہم تمہاری ضرورتیں تم سے زیادہ جانتے ہیں ہماری عطا ،ہمارا انعام تمہارے مانگنے پر (موقوف) نہیں کیوں کہ تمہارے ہر رونگٹے پر کروڑوں نعمتیں ہیں اور جب تمہیں اپنے بالوں کا شمار نہیں تو ہماری دی ہوئی نعمتوں کا شمار کیسے ہو سکتا ہے تمہاری گنتی سنکھ پر ختم ہوتی ہے اور وہاں سنکھ سے ابتدا ہوتی ہے ۔
اولاد اللہ رب العزت کی بہت بڑی نعمت ہے : والدین کی خوبیوں کا امین، ان کے خوابوں کی تعبیر،نسلی امتداد (درازئ نسل) کا محرک ،آنکھوں کی ٹھندک،قوت بازو اور خانگی نیرنگیوں کی روح اولاد ہی کا عکس جمیل ہے۔ اگر اولاد نہ ہو تو گھر اندھیرا اور سونامعلوم ہوتا ہے۔اولاد عطا کرنے کا اختیار اللہ رب العزت کے سوا کسی کو نہیں،وہ جسے چاہتا ہے بیٹا دیتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹا اور بیٹی دونوں عطا کرتا ہے ،کسی عورت کو بانجھ کر دیتا ہے اور کسی مرد میں یہ صلاحیت ودیعت نہیں فرماتا ہے پارہ 25؍رکوع5 ؍سورہ شوریٰ آیت نمبر 48-49؍(ترجمہ کنزالایمان) اللہ ہی کے لیے ہے زمین و آسمان کی سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے ،جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمادے اور جسے چاہے بیٹے دے یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں،اور جسے چاہے بانجھ کر دے بیشک وہ علم اور قدرت والا ہے۔ (تفسیر نور العرفان جلد اول صفحہ 779)صاحب تفسیر فرماتے ہیں حقیقی شہنشاہ وہی ہے وہ جسے چاہے حکومت بخشے جیسے بادشاہوں کو ظاہری بادشاہی بخشی، اور اولیا ء اللہ کو باطنی سلطنت عطا فرمائی ۔معلوم ہوا کہ اولاد محض عطائے ربانی ہے۔بڑے قوی طاقتور لوگ ،دولتمند لوگ اولاد سے محروم دیکھے گئے ہیں، کمزوروں کا گھر بیٹوں سے بھرا ہو اہے خیال رہے بزرگوں اور اولیاء اللہ کی دعاؤں سے اولاد ملنا بھی رب کی عطا ہے جیسے حضور ﷺ کی دعا سے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گھر اولاد سے بھر گیا۔ یہ سب صورتیں انبیاء کرام میں بھی پائی جاتیں ہیں چنانچہ حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام کے یہاں صرف لڑکیاں تھیں ،حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صرف لڑکے تھے ،ہمارے حضور ﷺ کو اللہ نے لڑکے ،لڑکیاں دونوں عطا فرمایا،حضرت یحیٰ علیہ السلام و حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی اولاد نہیں تھی،حضرت آدم علیہ السلام کو صرف مٹی سے پیدا کیا جن کے نہ باپ ہے نہ ماں،حضرت حوّا علیہا السلام کو آدم علیہ السلام سے پید اکیا ان کی ماں نہیں،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صرف عورت سے پیدا کیا ان کا باپ نہیں اور باقی تمام انسانوں کو مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا کیا ان کے باپ بھی ہیں اور مائیں بھی ہیں ۔جب اولاد کی نعمت اور وسائل رزق کی فراوانی ،صحت و عافیت کی نعمتیں مل جاتیں ہیں تو انسان تکبر اور غرور کا اظہار کرنے لگتا ہے حالانکہ اللہ کی نعمتوں پر خوش ہونا یا اس کا اظہار کرنا برا نہیں ،لیکن وہ تحدیث نعمت کے طور پر ہو ناکہ بڑائی کے لیے۔
اولاد جیسی نعمت کی قدر یہ ہے کہ حتیٰ الامکان اس کی قدرو قیمت کو سمجھا جائے اس پر توجہ دی جائے۔ مذہب اسلام میں پیدائش سے پہلے ہی ہدایت کا اہتمام کیا گیا ہے لوگ بچوں کے سلسلے میں ہمیشہ تغافل (غفلت) سے کام لیتے ہیں ان کی تربیت سے چشم پوشی نہ صرف یہ کہ ایک معاشرتی اور اخلاقی جرم ہے بلکہ خود ان کے اور ان سے متعلق قوم و ملک کے مستقبل کو تباہ کرنے کے مترادف ہے یہی وجہ ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نے بچوں کی تربیت کو عبادت اور ان کو ایک کلمہ خیر سکھادینے کو صدقہ دینے سے زیادہ بہتر قرار دیا ہے۔ 
قرآن کریم نے بچوں کی آخرت کی ناکامیوں کی ذمہ داری والدین کے سر ڈالی ہے اور خاص کر ایمان والوں کو مخاطب کیا قرآن ارشاد فرما رہا ہے پارہ 28؍ سورہ تحریم آیت نمبر 6؍ یٰاَیُّھٰاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْ اَنْفُسَکُمْ ………. الخ۔ (ترجمہ کنزالایمان) اے ایمان والوتم اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہونگے، اس پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو بڑے تند خو(یعنی سخت دل ) سخت مزاج ہیں جو ارشاد انہیں فرمایا جاتا ہے فوراً بجا لاتے ہیں ،نا فرمانی نہیں کرتے اللہ کی جس کا اس نے حکم دیا ہے جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ذمہ داریوں کے احساس سے بہت متاثر اور فکر مند ہوئے آپ حضور ﷺ کے پاس آئے اے اللہ کے رسول ﷺ اپنے آپ کو دوزخ سے بچانے کا مفہوم تو سمجھ میں آگیا مگر اہل و عیال کو کیسے جہنم سے بچا سکتے ہیں آ پ ﷺ نے ارشاد فرمایا جن چیزوں سے خدا نے تمہیں روکا ہے تم اپنے اہل و عیال کو روکواور جن کاموں کو انجام دینے کا حکم فرمایا ہے تم ان کا اپنے اہل و عیال کو حکم دو۔
سب سے اچھا تحفہ اولاد کے لیے : ترمذی شریف میں حضرت ایوب موسیٰ رضی اللہ عنہ اپنے والد اور اپنے دادا کے واسطے سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایااچھی تربیت سے زیادہ ایک باپ کا اپنے اولاد کے لیے کوئی عطیہ (انعام نہیں)ایک دفعہ سرکار ﷺ نے فرمایا کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر کوئی عطیہ نہیں دے سکتا کہ وہ اسے اچھی تعلیم دے(ترمذی شریف کتاب ابروالصلتہ باب ما جاء فی الادب الوالد) ۔ حضرت مولائے کائنات علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا قول ہے ’’ بچوں کو ادب سکھاؤ اور تعلیم دو‘‘۔ حضرت ابن سیرین سے منقول ہے اولاد کی عزت کرو اور اسے بہترین ادب سکھاؤ، اولاد صالح (نیک) کی تمنا رکھنے والوں کے لئے شریعت نے یہ بھی رہنمائی فرمائی ہے کہ جس وقت مرو ، عورت کے پاس اور انزال (ملنے کا وقت) ہو جائے تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہئیے تاکہ اولاد صالح (نیک )ہو شیطانی اثرات سے پاک ہو۔
بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ جَنَّبْنِیْ الشَّیْطَانَ وَ جَنََّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقَنِیْ۔(ترجمہ) بسم اللہ اے اللہ مجھے شیطان سے دور رکھ اور شیطان کو میری اولاد سے دور فرما۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جو یہ دعا پڑھ لے تو اسکی اولاد کو کبھی شیطان نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ (بخاری شریف، مسلم شریف) جب بیوی امید سے ہو تو زن و شوہر باہم محبت و انس اور یگانگت کا مظاہرہ کریں آپس میں لڑیں جھگڑیں نہیں اس لیے رحم مادر میں پرورش پانے والا جنین خارجی موثرات کی گرفت میں ہوتا ہے جس طرح کیمرے کی آنکھیں جسم کے اندر مخفی گوشوں تک پہنچ کر ایک ایک چیز کو گواہ بنا دیتی ہے۔ ایسے ہی جنین(وہ بچہ جو رحم مادر میں ہو) کی پرورش میں والدین کے سلوک کو خاصہ دخل ہوتا ہے …… ایسے وقت میں اللہ کی طرف رجوع کرتے رہنا چاہیئے جبکہ حمل کے دوران ڈاکٹروں سے رجوع کرتے رہتے ہیں تاکہ ولادت کا مرحلہ آسان ہو تو جس ذات نے اس جنین کے استقرار اور نشونما کا سامان کیا ہے اس رب العزت کی طرف بدرجہ اولیٰ توجہ کرنا اور اس کو راضی رکھنے کی فکرکرنا قریب عقل قرار دیا جائے گا، قرآن پاک میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے پارہ 9؍ رکوع 13؍ سورہ اعراف آیت نمبر 81؍ (ترجمہ کنزالایمان) تو جب حمل ظاہر ہوگیا تو دونوں نے اپنے رب سے دعا کی ضرور اگر ہمیں جیسا چاہئیے (نیک) بچہ دے گا تو بے شک ہم شکر گزار ہوں گے،اچھے بچے ملنے پر تیری عبادت اور شکرگزاری کروں گا۔ 
حضرت لقمان علیہ السلام کے ارشادات میں ہے ’’باپ کا ادب کی تعلیم کے لئے اولاد کو مارنا کھیتی کے لئے آسمان کی بارش کے مثل ہے‘‘ (باپ کی مار اولاد کے لیے مثل بارش ہے) شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’استادکی سزا ماں باپ کے پیار سے بہتر ہے‘‘ ’’الادبُ منَ الاباء والصلاح من اللہ تعالیٰ‘‘ ادب بزرگوں سے اور نیکی اللہ سے ہے۔ ادب بزرگ سکھائیں گے ،نیک اللہ بنائے گا۔ من ادب ابنہ صغیراً قرت عینہ، جس نے بیٹے کو بچپن میں ادب سکھایا بڑے ہونے پر اس سے اسکی آنکھوں کو ٹھنڈک ملے گی۔ اللہ کی اس نعمت (اولاد) کی قدر یہ ہے کہ حتیٰ الامکان اس کی قدر و قیمت کو سمجھا جائے اس پر توجہ دی جائے اور اس کے جو تقاضے ہیں انہیں پورا کیا جائے ۔ ایک عبرت ناک واقعہ ملاحظہ فرماتے چلیں میرا ایک شخص کے یہاں جانا ہوا چھوٹا بچہ بہت رورہا تھا،رونے کی وجہ معلوم کرنے پر انکشاف ہوا کہ بجلی نہیں ہونے کی وجہ کر رو رہا ہے، مجھے حیرت ہوئی کہ اتنی سخت سردی کے موسم میں پنکھے کا کیا کام،معلوم ہوا ٹی.وی (T.V)نہیں چل رہی ہے،بچہ گانا سن کر سوتا ہے،بچہ دو ماہ کا ہو چکا تھا،آذان و اقامت بھی نہیں سنائی گئی تھی (نعوذ باللہ) قارئین اندازہ لگائیں تربیت کا ۔ پھر شکایت کی کہ بچہ والدین کا نا فرمان ہے۔ ترمذی اور ابو داوٗد شریف میں حضرت ابو رافع صحابیٗ رسول ﷺ سے روایت ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا وہ (اپنے نواسے)حسن ابن علی (رضی اللہ عنھما) کے کان میں نماز کی آذان پڑھتے ہوئے جب (حضور کی شہزادی) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ان کی ولادت ہوئی۔
اولاد اللہ کی عطا و نعمت ہے۔نعمت کے بارے میں ارشاد باری ہے پارہ 14؍ سورہ نحل آیت نمبر 17؍ وَ اِنْ تَعُدُّوْ نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا…….. الخ (ترجمہ کنزالایمان) اور اگر اللہ کی نعمتوں کو گنو تو انہیں شمار نہ کر سکوگے بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہزارہا نعمتیں داخلی ہم کو عطا فرمائیں اسمیں اولاد بھی ہے اور کچھ خارجی نعمتیں بھی عطا فرمائیں اور دونوں نعمتیں ہماری شمار سے باہر ہیں چہ جائیکہ ان کا شکریہ ادا ہو، باوجود بندوں کے کفر و شرک و سر کشی کے اپنی نعمتیں بند نہیں فرماتا اور بڑے سے بڑا گناہ توبہ سے معاف فرما دیتا ہے ۔
آج کے ماحول میں بچوں سے بے اعتنائی بڑھتی جارہی ہے ،حصول دولت کی دوڑ (Race)میں انسان اس قدر لگے رہتے ہیں کہ وہ بچوں کے بارے میں سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے بالخصوص مغربی ممالک میں بچے قانون اور امن کے لیے ہزاروں مسائل پیدا کر رہے ہیں امریکہ و یوروپ میں آئے دن اسکولوں میں اندھادھند گولیاں چلانا ،سیکڑوں کو موت کے گھاٹ اتار دینا برابر اخبار کی سرخیاں بنتی رہتی ہیں اس لیے ضرورت ہے کہ ان بچوں کی تربیت اسلامی اقدار (طور طریقے) کے مطابق کی جائے تاکہ وہ بڑے ہوکر ملک و قوم ،خاندان و معاشرہ اور خود اپنی ذات کے لیے مفید ثابت ہو سکے۔ اللہ ہم مسلمانوں کو اس مضمون سے عمل کی توفیق رفیق اور فائدہ نصیب فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com