پئیر ماشیرے (Pierre Macherey)

پئیر ماشیرے (Pierre Macherey)
ڈاکٹر غلام شبیررانا
فرانس سے تعلق رکھنے والا مارکسی نقاد پئیر ماشیرے سال 1938میں پیدا ہوا ۔اس وقت(سال 2017 کے اختتام تک ) و ہ فرانس میں اعلا تعلیم،تحقیق و تنقید کے اہم مرکز لیل نورڈ جامعہ (University of Lille Nord de France) میں تدریسی خدمات پر مامور ہے۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ پیرس کے ایکول نارمیل(201cole Normale Sup233rieure) میں داخل ہوا جہاں اس نے چھے سال (1958 to 1963) تک باقاعدہ تعلیم حاصل کی ۔اس جامعہ میں پئیر ماشیرے مارکسی نقا دلوئیز آ لتھیوسر (Louis Althusser) سے اکتسابِ فیض کیا اور مارکسی تنقید کے جملہ اسرارو رموز کو سدا اپنے محسن استاد کی عطاقرار دیا ۔ سال 1961میں اس نے امتیازی نمبر حاصل کرکے ایم ۔اے کی ڈگری حاصل کی۔ سال 1965 کے اوائل میں جب ممتاز مارکسی نقا دلوئیز آ لتھیوسر (1918-1990) اپنی کتاب ’’Reading Capital‘‘ لکھ رہا تھا ،اُسے اپنے شاگرد پئیر ماشیرے کی مشاورت حاصل ر ہی ۔ اس کتاب کے سنسنی خیز تجزیات سے فرانس میں فکر ی جمود اور تنقیدی اضمحلال کا خاتمہ ہوا اور عالمی سطح پر اسے جو پزیرائی ملی وہ اپنی مثال آ پ ہے ۔ اس معرکہ آرا کتاب کا انگریزی ملخص سال 1970میں شائع ہوا جو آلتھیوسر اور فرانسیسی فلسفی بالی بار (201tienne Balibar)کے تجزیات پر مشتمل ہے ۔اس اہم کتاب کا مکمل انگریزی ترجمہ جولائی 2016 میں ورسو کتب( Verso Books ) لندن کے زیر اہتمام شائع ہوا ۔اس اشاعت میں پہلے شائع ہونے والے ملخص کے ساتھ ساتھ راجر ایسٹبلٹ( Roger Establet)، پئیر ماشیرے (Pierre Macherey)، اور جیکوئس رئینسئیر (Jacques Ranci232re) کے مقالات بھی شامل ہیں ۔ پئیر ماشیرے نے ادبی و بر اعظمی تھیوری، پس ساختیات اور ما رکسزم کے بارے میں اپنے بصیر ت افروز خیالات سے فرانس میں قارئین ادب کو بہت متاثر کیا ۔پس ساختیاتی فکر سے تعلق رکھنے والے جن ممتاز ادیبوں نے پئیر ماشیرے سے گہرے اثرات قبول کیے ان میں اس کا معاصر ژاک دریدا(Jacques Derrida) اور ٹیری ایگلٹن(Terry Eagleton) شامل ہیں ۔جر من فلسفی ہیگل ( Georg Wilhelm Friedrich Hegel) اور ولندیزی فلسفی سپائی نوزا (Baruch Spinoza)کے افکارپر پئیر ماشیرے کا انتہائی محنت اور لگن سے کیا جانے والا تحقیقی کام اس کے ذوق سلیم کا مظہر ہے ۔پئیر ماشیرے نے ہیگل (1770-1831)اور سپائی نوزا (1632-1677)کا عمیق مطالعہ کیا اور فلسفہ کے بارے میں ان کے عظیم شعور کی تفہیم کی سعی کی۔اس نے فلسفہ کو ایک ایسے دشواراورتوجہ طلب مجموعی اتفاق سے تعبیر کیا جو سب اتفاقات سے سبقت لے جاتا ہے ۔دانائے راز خرد کی گتھیاں تو سلجھا لیتے ہیں مگر فلسفے کی بھول بھلیاں اکثر انھیں سرابوں کی بھینٹ چڑھا دیتی ہیں ۔ ہر پیغام تک رسائی کے لیے ایک کوڈ مقرر ہے مگر فلسفہ کے عکس ایسے پیغامات کے آ ئینہ دار خیال کیے جاتے ہیں جن کا کوڈ بھی کوہِ ندا کی صدا ثابت ہوتا ہے ۔اپنے تحقیقی و تنقیدی مقالات میں اس نے اُس گہرے تعلق پر اپنی توجہ مرکوز رکھی جو ادب ،سیاسیات،فنون لطیفہ،عمرانیات،علم بشریات ،سماجی علوم اور فلسفہ میں پایا جاتا ہے ۔بعض محققین کا یہ دعویٰ ہے کہ فرانسیسی فلسفی اور ادبی تھیورسٹ رولاں بارتھ(Roland Barthes) نے سال 1967 میں ’’مصنف کی موت ‘‘ (The Death of the Author)کے موضوع پر جن مباحث کا آغاز کیا تھا ،اُس سے دو سال قبلپئیر ماشیرے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کر چکا تھا ۔ پئیر ماشیرے کی مقبول تصانیف درج ذیل ہیں :
1.A Theory of Literary Production (2006) ,2 Hegel or Spinoza (2011), 3. In a Materialist Way (1998)
4.Cultural Theory and Popular Culture (2006), 5. The Objects Of Literature (1995),
آلتھیوسر کے نظریۂ علم اور آلتھیوسرین مارکسزم کو اہم ترین استفسارات کی شکل دے کر پئیر ماشیرے نے اپنی انفرادیت کا ثبوت دیا۔ اس کے اسلوب میں مادیت کی کرختگی کے باوجود دانش ورانہ سوچ پر مبنی بلند پروازی کی مظہر وسعت تخیل قابل قدر ہے۔ اس نے ادبی تھیورسٹ کے منصب پر فائز ہو کر تنقیدی نوعیت کی تحلیل و تجزیہ پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے فلسفہ کے مروجہ انداز اپنانے میں گہری دلچسپی لی۔حریت فکر کے علم بردار اس فلسفی کا ذہن پوری قوت سے تشریح و توضیح کی قدر ت رکھتا ہے ۔ پئیر ماشیرے کے خیال میں متن کو ایک آزادانہ تخلیقی فعالیت یا خود انحصاری کی استعداد سے متمتع ادب پارے کی حیثیت سے نہیں دیکھناچاہیے۔اپنی نوعیت کے اعتبار سے ادب ایک پیداوار(Product) ہے جس میں نوائے سروش ہی صریرخامہ کے رُوپ میں منصۂ شہود پر آ تی ہے ۔سال 1966میں پئیر ماشیرے کی پیرس سے فرانسیسی زبان میں شائع ہونے والی مستحکم اور پائیدار خیالات کی حامل ادبی تنقید کی کتاب ’’A Theory Of Literary Production ‘‘ کو پئیر ماشیرے کے نظریاتی سفر میں سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے ۔تخلیق ادب میں راہ پا جانے والے فکری جمود بالخصوص بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ادبی حلقوں کے لیے یہ کتاب برقی جھٹکا ثابت ہوئی۔جب سال 1978میں اس کتاب کا انگریزی ترجمہ شائع ہوا توپئر ماشیرے کی مقبولیت میں بہت اضافہ ہوا ۔ اس کا خیال ہے کہ مطا لعۂ ادب میں قاری کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔ پئیر ماشیرے نے مصنف کی نسبت قاری کو اس لیے زیادہ اہم قرار دیا کہ یہ قاری ہی ہے جو قلزمِ ادب کی غواصی کر کے معانی و مفاہیم کے لعل و جواہر بر آ مد کرتا ہے ۔ پئیر ماشیرے متن کو ایک ایسی پیداوار قرار دیتا ہے جس کی ترتیب و تشکیل متعدد ارکان کی مرہونِ منت ہے ۔ ایک زیرک ،فعال اور مستعد تخلیق کار کی مساعی کے نتیجے میں تخلیق فن کے لمحوں میں متن کے پیہم رواں پیداواری عمل کے دوران اس کے اجزائے ترکیبی میں تغیر و تبدل کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ اس کتاب میں مارکسی تنقید کی جارحانہ انداز کی مظہر تاثیریت کا ایک الگ اور حیران کن رنگ سامنے آ یا۔اپنے نادر موضوعات، چونکا دینے والے مندرجات اور فکر پرور مشمولات کے لحاظ سے یہ کتاب گہری معنویت کی حامل سمجھی جاتی ہے ۔معاصر ادب کے ممتاز نظریہ ساز نقاد کی حیثیت سے پئیر ماشیرے نے الفاظ کے داؤ پیچ اور اظہار و ابلاغ کے حربے اس مہارت سے استعمال کیے ہیں کہ سُبک نکتہ چینی کے عادی حرف گیروں کو چاروں شانے چِت کر دیا ہے ۔پئیر ماشیرے کے استدلال کا ہم پہلو یہ ہے کہ متن کے اجزائے ترکیبی کو قائم بالذات نہیں سمجھنا چاہیے ،جنھیں شعوری کاوشوں اور منضبط طریقِ کار سے کسی واحد تاثر کے حامل ادب پارے میں ڈھالا جا سکے ۔وہ اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ تخلیقی فعالیت کے دوران وقوع پذیر ہونے والے پیداواری عمل میں متن کے اجزائے ترکیبی عملی طور پر اپنا حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں تومتن بھی اپنی حقیقت کا شناسا نہیں ہوتا۔ قلب اور روح کی اتھاہ گہرائیوں میں اُترکر پتھروں سے بھی اپنی تاثیر کا لوہا منوانے والا منفرداسلوب قاری کو پُور ی طرح اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اوروہ ذہین مصنف کے اشہب قلم کی جو لانیاں اور مدلل انداز کی حشر سامانیاں دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے ۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بحر خیالات کی گہرائی اور قلز مِ تصور کی وسعتوں میں متن ایک ایسا گوہر نایاب ہے جو تخلیقی فعالیت اور پیداواری عمل کے دوران میں لاشعور کے صدف میں مستور رہتا ہے ۔ اس کے بعد جب شعور کے پر تو کا مظہرنظریہ اُسے صیقل کرتا ہے تو گنجین�ۂ معانی کے طلسم کی صورت میں متن کی منفرد ہئیت کا تعین ہوتا ہے ۔ پئیر ماشیرے نے اپنی اس کتاب میں تخلیقِ ادب ،اُس کے پس پردہ کار فرما لا شعوری محرکات،مطالع�ۂادب اور متن میں پنہاں مفاہیم کے اسرار و رموز کی تہہ تک پہنچنے کا جو منفرد انداز اپنانے کی سعی کی ہے وہ اس کی طرزِ خاص اور اختراع ہے ۔ سادگی ،سلاست اورروانی سے مزین دھیمے پن کا مظہر اسلوب جہاں مصنف کی تنقیدی بصیرت کاآ ئینہ دار ہے وہاں یہ اس قرینے کا عکاس بھی ہے جو مطالعۂ ادب کے لیے نا گزیر ہے ۔ فکر و نظر کو مہمیز کرنے والا ، روح اورقلب کی اتھاہ گہرائیوں میں اُتر جانے والا یہ اسلوب اس قدر بے ساختہ ہے کہ کہیں بھی تصنع،خو د نمائی ،خودستائی اور تعلی کا گمان نہیں گزرتا۔الفاظ کی ترنگ اور دبنگ لہجے کے ڈھنگ دیکھ کر یہ تاثر قوی ہو جاتا ہے کہ مصنف نے بُز اخفش قماش کے اُن مسخروں پر گرفت کی ہے جو آزاد خیالی ،انسان شناسی اور انسانیت نوازی کا لبادہ اوڑھ کر رواقیت کے داعی بن بیٹھے ہیں ۔درِ کسریٰ پر منھ کے بل گِرے پڑے ان بے حس پتھروں ، جامد و ساکت مجسموں ،سنگلاخ چٹانوں اورحنوط شدہ لاشوں پر پئیر ماشیرے نے تیشۂ حرف سے جو کاری ضرب لگائی ہے وہ اس کی جرأت اظہار کا ثبوت ہے ۔مصنف کو اس بات کا قلق ہے کہ کچھ جعل سازوں کی بے بصری ،کور مغزی اور ذہنی افلاس کے باعث تخلیق ادب کے سوتے خشک ہو نے لگے ہیں۔ گلشن ادب میں پائے جانے والے لفاظ حشرا ت سخن،چربہ ساز ،سارق اورکفن دُزد بونے جو اپنے تئیں باون گز سمجھنے لگتے ہیں اس آ ئینے میں اپنی ہئیتِ کذائی دیکھ کر اپنا سا منھ لے کر رہ جاتے ہیں۔ پئیر ماشیرے کے پر وقار اور پر جوش اسلوب سے ایسے عناصر کی ملمع کاریوں کا بھید کھل جاتا ہے اور جب ان کا کچا چٹھا سامنے آتا ہے تو وہ کھسیانی بھیگی بلی بن کر کھمبا نوچنے میں جی کا زیاں کرتے ہیں۔ پئیر ماشیرے کے اسلوب کو دیکھ کر بعض لوگوں کی بھویں تن جاتی ہیں اور جبینوں پر بل پڑ جاتے ہیں مگرستائش اور صلے کی تمنا سے بے نیاز ا س ادیب نے کبھی کسی مصلحت کی پروا نہیں کی اور سداحرف صداقت لکھنا اپنا شعار بنائے رکھا ۔ پئیر ماشیرے نے مطالعۂ ادب کو ایک خاص نو عیت کے نتیجہ خیز پیداواری عمل سے تعبیر کیاجس کے معجز نما اثر سے گنجینۂ معانی کے طلسم کی گرہ کشائی ممکن ہے ۔تخلیق کار جو ادب پارے تخلیق کرتا ہے ان میں ایک ایک لفظ کئی سمتیں رکھتا ہے ،گل دست�ۂ معانی انوکھے ڈھنگ سے باندھا جاتا ہے ۔ان حالات میں ماہرین علم بشریات تخلیق ادب کو زندگی سے وابستہ ایسے سوالات کا مجمو عہ قرار دیتے ہیں جن کا جواب تلاش کرنا قاری کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ قارئینِ ادب کی ذہنی با لیدگی اورفکری نمو کوصرف اُسی صورت میں یقینی بنایا جا سکتا ہے جب مصنف کی موت کے بارے میں کوئی شبہ باقی نہ رہے ۔ اس کا اصرا رتھا کہ تخلیقی عمل کے دھنک رنگ منظر نامے کی حقیقی تحسین قاری ہی کر سکتا ہے اورادب پارے کا استحسان تخلیق کار کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے ۔جہاں تک نظریہ کا تعلق ہے، ادب کاکردار نہایت موثر اور جان دار ہے ۔ پئیرس ماشیرے کی ادبی تھیوری پر ساختیات کے مرتب کیے ہوئے ڈھانچے کے نقوش ثبت ہیں۔ادب اور فلسفہ کی حدود اور دائرۂ کار کے موضوع پر وہ لکھتا ہے : 
,,Why is it that literature has something to say to philosophy?Certainly not because it is an integral part of its enterprise,offering readymade a philosophy all of its own.Here once again we have to work from the position of disjunction and distance.The truth effects of literature,as it produces and reproduces itself,are not directly accessible or useable.They appearin defferred and divergent form,circumstantially encoded in a way that makes them largely irrecoverable,at least directly. They drive their value precisely from that circumspection which hides them from impertinent curiosity and allows them to appear only in suspended or indeed deferred form.,, (1)
آلتھیوسے نے فنون لطیفہ اور نظریہ کے بارے میں جن خیال افروز مباحث کا آ غاز کیا اگرچہ اُن کی باز گشت ماشیرے کے تصورات میں سنائی دیتی ہے مگر ادب کے حوالے سے یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پئیر ماشیرے نے ادب کے مارکسی ماڈل کو اپنے افکار کی اساس بنا کر آلتھیوسے کے نظریات کی وضاحت کی اوراس کی توسیع کر کیقارئین کے اذہان پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔اپنی مجرد نوعیت کی کیفیت کے باعث ادب کا نظریہ زندگی اور اس کے معمولات کی نہ صرف عکاسی کرتا ہے بل کہ یہ زندگی کی بے اعتدالیوں پر طنز اور تنقید کو بھی شعار بناتا ہے ۔ صارفین کے زیر استعمال رہنے والی کچھ دیگر مصنوعات کے مانند ادب کو محض تفریح طبع اور ذوق سلیم کی تسکین کا وسیلہ سمجھنا درست نہیں۔اس قسم کی از کار رفتہ ،فرسودہ ، بے کار اور غیر منصفانہ سوچ بے بصری کی دلیل ہے ۔ادب کا ایک مخصوص دائرۂ کار ہے جہاں تک اس کی استعدا دکار کا تعلق ہے اسے ایک ایسی موثر قوت کے طو ر پر دیکھنا چاہیے جو فکر و خیال کی دنیا کی کایا پلٹنے پر قادر ہے ۔مصنف بہ حیثیت پیش کار (Author as Producer) عبوری نوعیت کا حامل ،توہمات کا ازالہ کرنے کاقوی وسیلہ ،مگر سیاسی اعتبار سے غیر متعین موضوع پر مصنف کے خیالات کی موجودگی قاری کو متوجہ کرتی ہے ۔مار کسی تنقید کو حیاتِ نو عطاکرنے میں والٹر بنجمن ( Walter Benjamin ) اور برٹول بریخت (Bertolt Brecht )کی مادہ پرست جمالیات نے اہم کردار ادا کیا۔ان دانش وروں کے افکار سے مارکسی تنقید اس حصار سے باہر نکلنے میں کا میاب ہو گئی جو نیو ہیگلین تصور کی شکل میں موجود تھی۔ادب کی بنیاد اورساخت کے موضوع پر پئیر ماشیرے نے کھل کر لکھا ہے ۔
پئیر ماشیرے کی کتاب ہیگل یا سپائی نوزا (Hegel or Spinoza)ہیگل کے اسلوب کی تحلیل و تجزیہ پر مبنی سخت گیر محاکمہ پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب سپائی نوزا کے افکار پر ایک پر جوش،دلچسپ ،نادر ،اصلی اور بالکل نئی تشریح پیش کرتی ہے ۔مصنف نے ان سخت مقامات کی جانب متوجہ کیا ہے جہاں سپائی نوزا کے افکار کے مطالعہ کے دوران ہیگل غلط فہمی کے سرابوں میں سرگرداں دکھائی دیتا ہے ۔اس کتاب میں پئیر ماشیرے نے ہیگل کے افکار اور اس کی جدلیات کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔ اپنی اس کتاب میں پئیر ماشیرے نے اپنے طاقت ور اورافادیت سے لبریز پیرایۂ اظہار کے ذریعے متعدد حقائق کی گرہ کشائی کی ہے ۔ 
,,Hegel declares himself furthest from Spinozism exactly at the point on which the two doctorines appear to coincide.Is his refutation not able to take stock of his momentary convergence,to refrain from subsequently denouncing its superficial character,in discovering other motifs that allow him to distinguish himself?(2)
سیاسیات اور عصری آ گہی کے مظہر نئے افکار کے مابین پائی جانے والی حد فاصل کی نشان دہی کرتے ہوئے پئیر ماشیرے نے تاریخ ،علم بشریات اور ادبیات کے قارئین کے کردار کو بہت اہم قرار دیا ہے ۔اس کا خیال ہے کہ یہ قارئین کی منشا اور مر ضی کا معاملہ ہے کہ وہ کس سمت اپنا سفر جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں ۔بہ قول اقبال :
یہ معاملے ہیں نازک جو تیری رضا ہے تُو کر 
سپائی نوزا کے افکار کے بارے میں کئی غلط فہمیوں پر مبنی ہیگل کے تجزیات کو پئیر ماشیرے نے لرزہ خیز حد تک کم زور گمراہ کن حد تک بھیانک اورنا قابل تشریح قرار دیا ۔ سپائی نوزا کے بارے میں ہیگل کی عصبیت سے پردہ اُٹھاتے ہوئے پئیرماشیرے نے لکھا ہے : 
Hegel had to substitute spinozism with fictious doctorine,created for the needs of his cause and eliminating all the historical innovations of Spinoza,s system.Hegel had to first reduce him and in diminishing him lead him back to positions that were in fact those of Hegel himself.(3)
آلتھیوسر کی رفاقت میں بیس برس گزارنے کی بنا پر پئیر ماشیرے کا شمار سپائی نوزا کے افکار کی تشریح کرنے والے اہم ترین دانش وروں میں ہوتا ہے۔ ہیگل نے سپائی نوزا کی حمایت یا تقلید کرنے کے بجائے اپنی ایک الگ راہ نکالنے کی کوشش کی ہے ۔ سپائی نوزا کی قدر ومنزلت اور اہمیت کو کم کرنے کے لیے ہیگل نے جو غیر ضروری ،بلاجواز اور غیر معمولی سعی کی وہ خو داس کے لیے بھی سُود مند ثابت نہ ہو سکی اور ہیگل کے اسلوب کی ناقابل برداشت خامیاں کُھل کر سامنے آ گئیں ۔ پئیر ماشیرے کا خیال ہے کہ ہیگل اور سپائی نوزا کے فکری اختلاف کا اہم اور بنیادی نکتہ فلسفہ غایت ہے اور ہیگل کے مطالعات اس قدر کم زور اور ناقص ہیں کہ وہ سپائی نوزا کے افکار کی داخلی تحریک تک رسائی کی ا ستعدادسے یکسر محروم ہیں ۔ پئیر ماشیرے نے ہیگل اور سپائی نوزا کے افکار میں پائے جانے والے فر ق کو باطنی کیفیات اور جد لیات کے تناظر میں دیکھنے کی سعی کی ہے ۔ جہاں تک تاریخ کی سمت اور جہات کا تعلق ہے وہ �آ لتھیوسر کے اس موقف کا حامی ہے کہ رخشِ حیات کی روانی پیہم جاری رہتی ہے اور سیلِ زماں کے مہیب تھپیڑے کسی قسم کے اہداف، منزلِ مراد ،اُمنگوں اور تمناؤں کو خاطر میں نہیں لاتے ۔ پئیر ماشیرے نے ہیگل اور سپائی نوزا کے افکار میں پائے جانے والے تضادات پر اپنا حقیقت پر مبنی موقف نہایت صراحت اور جرأت سے پیش کیا ہے ۔ اس نے واضح کیا ہے کہ جہاں تک تمامی مسائل اور فلسفۂ غایات کا تعلق ہے اس کا سپائی نوزا حتمی نقاد ہے جس کے اقوال کو درجۂ استناد حاصل ہے ۔ اس کا خیال ہے کہ ہیگل عین اس وقت سپائی نوزا سے فکری انحراف پر مبنی غداری اور مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتا ہے جب ان کی مشترکہ فکری میراث کی گرہ کشائی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
سال 1965میں شائع ہونے والی پئیر ماشیرے کی تصنیف ،، Reading Capital ،، اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں مصنف نے انسان شناسی ، فلسفہ عینیت، ہیگل کے تصورات اور تاریخ کے مسلسل عمل کے موضوع پر چشم کشا صدقتوں کا احوال بیان کیا گیا ہے ۔سال 1998 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’’ In a Materialist Wayِِِ ِ ‘‘میں پئیر ماشیرے نے ادبی تنقید اور فلسفہ کے حوالے سے اہم مقالات شامل کیے ہیں۔اس کتاب میں پئیر ماشیرے نے آلتھیوسر مارکسزم کی روشنی میں جن ممتاز فلسفیوں کے افکار کے تجزیہ پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے ان میں سپائی نوزا، ژاک لاکاں ،مشل فوکاں،اور جارجیس کانگلیہم(Georges Canguilhem)شامل ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایم۔اے کی سطح پر پئیر ماشیرے نے سپائی نوزا کی سیاست اور فلسفہ پر جو مقالہ تحریرکیا ،اس کا نگران بھی فرانسیسی ماہر علم بشریات،معالج اور فلسفی جارجیس کانگلیہم (1904-1995) تھا ۔ اپنے آلتھیوسرین ہم نواؤں ایٹینی بالی بار ( Etienne Balibar) اور جیکوئس رانسیر(Jacques Ranci232re)کے ساتھ مِل کر پئیر ماشیرے نے سیاسیات، ادب، معیشت، فلسفہ ،عمرانیات ، مارکسزم اور ساختیات پر قابل قدر کام کیا ۔ پئیر ماشیرے نے آلتھیوسر کے افکار میں پنہاں مارکسزم اور سا ختیات کے مثبت پہلو سامنے لانے کی کوشش کی جب کہ جیکوئس رانسئیرنے آلتھیوسرسے اختلاف کے پہلو تلاش کر لیے ۔ اخلاقیات کے موضوع پر سپائی نوزا نے جو وقیع کام کیا ہے اُس کو پئیر ماشیرے نے پانچ جلدوں میں پیش کیا ہے ۔ اپنے عہد کے ممتازجرمن فلسفی فیر باچ ( Ludwig Feuerbach) اور فرانسیسی فلسفی کو میٹ (Auguste Comte) پر پئیر ماشیرے کی تحقیق ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔مارکس کے حوالے سے پئیر ماشیرے نے مادی جدلیات اورمتن کے علامتی مطالعہ پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پئیر ماشیرے کے افکا ر کے مطالعہ کے بعد ماضی سے تعلق رکھنے والے تناقضات کے مظہر لائحۂ عمل اور نئی مخاصمت کے مابین پُل کی تعمیر ممکن نہیں۔اس نے با لعموم روزمرہ سے تعلق رکھنے والے غیرحقیقی اور خیالی معاملات کو مدِ نظر رکھا ہے ۔ اپنے متعدد فکری مغالطوں کے باوجود اس نے آلتھیوسر کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کو بھی لائق اعتذار خیا ل نہیں کیا ۔ اس کے مداحوں کا موقف یہ ہے کہ پئیر ماشیرے کا نام اگرچہ آلتھیوسر مارکسزم کے سر گرم حامی کے طور پر لیا جاتا ہے مگر اس نے پس ساختیات کے موضوع پر جن خیالات کا اظہارکیا وہ تاریخ ادب میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ جب بھی فلسفہ و حکمت، فکر و دانش اور فہم و فراست کے ارتقا کی تاریخ لکھی جائے گی اس میں حریت فکر کے جذبات کی نمو ،حرفِ صداقت کی جستجو ، تنقید و تحقیق کی آ رزو کی روایت کی بحالی اور زندگی کی اقدار عالیہ کے تحفظ کی تمنا اور روشن مستقبل کے خوابوں کی تعبیر تلاش کر نے کی جد و جہد میں پئیر ماشیرے کے اس تحقیقی کام کوپیشگی شرط کی حیثیت حاصل ہو گی ۔
مآ خذ 

1.Pierre Macherey: A theory of Literary Production,Routledge,London,2006,Page,364. 
2. Pierre Macherey: Hegel or Spinoza,London,2011,Page.72 
3. Pierre Macherey: Hegel or Spinoza,London,2011,Page,73 
————————————————————————————————————————————————————————- Dr.Ghulam Shabbir Rana (Mustafa Abad Jhang City 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com