کیا ایک دن ؟

کیا ایک دن زمین اپنے اندر کے تمام انسانوں اور خزانوں کو باہر نکال دے گی؟
(سورۃ الزلزال کی مختصر تفسیر)
سورۃ الزلزال کا ترجمہ: جب زمین اپنے بھونچال سے جھنجوڑدی جائے گی۔ اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال دے گی۔ اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے؟ اُس دن زمین اپنی ساری خبریں بتادے گی، کیونکہ تمہارے پروردگار نے اُسے یہی حکم دیا ہوگا۔ اُس روز لوگ مختلف ٹولیوں میں واپس ہوں گے، تاکہ اُن کے اعمال اُنہیں دِکھادئیے جائیں۔ جس نے ذرّہ برابر کوئی اچھائی کی ہوگی، وہ اُسے دیکھے گا، اور جس نے ذرّہ برابر کوئی برائی کی ہوگی، وہ اُسے دیکھے گا۔ 
الفاظ کی تحقیق: ’’اِذَا‘‘ کے معنی ہیں ’’جب‘‘، لیکن جب اس طرح اِذَا سے کسی چیز کا بیان کیا جاتا ہے تو کسی واقعہ کی یاددہانی کرانا مقصود ہوتا ہے، یعنی اُس وقت کو یاد رکھو ۔ اُس دن سے ہوشیار رہو، جب کہ ایسا ایسا ہوگا۔ زُلْزِلَتْ: زلزال سے ہے یعنی ہلادیا جانا۔ اَلاَرْضُ کے معنی زمین کے ہیں۔ یعنی اُس وقت کو یاد کرو جب زمین ہلادی جائے گی۔ زِلْزَالَہَا سے معلوم ہوا کہ یہ عام زلزلہ نہیں بلکہ اپنی نوعیت کا منفرد زلزلہ ہوگا۔ جس کے بعد دنیا کا پورا نظام ہی درہم برہم ہوجائے گا۔ اور اس کے بعد سارے لوگ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ دو مرتبہ صور پھونکا جائے گا۔ پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے بعد ساری دنیا ختم ہوجائے گی۔ اور دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک آنے والے تمام مردے زندہ ہوکر زمین سے اٹھیں گے۔ دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت میں دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے وقت آنے والا دردناک زلزلہ مراد ہے ۔
اَثْقَال ثِقْل کی جمع ہے، جس کے معنی بار اور بوجھ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ مردے ہیں جو زمین میں دفن ہیں۔ جن مردوں کو دفن کرنے کے بجائے جلادیا جاتاہے وہ بھی گویا زمین میں ہی دفن کیے جاتے ہیں کیونکہ اُن کی جلی ہوئی راکھ اور ہڈی وغیرہ سب زمین کا ہی حصہ بن جاتی ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو سونامی کا لقمہ بن جاتے ہیں کیونکہ دراصل سمندر بھی زمین کا ہی ایک حصہ ہے۔ ثقل سے وہ خزانے بھی مراد ہیں جو زمین میں موجود ہیں۔ یعنی دوسری مرتبہ صور پھونکے کے بعد زمین تمام انسانوں اور خزانوں کو باہر نکال دے گی۔ میزائیل اور نیوکلےئر بموں کے زمانہ میں اس کو سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے کیونکہ دور حاضر میں حضرت انسان کی تیار کردہ نئی ٹکنولوجی کے ذریعہ کمرہ میں بیٹھ کر ہزاروں کیلومیٹر کے فاصلہ پر بم گراکر کسی بھی علاقہ کو آن کی آن میں تہس نہس کیا جاسکتا ہے۔
وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَہَا: اس دردناک صورت حال پر انسان پر جو اثر پڑے گا، اس کو اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے: انسان بدحواس ہوکر پکار اٹھے گا کہ ارے، اس زمین کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ تو ٹکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ 
ےَوْمَءِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَہَا، بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحَیٰ لَہَا: اُس دن زمین اپنی ساری خبریں بتادے گی، کیونکہ تمہارے پروردگار نے اُسے یہی حکم دیا ہوگا۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو زمین وآسمان کا خالق ہے، اس کے حکم سے تما م انسانوں کے اچھے برے تمام اعمال کو زمین بیان کردے گی۔ جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس دن زمین اپنی ساری خبریں بتادے گی۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ زمین کی خبریں کیا ہوں گی؟ صحابۂ کرام نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: زمین کی خبر یہ ہوگی کہ وہ ہر مردو عورت پر گواہی دے گی کہ اس نے زمین پر کیا کیا عمل کیا ہے؟ اور وہ بتائے گی کہ فلاں شخص نے فلاں وقت میں فلاں فلاں کام کیا ہے۔ (ترمذی) یعنی جس طرح بینک سے پوری تفصیل معلوم کی جاسکتی ہے کہ اکاؤنٹ میں کتنا پیسہ کہاں کہاں جمع کیا گیا اور کس تاریخ میں کس ATM مشین سے کتنا کتنا پیسہ نکالا گیا۔ آجکل Whatsapp کے ذریعہ یہ پتہ لگایا جاسکتاہے کہ فلاں شخص کہاں کہاں جاتا ہے اور اس نے کونسا لمحہ کہاں گزارا۔ حکومت کی تفتیشی ٹیم کے طلب کرنے پر کسی بھی شخص کی نقل وحرکت کی مکمل اطلاع سوشل میڈیا کے مالکوں سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اس نے انٹرنیٹ یا Whatsapp سے ساری معلومات حذف کردی ہیں، لیکن اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس کا لکھا ہوا یا بولا ہوا ایک ایک حرف اور کسی بھی شخص کو شےئر کیا ہوا ایک ایک فوٹو انسان کی تیار کردہ نئی ٹکنولوجی میں محفوظ ہے، جو کسی بھی وقت سامنے لایا جاسکتا ہے۔ آج کل CCTV کیمرے سے اچھی خاصی معلومات محفوظ ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح زمین اللہ کے حکم سے انسان کی پوری زندگی کے ایک ایک لمحہ کا ریکارڈ سیکنڈوں میں نکال دے گی۔ اور انسان اس کو دیکھ کر ہکّا بکّا رہ جائے گا اور کہے گا کہ آج اس زمین کو کیا ہوگیا ہے۔ 
ےَوْمَءِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتاً لِّےُرَوْا اَعْمَالَہُمْ: اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر ایک اکیلا اپنی انفرادی حیثیت میں ہوگا۔ اس کی تایید بھی قرآن کریم سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اکیلا ہمارے پاس آئے گا۔ (سورۃ مریم ۸۰ ) ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے دربار میں اکیلا حاضر ہوگا۔ (سورۃ مریم ۹۵ ) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو ہزار برس کے دوران جگہ جگہ مرے تھے، زمین کے گوشے گوشے سے گروہ در گروہ چلے آرہے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: جس روز صور پھونک دی جائے گی تو تم فوج در فوج آجاؤ گے۔ (سورۃ النبا ۱۸ ) غرضیکہ جس طرح دنیا میں لوگ Power Point Presentation کے ذریعہ اپنی یا اپنی کمپنی یا انجمن کی کارکردگی پیش کرتے ہیں، اسی طرح بلکہ اس سے لاکھوں گنا زیادہ مستند معلومات کے ساتھ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے تمام اعمال دکھائے جائیں گے۔ 
فَمَن یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَےْراً ےَرَہُ، وَمَن یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شرّاً ےَرَہُ: یہ آیت پہلی آیت کی تفصیل بیان کررہی ہے کہ جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ بھی اس کے سامنے آئے گی اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اس کے سامنے آئے گی۔ یہاں یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ ہر مؤمن وکافر کی چھوٹی بڑی نیکی یا بدی اس کے سامنے آئے گی تو ضرور لیکن اس قاعدہ کے مطابق آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر ذکر فرمائی ہے، یعنی ایک مؤمن یہ دیکھے کا کہ اس سے نیکیوں کے ساتھ فلاں فلاں غلطیاں بھی صادر ہوئی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی فلاں فلاں نیکیوں کو ان کا کفارہ بنا دیا ہے۔ اسی طرح ایک کافر یہ دیکھے گا کہ اس نے برائیوں کے ساتھ کچھ نیک کام بھی کیے ہیں لیکن اس کے وہ نیک کام اس کے فلاں برے اعمال وعقائد کے سبب سے ختم کردئے گئے یا ان کا دنیا میں ہی کوئی بدلہ دے دیا گیا تھا۔ کیونکہ آخرت میں کامیابی کے لیے سب سے بنیادی شرط اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ہے۔ دنیاوی زندگی کے اچھے وبرے اعمال ظاہر ہونے کے بعد ہر شخص اپنا ٹھکانا سمجھ جائے گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ سورۃ القارعات میں بیان فرماتا ہے: جس شخص کے پلڑے وزنی ہوں گے (یعنی جس نے دنیا میں اچھے اعمال کیے ہوں گے) تو وہ من پسند زندگی میں ہوگا (یعنی جنت میں ہوگا)۔ اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے (یعنی جس نے دنیا میں اپنی خواہش کی اتباع کی ہوگی) تو اس کا ٹھکانا ایک گہرا گڑھا ہوگا۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ گہرا گڑھا کیا چیز ہے؟ وہ ایک دہکتی ہوئی آگ ہے (جس میں اللہ کے نافرمانوں اور گناہگاروں کو ڈالا جائے گا)۔
زلزلہ کیوں آتے ہیں؟ زلزلہ اور سونامی آنے کے اسباب پر لوگوں نے بڑی بڑی کتابیں تحریر کر رکھی ہیں کہ آخر زلزلے کیوں آتے ہیں۔ لیکن حقیقی بات یہ ہے ، جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج سائنس نے بہت ترقی کی ہے، چنانچہ بعض لوگ چاند پر زندگی کے آثار تلاش کرنے میں مصروف ہیں، بعض ممالک بڑے بڑے میزائیل بناکر ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے انتظامات کررہے ہیں۔ الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ پوری دنیا کو ایک گاؤں کے مانند بنانے کی کوشش کی جاری ہیں، جس سے ایک علاقہ کی خبر منٹوں میں پوری دنیا میں دیکھی اور پڑھی جاسکے۔ لیکن آج تک زلزلہ کو روکنے یا کم از اس کو ٹالنے یا اس کی تباہی کو کم کرنے کا کوئی بھی انتظام پوری دنیا کے سائنس داں مل کر بھی نہیں کرپائے ہیں۔ زلزلہ کو روکنا تو بہت دور کی بات ہے، اُس کے آنے کے وقت کا صحیح اندازہ لگانا بھی اُن کے لیے آج تک ممکن نہیں ہوا۔ سائنس داں دنیا کے عجیب وغریب نظام کو دیکھ کر یہی کہنے پر مجبور ہیں کہ ابھی تو وہ اس دنیا کا بہت تھوڑا حصہ ہی سمجھ سکے ہیں۔ اب تھوڑا سوچیں کہ دنیا کا اتنا بڑا نظام کسی بڑی طاقت کے بغیر کیسے چل سکتا ہے؟ ہر گز نہیں، ہرگز نہیں۔ اس لیے زلزلوں سے عبرت حاصل کریں اور اس پوری کائنات کے خالق، مالک اور رازق کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس کی مخلوقات سے یقیناًاستفادہ کریں لیکن اس کے احکام پر عمل کرتے ہوئے کیونکہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ دنیا کے کسی بڑے ملک کے سربراہ ہونے کے باوجود، دنیا میں سب سے زیادہ دولت رکھنے کے باوجود، دنیا کے بڑے سے بڑا سائنس داں بننے کے باوجود اور دنیا میں بہت زیادہ شہرت حاصل کرنے کے باوجود ہم بھی سارے انسانوں کی طرح ایک دن زمین بوس ہوجائیں گے اور لوگ آہستہ آہستہ ہمیں بھول جائیں گے۔ صحیح معنی میں آج سائنس ترقی حاصل کرنے کے باوجود بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ موت کا مزہ نہ چکھنے کی خواہش رکھنے کے باوجود آخر تمام انسان مر ہی کیوں جاتے ہیں اور وہ کیوں پیدا ہوئے ہیں؟
زلزلے کے جو دنیاوی اسباب ذکر کیے جاتے ہیں، اُن کا ہم انکار نہیں کرتے کیونکہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے دار الاسباب بنایا ہے۔ لیکن ہمارا یہ ایمان وعقیدہ ہے کہ جس طرح پوری کائنات خود بخود قائم نہیں ہوگئی، اسی طرح زلزلے خود بخود نہیں آتے، اصل میں اس کے پیچھے اللہ کا حکم ہوتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی، اُس کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا، تاکہ انہوں نے جو کام کیے ہیں اللہ اُن میں سے کچھ کا مزہ انہیں چکھائے، شاید وہ باز آجائیں۔ (سورۃ الروم ۴۱) یعنی دنیا میں جو عام مصیبتیں لوگوں پر آئیں، مثلاً قحط، وبائیں، زلزلے، ظالموں کاتسلط، اُن کا اصل سبب یہ تھا کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کی، اور اس طرح یہ مصیبتیں اپنے ہاتھوں مول لیں۔ اور اُن کا ایک مقصد یہ تھا کہ اِن مصائب سے دوچار ہوکر لوگوں کے دل کچھ نرم پڑیں اور وہ اپنے برے اعمال سے باز آئیں۔ 
نبی اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام سے زلزلے آنے کے جو اسباب منقول ہیں اُن میں سے چند حسب ذیل ہیں: لوگوں میں زنا کا عام ہونا۔ سود کا عام ہونا۔ شراب کا کثرت سے پیا جانا، لوگوں کا گانے بجانے کو اپنا مشغلہ بنانا۔ اچھائیوں کا حکم اور برائیوں سے لوگوں کو روکنے کا عمل بند کردینا۔ لوگوں کا ان برے اعمال کو صرف کرنا ہی نہیں بلکہ انہیں جائز اور وقت کی ضرورت سمجھنے لگنا۔ زلزلے آنے پر ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنے گناہوں سے معافی مانگنی چاہئے، کثرت سے توبہ واستغفار کرنا چاہئے اور بڑے گناہ خاص کر مذکورہ بالا گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ کسی جگہ زلزلہ آنے یہ سمجھ کر کہ یہ اللہ کا عذاب ہے، زلزلے کے متاثرین کی مدد کرنا نہ چھوڑیں بلکہ ان کی مدد کرنا ہماری دینی وانسانی واخلاقی ذمہ داری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com