ماں ایک مرشد ایک مدرسہ : ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْمِ 
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ 

ماں کا لفظ ان بہت سے میٹھے الفاظ میں سے ہے۔جن کا انسان کی زبان اکثر تلفظ کرتی ہے یہ لفظ انسان کی زبان سے بولے جانے والے بہت ابتدائی الفاظ میں سے ہے ۔جو بڑھاپے میں بھی اس کی زبان پہ جاری رہتا ہے یہ لفظ کہنے کو تو Dr. Mohammad Ashraf Asif Jillaliچھوٹا سا ہے مگر اس میں امیدوں ،محبتوں اور وفاؤں کا ایک پورا جہاں موجود ہے ۔یہ لفظ بے قراری میں قرار اورکمزوری میں قوت کا کام دیتا ہے ماں کی داستان حضرت حوا علیہا السلام سے شروع ہوئی جو قیامت تک جاری رہے گی۔ماں بھی ہو اور باایمان بھی ہوتو کتنی بڑی نعمت ہے۔ اولاد حضرت آدم علیہ السلام میں کوئی انسان ایسا نہیں جسکی ماں نہ ہو اور اس کی ماں اس کیلئے امان اور مہربان نہ ہو، کسی کی ماں مان جائے تو جہان مان جاتا ہے بلکہ رحمان مان جاتا ہے ۔ماں کی آواز میں گداز اور نگاہ میں شفا ہوتی ہے ۔ماں کی ذات رب کی دی ہوئی وہ سوغات ہے جس کی ہر جھلک کرم کی برسات ہے ،ماں کے میٹھے بول سے بول بالا ہو جاتا ہے ۔اور ماں کی ہاں سے اجالا ہو جاتا ہے ۔ماں کا تبسم بارش کے بعد نکلنے والے سورج کی شعاعوں کی طرح جسم ،دل اور دماغ سب کو مسرور کرتا ہے ۔ماں کے دست شفقت کا لمس مقناطیس کی طرح بچے کے بدن سے ہر درد و الم کو کھینچ لیتا ہے۔ ماں کے قدموں کے نیچے جنت اور ماں لفظوں کے اوپر عظمت ہے ۔ماں کی تھپکی ہر درد کو سلا دیتی ہے اور ماں کی دعا سوئی قسمت کو جگا دیتی ہے ۔ماں کا معمولی سا دلاسہ بہت بڑا اثاثہ اور ماں کی ہلکی تسکین بھی بہت بڑی تکوین ہوتی ہے ۔
ماں کا وجود ان ہزاروں سمندروں سے بھی بڑا خزانہ جن کی ریت جوہر ہواورجن کا پانی چاندنی اور جن کی چٹانیں خالص سونا ہوں ۔ ماں رحمت خداوندی کا شبنم اور مہر و وفا کا قلزم بھی ہے ،ماں مہک بھی ہے ، ماں مٹھاس بھی ہے، ماں محافظ بھی ہے ،ماں معالج بھی ہے ،ماں اپنی اولاد کے لئے ملجا بھی ہے اور ماوی بھی ہے مگر ماں کی سب سے بڑی شان یہ ہے کہ انسان کیلئے مدرسہ اور مرشد کی حیثیت رکھتی ہے ۔
پنجابی ادب کے بہت بڑے شاعر میاں محمد بخش آف کھڑی شریف رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ 

ؔ ؔ ؔ ؔ ؔ ؂ ماں منّی تاں رب منیا پہلا مرشد مائی 
ایک بہت بڑے عرب مفکر لکھتے ہیں 
اَلْاُمُّ مَدْرَسَۃٌ اِذََا اَعْدَدْتَّھَا ۔۔۔اَعْدَدْتَّ شَعْبًا طَیِّبَ الْاَعْرَاقِ
ماں ایک مدرسہ ہے جب آپ نے اسے اچھی طرح تیار کر لیا تو آپ نے اچھے اوصاف والی قوم تیار کر لی ۔
ایک عورت کی عظمت کا سب سے بڑ اراز یہ ہے کہ انسانی تہذیب و تمدن کے گلشن کی مالن ہے۔ تاریخ بشریت میں توالد و تناسل کے سلسلہ کی حامل ہو نے کے ساتھ ساتھ اعلی انسانی اقدار کی محافظ ہے اس کی گود سے کردار جنم لیتے ہیں اس کی آغوش سے قوموں کے مستقبل تراشے جاتے ہیں ۔ایک عورت محض بچہ جنم دینے سے حقیقۃ ماں کہلانے کی حقدار نہیں بلکہ اس کی تربیت کرنے سے ماں کہلاتی ہے ۔ایک بچے کی تربیت کا مرحلہ اس کی ولادت سے بیس پچیس سال پہلے اس کی ماں کی تربیت سے شروع ہو جاتا ہے ۔ایک صالح ماں بچے کیلئے سو اساتذہ سے بڑا مقام رکھتی ہے ۔اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو ہر بچہ بوقت ولادت ہی ایک ایسی دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے جس کی بہت زیادہ حفاظت کی ضرورت ہو تی ہے ۔ 
شریعت مطہرہ مین اسے فطرت سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
اللہ تعالی کسی بچے کو بھی اگرچہ کا شانے میں پیدا ہو یا کٹیا میں سیکنڈ ہینڈ یا آلودہ دل نہیں دیتا بلکہ سب کو ستھرا اور چمکدار دل عطا کرتا ہے ۔اس نہایت چمکیلے اور نرم و نازک شیشیے کا اولین نگہبان والدین کو بنا یا گیا اگر وہ ہی حفاظت کی بجائے خیانت شروع کر دیں تو بچے کی بد بختی کا سفر شروع ہو جاتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے ۔
کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ
(صحیح بخاری کتاب الجنائز باب ما قیل فی اولاد المشرکین رقم الحدیث :1296 )

ہر بچہ فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہو تا ہے اس کے والدین اس کو یہودی نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں ۔
بچے پر سب سے اولین جو اثر مرتب ہو تا ہے وہ اس کے والدین کا ہے اگر وہ برے ہیں تو اثر برا ہو گا اگر وہ نیک ہیں تو اثر نیک ہو گا ۔اولاد کی تربیت کی ذمہ داری دونوں پر ہے لیکن دونوں کے کردار میں یوں فرق کر سکتے ہیں جیسے دن اور رات میں ہے ،رات بھی ایک وقت ہے اور دن بھی ایک وقت ہے ،رات کے تقاضے اور فوائد اور ہیں ۔اور دن کے تقاضے اور فوائد اور ہیں،مگرانسان دونوں ہی کا محتاج ہے ۔
پھر والدین میں سے بچے کی لوح دل پرماں کے اثرات زیادہ مرتب ہوتے ہیں کیونکہ بچے کی آنکھ کھولتے ہی ماں کی صحبت زیادہ میسر آتی ہے جس میں وہ اپنی ماں کی حرکات و سکنات ،عادات و عبادات کو زیادہ دیکھتا ہے اسی دور میں بچے کی یاداشت کی کاپی کے ابتدائی اوراق لکھے جاتے ہیں ۔اس وقت میں بچہ اگرچہ باقاعدہ طالب علم بن کر مدرسہ میں داخل نہیں ہوا ہوتا مگر انسان کو بعض مدارس اور یونیورسٹیوں کا پڑھا ہوا تو بھول جاتا ہے مگر آغوش مادر کا پڑھا ہوا نہیں بھولتا کیوں نہ ہو سرور کائنات ﷺکا فرمان ہے :
اَلْعِلْمُ فِیْ الصِّغَرِ کَالنَّقْشِ فِیْ الْحَجَرِ 
( المقاصدالحسنۃ للسخاوی و سنن الکبری للبیہقی)

بچپن میں علم یوں ہے جیسے پتھر میں نقش 
ویسے بھی دیکھا جائے تو حقیقی تربیت کا موسم چھوٹی عمر میں ہوتا ہے ۔کیونکہ چھوٹی نرم اور تر ٹہنی کو ہی موڑا جا سکتا ہے ۔جب بڑی ہو جائے تو موڑا نہیں جا سکتا ہاں توڑا جا سکتا ہے اس عمر کا مدرسہ اور خصوصی معلم ومرشد ماں کو ہی قرار دیا جا سکتا ہے ۔خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺنے ارشاد فرمایا کہ 
وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلَی أَہْلِ بَیْتِ زَوْجِہَا وَوَلَدِہِ وَہِیَ مَسْءُولَۃٌ عَنْہُمْ
(صحیح بخاری کتاب الاحکام بَاب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی وَ( أَطِیعُوا اللَّہَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُولِی الْأَمْرِ مِنْکُمْ )رقم الحدیث :6605 )
عورت اپنے خاوند کے اہل بیت اور اولاد کی نگہبان ہے اور اس سے ا ن کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔
شریعت محمدی نے عورت کو معاشرے میں بڑا منصب دیا ہے اور اس کے مطابق اس کی ذمہ داریاں بھی ہیں اسے اپنے خاوند کے گھر کا نگہبان قرار دیا گیا ہے ۔اسے اپنے خاوند کی سلطنت میں بیک وقت کئی وزارتوں کے قلمدان دے دیئے گئے گھر کی اقتصادی حالت ، گھر کا بجٹ ،گھر کی آرائش و زیبائش ، گھریلواملاک کی حفاظت اور مہمانوں کی خدمت وغیرہ یہ تمام شعبہ جات اس کے سپرد ہیں لیکن ان سب میں زیادہ ذمہ داری کیا ہے ۔ امام قسطلانی لکھتے ہیں ۔
اَنْ تَقُوْمَ بِحُسْنِ تَرْبِیَّتِہٖ وَ تَعُھُّدِہٖ 
ارشاد الساری ج 10 ص216 طبع دارالکتب العربی 

وہ عورت اپنے خاوند کی اولاد کی تربیت اور دیکھ بھال کا حق پورا کرے 
گھر میں گرد و غبار کی وجہ سے اس کے خاوند کی ایسی سبکی نہیں ہو گی جو کل معاشرے میں اس کے بچوں کے برے کردار کی کی وجہ سے اس کی رسوائی ہو گی ۔ضروری ہے کہ ماں اپنے بچے کے ناشتے کا بھی خیال رکھے اور نظریے کا بھی لحاظ کرے ۔ماں کے نظریات اور معاملات اولاد کیلئے ایک نصاب زندگی کی پہلی کتاب ہوتے ہیں ۔ ابراہیم لنکن سے کسی نے پو چھا تم نے زندگی میں سب سے بڑی کون سی کتاب پڑھی تو اس نے کہا ’’میری ماں ‘‘
تربیت کے ابتدائی مراحل میں اگر کمی یا کجی رہ گئی تو ساری زندگی خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔

خشت اول چوں نہد معمار کج 
تا ثریا می رود دیوار کج

اگر معمار پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھے تو ثریا تک دیوار ٹیڑھی ہی جاتی ہے۔
لوگ بچوں کے ساتھ بات بات میں مذاق کرنے میں جھوٹ بول دیتے ہیں سمجھتے ہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے یہ بہت خطرناک کام ہے ۔بچے کے اندر یہ کام فیڈ ہو رہا ہے بچے کے ساتھ مذاق میں جھوٹ بولا تووہ سمجھ لے گا جھو ٹ بولنا عیب نہیں ہے ۔
رسول اکرم ﷺ نے عہد طفولیت کیلئے تربیت سے متعلق روشن اصول عطا فرمائے ۔حضرت عبد اللہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں 
دَعَتْنِی أُمِّیْ یَوْمًا وَرَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِی بَیْتِنَا فَقَالَتْ ہَا تَعَالَ أُعْطِیکَ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِیہِ قَالَتْ أُعْطِیہِ تَمْرًا فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّکِ لَوْ لَمْ تُعْطِہِ شَیْءًا کُتِبَتْ عَلَیْکِ کِذْبَۃٌ
(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی التشدید فی الکذب رقم الحدیث :4339 ) 
مجھے میری والدہ صاحبہ نے اپنی طرف بلایا حال یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر تشریف فرما تھے میری والدہ صاحبہ نے کہا کہ آؤ میں تجھے دوں آپ ﷺ نے فرمایا تو اسے کیا دینا چاہتی ہے ؟میری والدہ صاحبہ نے کہا کہ میں اسے کھجور دینا چاہتی ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا کہ اگر تم اس طرح کہنے کے بعد بچے کو کچھ نہیں دو گی تو یہ تمہارے نامہ اعمال میں جھوٹ لکھا جائے گا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ 
مَنْ قَالَ لِصَبِیٍّ تَعَالَ ہَاکَ ثُمَّ لَمْ یُعْطِہِ فَہِیَ کَذْبَۃٌ (مسند امام احمد )

جس نے بچے کو کہا کہ آؤ لے لو پھر اسے کچھ نہ دیا تو یہ جھوٹ ہے ۔ 
تربیت کے ابتدائی مراحل میں والدکی کڑی ذمہ داری ہے ۔لیکن عموما والد کا زیادہ قرب بچے کو بڑی عمر میں ملتا ہے اور والدہ کے ساتھ بچپن کا وہ زمانہ ہمہ وقت گزارتا ہے جب اس کے حافظہ کی نوٹ بک بھر رہی ہوتی ہے ۔جب اس میں اساسی اور کلیدی معلومات فیڈ ہو رہی ہوتی ہیں ،جب اس کی زندگی بھر کے کردار کے نہایت ابتدائی خدوخال ابھر رہے ہوتے ہیں،جب اس میں زندگی کی اچھی یا بری راہوں کا پروگرام انسٹال ہو رہا ہوتا ہے ۔اس لیے ماں نہایت محتاط اور بیدار اسلوب سے ذمہ داری کا نبھانا ہے ۔
جب ایک شرعی عدالت نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو چور نے کہا کہ میرا ہاتھ کاٹنے سے پہلے میری ماں کی زبان کاٹو پوچھا گیا وہ کس لئے تو اس نے کہا کہ جب بچپن میں پہلی مرتبہ میں نے پڑوسیوں کی مرغی کا انڈہ چوری کیا تھا تو میری ماں نے مجھے جھڑکی نہیں دی تھی اور مجھے انڈہ واپس کرنے کو نہیں کہا تھا بلکہ اس نے کہا تھا کہ الحمد للہ میرا بیٹا تو مرد بن گیا ہے ۔اگر میری ماں کی زبان اس جرم پر نہ اتراتی تو میں معاشرے میں چور نہ ہو تا ۔
(تربیۃ الاولاد فی الاسلام : ج 1 ص 177 )
اسلامی تعلیمات کے روشن ابواب میری والدہ محترمہ نے شاید باقاعدہ نہ پڑھے ہو ں مگر ایک عظیم ولی حضرت حافظ الحدیث پیر سید محمد جلال الدین شاہ صاحب کے قرب نے ان کے مزاج میں ان کا مفہوم بھر دیا تھا ۔
وہ ایک شفقت اور مہربانی کی برکھا تھیں،محبتوں اور الفتوں کا عہد بہار تھیں مگر تعلیمی و تربیتی امور میں اپنی ذمہ داری کا ادراک اور احساس رکھتے ہوئے اسے نبھانے کے لئے بھی کوشاں رہتی تھیں ،کبھی تو ہمیں واقعی اس بات کا اچھی طرح احساس ہونے لگتا تھا۔

حفاظت پھول کی ممکن نہیں ۔۔۔اگر کانٹے میں ہو خوئے حریری
17 جون کو ادھر آفتاب غروب ہو رہا تھا اور ادھر میری والدہ ماجدہ کی حیات مستعار کا سورج ڈوب رہا تھا ۔آسمان کا سورج تو اگلے دن نکل آیامگر اس ماں کا سورج قیامت تک طلوع نہیں ہو گا ایک نہ ختم ہونے والی رات کے اندھیرے چھا گئے ۔اتنے دبیز اندھیرے ’’ظلمات بعضھا فوق بعض ‘‘جن میں دلاسوں خوابوں اور خیالوں کے اجالوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔ہاں وہ اپنے کردار کی شکل میں ایک زندہ احساس کی صورت میں میرے ساتھ ہیں ،وہ ایک راسخ العقیدہ ،نیک خو ،محنتی عفت مآب اور پارسا خاتون جنہوں نے ایک زمانہ اپنے والد گرامی اور پھر ہمارے والد گرامی کی امانتوں پر پہرا دیا ۔جنہوں نے ہمیں شستہ نظریات اور شائستہ عادات کا ماحول فراہم کیا ۔جن کی علم دوستی نے ہمارے اندر علم کی لگن پیدا کی ۔جن کی سادگی نے ہمیں فیشن پرستی سے دور رکھا ۔جنہوں نے ہمیں اخلاقی او روحانی اقدار سے پیار اور مغربی تہزیب و تمدن سے نفرت سکھائی ۔انہوں نے ہمیں والد محترم ، اساتذہ اور مشائخ کرام کے ادب کی تعلیم دی ،وہ دم سحر بیدار ہو جاتیں اور ذکر و اذکار سے دن کاآغاز کرتیں ،بڑھاپے اور شدید علالت میں نماز اور روزے وغیرہ کا کثرت سے اہتمام کرتی رہیں ،وہ ہمیں کم کھانے اور کم سونے کی ترغیب دیتی تھیں اور فرمایا کرتیں تھیں کہ بھوک اور نیند دونوں بندے کے کنٹرول میں ہیں انسان انہیں جتنا بڑھائے بڑھتی جاتی ہیں اور جتنا گھٹائے گھٹا سکتا ہے ۔انہیں تلاوت قرآن مجید کا بہت شوق تھا ۔بیماری کے شدید حملے کے دوران بھی سورہ یسین پڑھنے سے انہیں افاقہ محسوس ہوتا تھا اپنی علالت کے آخری ایام میں بھی دو لاکھ مرتبہ کلمہ شریف اور ایک لاکھ مرتبہ آیت کریمہ کا ورد کیااور مجھے بتایا کہ میں حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ تعالی گیارہویں والے پیر حضور غوث پاک کو ایک لاکھ مرتبہ پڑھا ہوا کلمہ شریف ایصال ثواب کرنا چاہتی ہوں ۔
ان کی خوشی کے اہم ترین اوقات میں سے ایک اہم وقت یہ ہوا کرتاتھا کہ جب میں انہیں تراویح میں قرآن مجید کے ختم ہو نے کی خبر دیتا تھا تو نہایت خوش ہوتی تھیں اور فرماتیں کہ وہ حافظ کس چیز کا ہے جو مصلی نہ سنائے اس سال بندہ نے کرسٹل پلازہ شارجہکی مسجد میں 32 ویں مرتبہ تراویح میں قرآن مجید سنایا ہے ۔وہ خوش بھی ہو رہی ہوں گی مگر مجھے ان کی خوشی کا پتہ کیسے چلے ؟ہاں ان کا یہ جملہ میرے لئے آج بھی اور میدان محشر میں خوشی اور سند کی حیثیت رکھتا ہے جو آخری ایام میں بھی متعدد بار فرمایا کہ ’’تیرے تے بچیا میرا لُوں لُوں راضی اے‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com