رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر طائف

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر طائف
ماہ شوال سن10 نبوی میں پیش آنے والا دل دوز واقعہ 
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
اللہ تعالی کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ اسلام کی پاداش میں مشکلات ، مصائب ، تکالیف ، آزمائشوں ، اذیتوں اور امتحانات سے دوچار ہونا پڑا۔ مکہ میں جان لیوا مظالم ، جانثاروں کی مظلومانہ بے بسی اور حبشہ کی جانب ہجرت ، شعب ابی طالب کا تین سالہ محاصرہ و مقاطعہ (سوشل بائیکاٹ ) قریشیوں کے ستم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ یہاں تک کہ ابو لہب اور عقبہ بن ابی معیط کی حکم پر آپ کے سر مبارک پر غلاظتیں انڈیلی گئیں ،انہی دشمنان اسلام کے کہنے پر آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے، انہی کے اشارہ ابرو پر کاشانہ نبوی میں برتنوں کو خراب کیا گیا ، پکتی ہوئی ہنڈیا کو اوندھا کیا گیا ، خدا تعالیٰ کے حلال کردہ رزق میں حرام پلیدی ڈال دی گئی ، آپ کیجسم مبارک کے اونٹوں کے اوجھ ڈالے گئے ، گرد وغبار سے جسم اور لباس مبارک آلودہ کرنے کی بیباکانہ جسارت بھی کی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں یہ صورتحال دیکھ دل گیر ہوئیں اور ان کی زبان مبارک سے بددعائیہ جملے نکلنیتو آپ نے فرمایا: لاتبکی یابُنیۃ فان اللہ مانع اباک۔ اے بیٹی دلگیر نہ ہو تیرے باپ کا اللہ خود محافظ ہے۔ گویا ظلم ، ستم ، اذیت ، تکلیف ، ذہنی کوفت اور جسمانی تشدد جیسا وحشیانہ اور غیر انسانی برتاؤ آپ سے برتا گیا لیکن ان سب کچھ کے باوجود آپ کے صبر وتحمل ،عفو و درگزر ، ضبط و برداشت اور استقلال میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی اور آج تک تاریخ کا ورق ورق آپ کے رحم و کرم ، عزیمت، ثابت قدمی اورفراخی حوصلہ کی داستانیں سنا رہا ہے،جب مکہ کے بچے بچے دشمنی کرنے سے نہ بچے تو آپ نے مکہ سے باہر کی طرف نظر دوڑائی اور طائف کی طرف سفر کا ارارہ فرمایا۔
وہ ہادی جو نہ ہوسکا غیر اللہ سے خائف
چلا اک روز مکے سے نکل کر جانبِ طائف
طائف مکہ سے تقریباً چالیس میل کے فاصلے پر خوب صورت وادی ، زرخیز باغات اور پہاڑ وں سے مزین علاقہ ہے۔ مکہ کے سردار وں نے یہاں کوٹھیاں بنا رکھی تھیں ، قبیلہ ثقیف یہاں آباد تھا، یہ عرب کا طاقتور قبیلہ تھا ، قریش کی اس قبیلہ سے رشتہ داریاں بھی تھیں، یہاں تین بھائی عبدیالیل ، مسعود اور حبیب اس قبیلہ کے سردار تھے۔
بعثت نبوی کا 10 واں سال شوال المکرم کا مہینہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فریضہ تبلیغ کے لیے(غالباً پیدل ) یہاں پہنچے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے ، دس دن یہاں قیام فرمایا، عوام و خواص کے سامنے دین اسلام پیش کیا ، معززین علاقہ کے مکانوں پر تشریف لے گئے اور انہیں دعوت اسلام قبول کرنے کو کہا لیکن سب نے بے رخی کا مظاہرہ کیا آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں کے سرداروں عبدیالیل ، مسعود اور حبیب کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے سامنے اپنے آنے کا مقصد واضح فرمایا۔ لیکن ان بدقسمتوں کی بدنصیبی تو دیکھیے کہ انہوں نے آپ کی دعوت کو نہ صرف ٹھکرایا بلکہ نہایت گستاخانہ رویہ اپناتے ہوئے آپ کا مذاق اڑایا ، ایک نے طنز کا نشتر چبھوتے ہوئے کہا: اگر خدا تعالیٰ نے تجھے رسول بنا کر بھیجا ہے تو وہ خانہ کعبہ کی عزت پامال کر رہا ہے۔ دوسرے نے پھبتی کستے ہوئے کہا :اللہ کو تیرے علاوہ اور کوئی نہیں ملا جسے وہ رسول بنا کر بھیجتا۔ تیسرے نے آوازہ کستے ہوئے کہا: اللہ کی قسم !میں تیرے ساتھ بات نہیں کرتا اگر تو واقعی اللہ کا رسول ہے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے تو رسول کی شان یہ نہیں کہ اس سے بحث کی جائے اور اگر تو خدا پر جھوٹ بول رہا ہے تو میری شان یہ نہیں کہ تجھ جیسے جھوٹے سے بات کروں۔ 
ً اس کے بعد ان حرماں نصیبوں نے طائف کے اوباشوں اور آوارہ گردوں کوآپ کے پیچھا لگا دیا۔ کوئی تالی بجاتا ، کوئی سیٹی بجاتا، کوئی جملے کستا ، کوئی ہلڑ بازی کرتا ، شور، ہڑبونگ اور اودھم مچاتے ہوئے آپ کو طائف کی گلیوں میں لے آئے یہاں دونوں طرف لوگ صف بنائے پتھر ہاتھوں میں لیے کھڑے تھے ، جب آپ کا گزر وہاں سے ہوا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارنا شروع کیے ، سر مبارک سے لے کر پاؤں مبارک بلکہ نعلین مبارک تک آپ لہولہان ہو گئے ، پنڈلیوں اور گھٹنوں پر گہرے زخم آئے۔ بدن مبارک سے خون مبارک بہتا بہتا قدموں تک پہنچا قدموں سے رستا ہوا نعلین مبارک تک پہنچ گیا ، نعلین اور قدمین آپس میں خون کی وجہ سے چمٹ گئے۔ حضرت زید بن حارثہ آپ کو بچانے کے لیے کبھی آگے آتے کبھی دائیں بائیں اورکبھی پیچھے ان کا بھی سر لہولہان ہو گیا۔ پتھروں کے برستی بارش میں کبھی آپ بیٹھ جاتے تو طائف والے آپ کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کر آپ کو دوبارہ کھڑا کر دیتے ، چند قدم چلتے پھر بیٹھ جاتے اور وہ دوبارہ آپ کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑا کرتے اور پتھر برساتے۔
لگتا ہے جب کوئی کنکر بدن پر دین کی خاطر
تو مجھ کو وادی طائف کے پتھر یاد آتے ہیں
جب آپ بے ہوش کر گر پڑے تو حضرت زید بن حارثہ نے آپ کو اٹھایا ، قریب ہی کچھ پانی تھا وہاں لے گئے تاکہ خون کے دھبے دھوئیں ، کچھ دیر بعد طبیعت کچھ سنبھلی تو قریب میں ایک باغ تھا اور انگور کی سایہ دار بیل کے نیچے تھوڑی دیر لیٹ گئے اور معبود برحق کی بارگاہ میں عابد حق پرست بن کر مناجات و دعا میں مشغول ہو گئے۔آپ کے سوز و گداز ، تڑپ اور درد اور زخموں کی ٹیس سے نالہ فریاد میں وہ تاثیر پیدا کی جس سے عرش بریں تک کانپ اٹھا۔ اس موقع پر آپ نے بارگاہ ایزدی میں دعا کی :
’’ اے اللہ میں تجھ ہی سے اپنی بے بسی کا شکوہ کرتا ہوں ، یہ مجھے رسوا کرنا چاہتے ہیں اس کا شکوہ بھی تجھ ہی سے کرتا ہوں ، اے سارے مہربانوں سے زیادہ مہربان۔۔ اے میرے پرودگار!آپ مجھے کن کے حوالے کر رہے ہیں جو مجھ سے دور ہیں جو مجھ سے منہ چڑھا کر بات کرتے ہیں۔۔ اے اللہ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں اور اگر مجھ پر تیرا عتاب نہیں تو مجھے کسی بھی بات کی پرواہ نہیں خداوندا!تیرا تیری عافیت کا دامن بہت وسیع ہے۔۔ اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ مجھ پر تیرا غضب پڑے یا عتاب نازل ہو ، تجھ ہی کو منانا ہے اور اس وقت تک منانا ہے جب تک تو راضی نہ ہو جائے۔۔ ‘‘
یہاں سے اٹھے ، قرن الثعالب پہاڑی سامنے تھی ، اوپر نظر اٹھائی بادل نے آپ پر سایہ کیا ہوا تھا ، بادل پر نظر جمائی تو اس میں جبرائیل امین جلوہ افروز تھے اور عرض کی : یارسول اللہ !اللہ تعالیٰ نے سن لیا ، دیکھ لیا ، تم نے جو کچھ فرمایا انہوں نے جیسا سلوک کیا سب کا سب دیکھ اور سن لیا۔ یہ میرے ساتھ ملک الجبال(پہاڑوں کی نگرانی پر مقرر فرشتہ ) موجود ہیں آپ حکم دیجیے یہ تعمیل کریں گے۔ ملک الجبال نے عرض کی : مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے آپ جو چاہیں حکم کریں میں تعمیل کروں گا آپ حکم دیں مکہ کی دونوں طرف کے پہاڑوں کو ملا کر ان تمام بے ادب اور گستاخوں کو پیس ڈالوں ؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم آزمائش کے دوہرائے پر کھڑے تھے ، ایک آزمائش اہل طائف نے آپ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ، دوسری آزمائش کہ جبرائیل امین اور ملک الجبال ان کو پیس ڈالنے کی فرمائش کے منتظر کھڑے ہیں۔ پہلا امتحان تھا صبر وضبط ، تحمل و برداشت اور استقلال کا دوسرا امتحان تھا دعویٰ رحم و کرم کا ، فراخی حوصلہ اور وسعت ظرفی کا۔اللہ کریم نے آپ کو دونوں میں کامیاب فرمایا ،دریا دلی والے دل رحمت میں کرم کی ایک موج اٹھی اور اہل طائف کی قسمت کے سفینے کو پار لگا دیا ، فرشتوں کو جواب دیا : ارجوا ان یخرج اللہ من اصلابھم من یعبداللہ ولا یشرک بہ شیئا۔ اگر یہ بد نصیب ایمان نہیں لائے تو کیا ہوا میں ان کی آنے والی نسل سے ہرگز ناامید نہیں ہوں ، مجھے اللہ کی ذات پر مکمل یقین اور بھروسہ ہے کہ وہ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو اللہ کی توحید کے قائل اور شرک سے بیزار ہوں گے۔ 
قریب ہی مکہ کے مشہور سردار عتبہ اور شیبہ بن ربیعہ کا باغ تھا ،اس وقت یہ دونوں بھائی وہاں موجود تھے ، انہیں غیرت آئی کہ ہمارے شہر کے ایک معزز شخص سے طائف والوں نے بہت ناروا سلوک کیا ہے ، غیرت تو آئی لیکن شرم پھر بھی نہیں آئی ، اخلاقی ہمت پیدا نہیں ہوئی کہ خود آکر آپ سے بات چیت کرتے۔ چنانچہ اپنے ایک غلام کو انگوروں کے خوشے دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس کا نام عداس تھا اور مذہباً عیسائی تھا۔ وہ آپ کے پاس آیا انگور پیش کیے آپ نے انگور کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو زبان مبارک پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جاری ہو گیا۔عداس کہنے لگا : یہاں کے لوگ تو الرحمٰن الرحیم نہیں کہتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہاں کے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ نینویٰ۔ آپ نے فرمایا :وہی نینویٰ جو میرے بھائی حضرت یونس علیہ السلام کا وطن تھا۔ وہ حیرت زدہ ہو کر پوچھنے لگا کہ آپ یونس علیہ السلام کو کیسے جانتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا میرے اور ان کے درمیان نبوت کا رشتہ ہے وہ بھی اللہ کے نبی تھے اور میں بھی اللہ کا بھیجا ہوا نبی ہوں۔عداس یہ سن کر اسی وقت مسلمان ہو گیا۔ عداس کے قبول اسلام نے گویا آپ کے زخموں پر مرہم کا کام کیا، طائف سے واپسی پر جنات کی ایک جماعت نے اسلام قبول کیا۔
سفر طائف سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دین اسلام کی تبلیغ کے لیے انتہائی کٹھن اور مشکل حالات بھی آئیں تو ثابت قدمی اور خندہ پیشانی سے برداشت کرنے چاہییں ، تبلیغ کی محنت کا نتیجہ اگر وقتی طور نظر نہ بھی آئے تو بھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے محنت کا ثمرہ کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرماتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com