پنجابی زبان و ادب کی پریت آتمائیں

پنجابی زبان و ادب کی پریت آتمائیں 21 فروری ماں بولی (پنجابی) کا عالمی دن

تحریر : راجہ عدیل بھٹی

زبان و ادب کسی بھی علاقے میں بسنے والے لوگوں کے طرزِ معاشرت ‘ رہن سہن‘ اسلوب و بیان‘ خواندگی و ناخواندگی‘ خوشحالی و خیر سگالی‘ ترقی و تنزلی ‘ استحکام و سلامتی اور ہمت و خودداری کے آئینہ دار ہوتے ہیں ۔ کسی بھی علاقے کی بود و باش اور وہاں کے لوگوں کا مزاج اس علاقے کے زبان و ادب سے بخوبی پرکھا جا سکتا ہے ‘ کیوں کہ زبان و ادب ہی وہ پیمانہ ہے جس سے کسی قوم ‘ قبیلے‘ ملک اور مذہب کے حالات و واقعات اورکردار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ‘ جس قوم ‘ قبیلے ‘ ملک اور مذہب کے زبان و ادب جتنے زیادہ مؤثر ہوں گے وہ اُتنے ہی مہذب اور باوقار کہلائیں گے اور جس کے زبان و ادب مؤثر نہ ہوں گے وہ اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے ۔ پنجابی زبان و ادب زمانہ قدیم سے ہی چلا آ رہا ہے اور اس زبان کا شمار دُنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ادب کی تمام اصناف میں پنجابی ادب موجود ہے ۔ پنجابی ادب میں ایسی ایسی شاہکار تخلیقات ہوئی ہیں جن کی مثال کسی اور زبان و ادب میں نہیں ملتی ‘ زمانہ قدیم سے ہی پنجابی زبان و ادب کے عظیم الذی وقار دانشور ولکھاری چلے آ رہے ہیں جنہوں نے پنجابی ادب کو چار چاند لگا دیئے ہیں اور اس زبان و ادب کی تخلیقات کے دوسری زبانوں میں تراجم ہو رہے ہیں تا کہ دوسری زبان و ادب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی پنجابی زبان و ادب کی تخلیقات سے استفادہ کر سکیں اور اس زبان و ادب کی روشنی میں اپنے زبان و ادب کو جلا بخش سکیں ، ادب کی کوئی ایسی صنف نہیں ہے جس میں پنجابی زبان و ادب نے اپنے فن کا لوہا نہ منوایا ہو ۔ پنجابی زبان و ادب میں ایسی چاشنی اور مٹھاس ہے کہ غیر بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ ہمارے خیال میں کسی بھی علاقے ‘ ملک ‘ قوم ‘ مذہب کی تعمیر و ترقی ‘ خوشحالی و خیرسگالی ‘ سلامتی و استحکام میں زبان و ادب بنیادی کردار ادا کرتا ہے ۔ یوں تو ہر دور میں پنجابی زبان و ادب کیلئے بے شمار لوگوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں مگر موجودہ دور میں چند ہستیاں ایسی بھی ہیں جنہوں نے پنجابی زبان و ادب میں شاہکار کام کیا ہے ۔ ان میں محمد عمر ندیم صاحب ہیں جنہوں نے مکہ منورہ اور مدینہ شریف کی پنجابی میں تاریخ لکھ کر پنجابی زبان و ادب کیلئے لازوال خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اسی طرح سوہنی کے دیس گجرات سے افتخار وڑائچ کالروی نے پنجابی زبان و ادب میں ایک نئی صنف کا اضافہ کیا ہے جسے راقم الحروف نے ہی ’’کتبیاتی ادب‘‘ کا نام دیا تھا۔ ’’کتبیاتی ادب‘‘ کو اس وقت باقاعدہ طور پر ادب کی صنف تسلیم کر لیا گیا ہے ۔ اسی طرح عظیم الذیشان فلسفی شاعر حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے دیس سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے احسان باجوا صاحب نے پورن بانی اور سچ بانی جیسی شاہکار تصنیفات تخلیق کر کے پنجابی زبان و ادب کی گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں ، اسی طرح بے شمار ایسے لکھاری ہیں جنہوں نے پنجابی زبان و ادب میں بہت ہی عمدہ کام کیا اگر سب کے نام لکھنے شروع کر دیں تو شاید ناموں کی ہی ایک کتاب بن جائے تاہم طوالت کے پیش نظر موجودہ دور کے چند چیدہ چیدہ پنجابی لکھاریوں کے نام پیش کر رہے ہیں ان میں محمد افضل رازؔ ، اقبال بالم گجراتی، سیّدہ ظل ہما بخاری، احمد شہباز خاور ، ڈاکٹر مجاہدہ ، اصغر علی جاوید ، فضل فرید لالیکا ، غلام رسول آصف ، سلیم شہزاد وغیرہ ہیں ۔ تاہم انتہائی افسوس سے یہ بات لکھنے پر مجبور ہیں کہ جہاں پنجابی زبان و ادب میں ایسی اعلیٰ پایہ شخصیات ہیں جنہوں نے پنجاب زبان و ادب میں لازوال خدمات سر انجام دیں ہیں وہیں کچھ ایسی شخصیات ہیں جو بظاہر تو پنجابی زبان و ادب سے ہی منسلک ہیں مگر در حقیقت اُن کے عظام کچھ اور ہی ہیں اسی لیے ہم نے ان کو ’’پنجابی زبان و ادب کی پریت آتمائیں ‘‘ نام دیا ہے یعنی پنجابی زبان و ادب کی بدرُوحیں ۔ یہ پریت آتمائیں پنجابی زبان و ادب کو یرغمال بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں اور نت نئی چالوں اور حیلے بہانوں سے پنجابی زبان و ادب کو مسخ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں ۔ ان پریت آتماؤں کو پنجابی زبان و ادب کی ترویج سے زیادہ اپنی نمود و نمائش کی فکر رہتی ہے ۔ عام لوگوں کو پنجابی زبان و ادب سے دُور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ان بد رُوحوں نے پنجابی زبان و ادب کا لٹریچر اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہے حالاں کہ 100 صفحے کی کتاب پر زیادہ سے زیادہ 40 روپے خرچہ آتا ہے مگر اُس کتاب کی قیمت 200 روپے سے بھی زیادہ رکھ دی جاتی ہے ۔ یہ پریت آتمائیں ادب کی خدمت کرنے کے بجائے عوام الناس کو لوٹنے کے در پہ ہیں اور خود دولت مند بننے کی خواں ہیں ۔ ان پریت آتماؤں نے پنجابی زبان و ادب کے اہم اداروں اور شعبوں پر اپنی اجارہ داری بنا رکھی ہے جسے چاہتے ہیں نوازتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں نظر انداز کر دیتے ہیں میرٹ کی تو دھجیاں بکھیر دی ہیں اور اصلی اور نقلی لکھاری کی پہچان بھی ختم کر دی ہے ۔ 21 فروری ماں بولی (پنجابی) کے عالمی دن کے موقع پر ہم تمام لوگوں سے التماس کریں گے کہ خدا راہ پنجابی زبان و ادب کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں بلکہ مثبت کردار ادا کرتے ہوئے اس کی ترقی اور ترویج کیلئے کوشاں رہیں تا کہ ہم سب اس ماں بولی (پنجابی) سے انصاف کر سکیں اور پوری دُنیا کی زبانوں میں پنجابی پہلے نمبر پر آ جائے ۔ آئیں آج اس خصوصی دن کے موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم سب نے مل کر اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے اور پنجابی زبان و ادب کی ترقی و ترویج میں کوئی کسر باقی نہ اٹھا رکھیں گے ‘ اس کے لٹریچر کو عام کریں اور اس کو اتنا سستا کر دیں کہ عام آدمی بھی اس سے استفادہ کر سکے ۔ کیوں کہ یہی ماں بولی تو ہماری آن بان شان اور پہچان ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com