دعوت دین کا طریقہ قرآن و سیرت رسول ﷺ کی روشنی میں 


دین کی دعوت دینا سنت انبیاء ہے ۔حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر تمام انبیائے کرام نبیوں کے سردار حضور محمدمصطفےٰ ﷺ نے اللہ کے حکم سے یہ کام انجام دیا ۔ہر زمانے میں اللہ نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کیلئے انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا تا کہ اسکے بندے اللہ اور اس کے بھیجے ہو ئے پیغمبروں و رسولوں پر ایمان لا ئیں اور صحیح را ستے پر چلیں ۔پیغمبروں کی تمام تعلیمات میں عقیدہ تو حید کی تعلیم سب سے پہلے اور بنیادی تعلیم تھی ۔اس کام پر اللہ نے بڑا اجر و ثواب بھی رکھا ہے ۔دعوتِ دین کا کام جہا ں عظمت اور اہمیت کا حامل ہے وہیں یہ انتہائی سخت صبر آزما اور جوکھم (خطرناک مشکل )بھرا کام بھی ہے ۔قرآن و احادیث ،انبیا ئے کرام کی سیرت میں اسکی صراحت موجود ہے ۔تمام انبیائے کرام اور اللہ کے محبوب نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ نے اس فریضہ کے ادا کر نے میں بے انتہا تکلیفیں برداشت کی ہیں جو اہلِ علم سے مخفی ٰ نہیں ۔انبیاء علیہم السلام نے انسانوں کو را ہ راست و حق کی طرف بلا نے کیلئے جو طریقہ اپنا یا وہ پیغام پہنچا نے اور نصیحت و تلقین کر نے کا تھا ۔ضرورت پڑنے پر اس کی بھی اجازت دی گئی کہ مخاطبین سے اچھے طریقے سے بحث و مباحثہ کیا جا ئے نبی کریم ﷺ کو اللہ نے یہ حکم دیا ۔(۱)اُدْعُ اِلیٰ سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمُوْعِظَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بِاالَّتِیَ ھِیَ اَحْسَنُ ط اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَھُوَ اَعْلَمُ بِاالْمُھْتَدِیْن(القرآن سورۃ النحل، آیت 125)ترجمہ :۔اے نبی !اپنے رب کے را ستے کی طرف دعوت دو ،حکمت اور عمدہ نصیحت کے سا تھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پرجو بہترین ہو تمہا را رب ہی زیادہ بہتر جا نتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہ راست پرہے (کنز الایمان )اللہ رب العزت نے دعوت دینے کے تین آداب کی رعایت کر نے کا حکم دیا ہے ۔(۱)حکمت (۲)موعظت حسنہ (۳)مباحثہ دعوت کے بنیا دی اصول ہیں ۔دعوت دین پیش کر نے پر لوگ اعتراض بھی کر سکتے ہیں اور طرح طرح کے سوالات کرتے ہیں تو داعی کو اسکی علمی حیثیت کے اعتبار سے حکمت کے سا تھ مباحثہ مناظرہ (DEBATE)کرنا پڑ تا ہے اور دلائل کے سا تھ حق و سچ بتا نا پڑتا ہے تا کہ حق وباطل کی سمجھ آجا ئے ۔اب اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے قعرمزلت میں ڈا لتا ہے، ذلیل و رسوا کرتا ہے ۔دعوتی طریقہ کار میں حکمت و دانشمندی بہت ضروری ہو تی ہے جس کا ذکر رب کریم نے قرآن مجید میں فر مایا ہے ۔(۲)لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلیٰ الْمُوؤمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْ امِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (القرآن سورہ آل عمران،آیت:166)۔ترجمہ :بے شک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھا تا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمرا ہی میں تھے ۔(کنزالایمان )جہا ں قرآن میں حکمت کو بڑی دولت بتا یا گیا ہے وہیں حدیث پاک میں بھی جن چیزوں کو قابل رشک قرار دیا گیا ہے ان میں سے ایک حکمت بھی ہے ،حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی ٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :۔حسد (رشک )کرنا صرف دو ہی آدمیوں کے سا تھ جا ئز ہو سکتا ہے ۔ایک تو اس شخص کے سا تھ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق اور مناسب جگہوں میں خرچ کر نے کی توفیق دی ۔دوسرے اس شخص کے سا تھ جسے اللہ تعا لی نے حکمت (عقل ،علم قرآن وحدیث اور معا ملہ فہمی )دی ۔اور وہ اپنے حکمت کے مطابق حق فیصلے کرتا ہے ۔اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے ۔(بخاری شریف،حدیث نمبر 1409)علامہ آلوسی بغدادی علیہ الرحمہ حکمت کی تفسیر یوں بیان فرماتے ہیں :الکلام الصواب القریب الواقع من النفس اجمل موقع (تفسیر البحرالمحیط ص 612،ج6 الفکر بیروت )یعنی حکمت وہ بصیرت و شعور ہے جس کے ذریعہ انسان مناسب وقت کلام کرے ۔اور موقع ایسا تلاش کرے کے مخاطب کے مزاج پر اس کی کوئی بات گراں نہ گزرے،یعنی نرمی کی جگہ نرمی ،سختی کی جگہ سختی اختصار کی جگہ اختصار اور طوالت کی جگہ طوالت اختیار کرے اور جہاں صراحت DETAILSکے سا تھ کو ئی بات کہنے میں مخاطب کو ناگوار گزرتا ہو تو وہاں اشارے سے مطلب ظاہرکر نا ہی کا فی ہے ۔احادیث کے ذخیرہ میں اور بھی حدیثیں ہیں مقالہ کی طوالت کا خوف ہے ۔موعظت حسنہ سے مراد یہ ہے کہ دعوتی و اصلاحی کام کرتے وقت دعوت پیش کر نے وا لے کے اندر ہمدردی اور خیر خوا ہی کا جذبہ ہو مخاطب کو مؤثر انداز میں باتیں پیش کی جا ئیں ۔
اصلاح معاشرہ میں علماء کا کردار و ذمہ داریاں :علم و حکمت اللہ کی بڑی نعمت ہے قرآن مجید میں ہے(۳)وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ْ یُوؤتَ الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَاءُ ج وَ مَنْ یُوؤتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْ تِیَ خَیْراً کَثِیْرًا ط وَمَا یَذَکَّرُ اِلّآ اُوْلُوْ الْاَلْبَابِ( القرآن:سورہ البقرۃ،آیت (268,269 ترجمہ :۔اللہ تعالیٰ وسعت وا لا اور علم وا لا ہے اللہ حکمت (و دانائی دیتا ہے جسے چا ہے اور جسے حکمت یعنی علم ملا )اسے بہت بھلا ئی ملی ۔اسلام چونکہ کامل و اکمل دین ہے لہٰذا انسا نی زندگی کے ہر شعبے پر اس کا حکم نافذ ہے علمائے کرام وارث انبیاء ہیں ۔اللہ رب العزت نے ان کو علم و حکمت کی دولت سے نوازا ہے ۔تو ظاہر سی بات ہے ان پر بھی ذمہ داریا ں ہیں دعوت اسلام کے دینے وا لے علمائے کرام اور داعیانِ اسلام کے سبھی ذمے داروں کیلئے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ لوگو ں کے مسا ئل و مشکلات پر توجہ دیں حتی المقدور ضرورت مندوں کی مدد کریں ۔مظلوموں کی حمایت مصیبت زدگان کی اعانت کر نا ہوگا ۔اس طرح کے کام کر نے سے دعوت اسلامی کے کام کو فائدہ پہنچے گا ۔یہ وہ کام ہے جسے نبیوں رسولوں نے بھی کیا ۔مثال کے طور پر اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انجام دیا (القرآن ،سورہ ال عمران 49)ترجمہ :میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہو ں اور اللہ کے اذن سے مردے زندہ کرتا ہو ں میں تمہیں بتا تا ہو ں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر کے رکھتے ہو بے شک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی شان ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو ۔حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قحط پڑا آپ نے بندگانِ خدا کی خدمت اور رہنما ئی اور انتظام فرمایا ،ہر طرح کی مدد کی ۔ہمارے آقا ﷺ نے ہمیشہ مظلوموں،ضرورتمندوں کی مدد کی وغیرہ وغیرہ،موجودہ دور انتہائی ترقی یافتہ الیکٹریکل ،الیکٹرونک ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے ان جدید ذرائع سے لوگوں تک دین کی دعوت کو پہنچائیں،دین کی دعوت پیش کرنے کے لیے بہت سی حکمتوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ دعوت دین، عقیدہ،مسائل شرعیہ وغیرہ پیش کرنے کے وقت مخاطب کی ذہنی سطح اور اس کے علم و فہم کی رعایت ضرور کریں،لوگوں سے ان کی فہم کے مطابق گفتگو کریںآقا ﷺ فرماتے ہیں حدثو الناس بما یعرفون (بخاری شریف حدیث نمبر128)ترجمہ۔ لوگوں سے ان کی فہم کے مطابق گفتگو کرو۔کتاب و سنت میں جگہ جگہ پر مصلحت و تدریج کو ملحوظ رکھا گیا ہے ۔تدریج کا مطلب یہ ہے کہ مرحلہ وار اسلام کی تعلیم و ہدایت و عقائد و مخاطب کے سا منے بیان کئے جا ئیں ۔۔۔۔۔یکبارگی تمام احکام بتا نے سے وہ پر یشا ن وبوجھل ہو جا ئے گا ۔دعوتی مذاکرات کے وقت مخاطب کی نفسیات کاخیا ل رکھا جا ئے ۔آپ ﷺ دعوت دینے کے وقت مخاطب کی نفسیات کا خیال رکھا کرتے تھے ۔سیرت نبی ﷺ میں بہت سی مثالیں موجود ہیں حدیث ملاحظہ فرمائیں :(معجم کبیر الطبرانی کی روایت ) روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا؟ اللہ کے رسول آپ مجھے زنا کی اجازت دیجئے اتنا کہنا تھا کہ صحابہ میں ایک شور برپا ہو گیا آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو مجھ سے قریب کرو وہ قریب ہو کر سا منے بیٹھ گیا آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اپنی ماں کے سا تھ یہ ناگوار حرکت کروگے؟ اس نے کہا نہیں، آپ ﷺ نے کہا اسی طرح دوسرے لوگ بھی اپنی ماؤں کے سا تھ ایسا گوارا نہیں کریں گے ،پھر آپ نے دریافت کیا تم اپنی بیٹی کے ساتھ یہ حرکت ناگوار کرنا پسند کرو گے ؟اس نے کہا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا اسی طرح لوگ اپنی بیٹیوں کیلئے اس کو ناپسند کرتے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم اپنی بہن کے سا تھ یہ حرکت کروگے؟ اس نے کہا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا اسی طرح لوگ اپنی بہنوں کیلئے اس کو ناپسند کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایک کر کے آپ ﷺ نے پھوپھی ،خالہ کے بارے میں دریافت کیا، آخر میں اس کے سینہ پر اپنا دست مبارک رکھ کر یہ دعا فرمائی یا اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرما، اس کے دل کو پاکیزگی عطا فرما اور اس کی شرمگاہ کو محفوظ فرما(المعجم الکبیر لطبرانی)اس حدیث پاک میں آپ ﷺ نے نفسیاتی طور پر اس کے ذہن میں زنا کی نفرت بٹھا ئی چنانچہ وہ ہمیشہ کیلئے زنا سے تائب ہو گیا اگر سختی سے اس کو زنا سے رو کا جا تا تو عین ممکن تھا کہ وہ زنا میں مبتلا ہو جا تا ۔سیرت رسول ﷺ میں بہت سی مثالیں ہیں مقالہ کی طوالت کا خوف بھی دامن گیر ہے ۔
مذہب اسلام پر یلغار اور اس کا سد باب :آج ہر چہار جانب سے اسلام پر نت نئے طریقے سے حملے ہو رہے ہیں، اسلام کے بنیادی عقائد کے علاوہ بھی بہت سے عقائد میں اختلاف پیدا کررہے ہیں، آج علمائے حق یعنی علمائے اہلِ سنت و جماعت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہے نہ صرف باطل کا منہ توڑ جواب دیں بلکہ ضرورت ہے کہ مدارس میں دینی تعلیم کے سا تھ دنیا وی تعلیم بھی دی جا ئے علماء کی نئی فوج تیاری کے سا تھ پوری طاقت و قوت اورایمانداری سے اپنا فریضہ انجام دیں ۔طلباء کے اندر یہ جذبہ ابھارا جا ئے کی وہ اپنے علم پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں تک بھی پہنچا ئیں ۔طلباء کی صحیح تعلیم کے ساتھ تربیت ضروری ہے یہ ایک اہم دینی فریضہ ہے اس کی ادائیگی کی پوری فکر ہو نی چا ہئے اس ذمے داری میں اساتذہ کے سا تھ اہلِ علم و دانش اور والدین بھی اپنا اپنا کردار نبھا ئیں ۔خصوصاً آج کے موجودہ حالات میں تو اس طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، معمولی کو تا ہی و غفلت سے نہایت خطرناک نتا ئج سے دو چار ہو نا پڑے گا ۔ ہندوستان کی جنگ آزادی میں علمائے کر ام کا نمایا ں حصہ رہا ہے تاریخ میں علماء کی قربا نی موجود ہے آج ہمارے ملک کے موجودہ عدالتی نظام میں مسلم پرسنل لا (Muslim Personal Law) لاگو ہے ۔یہ علمائے کرا م کی ہی دین ہے، انگریزی حکومت میں کئی مقدمات ایسے آئے جس میں ججوں کو فیصلہ کر نا دشوار ہو گیا، علماء سے رابطہ کیا اور فیصلہ سنایا اسی و قت علمائے کرام نے انگریزی حکومت میں درخواست دی کہ ہمارے مقدمات کا فیصلہ ہماری مذہبی قانون کے اعتبار سے کیا جا ئے انگریزوں نے منظور کر لیا اور انہوں نے شریعت ایکٹ 1937لاگو کر دیا ۔ 1947 میں ہندوستان کی آزادی کے بعد دستور ساز کمیٹی بنی جس کی سربراہی ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کر رہے تھے جس میں حضرت مولانا محمد اسماعیل مدراسی، رفیق احمد قدوائی ،مولانا ابو الکلام آزاد، بیگم تجمل حسین ،مولانا عبد القادر ان لوگوں نے شریعت ایکٹ 1937کو دستور ساز کمیٹی میں رکھا جسے دستور ساز کمیٹی نے جوں کا توں برقرار رکھا۔جسکی بہت سی دفعات ایسی ہیں جو قابل ذکر ہیں علماء کرام کو ضرور مطالعہ کر نا چا ہئے مطالعہ فرمائیں (بھارت کا آئین ،نا شر اردو دنیا )
صحافت ذرائع ابلاغ :ذرائع ابلاغ یہ لفظ اپنے اندر بہت وسعت رکھتا ہے ۔پرنٹ میڈیا،الیکٹرونک میڈیا اور سو شل میڈیا انتہا ئی تیز رفتار، انتہائی مؤثر دیہات سے لیکر شہر تک ،چائے کی دوکان سے لیکر پارلیمنٹ تک اسی کا دور دورہ ہے دینک بھاسکر ہندی اخبار کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا ہندوستان کی 82فیصد آبادی کو کوریج دے رہا ہے ۔ذرائع ابلاغ کی اہمیت ہر زما نے میں رہی ہے اب تو اس کی اہمیت اتنی ہو گئی ہے کہ حکومتوں کا پورا دارومدار اسی پر ہے تمام پروپگنڈا مہم اسی سے چلائی جا تی ہیں اب تو باقاعدہ حکومتوں نے ایک وزرات برائے اطلاعات و نشریات) (MINISTERY OF INFORMATION & BRODCASTINGبنادیا ہے ۔ یہ وزارت اسی کو دی جا تی ہے جو حکومت کی نظریات کا پوری طرح جا ننے وا لا ہو ۔اس میدا ن میں علمائے کرام دوسروں کے بنسبت بہت ہی پیچھے ہیں۔ مجھے انتہا ئی خوشی ہو رہی ہے کہ اس سلسلے میں ہندوستان کی مشہور خانقاہ ما رہرہ شریف کے عظیم المرتبت سجادگان خصوصاً حضور سید محمد امین قادری اور حضور سید نجیب حیدر نوری کے زیر انتظام البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی،علی گڑھ میں علمائے کرام کو صحافت و خطابت کی ٹریننگ دی جا رہی ہے ۔یہ کام بہت ہی اہمیت کا حامل ہے ان شاء اللہ اس کے بہت مثبت نتا ئج بر آمد ہو نگے ۔طلبا ء سے گزارش ہے کہ فارغ ہو نے کے بعد اپنے کو علم حاصل کر نے سے مستثنیٰ نہ سمجھیں ،علم حاصل کر نے کی بھوک ہمیشہ قائم رکھیں ۔اللہ رب العزت نے اپنے محبوب رسول ﷺ کو حکم فر مایا ۔وَقُلْ رَّبِّیْ زِدْنِیْ عِلْماً (القرآن سورہ طٰہٰ، آیت :114)اور تم عرض کرو اے میرے رب مجھے زیادہ علم دے ۔علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرما تے ہیں کہ اس آیت کریمہ سے علم حاصل کر نے کی فضیلت واضح طور پر ثابت ہو تی ہے اسلئے خدا ئے تعالی ٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺکو علم کے علاوہ کسی دوسری چیزکی زیادتی طلب کر نے کا حکم نہیں فر مایا (فتح الباری شرح بخاری جلد اول ص 613تفسیر رو ح المعانی ) میں مطالعہ فرمائیں فائدہ ہو گا ۔مطالعہ کو اپنی (Hobby)پسندیدہ عادت بنا لیں ۔کم از کم دن میں تین گھنٹے ضرور مطالعہ فرمائیں ۔تقابلی مطالعہ ضروری ہے تا کہ اپنے عقائد کے خلاف جو بات جا نیں تو اس کا جواب دے سکیں ۔کم از کم ایک گھنٹہ اخبارات کا مطالعہ کریں، حا لات حاضرہ کی جانکاری رکھیں، مضامین لکھتے وقت لفظوں القابوں پر دھیان رکھیں کس کے لئے یہ لقب موزوں رہیگا کہ نہیں اور گاڑھی اردو نہ استعمال فرمائیں ۔ مضمون میں حوالہ بہت ضروری ہے یا د رہے دعوت دین کے را ستے میں بہت طرح کی رکاوٹیں نامعقول سوالات ،جھوٹے الزامات اور فریب کا ریا ں سا منے آ تی ہیں ان رکاوٹوں کا مقابلہ ہمت سے کر یں اور ثبوت کیلئے کلام الہی قرآن مجید کا حوا لہ دیں،قر آن مجید انسانوں کے دلوں کو مسخر کرتا ہے ،جھوٹ اور فریب کو پارہ پارہ کر دیتا ہے احادیث مبارکہ، صحاب�ۂ کرام و بزرگانِ دین کے اقوال سے بھی جواب دیں ۔لیکن حوا لہ ضرور دیں خاص کر احادیث کا نمبر ضرور دیں کیونکہ ہمارا مقابلہ دوطرفہ ہے ۔ اس وقت جو دنیاوی دولتوں سے مالا مال نام نہاد اہلِ حدیث طبقہ حوا لہ سے کم پر راضی نہیں ہو تا اور خود حوالہ نہیں دیتا۔اپنی نجی زندگی کیلئے جو وقت دیتے ہیں تمام ضرورتوں کیلئے اس میں دعوت دین کیلئے کم از کم تیس (30)فیصد و قت وقف کر دیں یہ آپ کا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے آپ کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو اللہ کے احکام و مسائل سے آگاہ کریں ان میں اسلامی طرز زندگی پیدا کر نے کی کوشش کریں ان کے سوالات کا معقول جوا ب دیں جو افراد گناہوں میں سراپا ڈوبے ہو ئے ہیں ان سے شفقت و محبت سے ملیں اور مسلسل محنت و غورو فکر کریں۔ جیسے ہمارے بزرگ علمائے کرا م کرتے رہے ہیں کہ کس طرح اس شخص کو صراط مستقیم پر لا یا جا ئے اگر دو مسلمانوں میں لڑا ئی ہو جا ئے تو حکمت ودانائی ،خوش اسلوبی ،خلوص، محبت اور اچھی تد بیر سے ان کے درمیان صلح کرائیں اگر کو ئی مصیبت زدہ ہو تو اس کی دل جو ئی کریں اس کو تسلی و تشفی دیں ہر شرارت و فتنہ کو پہلے ہی دبا دیں نہ کہ خود اس کا حصہ بن جا ئیں ۔جیسے آج کل ہو رہا ہے عوام آج بھی علمائے کرام کے زیر اثر ہیں ان کا تقویٰ دیکھ کر ان کی طرف راغب ہوتے ہیں مقالہ طویل ہو گیا ہے ایک انتہا ئی ضروری بات طلبائے کرام سے عرض کرتا ہو ں آپ فارغ ہو نے کے بعد اپنے مادر علمی اور اساتذہ کرا م سے رشتہ نہ توڑیں اس سے قلبی لگا ؤ رکھیں اپنے مادر علمی اور اساتذہ کرام کو گاہے بگاہے مالی خدمت کرتے رہیں۔ اللہ پاک علم کی برکت واساتذہ کرام کی دعاؤوں سے عزت شہرت میں اضافہ فرمائے ۔تو کبھی اساتذہ کرام کی عزت کر نے میں کوتا ہی نہ کریں،غرور گھمنڈ نہ دکھا ئیں ،عزت و ذلت اللہ کے ہا تھ ہے ۔لیکن ماں باپ، اساتذہ کی عزت پا مال کر نے سے عزت و شہرت ملیا میٹ ہو نے میں دیر نہیں لگتی ۔اللہ ہم سب کو دعوت دین کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین!ثم آمین!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com