شمع رسالت ا کے پروانے

شمع رسالت ا کے پروانے
تحریر: حافظ محمد ادریس ۔۔۔ ترتیب: عبدالعزیز
یادگار اور کٹھن مہم: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت آپؐ ہی کی سیرت عظمیٰ کا عکس ہے۔ آپؐ نے جنگیں لڑیں تو صحابہ کرامؓ آپؐ کے دست و بازو رہے۔ آپؐ نے صحابہ کو جو کٹھن ذمہ داریاں سونپیں، انھوں نے خود کو اس کیلئے پیش کردیا۔ اخلاص و للہیت، مشکل ترین راہوں کو آسان بنانے کا نسخہ اور کامیابی کا پروانہ ہے۔ صحابہ کرامؓ میں یہ صفات بدرجہ اتم موجود تھیں۔ آپؐ کے صحابہؓ میں سے جب بھی جس روشن ستارے کا تذکرہ زیر مطالعہ آجائے، دل پکار اٹھتا ہے کہ کیا عظیم انسان تھے۔ اسی حوالے سے جنگ خندق کا ایک یادگار واقعہ بڑا ایمان افروز ہے۔ جنگ تو بذات خود بہت بڑی مہم جوئی ہوتی ہے مگر جنگوں کے دوران کئی ایسی خطرناک مہمات بھی بعض فدا کاروں کے سپرد کی جاتی ہیں جن میں بے پناہ خطرات، غیر معمولی صورت حال اور ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہادر سپاہی ایسی مہمات میں جس جذبے کے ساتھ کودتے ہیں اس کی کوئی قیمت ادا نہیں کی جاسکتی۔ ایسی ہی ایک مثالی اور کٹھن مہم کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔ آج کے پُر آشوب حالات میں شمع رسالت کے پروانے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خود سپردگی اور وارفتگی کی یہ اعلیٰ مثال ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ 
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب صحابی، جاں نثار مجاہد اور رازدانِ خاص تھے۔ رازدانِ ختم المرسلین ہونے کا اعزاز ان کیلئے پوری جماعتِ صحابہ کرامؓ میں منفرد ہے۔ ان کے بے شمار کارنامے تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں۔ جنگ خندق میں بھی ان کو ایک ایسا اعزاز حاصل ہوا جس میں ان کا کوئی شریک و سہیم نہیں۔ جب جنگ نے شدت اختیار کی اور اہل مدینہ ناقابل بیان مشکلات میں گھر گئے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہؓ کو ایک خطرناک مہم پر روانہ فرمایا۔ امام حاکمؒ اور امام بیہقیؒ نے اپنی حدیث کے مجموعوں میں اور علامہ ابن کثیر نے اپنی تاریخ البدایۃ والنہایۃ میں اس واقعہ کو بڑے ایمان افروز انداز میں بیان کیا ہے۔ حضرت حذیفہؓ خود راوی ہیں کہ شدت کے وہ دن اور خوف کی وہ راتیں ناقابل برداشت تھیں۔ ابو سفیان اور اس کے اتحادی لشکر بالائی جانب سے محاصرہ کئے ہوئے تھے اور بنو قریظہ کے یہودی زیریں جانب سے موقع کی تلاش میں تھے۔ ہم لوگ اپنے اہل و عیال کی سلامتی کے بارے میں بھی متفکر اور پریشان تھے اور پھر وہ رات جس کا میں ذکر کر رہا ہوں، ویسی رات تو شاید ہی کبھی مدینہ پر آئی ہو۔آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ زمین اور اہل زمین شدید تاریکی میں چھپ گئے تھے۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ طوفانی ہوا اس تیزی سے چل رہی تھی کہ اس کی آواز بجلی کے کڑکے سے کم نہیں تھی۔ پھر سردی اس کڑاکے کی تھی کہ وہ ہوا جسم کو یخ بستہ کئے دے رہی تھی اور تیزی کی وجہ سے یوں لگتی تھی جیسے جسم کو چیر کر گزر رہی ہے۔ ایسے میں منافقین نے بہانے بنانا شروع کئے۔ وہی موقع تھا جب قرآن کے الفاظ میں منافقین نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ’’ہمارے گھر خطرے میں ہیں؛ حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے۔ در اصل وہ محاذ جنگ سے بھاگنا چاہتے تھے‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت مانگنے والوں کو خندہ پیشانی سے اجازت مرحمت فرما رہے تھے۔ 
حضرت حذیفہؓ مزید بیان کرتے ہیں ’’شدید سردی کی وجہ سے میں کپکپارہا تھا۔ میرے اوپر نہ تو کوئی گرم کپڑا تھا نہ دشمن سے بچاؤ کیلئے کوئی زرہ اور ڈھال۔میرے اوپر ایک چھوٹی سی چادر تھی جو فی الحقیقت میری بیوی کی اوڑھنی تھی۔ وہ میرے جسم کو پوری طرح ڈھانپ نہیں سکتی تھی۔ میں اپنی جگہ پر ڈٹا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر تشریف لائے۔ میں اپنے گھٹنوں کے بل گرا ہوا تھا۔ اس اندھیرے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’یہ کون ہے؟ کیا حذیفہ ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: جی ہاں یارسول اللہ! میں حذیفہ ہوں‘‘۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: ’’آج دشمنوں کے ہاں کوئی اہم خبر وقوع پذیر ہونے والی ہے۔ پس تمھیں دشمن کی صفوں میں گھس کر وہ خبر لانا ہوگی‘‘۔ 
اس واقعہ کی بعض مزید تفصیلات یوں ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کی ایک جماعت کے درمیان ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کون ہے جو آج دشمن کی صفوں میں گھس جائے اور ان کے صحیح احوال کی ہمیں خبر دے۔ میں اس کی بخیریت واپسی کا یقین بھی دلاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ یہ شخص جنت میں میرا رفیق و جلیس ہو‘‘۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اس وقت کی شدت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خوف، بھوک اور سردی کی وجہ سے کسی شخص کو ہمت نہ پڑی کہ وہ اپنے آپ کو پیش کرے۔ جب کوئی نہ اٹھا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر مجھے پکارا۔ عجز و انکسار کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا اس لئے میں اس مہم پر روانہ ہوگیا، ورنہ میں بھی دوسرے ساتھیوں کی طرح (شاید) رضاکارانہ یہ خدمت سر انجام نہ دے سکتا۔ 
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حذیفہ جاؤ اور دشمنوں کی صفوں میں گھس جاؤ۔ کانوں سے سننا اور آنکھوں سے دیکھنا مگر زبان اور ہاتھ روکے رکھنا‘‘۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اپنی خدمات پیش کیں مگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی طبیعت کی شدت وحدت کے سبب انھیں یہ خدمت سونپنے سے گریز فرمایا۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سننے کے بعد عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! خدا کی قسم؛ مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں ہے کہ میں قتل ہوجاؤں گا مگر مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں دشمن کے ہاتھوں گرفتار نہ ہوجاؤں‘‘۔ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو ہر گز قید نہیں ہوگا‘‘ پھر دعا فرمائی: ’’اے اللہ! حذیفہؓ کی حفاظت فرمانا‘‘۔ اس واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے مورخ ابن ہشام اپنی تاریخ میں بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہؓ سے فرمایا: ’’جا؛ ان شاء اللہ! نہ تو تمھیں سردی لگے گی اورنہ دشمن سے کوئی خوف محسوس ہوگا‘‘۔ حضرت حذیفہؓ یہ حکم سن کر دشمن کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’اس شدت کی سردی میں مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں گرم حمام کے اندر داخل ہوگیا ہوں‘‘۔ (تفصیلات کیلئے دیکھئے سیرت ابن ہشام، جلد سوم، ص140،نیز الکامل فی التاریخ لا بن الائیر الجزری، جلد دوم، ص126)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ دشمن کے لشکر میں جاپہنچے۔ بغیر کسی وقت کے ابوسفیان کے خیمے میں داخل ہوگئے۔ رات کی تاریکی کا یہ عالم تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ اس وقت ابو سفیان کے پاس سرداران لشکر جمع تھے۔ ابو سفیان اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا: ’’قریش کے لوگو! بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ دشمن کے مخبر اور جاسوس ہماری صفوں میں گھس سکتے ہیں۔ ہر شخص کو اپنے آس پاس نظر رکھنی چاہئے‘‘۔ ابو سفیان کی یہ بات سنتے ہی حضرت حذیفہؓ نے اپنے دائیں جانب بیٹھے ہوئے شخص کا ہاتھ پکڑا اور کہا ’’بتاؤ؛ تم کون ہو؟‘‘ اس نے کہا ’’میں معاویہ بن ابو سفیان ہوں‘‘۔ پھر انھوں نے اپنے بائیں بیٹھے ہوئے شخص کا ہاتھ پکڑا اور اس سے بھی وہی سوال کیا۔ اس نے جواب دیا: ’’میں عمرو ابن العاص ہوں‘‘۔ 
امیر معاویہ اور عمرو بن العاص دونوں’’داہیۃ العرب‘‘ میں سے تھے، مگر یہ عجیب اتفاق ہے کہ ان میں سے کسی کو یہ نہ سوجھی کہ سوال کرنے والے سے وہ پوچھے کہ بھئی؛ تم بھی تو اپنی شناخت کراؤ۔ مورخین کی رائے ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اتنے اعتماد، رعب اور عزم کے ساتھ سوال کیا تھا کہ دونوں عاقل قریشیوں کو یہ شک نہ گزرا کہ وہ کوئی اجنبی ہوسکتا ہے۔ ہمارے نزدیک اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا اثر اور نتیجہ تھا کہ دشمن کی عقل پہ پردہ پڑ گیا۔ یہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ تھا۔ ابو سفیان نے اپنے مشیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’اے سردارانِ قریش! صورت حال کا بنظر غائر جائزہ لینا چاہئے۔ بخدا ہم اس وقت کسی اچھی حالت میں نہیں۔ گھوڑے، اونٹ اور دیگر جانور ختم ہوچکے ہیں۔ بنو قریظہ سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ دم توڑ چکی ہیں اور پھر یہ طوفان بادو باراں جسے تم دیکھ رہے ہو ایک بڑے عذاب کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ ایسے میں یہاں قیام کی کوئی افادیت نہیں ہے۔ کوچ کرو میں نے بھی کوچ کا فیصلہ کرلیا ہے‘‘۔ 
اپنی بات مکمل کرتے ہی ابو سفیان اپنی جگہ سے اٹھا اور چھلانگ لگاکر اپنے اونٹ پہ سوار ہوگیا۔ بیچارے اونٹ کا گھٹنا بندھا ہوا تھا۔ چابک کھانے کے بعد بلبلاتا ہوا وہ اپنے تین پاؤں پہ اٹھ کھڑا ہوا۔ گھبراہٹ میں ابو سفیان کو یہ خیال بھی نہ آیا کہ اونٹ کا گھٹنا کھول لے۔ سپریم کمانڈر کی اس عاجلانہ حرکت کو دیکھ کر عکرمہ بن ابو جہل نے اس کے اونٹ کی نکیل پکڑلی اور کہا: ’’واہ؛ کیا شان ہے کہ لوگ تو یہاں پڑے ہوئے ہیں اور سردار قوم بھاگا جارہا ہے‘‘۔ عکرمہ کی بات سن کر ابو سفیان نے خفت اور خجالت محسوس کی اور اپنے اونٹ کو نیچے بٹھا دیا۔ ابو سفیان نے سب لشکریوں کو پکار پکار کر کہا ’’’’لوگو؛ کوچ کرو!‘‘ چنانچہ سب لوگ کوچ کرنے لگے۔ تیز طوفان نے سب کی سواریاں تتر بتر کر دی تھیں، سامان منتشر ہوچکا تھا اور خیمے گر چکے تھے۔ حضرت حذیفہؓ یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ ابو سفیان نے عمرو ابن العاص سے کہا: ’’اے ابو عبداللہ! محمدؐ اور اس کے ساتھی ضرور ہمارا پیچھا کریں گے، ہمیں ایک دستہ یہاں رکھنا چاہئے‘‘۔ عمرو بن العاص اور خالد بن ولید نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور وہ دونوں دوسو گھڑسواروں کے ساتھ وہاں رک گئے جبکہ باقی لشکر ناکام و نامراد کوچ کرگیا۔ 
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بخیریت واپس اپنے لشکر میں آپہنچے۔ انھوں نے دیکھا کہ طوفان کی شدت مشرکین کے لشکر پر ہی تھی۔ دوسری جگہوں پر ہوا کا اتنا زور نہیں تھا ۔ ابو سفیان کا اتحادی طُلَیحہ بن خُوَیلد اسدی زور زور سے کہہ رہا تھا: ’’لوگو! اپنی جانیں بچالو، محمدؐ نے تمہارے اوپر جادو کر دیا ہے‘‘۔ حضرت حذیفہؓ مزید بیان فرماتے ہیں کہ جب اس سارے منظر سے محظوظ ہوتے ہوئے میں واپس پلٹ رہا تھا تو آدھے راستے میں مجھے بیس گھڑ سوار ملے جنھوں نے عمامے باندھ رکھے تھے۔ ان میں سے دو گھڑ سوار میرے پاس آئے اور کہا: ’’اپنے صاحب کو بتا دینا کہ اللہ تعالیٰ نے دشمن سے اس کی حفاظت فرمائی ہے‘‘۔ یہ اللہ کے فرشتے تھے۔ 
حضرت حذیفہؓ اپنے لشکر میں واپس آئے تو سب لوگوں کو اونگھتے ہوئے پایا مگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’میں نے انتظار کیا، جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو میں نے پوری تفصیلات عرض کیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیلات سن کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر آپؐ ہنسے، یہاں تک کہ اس تاریک رات میں آپؐ کے دندانِ مبارک کی سفیدی نظر آئی‘‘۔ حضرت حذیفہؓ کو اب تک تو سردی نہیں لگی تھی مگر اب شدید سردی نے انھیں آلیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کا اشارہ کرکے انھیں اپنے قریب کیا اور اپنی چادر کا ایک حصہ ان کے اوپر ڈال دیا۔ حضرت حذیفہؓ میٹھی نیند سو گئے۔ فجر کی اذان ہوئی تو بھی ان کی آنکھ نہ کھلی۔ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’قم یانومان‘‘ یعنی اے نیند کے متوالے اٹھ۔ یہ سن کر حضرت حذیفہ جاگ اٹھے اور نماز میں شامل ہوئے۔ 
حضرت حذیفہؓ سے تابعینؒ ان کی آخری عمر میں بہت سوال پوچھا کرتے تھے۔ ابن اسحاق کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ اہل کوفہ میں سے کچھ نوجوانوں نے ان سے پوچھا: ’’اے ابو عبداللہ! آپ لوگوں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا دورِ مسعود دیکھا اور آپؐ کی صحبت پائی‘‘۔ 
انھوں نے فرمایا: ’’ہاں؛ اے بھتیجے!‘‘ 
نوجوان نے کہا: ’’آپ لوگ اس دور میں کیسی زندگی گزارتے تھے؟‘‘ 
حضرت حذیفہ نے جواب دیا: ’’ہم لوگ بڑی جدوجہد اور سختی میں وقت گزارا کرتے تھے‘‘۔ نوجوان نے فرط عقیدت کے ساتھ کہا: ’’بخدا! اگر ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دور پالیتے تو انھیں اپنے کندھے پر اٹھائے پھرتے اور زمین پر چلنے نہ دیتے‘‘۔ 
اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس نوجوان کو ڈانٹ پلائی اور نصیحت بھی کی کہ اسے ایسی باتیں نہیں کہنی چاہئیں۔ پھر آپؓنے جنگ خندق کا وہی واقعہ بیان فرمایا جس میں حالات کی شدت اس حد کو جا پہنچی تھی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بار بار کے سوال پر کوئی جواب دینے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتا تھا۔ [پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دورمیں آپ کے جاں نثاروں کے ساتھ آپ کے دشمنان بھی بکثرت تھے]۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com